اونر کلنگ یا کلنگ اونر؟۔۔۔۔۔صائمہ نسیم بانو

یہ تحریر میں نے تین برس پہلے لکھی تھی
اسے لکھنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ قندیل کے کسی فعل کو جسٹیفائی کیا جائے بلکہ نیت یہ تھی کہ یہ جانا جائے کہ قندیل جیسی ونریبل اور اوور ایمبشئیس بچیوں کو ایسی ذہنی اور نفسیاتی حالت تک پہنچانے میں کیا اور کیسے عوامل کار فرما ہوا کرتے ہیں.

جب گھریلو ذمہ داریاں جن کا بوجھ لے کر یہ بچیاں باہر نکلتی ہیں, کسی شعبہ ہائے زندگی کی بات کیجئے, تو سماج میں غلاف پہنے اور خول سجائے نام نہاد شرفاء اپنی ان ماتحت خواتین ورکرز یا ایمپلائیز کے ساتھ کیسا رویہ روا رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں کیسی سوچ کا اظہار فرماتے ہیں وہ بات بتانے سے نہیں محسوس کرنے اور سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے.

ایسے میں چپ چاپ ایکسپولائٹ ہوتے رہنے والی خواتین اس سماج کی محسن ہیں کہ وہ اپنی ذات پر ہر قہر جھیل کر ہم سب کو کسی بھی بڑے بھونچال سے بچائے رکھتی ہیں. البتہ قندیل کے معاملے میں ایک مختلف رویہ دیکھنے میں آیا کہ انہوں نے اپنی پرسنل لائف کو پبلکلی ایکسپوز کرتے ہوئے اپنے ساتھ ساتھ کئی اور گھنئونے کرداروں کی قلعی کھول کر رکھ دی. وہ خود تو ملعون ٹھہرائی گئیں لیکن اپنے ساتھ کئی اور سفید جبوں کے تلے بدبودار اور تعفن زدہ اجسام کو بھی بے پردہ کر گئیں.

کسی بھی واقعہ یا فرد پر لکھتے ہوئے ہر لکھاری کے پاس دو آپشنز ہوتے ہیں کہ یا تو اسے دیوتا بنا دے یا پھر ملعون جبکہ میں نے عام بھیڑ چال سے ہٹ کر نئے طرز پر یہ تحریر لکھی گو یہ اسلوب ہمارے ملک میں معروف نہیں شاید اسی لئے دوستوں کے دلوں میں اوہام اور ابہام نے جنم لیا. قندیل نے جو کچھ کیا یقینا وہ ایک قابل تعریف و قابلِ تقلید عمل نہ تھا, لیکن قندیل کی طرف سے جو رویہ دیکھنے میں آیا وہ محض ایک رد عمل تھا, جس کے پیچھے کئی عوامل چھپے تھے.

میں نے اپنے بلاگ میں بہت تدبر, تفکر اور پوری ذمہ داری کے ساتھ ان پسِ پردہ عوامل پر سوال اٹھائے, تعلیمی ڈھانچہ, نفسیاتی عوامل, خاندانی ذمہ داریاں, مذہب سے دوری یا مذہب کی درست طور پر شرح نہ ہو پانا, غربت, بیماری, عدم برداشت, حیا سے عاری افکار, سماج کے بدبو دیتے رویے, حکومت اور ریاست کی ذمہ داریاں, صحافت اور الیکٹرانک صحافت کا کردار, ریٹنگ کی دوڑ, شوشل میڈیا پر پروپیگیشن کے ذریعےمنفی نیریٹیو بلڈنگ جو یوتھ پر بہت اثر انداز ہوتی ہے, اپنی ہی ذات سے دور اور اپنی ہی ذات کی پرستش میں مبتلا بہت سے کردار، میں نے ان سبھی عوامل پر بات کی۔
یہ سب پس پردہ عوامل نظر انداز کر کے صرف قندیل کو گالیاں دینے سے اگر سو کالڈ رجعت پسندوں کی روایات اور اس پاک شفاف سماج کی بقا ممکن ہے تو آئیے آج آپ کے ساتھ مل کر میں بھی قندیل کے لاشے کو نوچتی کھسوٹتی ہوں کیونکہ وچ ہنٹنگ میں لنچنگ تو عین فرض ہے.
لیکن اگر آپ میرے کسی ایک بھی سوال سے اتفاق کرتے ہیں تو کیوں نہ مل جل کر اس سماج کی نیو میں اخلاق, ایمان, اسلام اور اقدار ان کے درست اجزائے ترکیبی اور تناسب کے ساتھ بطور ایک جوہر انوسٹ کئے جائیں. معاشرہ فرد سے ہے اور اگر ہر فرد اپنے حصے کے گناہ اور ثواب کی ذمہ داری اٹھا لے تو کبھی کوئی قندیل جنم نہ لے گی.
اس تعارفی نوٹ کے ساتھ لنک میں دیا بلاگ پڑھئے اور اگر کوئی قابلِ اعتراض بات دکھائی دے تو میری اصلاح فرمائیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Honour killing or killing honour?

فیس بک پر پانچ لاکھ سے زیادہ فالوورز، گوگل پر تلاش کی جانے والی پہلی دس شخصیات میں سے ایک، پرکشش ، جاذبِ نظر، مرکزِ نگاہ اور زندگی سے بھرپور لیکن متنازع شخصیت۔ انہوں نے پچھلے چند مہینوں میں اپنی ویڈیوز اور بیانات کے ذریعے سوشل میڈیا سے مین سٹریم میڈیا تک سب کو ہلا کر رکھ دیا اور سبھی کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں ۔۔۔۔۔
یہ تھیں قندیل بلوچ جو آج ہم میں موجود نہیں انہیں Honour killing کے نام پر ان کے اپنے ہی بھائی نے قتل کر دیا۔۔۔۔قتل کی اس خبر نے ہمیشہ کی طرح قوم کو دو مختلف دھڑوں میں بانٹ دیا اور سوشل میڈیا بھی سوچ کی تقسیم کی پرانی روایت برقرار رکھتے ہوئے دو کیمپس میں بٹ گیا پھر بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دی جانے لگیں۔ ترقی پسند اور انسانیت نواز جتھوں نےاس قتل کو آزادئ اظہار و افکار پر کلنک اور حملہ جانا تو روایتوں و انسانی تہذیب سے جڑے افراد شدید دکھ کے باوجود اس قتل کا ذمہ دار خود قندیل کےکردار اوراعمال کو ٹھہراتے رہے۔ میں بہت دیر تک صرف یہی سوچتی رہی کہ عورت جو ہر روپ میں خواہ ماں ہے، بیٹی ہے، بہن ہے یا بیوی ہے_____
ہے تو وہ مرد ہی کی عزت_____
سو عزت کے نام پر عزت کا ہی قتل کیونکر ممکن ہوا؟
قندیل کا قتل honour killing کہلائے گا یا اسے killing honour کہنا زیادہ درست ہوگا؟
قندیل بلوچ کون تھی؟۔۔۔۔۔ایک عورت تھی
کیسی عوت تھی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔بری عورت
اس کے برا بننے میں اس کا کتنا ہاتھ تھا ؟
کیا اس کا ذمہ دار یہ معاشرہ ہے؟
یہاں مروج ریت و رواج ہیں؟
اسکے والدین ہیں یا ملکی قوانین؟
عوام ہیں یا حکمران ؟
یا پھر بے لگام میڈیا ؟

جو نہ صرف قابلِ گرفت اور قابلِ اعتراض ماحول اور سرگرمیوں کی تشریح و ابلاغ کا ذمہ دار ہے بلکہ ان سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بڑھاوا و ترغیب بھی دیتا ہے۔ اور پرائم ٹائم سلوٹ پر ڈگڈگی بجا کر بندر اور بندریا کا تماشہ لگا کر نوٹ جمع کرتا ہے یا سارا قصور اور تمام ملبہ قندیل پر ڈال کر ہم سب کو چین کی نیند سو جانا چاہیے؟

ہمارامعاشرہ کن بنیادوں و کسوٹی پر ایک عورت کو “اچھی عورت ” یا “بری عورت” کی درجہ بندی پر تقسیم کرتا ہے۔ یہ بات جاننے کیلئے ہمیں عمومی طور پر انسانی اورخصوصی طور پر مرد کی نفسیات کی کھوج کرنا ہو گی۔ یوں تو انسان مختلف قسم کے complexes میں مبتلا ہےجیسےاحساسِ کمتری و برتری وغیرہ لیکن Sigmund Freud جو ایک آسٹرین نیورولوجسٹ تھے اور psychoanalysis کے بانی بھی انہوں نے پہلی بار complex کی ایک بڑی عجیب سی اصطلاح متعارف کروائی Madonna-Whore Complex
میڈونا کا لفظ ایک پاکیزہ اور باکرہ عورت کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ whore کا لفظ جو آج کے دور میں ایک مستقل گالی کی شکل اختیار کر چکا ہےیہ قدیم انگریزی کے لفظ hora سے مشتق ہے جس کے معنی انگریزی میں کچھ یوں ہیں wish, desire, passion, craveیعنی خواہش ، جذبہ ، طلب یا چاہت کے لیے جاتے ہیں۔ اسےسنسکرت میں kama بھی کہا جاتا ہے۔ اس کمپلیکس میں مبتلا مریض میڈونا سے محبت یا love جبکہ دوسری طرف کھڑی عورت سے خواہش یا desire کا سوالی ہوتا ہے گو یہ کلیہ تمام مردوں پر یکساں طور سے تھوپا نہیں جا سکتا۔ البتہ مردانی فطرت کا ایک عجب المیہ ہے جو عمومی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد جب اپنے لیے شریکِ حیات چننے کو نکلتا ہے تو پہلی بات جو اسکے ذہن میں آتی ہے وہ ہے “اچھی عورت” دوسری جانب یہی مرد جب اپنی مکروہ و نامطبوع خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہو کر تفریحِ طبع کا قصد کرتا ہے تو اسکے انتخاب کا سفر ایک “بری عوت” پر آن رکتا ہے۔

قدیم قرین مشرق سے لیکر بائیبلک حوالہ جات تک، یونان و روم سے وسطی میکسکو و ایشیا تک اور تاریک دور سے قرون وسطی اور نشاة ثانیہ اور پھر اکیسویں صدی تک کے اس سفر میں تاریخ کے پنے پلٹے جائیں تو قحبہ گری قدیم ترین پیشوں میں ایک پیشہ ہے اگرچہ میری ناقص عقل اور حساس طبع اسے پیشہ کہنے پر ہرگز رفتہ نہیں۔ گو عرب کے زمانہء جاہلیت میں بھی یہ عمل موجود تھا لیکن اسلامی تاریخ نے کبھی کسی عورت کا نام لے کر اسکی اس پیشے سے وابستگی کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ اسلام نے کھلے ہوئے زخموں اور بدبو دیتے ان ناسور نما حصوں پر مرہم پوشی اور ستر پوشی کا سبق سکھایا۔ اسلام نے کبھی بھی عوت کو گنہگار اور مرد کو پاکباز نہیں کہا بلکہ اسلام کی کسوٹی دونوں کے لیے یکساں ہے ۔۔
اللہ رب العزۃ سورۃ النسا کی آیت نمبر 124 فرماتے ہیں کہ
And whoever does righteous deeds, whether male or female,while being a believer,……those will enter paradise and will not be wronged, (even as much as) the speck on a date seed۔

مغرب سے لیکر مشرق تک ہر مذہب و افکار سے جڑے افراد قحبہ گری میں ملوث اس “بری عورت ” کو ہی ہمیشہ موردِ الزام ٹھہراتے اور مانتے ہیں۔ اس کا وجود جو خود کسی گالی سے کم نہیں ہر دم گالیوں کی ہی زد میں رہتا ہے وہ اپنے اس گلتے سڑتے بدبو اگلتے اور تعفن زدہ وجود سے دن رات کیسے معاملہ کرتی ہے اس کی تکلیف جاننے کی کبھی کسی نے کوشش ہی نہیں کی ۔بس اسے تو راندِ درگاہ جان کر ایک کونے میں ڈال پھینکا ہے البتہ شرفاء و امراء اپنی آسائشِ طبع کے واسطے اس کے در پر گاہے بگاہے دستک دیتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

یہ ” بری عورت ” معاشرے کا داغ ہے، کلنک ہے، بد صورتی ہے اور ایک ایسی گھناؤنی گندگی ہے جس نے تمام تر روحانیت اور پاکیزگی کو پراگندہ کر رکھا ہے۔ سب اس پر تھوکنے اور نفرین کرنے کو تیار کھڑے ہیں لیکن اس کے سر پر چادر رکھ کر معاشرے سے گندگی کے اس بوجھ کو ہٹانے پر کسی کی طبیعت آمادہ نہیں ہوتی اس کا سب سے اچھا بہانہ تو یہ ہے کہ یہ عورتیں نہ گھر بسانے کے قابل ہیں نہ ہی ان میں ایسی کوئی صلاحیت موجود ہے۔

عمومی خیال یہ لیا جاتا ہے کہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل باکردار عورت اور صاحبِ تکریم مرد کے ملاپ پر مکمل ہوتی ہے۔ یعنی عورت کی تمام تر جہت , کاوش اور جہد کے نتیجے میں شرافت کا تاج اس سے منسلک مرد کے سر پر سجتا ہے۔ جبکہ میرے نزدیک معاشرے کو باکردار مرد اور صاحبِ تکریم خواتین کی موجودگی حسن عطا کرتی ہے۔ وہ مرد جو اپنی خواہش پر پہرے باندھ لے اور اسے صرف شرعی طور پر ہی پورا کرے وہ محض اپنی ذات و نفس کا پہرے دار نہ ہو بلکہ اپنے سے منسلک ہر عورت کے لئے بھی حصنِ حصین بن جائے۔ وہ اپنے ہر تعلق, ہر خواہش, ہر طلب کو عزت و تکریم سے اپنا نام دینے کی صلاحیت اور طاقت رکھتا ہو۔ آج رہ رہ کر مجھے وینا ملک کی یاد آتی ہے اپنے جذبات اور خواہش کے ہاتھوں مجبور ہو کر قابلِ نفرت اعمال تک جا گرنے والی اس قوم کو بیٹی کو جب ایک بہادر اور جرات مند و جوانمرد اسد بشیر خان خٹک نے اپنا نام دیا تو وہی مکروہ اور ٹھکرائی ہوئی عورت معاشرے کی مرتی, سسکتی و تڑپتی روایات کیلئے روشنی و امید کا استعارہ بن گئی تھی۔ (مضمون دو سال پرانا ہے اس وقت ہم بچپنے کا شکار تھے اور وینا ملک گھریلو شادی شدہ زندگی کی خوشگوار ابتدا کر چکیں تھی)

اس معاشرے سے اگر مولوی قوی جیسی تعفن زدہ و غلیظ بدروحیں منہا کی جائیں اور اسد بشیر خان خٹک جیسے بہادر سپوت داخل کیے جائیں تو کوئی عورت “بری عورت” بنے گی اور نہ رہے گی اور کوئی بھی مرد عزت کے نام پر اپنی ہی عزت کو کبھی بھی قتل نہ کرے گا۔

صائمہ بخاری بانو
صائمہ بخاری بانو
صائمہ بانو انسان دوستی پہ یقین رکھتی ہیں اور ادب کو انسان دوستی کے پرچار کا ذریعہ مان کر قلم چلاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *