• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چور چور کے شور میں پناہ لینے والے اصلی ڈاکو ؟۔۔۔۔عبید اللہ ڈھلوں

چور چور کے شور میں پناہ لینے والے اصلی ڈاکو ؟۔۔۔۔عبید اللہ ڈھلوں

ہم ہر روز سنتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس تعداد کو بڑھائے بغیر ملکی معاشی صورتحال میں بہتری ممکن نہیں ۔امیر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا۔ پاکستانی ٹیکس نہیں دینا چاہتے ۔ سب سہولتیں تو مانگتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے۔ سب ٹیکس چور ہیں۔

بڑی معذرت کے ساتھ ۔۔۔ آپ پاکستانیوں کو بحیثیت قوم چور چور کہہ کر ان کی بے عزتی کرنا بند کر دیں۔ کیونکہ پاکستان میں کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں جو ٹیکس نہ دیتا ہو۔ ایک ملازم پیشہ کو ٹیکس کٹوتی کے بعد ہی تنخواہ ملتی ہے۔ اب جب وہ اپنی آمدن پر ٹیکس ادا کر چکا ہوتا ہے تو پھر اس کو بجلی، گیس، پٹرول ، ٹال ، فون، بچوں کی سکول فیس، اور مکان، کپڑے ، جوتے اور کھانے پینے کی ہر ایک چیز پر پھر 17% جی ایس ٹی ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح اس کی آمدن کا 50-60 فیصد ٹیکس کی مد میں چلا جاتا ہے۔ تو پہلے تو آپ اس ملک کے تمام ملازمت پیشہ عوام سے معافی مانگیں اور انہیں چور چور کہنا بند کر کے ان کی عزت ِ نفس بحال کریں۔

اب وہ لوگ جو ملازمت کی بجائے کاروبار کرتے ہیں ان کی آمدن پر ٹیکس کا معاملہ رہ جاتا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ وہ بھی بجلی، گیس، پیٹرول ، ٹال ، فون، بچوں کی سکول فیس، اور مکان، کپڑے ، جوتے اور کھانے پینے کی ہر ایک چیز پر پھر 17% جی ایس ٹی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ آمدن ٹیکس دیتے ہیں اور زیادہ تر کو ٹیکس نیٹ میں لانا ایک چیلنج ہے۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ وہ بالکل ٹیکس نہیں دیتے۔

مصنف:عبید اللہ ڈھلوں

اب ٹیکس دینا اور ٹیکس ریٹرن جمع کروانا دو مختلف باتیں ہیں۔ ٹیکس ریٹرن ایک پیچیدہ عمل ہے جس کی آڑ میں ٹیکس سے بچنے والے، ٹیکس کے ماہرین اور ٹیکس جمع کرنے والے افراد اور ادارے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے آج تک ان تینوں کیٹیگری والوں کو غریب نہیں دیکھا۔ یہ ہے وہ چور اور ڈاکو جن کی وجہ سے عوام کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔

عوام کی جیب سے نکلنے والے ٹیکس کا کتنے فیصد قومی خزانے میں جاتا ہے؟ اس کا آڈٹ سب پول کھول دے گا۔ دوسرا اب ترقی یافتہ ملکوں کی ٹیکس کی فیصد  کا راگ بھی بند ہونا چاہیے۔ ان ممالک میں ٹیکس کے بدلے صحت ، تعلیم ، مواصلات اور خوراک کی بہترین سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں،جس کا ہمارے ہاں تصور بھی نہیں۔

میری تجویز ہے کہ آپ ملازمت پیشہ افراد کا شکریہ ادا کر کے ان کو سہولتیں دینے کا آغاز کریں ۔ ٹیکس کارڈ پر تعلیم اور صحت کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی سکیم کا آغاز کریں ۔ پرائیویٹ تعلیم، صحت اور ہاؤسنگ کو بتدریج کم کر کے سرکاری تعلیم ، صحت اور ہاؤسنگ کو بہتر بنایا جائے۔ یہ جو ہاؤسنگ سکیم ہے پہلے ان ملازمین جو بہت مناسب قیمت پر گھر کیوں نہیں دیتی جو 15-20 سال سے ٹیکس دے رہے ہیں؟ ٹیکس دینے والوں کو ہیلتھ کارڈ جاری کیوں نہیں کیا جاتا؟ ایسا کرنے سے ٹیکس دینے والوں کو احساس ہو گا کہ ان کا پیسہ ان پر خرچ ہو رہا ہے۔ پھر ٹیکس دینے پر تکلیف بھی نہیں ہو گی اور مزید لوگوں کو ٹیکس دینے کی طرف راغب کرنا بھی آسان ہو گا۔

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *