• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • سگمنڈ فرائڈ اور انسانوں کا نفسیاتی ارتقاء۔۔۔۔ڈاکٹر خالدسہیل/قسط4

سگمنڈ فرائڈ اور انسانوں کا نفسیاتی ارتقاء۔۔۔۔ڈاکٹر خالدسہیل/قسط4

انسانی ارتقا ءکے کئی رخ’ کئی حوالے اور کئی جہتیں ہیں۔چارلز ڈارون نے انسانوں کے حیاتیاتی اور جسمانی ارتقا پر روشنی ڈالی۔ ڈارون کی سوچ اور فکر کو جن دانشوروں نے آگے بڑھایا ان میں سے ایک اہم نام سگمنڈ فرائڈ کا ہے۔
فرائڈ ایک طویل عرصے تک انسانی ذہن کے ارتقا پر تحقیق کرتے رہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ کس طرح انسانی بچہ پیدائش سے جوانی تک ذہنی نشوونما کے مختلف مراحل اور مدارج سے گزرتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جس طرح انسان انفرادی طور پر بلوغت کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اسی طرح پوری انسانیت اجتماعی طور پر بھی نفسیاتی بلوغت کے مراحل طے کرتی ہے۔ان مدارج سے گزرنے کے بعد انسان عاقل و بالغ بنتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ جو سفر ایک انسان چند سالوں یا دہائیوں میں طے کرتا ہے اسی سفر کو پوری انسانیت کو طے کرنے میں سینکڑوں ہزاروں سال لگ جاتے ہیں۔
فرائڈ نے تحلیلِ نفسی کے دوران یہ جانا کہ ذہنی طور پر زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے نابالغ انسان IMMATURE DEFENCE MECHANISMS اور بالغ انسان MATURE COPING MECHANISMS استعمال کرتے ہیں۔ انسانی ذہن اور شخصیت کی ان حفاظتی تدابیر سے پتہ چلتا ہے کہ انسان اپنی ذاتی نشوونما’ انفرادی بلوغت اور اجتماعی ارتقا کے کس مرحلے پر ہیں۔

سگمند فرائڈ نے اپنے چالیس برس کے پیشہ ورانہ تجربات کی بنیاد پر انسانی نفسیات کے جو راز جانے ان میں سے ایک راز یہ ہے کہ انسانی ذہن میں لاشعور شعور سے بہت بڑا ہوتا ہے لیکن مخفی رہتا ہے جو خوابوں میں ہم پر منکشف ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ لاشعوری محرکات کی وجہ سے زندگی کے اہم فیصلے کرتے ہیں جن میں سے بعض نادانی کے فیصلے ہوتے ہیں اور بعض دانائی کے۔

فرائڈ کا کہنا تھا کہ جب انسان کسی تجربے یا مشاہدے سے بہت پریشان ہوتا ہے تو اس کا شعور اس تکلیف دہ تجربے کو لاشعور میں دھکیل دیتا ہے۔ فرائڈ اس عمل کو REPRESSION کا نام دیتے ہیں۔ یہی لاشعور کے پریشان کن تجربات بہت سے نفسیاتی مسائل کی صورت اپنا اظہار کرتے ہیں جن میں ANXIETY AND DEPRESSION سرِ فہرست ہیں۔ فرائڈ نے نہ صرف نفسیاتی مسائل کی تشخیص کی بلکہ ان کا علاج بھی دریافت کیا۔
فرائڈ نے اپنے علاج کا نام تحلیلِ نفسی PSYCHOANALYSIS رکھا جس میں نفسیاتی معالج کاوچ پر لیٹے مریض کی مدد کرتا ہے کہ وہ آزاد تلازمہ خیال اور FREE ASSOCIATION کی مدد سے لاشعور سے مسائل کو دوبارہ شعور میں لائے اور ان مسائل کا حل تلاش کرے۔ اس عمل سے وہ اپنی نفسیاتی گتھیوں کو سلجھاتا ہے اور ایک صحتمند زندگی گزارنے کے قابل ہوتا ہے۔ فرائڈ کے یہ خیالات، تصورات اور نظریات انسانی نفسیات کے علم میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئے جن سے نفسیات نے ہی نہیں سماجیات اور فنونِ لطیفہ نے بھی استفادہ کیا۔

فرائڈ کی تحقیق نے انسانوں پر ان کی شخصیت کے وہ گوشے منکشف کیے جن سے وہ پہلے واقف نہ تھے۔
فرائڈ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ انسان بچپن سے جوانی تک نفسیاتی طور پر کن مدارج سے گزرتا ہے اور زینہ بہ زینہ کون سی بلوغت کی منزلیں طے کرتا ہے۔ فرائڈ نے نشاندہی کی کہ بعض لوگ جسمانی طور پر بالغ ہونے کے باوجود ذہنی طور پر نابالغ ہی رہتے ہیں۔ فرائڈ نے ذہنی بلوغت کے مدارج اور DEFENCE MECHANISMSکی نشاندہی کی۔ یہ موضوع بہت وسیع ہے لیکن میں یہاں چند IMMATUREاور چند MATURE نفسیاتی حفاظتی تدابیر کا ذکر کروں گا تا کہ آپ کو انسان کی ذہنی صحت اور بلوغت کی درجہ بندی کا اندازہ ہو سکے۔
نابالغ حفاظتی تدابیر میں سے ایک MAGICAL THINKING ہے۔ اس سوچ میں انسان اپنے مسائل کا حقیقت پسندانہ حل تلاش کرنے کی بجائے تصور کی دنیا میں جادوئی حل تلاش کرتے ہیں۔ جب میں پشاور کے زنانہ ہسپتال میں کام کرتا تھا تو میری کئی جوڑوں سے ملاقات ہوئی جن کے ہاں بچے پیدا نہ ہوتے تھے اور وہ اپنے مسئلے کا علاج   تعویز  گنڈوں سے کرتے تھے۔ آخر جب وہ ہمارے INFERTILITY CLINIC آئے تو ہم نے ٹیسٹ کیا تا کہ جان سکیں کہ شوہر کے SPERM میں خامی ہے یا بیوی کے OVUM میں۔ مسئلے کی تشخیص کے بعد ان کا علاج کیا گیا۔

بعض معاشروں کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ اگر بچہ پیدا نہ ہو تو اس کا ذمہ دار عورت کو ٹھہرایا جاتا ہے بلکہ شوہر کا ٹیسٹ کیے بغیر بعض دفعہ شوہر کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دوسری شادی کر لے۔ کسی بھی انسان کا اپنے جسمانی اور ذہنی، سماجی و معاشی مسائل کا پیروں فقیروں کے گنڈا تعویز سے حل تلاش کرنا MAGICAL THINKING کی ایک مثال ہے۔

ایک اور نابالغ نفسیاتی طریقہ ACTING OUT کہلاتا ہے۔ اس میں اگر دو انسانوں میں ناراضگی ہو جائے تو بجائے اس مسئلے کو پُر امن مکالمے سے حل کیا جائے جو ایک صحتمند طریقہ ہوگا، نفسیاتی مسئلے کا شکار اپنے غصے کا اظہار معاشرے میں کرتا ہے، وہ شخص بازار میں جا کر کسی اجنبی سے لڑتا ہے بلکہ توڑ پھوڑ بھی کرتا ہے۔ وہ نوجوان جو گھروں میں ماں باپ سے ناراض ہوتے ہیں لیکن بازاروں میں دوسروں کی گاڑیوں کے شیشے توڑتے ہیں اسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہوتے ہیں۔

نابالغ طریقوں کے مقابلے میں بالغ طریقوں میں سے ایک حسِ ظرافت ہے۔ فرائڈ HUMOR کو بہت پسند کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ مزاح تخلیق کرنے والا انسان دوسروں کا دل دکھائے بغیر اپنے موقف کا اظہار کرتا ہے اور زندگی کی کھٹاس میں مٹھاس کا اضافہ کرتا ہے۔ اس صحتمند طریقے سے سانپ بھی مر جاتا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی۔

فرائڈ نے ایک اور صحتمند طریقے کی نشاندہی کی جو SUBLIMATION کہلاتی ہے۔ اس طریقے میں انسان اپنی جارحیت کے جذبات کا ایک صحتمند اور اپنے معاشرے میں معزز طریقہِ اظہار تلاش کرتا ہے۔
میرے ایک مریض کو تیز گاڑی چلانے کا بہت شوق تھا وہ سپورٹس گاڑیاں خریدتا اور چلاتا تھا لیکن اسے یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں ایکسیڈنٹ نہ ہو جائے یا پولیس نہ پکڑ لے۔ تھیرپی کے بعد وہ ایمبولنس ڈرائیور بن گیا۔ اب وہ گاڑی بھی تیز چلاتا ہے اور مریضوں کی خدمت بھی کرتا ہے، یہ سبلیمیشن کی ایک مثال ہے۔

محمد علی کلے جب بچے تھے تو وہ کافی دبلے پتلے اور نحیف و ناتواں بھی۔ اس پر گورے بچے ظلم و زیادتی کیا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں باکسر بنوں گا اور سب گوروں کو ہراؤں گا۔ چنانچہ محمد علی کلے کا ہیوی ویٹ باکسر بننا فرائڈ کی سبلیمیشن کی ایک عمدہ مثال ہے۔

اسی طرح اگر کسی شخص کو بحث و مباحثے کرنے کا بہت شوق ہے تو اسے ہر محفل میں دنگا فساد کرنے اور سوشل میڈیا پر تلخ کلامی کرنے کی بجائے وکیلِ صفائی بننا چاہیے تا کہ وہ عدالت میں محروموں، مجبوروں اور مظلوموں کی خدمت کر سکے۔

جس طرح افراد ذہنی بلوغت کے زینے طے کرتے ہیں اسی طرح قومیں بھی سماجی ارتقا کی منازل طے کرتی ہیں۔ نابالغ قومیں خون آلود جنگ و جدل سے اور بالغ قومیں اپنے مسائل پُرامن مکالمے سے حل کرتی ہیں۔ BULLETS سے BALLOTS کا سفر ارتقا کا سفر ہے۔ اسی طرح شہنشاہیت اور آمریت سے جمہوریت کا سفر بھی انسانی شعور کے ارتقا ءکا آئینہ دار ہے۔ یونانیوں نے نا صرف انسانیت کو جمہوریت سے بلکہ اولمپکس کے کھیلوں سے بھی متعارف کروایا تا کہ مختلف قومیں میدانِ جنگ میں خون بہانے کی بجائے کھیل کے میدان میں اپنی جارحیت کا صحتمند اظہار کریں۔ اولپمپس کے کھیلوں سے قومیں اپنے شدت پسند جذبات کا اظہار ہی نہیں بلکہ دوسروں کو محظوظ بھی کرسکتی ہیں۔

فنونِ لطیفہ بھی انسان کے سفلی جذبات کا تخلیقی اظہار ہے اور سبلیمیشن کی ایک مثال ہیں۔ بالغ قومیں اپنے بچوں کی تربیت میں فنونِ لطیفہ کا خاص خیال رکھتی ہیں تا کہ قوم کے شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کی بروقت تربیت ہو سکے اور وہ قوم کے شعور کے ارتقا ء میں اہم کردار ادا کر سکیں۔

جب ہم ساری دنیا کے انسانوں کا بنطرِ غائر جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے انسانیت اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے بھی پوری طرح ذہنی طور پر بالغ نہیں ہوئی اور کئی حوالوں سے ابھی تک نابالغ ہے۔

اب جبکہ فرائڈ جیسے ماہرینِ نفسیات کی تحقیق سے ہم انسانی ذہن کے ارتقا ء اور نفسیات کے رازوں سے واقف ہوتے جا رہے ہیں ہم اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں تا کہ ہم جسمانی بلوغت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور سماجی بلوغت کی منازل بھی طے کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں۔ اس پر غور کریں اور ایک صحتمند اور خوشحال زندگی گزاریں۔ اس سے نہ صرف ہم ایک پُرسکون اور بامعنی زندگی گزار سکیں گے بلکہ اپنے دوستوں عزیزوں اور رشتہ داروں کی مدد بھی کر سکیں گے۔ سقراط فرمایا کرتے تھے
UNEXAMINED LIFE IS NOT WORTH LIVING
خوشحال زندگی گزارنا ہم سب کا پیدائشی حق ہے اور صحتمند معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنا ہم سب کی انفرادی اور سماجی ذمہ داری ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *