لالہ باجی۔۔۔۔۔رفعت علوی/تیسری ،آخری قسط

اس روز کیا سنہری شام تھی، سب لوگ سوئمنگ پول کے گرد کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے، میں برآمدے کی سیڑھیوں پہ بیٹھی اس خوش و خرم اور مختصر سی فیملی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں دیکھ رہی تھی، چاروں طرف رات کی رانی کی خوشبو پھیل رہی تھی، کسی طرف سے کیج میں بند خوش رنگ کنیریوں کی چہکار سنائی دیتی، کبھی چنبیلی کی بیل میں چھپے جھینگر کی ٹرچ ٹرچ کی آواز آتی
تھوڑی دیر پہلے روپہلے چاند کی تھالی سرکتے سرکتے ٹھیک سوئمنگ پول کے اوپر آن پہنچی تھی اور اسکا عکس سوئمنگ پول کے نیلگو پانی کو روپہلا کررہا  تھا، اور پام کے درختوں پہ رسیلی کرنیں برس رہیں تھیں آج چودھویں کا چاند جو تھا، چہار سو روشنی لٹاتا، پھر کچھ دیر کے بعد اس کے برابر طلوع ہوا ایک ننھا سا ستارا، ذرا فاصلے پر، جگمگ کرتا مسکراتا، کبھی کھلکھلا کر ہنستا، کبھی آنکھیں چھپکاتا، کبھی چھب دکھاتا، لگتا تھا بیکراں کائنات میں پھیلے دوسرے ستاروں کے ساتھ فلرٹ کر رہا ہے۔

نجمی بار بار کسی بات پر ہنس رہا تھا، گٹار کے تاروں پہ جب وہ مضراب کی ہلکی سی ضرب لگاتا تو ایک جھنکار سی چاروں طرف پھیل جاتی، عدمی کبھی باربی کیو کرنے والے ملازم کے پاس جاتا اور کبھی میرے پاس آکر پلیٹ میں رکھی ہوئی چیزوں کا نمک چکھنے کی فرمائش کرتا۔۔
میں ملگجےاندھیرے میں سفید گلاب کے گملے کے پاس بیٹھی اپنے گھٹنے پہ تھوڑی ٹکائے ٹکٹکی باندھے آفتاب کی طرف دیکھے جا رہی تھی، جب وہ نجمی کی کسی بات پر ہنستے تو ان کا سر اوپر کی طرف اٹھتا اور چاندنی ان کے چہرے پہ بکھر بکھر جاتی۔۔
اس مرتبہ عدمی میرے پاس آیا تو خالی ہاتھ تھا، میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا، لڑکپن کی شوخی اس کے چہرے سے چھلکی پڑ رہی تھی اور وہ کچھ شرارت سے مسکرارہا تھا۔۔
کیا ہوا شیطان، میں نے اس سے پوچھا
لالہ باجی، یہ جو ہمارے نجمی بھائی  ہیں نا بہت عجیب باتیں کرتے ہیں۔
وہ کہہ رہے تھے کہ وہ جو اوپر ننھا سا ستارہ ہے وہ میں ہوں اور وہ خود بڑاسا چاند ہیں، اگر ایسا ہے تو مگر پھر ہمارے آفتاب بھیا کہاں ہیں؟
میرا دل دھک سے رہ گیا۔۔
اے گل لالہ، غزال دشت جاں، محبت بھی آب و دانہ کی طرح ہے، مسام جاں میں بارش کی طرح اندر کی طرف برستی ہے، جمال وصل کی صورت دہکتی ہے اور گل صد رنگ کی طرح مہکتی ہے اور بدن کے اندر سلگتی ہے۔۔
میں بےساختہ کھڑی ہوگئی اورعدمی کا ہاتھ پکڑ کے کسی سحر زدہ شخص کی طرح پول کے پاس آئی اور جھک کر چاند کو دیکھنے لگی، چاند سوئمنگ پول کے پانی کے ساتھ ہلکورے لے رہا تھا، ہوا کا جھونکا آتا تو ساتھ چاند بھی پانی کی لہروں کے ساتھ جھولنے لگتا،
میں  ذرا کی  ذرا رکی پھر عدمی سے پوچھا تم کیا کہہ رہے تھے؟۔۔
اس نے اپنے الفاظ دہرائے تو میں نے نجمی کی طرف دیکھا اور  ذرا زور سے بولی۔۔۔
یہ چاند یہ ستارے یہ آسمان پر پھیلی ہوئی ساری روشنی، سب کے سب آفتاب سے روشنی پاتے ہیں، آفتاب نہ ہو تو یہ سب بھی بجھ جائیں سب کچھ تاریک ہو جائے۔۔
میری بات سن کر نہ آفتاب کچھ بولے اور نہ ہی نجمی نے کچھ کہا۔
یہ کہہ کر میں وہاں ٹھہری نہیں اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

متاعِ  گردش ِدوراں ہے زندگی، نہ پھول نہ ساغر نہ مہتاب نہ نور،
صفِ  زُاہداں ہے سو بے یقیں، صف ِ میکشاں ہے سو بے چراغ!

میں کیا کروں، میرے بس میں تھا بھی کیا، ایک کسک تھی جو کاٹ رہی تھی، ایک چبھن تھی جو خلش بن گئی تھی، ایک اندیشہ الم تھا اور وہ جو “ایک درد دھڑکتا تھا کہیں دل سے پرے”۔۔۔اے آفتاب جہاں خیز دیکھ تیری روشنی سے کیسا دیا سا جل اٹھا ہے میرے دل کے آس پاس، میرےاندر!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو مجھے اس سے ڈر لگنے لگا تھا
اس کی بےتکلفیاں بڑھتی جو جا رہیں تھیں
کبھی اشاروں کناؤں میں کبھی ہنسی مذاق میں وہ دل کی باتیں کرجاتا اور میں لرز کر رہ جاتی، نجمی کبھی کہتا مجھے لالہ کے پھول بہت پسند ہیں، کبھی مالی کو بلا کر کہتا کہ کل سے روز لالہ کے پھولوں کا ایک گلدستہ اس کے بیڈ روم میں رکھ دیا کرے کیونکہ اسے لالہ کے پھولوں سے عشق ہے، مجھے یاد آیا اس نے اپنی مشرقی کھڑکی کے نیچے مالی سے کہہ کر گل لالہ کی پنیری بھی لگوائی تھی اور یہ سب وہ کھلے عام آفتاب کی موجودگی میں کرتا، مجال ہے آفتاب نے کبھی آنکھ اٹھا کر اسے دیکھا بھی ہو، وہ سب دیکھتے اور کبھی ہنس کر اور کبھی مسکرا کے شطرنج کے مہروں پہ جھک جاتے، میں سوچتی رہ جاتی  کہ یہ کیسا آدمی ہے، جو خاموشی سے اپنا پیار لٹتا دیکھ رہا ہے۔۔
اس روز بھی بڑا خوبصورت دن تھا، میرےکمرے میں دیوار پر چسپاں فریم میں مرقع چغتائی کی بال بکھیرے حسینہ اپنی ترچھی، لمبی آنکھیں پھیلائے سنگھار میز پر لگے آئینے سے آنکھیں ملا کر مسکرا رہی تھی، میں آئینے کے سامنے کھڑی بال سنوار رہی تھی اور ہلکے سُروں میں کوئی گیت میرے لبوں پہ تھا کہ وہ شور مچاتا ہوا اندر گھس آیا، گیت کے بول میرے لبوں پہ ٹوٹ گئے۔۔
آ دھا، بناؤ سنگھار ہو رہا ہے، واہ بھی واہ۔۔۔
آئینہ دیکھ کے بولے وہ سنورنے والے، آج تو بےموت مریں گےمیرے چاہنے والے۔۔
اس نے کنگھا میرے ہاتھ سے چھین لیا
بڑاپھٹیچر شعر ہے، میں نے ہنستے ہوئے کہا، کیسے کیسے چیپ شعر تم نے یاد کر رکھے ہیں، کچھ اچھے اشعار آفتاب بھائی سے ہی سیکھ لیتے
بھیا کی تو بات ہی نہ کرو، ان تک کوئی نہیں پہنچ سکتا
اچھا، کیوں کیا وہ اپولو دیوتا ہیں یا گوتم بدھ، میں نے ہنس کر پوچھا
تم نہیں جانتیں، تم کچھ بھی تو نہیں  جانتیں لالی، اس نے  ذرا سنجیدگی سے کہا،
وہ ہمارے لیے کیا ہیں، یہ اپولو دیوتا اور گوتم بدھ یہ سب تو بھیا کی قربانیوں اور ان کی محبت کی دہلیز پہ  سجدہ کرتے ہیں۔۔
اور ہاں سنو تو ایک پیاری خبر، میری پوسٹنگ “گوپن ہیگن” میں ہوگئی ہے، اور پیاری بات یہ ہے کہ میں اپنی پیاری دلہن اپنے ساتھ لےکر جاؤں گا وہ شرارت سے مسکرایا اور باہر نکل گیا، میں دم بخود کھڑی رہ گئی۔۔۔
ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس کے ساتھ آفتاب کی مترنم آواز بھی ساتھ لایا، وہ دور کہیں اپنا پسندیدہ شعر گنگنا رہے تھے
کم ازکم مجھ پہ وہ خوشی ہےحرام
جو کسی کے لیے ضرر ٹھہرے

عجیب دن تھا وہ بھی
لو کے جھلسا دینے والےجھکڑ،پھولوں کا موسم لوٹ چکا تھا، گلاب کی جھاڑیوں پہ منڈلانے والےبھنورے غائب ہو گئے تھے، پت جھڑ کا موسم آن لگا تھا، زرد خشک پتےباہر لان پر اڑنے لگے، اور رات بھر نرگس کے پتوں پہ شبنم روتی تھی۔۔یہ موسم خزاں تھا۔
پچھلی رات میری زندگی میں ایک ایسا طوفان آیا تھا جس سے میری زندگی کا رخ بدل رہا تھا، میری زندگی، میرے دن میری راتیں میرے خواب سب کچھ، ساری گرہیں الجھ رہی تھیں میرے خواب مر رہے تھے۔۔۔اور میں آج صبح آخری بار لائبریری میں آئی تھی
کمرا بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔۔۔
دیواروں کی جڑوں سے لگی کھڑی بک شیلف کی تیوریوں پہ بل پڑے تھے، الماریوں میں سجی کتابیں کنکھیوں سے ایک دوسرے کو اشارے کر رہی تھیں، شطرنج کی بساط پر سجے سارے مہرے کچھ ناراض پیشانیوں پہ بل ڈالے، کچھ دل گرفتہ گردن جھکائے خاموش کھڑے تھے، کھلی کھڑکی سے ہوا کے آنے والے گرم جھونکوں سےآفتاب کی رولنگ چیئر ہل رہی تھی لگتا تھا ابھی ابھی وہ اٹھ کر کہیں گئے ہیں،
میں نے دیوانہ وار کمرے کا ایک چکر لگایا۔۔۔
کمرے میں چاروں طرف ایک اداس سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی ، میز کے ایک کونے پہ رکھے ہوئے گلدان میں لگے نرگس اور لالہ کے پھول کئی دن کے باسی ہوکر مرجھائے گئے تھے ،ان پھولوں کے کچھ پتے سیاہ ہو کر میز پر گرے پڑے تھے، اور گلدان کے نیچے دبا ہوا ایک زرد رنگ کاغذ ہوا کے جھونکوں سے پھڑپھڑا رہا تھا، میں نے لرزتے ہاتھوں سے اس کو اٹھایا، خوبصورت رسم الخط میں بہت جلدی میں گھسیٹ کر لکھا گیا تھا۔۔۔

“تو بھی ایک دولت ِنایاب ہے پر کیا کیجیے۔۔
زندگی اور بھی کچھ تیرے سوا مانگے ہے”

میرے گلے میں پھندا سا لگا، آنسوؤں کی ایک چادر میرے چہرے پہ آئی، میں نے اپنی دھندلی اور برستی آنکھوں کے درمیان اس پرچے پر صرف اتنا لکھا

“زندگی خواب سہی، عشق فسانہ ہی سہی،

صحن کعبہ نہ سہی، کوئے صنم خانہ سہی”

اور اس پرچے کو شطرنج کی بساط پر گردن جھکائے بادشاہ کے مہرے کے نیچے رکھ دیا، وہ بےبس بے اختیار بادشاہ جو شطرنج کی بساط پر صرف ایک خانہ ہی چل سکتا ہے اور جس نے بڑی آسانی سے ایک پیادے کی خاطر اپنی ملکہ ہار دی تھی۔
میں خاموشی سےاپنےکمرے میں لوٹ آئی، میرے پیچھے رہ گیا، گئے وقت کا لمس، سنہری مہکتی سانسیں، کچھ مسکراتے لمحے، خوبرو خواب، آفتاب کی صد رنگی ہنسی، خوشبو کی کرنیں اور ہماری ایک ماہ کی نوخیز محبت۔۔

میں کیسی الم نصیب تھی جس کے نصیب میں کوئی ایسی گود بھی نہ تھی جس پہ سر رکھ کر رو بھی سکتی۔۔۔
کاتب تقدیر تو بھی نا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں دم بخود بیٹھا تھا
کمرے میں ایک اداس سی مہک پھیلی ھوئی تھی باسی کلیوں کی، مرجھائے ھوئے پھولوں کی اور لالہ باجی کے پیرہن کی.
ایک دل دوز خاموشی تھی، لگتا تھا کائنات چپ ہے، میں تھا دلگیر آزردہ اور لالہ باجی تھیں ایک اداس یونانی دیوی کی طرح حسن محزوں کی تصویر ایک “آتش پرست” جنھوں نے زندگی بھر “آفتاب” کو دل کے معبد خانے میں بسائے رکھا اور ٹھنڈی آگ کی پرستش کرتی رہیں۔
لالہ باجی۔۔۔۔ وہی لالہ باجی کہ وہ رک جائیں تو زمانے رک جائیں، آنکھیں اٹھائیں تو ستارے جھک جائیں، مگر صرف چاند ستارے ہی کیوں؟ انکے قدموں پہ تو آفتاب نے سر جھکایا تھا وہی آفتاب جس کی روشنی کے بغیر چاند تاریک ہے ستارے بےنور ہیں اور ساری دنیا اندھیری ہے۔۔
میں ان کے آزردہ چہرے کو تکتا رہا جہاں اس وقت ملال کا سایہ تھا، پچھلی ساعتوں کے حرما نصیب خوابچےتھے ارمان تھے چاہت تھی جنھیں اتنے طویل عرصے تک انھوں نےسینت سینت کر اس طرح رکھا کہ شاید انکے اپنے عکس کو بھی اس کی خبر نہ ہوئی۔۔
لالہ باجی میری دزدیدہ نگاہوں سے بےنیاز باہر اندھیرے میں کہیں دور دیکھتی رہیں، میں صرف ان کا دلآویز چہرہ ہی دیکھ سکتا تھا مگر ان کے اندر چھپے ہوئے کربناک اور اذیت بھرے دنوں کا حساب نہیں  کرسکتا تھا۔۔۔اور باہر ہوا سائیں سائیں کرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بارش ہوتی رہی۔۔۔۔
ایسی بارش پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی پچھلے دو دن سے بارش کا تار ٹوٹا نہیں تھا
امنڈتےاودے بادل، جھومتی کالی نیلی گھنگھور گھٹائیں، دھند کا نم آلود لمس ، گرج چمک کا کڑاکےدار شور، موسلا دار دھواں دار بارش سب نے مل کرایک گھٹا ٹوپ اندھیرا سا کر رکھا تھا، پام اور چنار کے درختوں سے اُدھر کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا،
اور میں آج پھر لالہ باجی کے اسی نیم تاریک ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس حرما نصیب کی آہوں اور آنسؤں میں ڈوبی لمحہ بہ  لمحہ کروٹیں بدلتی حکایت زندگی سن رہا تھا وہی گل لالہ جس کی زخمی روح کا ہر تار لالہ زار تھا، وہ گل لالہ جس کے دل پہ ہر داغ تھا بجز داغ ندامت۔۔۔
“رفعت، تیس سال میری زندگی کے سیاہ بخت تیس سال کیسے گزر گئے کیونکر گزرے مجھے کچھ یاد نہیں” لالہ باجی دھیرے سے بولیں،
وطن کب چھٹا، ننھا ادیب کب اس دنیا میں آیا، ایک ملک سے دوسرے ملک، سفر در سفر، نجمی کی طوفانی اور پُرجوش محبت بھی میرے دل محزوں میں روشنی کی ایک کرن نہ لا سکی
مشرقی یورپ کے سرد اور برفبار ماہ و سال “ادیب” کی دیکھ بھال میں گزر گئے، وہاں کبھی کبھی تو مہینوں سورج کی شکل دکھائی نہ دیتی تھی، دھند آلود سیٹیاں بجاتی برفانی ہوائیں شاید سائبیریا اور آلپس سےآکر وہیں بس جاتی تھیں، سفید برادے جیسی دبیز برف پہاڑ جنگل میدان ، پگڈنڈیوں اور گھروں کی چھتوں پر چھا جاتی، کبھی اچھا موسم آتا تو ہر طرف سبزے کی چادر سی بچھ جاتی تھی رنگ برنگے خود رو خوش رنگ پھولوں سے پہاڑ ڈھک جاتے، چاروں طرف رنگ بکھر جاتےاور عجیب عجیب قسم کے رنگین پروں اور لمبی دموں والے پرندے چہچہاتے ہوئے آتے، دانہ دنکا چگتے، اپنی اپنی زندگی کے ساتھی اپنی مرضی سے چنتےاور شوخ رنگ پھولوں سے نئے رنگ لے کر نئی منزلوں کو نکل جاتے۔۔
مگر میں جہاں تھی وہیں کی وہیں رہی، نہ کوئی منزل نہ جادہ، نہ کوئی صبح بنارس نہ کوئی شام اودھ، نہ کسی دیدار کا مژدہ، نہ رہائی کی نوید، نہ روح آسودہ اور نہ تازہ ہوا کا جھونکا اور نہ ہی آفتاب کی کرنوں کے لیے کوئی دریچہ۔۔۔۔

ایک دن نجمی مجھ کو اصرار کر کےکوپن ہیگن کی مشہور زمانہ The statue of of the little Mermaid “جل پری” والےبیچ پر لے گیا، صبح سے سہ پہر ہوگئی، واپس لوٹنے لگے تو اچانک کالی سیاہ گھٹائیں امنڈ آئیں، پہلے باریک بوندیں آئیں پھر وہ بڑی ہونے لگیں ہواؤں میں تیزی آگئی اور آسمان سے سفید برادے کی بارش ہونے لگی دیکھتے ہی دیکھتے تانبے کی طرح سرخ جل پری کا مجسمہ سفیدی سے ڈھک گیا ندی نالے جمنے لگے، ہم لوگ بھاگے، گاڑی کے پہیے برف میں دھنس جاتے، ونڈاسکرین پر برف گرتی اور آگے کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا، لشتم پشتم ہم لوگ قریب کے ایک فارم میں پہنچے اور وہاں کےایک کمرے میں پناہ لی، سرد تیز کاٹ دار ہوا سے میں کپکپا رہی تھی، نجمی نے اپنا اوور کوٹ بھی اتار کر میرے جسم پر ڈال دیا، وہاں آتشدان تو تھا مگر کسی خرابی کی وجہ سے ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا۔۔۔
اس سرد تاریک رات زندگی میں پہلی بار نجمی نے مجھ سے ایک سوال کیا
اس نے میرا سرد ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر پیار سے پوچھا کہ میں اس کے ساتھ خوش تو ہوں نا ۔۔۔ !! اور اس نے آج تک مجھے کوئی تکلیف تو پہنچائی ؟
میری آنکھوں میں آنسو  آگئے، مجھے اس پر بہت ترس بھی آیا اس بیچارے کا کیا قصور تھا اس نے تو محبت کی تھی بےاختیاری، جیسے میں نے کی تھی آفتاب سے بے ارادی،
میں چپ رہی، عورت کسی مرد کی تنہائی پہ ترس کھا کر یا اس کی محبت میں سرشار ہو کر اس کو اپنی رفاقت کا محبت کا عطیہ پیش کرتی ہے، مگر میں نجمی کے ساتھ کیوں تھی اس کا تو جواز ہی کچھ اور تھا، پھر میں نجمی کو جواب دیتی بھی تو کیا دیتی۔۔۔
بتاؤ نا، اس نے دوبارہ  بہت والہانہ انداز سے پوچھا
میں نے خاموشی سے گردن ہلادی اور اس کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا
دوسرے دن نجمی کوبخار ہوگیا سردی لگ گئی تھی اسکو، جو بڑھ کر نمو نیہ میں بدل گئی اور ایک ہفتے میں ہی ہنستا کھیلتا نجمی مجھے اور ادیب کو تنہا چھوڑ گیا، نہ اقرار نہ انکار، نہ رفاقت کا تقاضا ، پھر ہم نہ ہونگے، ملو آخری بار ملو۔۔!

میں وہاں اکیلی رہ گئی چھوٹے سے ادیب الحسن کے ساتھ، اجنبی لوگوں کے درمیان، ایک چھوٹے معصوم سے بچے کے ساتھ جسے پتا نہیں تھا کہ اب اس کا باپ نہیں رہا، ستارے بجھ گئے، زمانے ڈھل گئے، گردشیں پگھل گئیں، میں جرعہ جرعہ ساعت زیست سے زندگی کشید کرتی رہی
اب سوچتی ہوں نجمی کی اپنی ذاتی زنگی کی خوشیوں کا دورانیہ کس قدر کم تھا، اس نے جو کچھ چاہا اسے ملا مگر زندگی نے اسےخوشیوں کو برتنے کی مہلت بہت کم دی، لالہ باجی ایک گہری سانس لے کر خاموش ہو گئیں۔۔۔
پھر آپ واپس کیوں نہیں  آگئیں؟ نہ جانے کیوں میری آواز بھرا سی گئی۔۔
کیسے آتی، کس لیے  آتی، ادیب کی خاطر مجھے تو وہاں رکنا ہی تھا پھر میں خود بھی اس شہر نامہرباں میں واپس نہیں  آنا چاہتی تھی
اور ادیب الحسن! آپ کا بیٹا، وہ آج کل کہاں ہے، اور کیا کر رہا ہے؟
لالہ باجی نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا
تم نہیں ملے اس سے ابھی تک !! ملو گے؟ ان کے لہجے میں کوئی خاص بات تھی
جی ہاں، میں نے اثبات میں سر ہلایا
چلو آؤ اس سے ملواؤں، اس وقت وہ اپنے کمرے میں ہی ہوگا، وہ اٹھ کھڑی ہوئیں
ایک لمبی اور روشن راہداری سے گزرتے ہم گھر کے دوسرے حصے میں آئے
ایک کمرے  کے دروازے پہ لالہ باجی نے دستک دی،
کم ان، اندر سے کسی عورت کی آواز آئی
ہم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے
اندر ایک ادھیڑ عمر کی فلپینو عورت نے ہمارا استقبال کیا
میں نے دیکھا کہ ایک آدمی دروازے کی طرف پیٹھ کیے بیٹھا تھا، ہماری آواز پر اس نے ہمیں پلٹ کر نہیں دیکھا، ہم لوگ خود ہی گھوم کر اسکے سامنے پہنچے
یہ ایک خوش شکل وجہیہ کلین شیو مضبوط ہاتھوں پیروں والا نوجوان تھا، بال اوپر کی طرف الٹ کر بڑے سلیقے سے بنے ہوئے تھےمگر اس کے چہرے پہ کچھ وحشت سی تھی، کچھ عجیب سی بات تھی جو میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی
کمرے میں ایک غیر معمولی خاموشی تھی، پھر اس خاموشی کو لالہ باجی کی آواز نے توڑا
یہ “ادیب الحسن” ہے، میرا بیٹا پیدائشی ذہنی معذور۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے ذہن کو ایک جھٹکا لگا،
یہ “ادیب الحسن” ہے، میرا بیٹا پیدائشی ذہنی معذور۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے ذہن کو ایک جھٹکا لگا، زبان خشک ہو کر تالو سے جا لگی اور پیر کانپنے لگے
میں وہیں ایک کرسی کا سہارا لے کر کھڑا ہوگیا
زندگی اے زندگی تونے لالہ باجی کے کیا کیا امتحان لیے ہیں،
ارے تو انساں کو کیا کیا خواب دکھاتی ہے، یہ تقدیر کی بےکسی ہے یا تدبیر کی بےبسی، بےیقین زندگی کا سفر، پر یہ لالہ باجی ہی کیوں، نارسائی انہی کی تقدیر کیوں، زندگی کی تاریک راہوں پر انھیں کیوں چلنا پڑا، ان کی روح و بدن میں گھلی ابدی تنہائی، اور وہ آفتاب، آفتاب الحسن، جو بڑی خاموشی سے گل لالہ کو اندھیروں کے سپرد کرگیا تھا کہاں ہے وہ؟

کیوں کیا ایسا تم نے آفتاب؟ اپنی اس قربانی سے تم نے کیا پایا، لالہ باجی نے کیا کھویا اور تمھارے چہیتے بھائی نجمی کو کیا ملا؟ یہ سب کیا ہے کس لیے ہے اور یہ سب کچھ انسانوں کا نصیب کیوں ہے؟؟
گل لالہ کی افسانہ نما زندگی کی کہانی کا سفر ابھی تھوڑا اور باقی ہے، ریحانہ روحی کی خود اعتمادی، مسز مارک ٹیلی کی خوش مزاجی اور مسز جعلی کی غلط بیانی، یہ سارے قصے اور کہانیاں ابھی کہنا باقی ہیں، کہ طلسم خواب زلیخا، دام ، بردہ فروش، ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لالہ باجی کے گھر میں لگا آخروٹ کا درخت ٹنڈ منڈ ہو رہا تھا
پت جھڑ آن لگا تھا، زرد موسم، اداسیوں کا موسم
خزاں کا موسم۔۔۔۔۔
دن بھر مٹیالی دھوپ کے ساتھ غبارآلود گرم ہواؤں کے جھکڑ چلتے، درختوں کے زرد اور نارنجی پتے گرد وغبار کے ساتھ شور مچاتے کھڑ کھڑ کرتے پھرتے، اوپر بہت اونچائیوں پر چیلیں منڈلاتیں اور گھانس کی رنگت گندمی ہو جاتی۔۔
اس دن جب میں لالہ باجی کے پاس پہنچا تو وہ بہت اچھے موڈ میں تھیں، انھوں نے دھانی رنگ کی ساری پہن رکھی تھی جس میں ان کا سرو قد اور نمایا ہو گیا تھا اپنے شہد رنگ بالوں کو انھوں نے گھما کر جوڑا بنا رکھا تھا، جوڑے میں ان کا چہرہ حسن بنگال کا نمونہ بنا ہوا تھا، جب وہ کسی بات پر سرہلاتیں تو کانوں میں تاروں کی طرح جھولتے آویزے ان کے رخسار چومنے لگتے۔
نہ ہوئے آج یہاں حافظ شیرازی   ورنہ۔۔۔۔میں نے ذرا شوخی سے کہا
کیا ورنہ؟؟ انھوں نے مصنوعی غصے سے پوچھا
ورنہ وہ آج صرف سمر قند و بخارا پہ ہی بس نہ کرتے بلکہ پورا ایران بخش دیتے
وہ ہنس پڑیں۔۔۔
ایسے کمپلیمنٹ انھوں نے زندگی میں ہزاروں بار سنے ہونگے
تم روز روز یہاں آکر چار چار گھنٹے گزارتے ہو بور نہیں ہو جاتے،؟ انھوں نے مجھے آئسکریم کا باؤل تھماتے ہوئے پوچھا
معلوم نہیں،
کیا معلوم نہیں
ایسا ہے کہ اس کے دو پہلو ہیں، میں نے پہلو بدل کر کہا، جب میں کبھی برق و باراں میں کبھی شدید طوفان میں اور کبھی شدید گرم ہوا کے جھکڑوں سے لڑتا جھگڑتا ٹریفک میں پھسنتا ہوا دو گھنٹے میں آپ کے پاس پہنچتا ہوں تو لگتا ہے افوہ چار طویل گھنٹے لگ گئے اور یہی چار گھنٹےلالہ باجی کے پاس بیٹھتا ہوں تو لگتا ہے ابھی ابھی تو آیا تھا۔۔۔۔
“شریر” وہ مسکرانے لگیں
سچ بتاؤ اب تک کتنے دل توڑے تم نے
سچ بتاؤں یا جھوٹ
بالکل سچ ، انھوں نے میز پر رکھا ہوا رولر اٹھالیا
ایک سو گیارہ
کتنے، وہ حیرت سے بولیں
ایک سو گیارہ، جی یہ بات تو فیس بک باجی نے مجھے بتائی ہے ورنہ مجھے تو خود بھی پتا نہیں تھا
وہ ہنسنے لگیں
شطرنج کھیلنا آتی ہے تم کو
جی بالکل بھی نہیں
مجھے بھی نہیں آتی تھی، مگر میں نے سیکھی آفتاب سے قریب رہنے کے لیے
مشکل کھیل ہے مگر بازی میں اس وقت بہت لطف آتا ہے جب شہرِ یار دل آپ کے ساتھ بیٹھ کرچالیں چل رہا ہو، انھوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی
مجھے یاد ہے اس دن ہم شطرنج کھیل رہے تھے، میں اور آفتاب،
انکا پسندیدہ کھیل، لائبریری میں بساط ہر وقت بچھی رہتی، بادشاہ، رخ، فیل، فرزیں یا ملکہ، گھوڑے اور پیادے صفیں بچھائے ایک دوسرے کو مات دینے کے منتظر،
اس دن عجیب بات ہوئی، آفتاب نے کھیل کے دوران ایسی غلطیاں کیں جو وہ کبھی بھی کر نہیں سکتے تھے، میرے رخ کی ترچھی چال سے ان کے کچھ مہرے بلاک ہو گئے اور اب ان کا فرزیں آگے نہیں بڑھ سکتا تھا، ان کے پاس مات کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا اس بازی میں، وہ نہ جانے کس سوچ میں گم تھے، مجھے معلوم تھا جب میں بساط پر جھکی ہوتی تھی تو ان کی پر شوق نگاہیں ٹکٹکی باندھے میرے چہرے پہ ہی جمی رہتی تھیں۔۔۔
مگر پھر بھی ایسی فاش غلطی!!!
میں بازی تو جیت تو گئی مگر مجھے ان کا اس طرح ہارنا اچھا نہیں لگا
“آپ جان بوجھ کر کیوں ہارتے ہیں” میں نے ان سے الجھ کر کہا
ہارنا کس کو اچھا لگتا ہے، اس کے لیے حوصلہ چاہیے، وہ آہستہ سے ہنسے
یہ آپ مجھے سکھا رہے ہیں یا خود ہارنے کی پریکٹس کر رہے ہیں، مجھے بلاوجہ غصہ آئے چلا جا رہا تھا
ارے ارے اتنا غصہ، مات تو بادشاہ کو ہوئی ہے، ملکہ صاحبہ تو سلامت ہیں وہ ہنسے گئے،
میں آئندہ نہیں  کھیلوں گی   آپ کے ساتھ، میں بہ دستور روٹھی رہی
آخر وہ اپنی جگہ سےاٹھ کرکھڑے ہوئے اور میرے پاس آکر میرا چہرا اپنے دونوں میں ہاتھوں میں تھام کر بولے
“یہ تو کھیل ہے گل لالہ، اس کی ہار جیت پر کیا ملول ہونا، جب کبھی زندگی میں ایسے موقع آئیں تو ثابت قدم رہنا شرط ہے، کبھی کبھی کچھ پانے کے لیے بہت کچھ ہارنا بھی پڑتا ہے۔۔۔
میں شرم سے سرخ ہوگئی اور میرے جسم کا سارا خون نچڑ کر میرے چہرے پہ سمٹ آیا
اور اگر کوئی کسی پر اپنی زندگی ہار جائے تو؟؟ میں نے چپکے سےکہا
مگر میری بات کا جواب دینے والا وہاں کوئی نہیں تھا آفتاب کمرے سے جا چکے تھے
میں نے نوٹ کیا کہ لالہ باجی کی آواز میں ایک لرزش سی پیدا ہوگئی ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اپنی زندگی کو ایک ڈھب پہ لگا لیا تھا رفعت،
وہی سرد ھوائیں، وہی آدھی رات کا سورج اور وہی ادیب الحسن کے علاج کے شب و روز، میں اپنی زندگی پر شاکر تھی.
ہم دونوں پھر اسی سٹنگ روم میں آ بیٹھے تھے جہاں ایک بڑی کھڑکی کے نیچے شطرنج کی بساط سجی ہوئی تھی
کبھی کبھی عدمی کے خطوط میری پرسکون زندگی میں ہلچل مچا دیتے، وہ بولے گئیں، عدمی تمہیں یاد ہے نا، عدیل الحسن، نجمی کا سب سے چھوٹا بھائی، جو اب ایک سمجھدار پرجوش نوجوان تھا،
کبھی لکھتا کہ “بھابھی ھہارا گھر جسے تم بہت خوبصورت اور آئیڈیل کہا کرتی تھیں اب خاموشی کا مسکن ہے، ہمارے ہنستے کھیلتے بھیا کہیں کھو گئے ہیں، ہمیں نہیں معلوم کون سا دکھ ان کو خاموشی سے کھائے جارہا ہے، ہم سب کے مسیحا ہم سے بہت دور جا چکےہیں
میں نے اس خط کا جواب نہیں دیا دیتی بھی تو کیا دیتی؟
وہ آفتاب جو ان سب کا مسیحا تھا اس نے تو خود ہی سولی چڑھنا منظور کیا تھا، مصلوب وہ ہوا اور دکھوں کی صلیب اٹھائے میں پھر رہی تھی، میں نے کب چاہا تھا کہ آفتاب کو گرہن لگ جائے
کبھی لکھتا کہ “بھابھی، ہم سب کوشش کر کے ہار چکے مگر بھیا شادی کرنے پہ تیار نہیں، اب تو مجھے یہ لگنے لگا ہے کہ شاید زندگی کے کسی موڑ پر کسی بےوفا لڑکی نے ان کا دل توڑا ہے، اگر ایسا ہے تو میری اللہ سے دعا ہے اس لڑکی کو بھی زندگی بھر چین نہ آئے، اس کی زندگی میں خوشی کا کوئی لمحہ نہ آئے وہ بھی اسی طرح تڑپے جیسے میرے معصوم بھیا تڑپ رہے ہیں
میں بلک پڑی، آنسو میرے دل پر گرتے رہے۔۔۔
یہ تونے کیا لکھ دیا عدمی، تو  ذرا آ کے حالت تو دیکھ اس سیاہ بخت کی جس کو تیرے بھیا نے جیتے جی مار دیا، میں عدیل سے کیسے کہتی کہ تنہائی کی یہ جنت تو تیرے آفتاب بھیا نے خود اپنے ہاتھوں سے تراشی ہے،آنسؤں میں بھیگے لفظوں میں صرف یہی جواب دے سکی کہ” عدیل تو بڑا پاگل ہے جو اس طرح کی باتیں سوچتا ہے، میری مان تو ابھی تک اس دنیا میں کوئی ایسی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی جو تیرے بھیا کے ساتھ زندگی گذارنے سے انکار کر سکے”
“آپ کو آفتاب نے کبھی کوئی خط لکھا” کبھی آپ کی خیریت ہی معلوم کی، میں نے بیچ میں  جب وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئیں تو پوچھا
“کیسے لکھ سکتے تھے، لالہ باجی کے کچے سونے جیسی رنگت والے چہرے پہ ایک حزن آمیزمسکراہٹ نمودار ہوئی
“سلسلے توڑ گیا وہ سب ہی جاتے جاتے”
اپنے چھوٹے بھائی کی خوشی و زندگی کے لیے وہ اپنا سب کچھ لٹا جو چکے تھے، کچھ میرے دل اور جذبات کا خیال کیے بغیر، مجھ سے یوں دستبردار ہوئے جیسے کوئی اپنی بےجان جائیداد کسی دوسرے کو منتقل کردے، تم سوچتے تو ضرور ہوگے مجھے ان سے نفرت ہوجانا چاہیے تھی انکی اس خود غرضی اور بے انصافی پر، مگر ایسا ہوا نہیں!
تیس سالوں میں، رفعت سوچو، میری زندگی کے تیس طویل سالوں میں ایک بھی ایسا دن نہ آیا جب میں نے انھیں یاد نہ کیا ہو یا مجھے ان سے کبھی نفرت محسوس ہوئی، شاید یہ میرا پاگل پن تھا،
اب سوچتی ہوں کہ نہیں یہ پاگل پن نہیں تھا یہ ایک خراج تحسین تھا اس شخص کو جس نے ذاتی مسرت کو اپنے بھائی کی خاطر قربان کیا جو خود جلتا رہا سورج کی طرح دنیا کو روشن رکھنے کے لیے،
میرے لئے تو پھر بھی ایک پاگلوں کی طرح چاہنے والا شوہر موجود تھا، مانا وہ میرادلدار نہ تھامگر میرے ایک اشارے پر دل جاں میرے قدموں پہ لٹادینےوالا تو تھا اور جس نے اپنی زندگی بھر اپنی سانسوں سے زیادہ بڑھ کر میری حفاظت کی،
مگر آفتاب۔۔۔۔۔۔ ایک تنہا اداس انسان اپنی آگ میں اکیلا جلتا ہوا مہر بہ لب، میں اور کچھ نہیں تو ان کو خاموشی سے یاد تو کر سکتی تھی، ان کی بہتر زندگی کے لئے دعا تو کرسکتی تھی، میرے لئے ان کی یاد کانچ کا ٹکڑا تھی سنگ گراں تھوڑی ہی تھی
کیا میں غلط کرتی رہی رفعت؟
ان کے سوال کا بےساختہ پن گھونسے کی طرح میرے دل پہ لگا، میں دم بخود خاموش بیٹھا بھیگی آنکھوں سے ہجر نصیب لالہ باجی کی طرف دیکھتا رھا، ان سے کیسے کہتا کہ اب پچھلی ساعتوں کا غم کرنے سے کیا فائدہ، شیرینی لب، خوشبوئے دل، اب شوق کا عنواں کوئی نہیں، شادابی دل، تفریح نظر، اب زیست کا درماں کوئی نہیں
لالہ باجی جو ایک بیوی تھیں ایک ماں تھیں اور بھابھی بھی تھیں مگر ان سب رشتوں سے پرے وہ ایک عورت بھی تو تھیں جس کے سینے میں بھی دل دھڑکتا تھا، جس کی اپنی ایک پسند تھی، ذاتی جذبات تھے سوچ تھی اور جو رونے کا حق رکھتی تھی، اور کس کو یاد رکھنا ہے کس کو بھول جانا ہے یہ اسکا صوابدید تھا
“پھر ایک روز عدیل کا آخری خط آیا” لالہ باجی غمناک لہجے میں بولیں
جون کے مہینے میں کوپن ہیگن میں تقریبا” آٹھ گھنٹے کے لیے سورج نکلتا ہے، چمکدار اور روشن دن ہوتے تھے اس ماہ میں مگر اس دن میری دنیا دوسری بار اندھیری ہوئی،۔۔۔

ایک دھوپ تھی کہ گئی ساتھ آفتاب کے

ایک لائن تھی عدیل کےاس خط میں، صرف ایک لائن
“ہمارے اچھے اور چاہنے والے بھیا اب ہم میں نہیں رہے”

انھیں بھی جانے کی جلدی تھی
وہ ایک جھرجھری لے کر خاموش ہوگئیں
کمرے پہ گھمبیر خاموشی تھی، ، نہ کوئی سسکی نہ ہچکی، نہ کوئی چاپ، باہر کھڑکی پر درختوں کے پتے ھواؤں کے شور میں سر پٹخ رہے تھے
انھیں جانے کی جلدی تھی
لالہ باجی نے بے چینی سے پہلو بدلا اور اٹھ کر کمرے کا ایک چکر لگایا، بے خیالی میں وہ اس میز سے ٹکرائیں جس پر شطرنج کی بساط سجی تھی، سارے مہرے ملکہ وزیر پیادے سب کے سب ذرا لڑکھڑائے اور ایک ایک کرکےگرنے لگے تاش کے پتوں کی طرح، صرف بادشاہ اپنی جگہ کھڑا رہ گیا، ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا بادشاہ کے قدم تھرتھرائے اور وہ بھی زمیں بوس ہو گیا،
مات۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مات ہوگئی ۔۔۔۔
مات نہیں آج تو شاہ مات ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
بازی بھی ختم ہوئی
ایسی بازی کہ ہارے بھی تو بازی مات نہیں
میں آج بھی سوچتا ہوں اس ٹرائی اینگل میں گنہگار کون تھا؟
نجیب الحسن نجمی، گل لالہ یا آفتاب الحسن
آپ بتائیں نا !!!
زندگی کے اس دلگذار افسانہ نما قصے میں کون نایاب ہے، کون کم یاب اور کون کامیاب ہے، اور یہ فیصلہ کرتے وقت لالہ باجی کی بات مت سنیں کیونکہ وہ آج بھی ساحل ذات پہ خاموش ، آزردہ اور ملول کھڑی ہیں، دریائے محبت انھیں آج بھی آواز دے
رہا ہے آ، آ جا، کچھ بھی نہی  پایاب ہیں ہم
پایاب ہیں ہم
پایاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دفعتاً مجھے لگا کہ آفتاب کہیں قریب ہی کھڑے اپنا وہ پسندیدہ شعر پڑھ رہے ہیں
کم سے کم مجھ پہ وہ خوشی ہے حرام، جو کسی کے لیے ضرر ٹھہرے،
میں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا
مگر چاروں طرف سناٹا ہونٹوں پہ انگلی رکھے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *