ذہانت سے عشق۔۔۔۔اجمل صدیقی

Sapiosexuality ایک نفسیاتی رجحان ہے۔جس میں افراد دماغ سے چارج ہوتے ہیں , آنکھوں سے نہیں ۔۔ان کے دماغ سیاسی,سماجی اور فلسفیانہ گفتگو سے glow کرتے ہیں ۔
اس کے پیچھے ایک یونانی تصور بھی ہے جب دو اعلیٰ دماغ ایک دوسرے کو identify کرلیں تو کائنات کا دماغ ان میں شامل ہوکر نئی تخلیق کی راہیں کھول دیتا ہے۔ جدلیات میں بھی تصور تھا لیکن وہ بے رنگ مباحثہ ہوتا ہے۔۔
اس کے پیچھے یہ تصوّر بھی ہے کہ سب سے بڑا sexual organ دماغ ہے۔
whole is greater than its parts
کُل اجزا کے مجموعے سے بڑا ہوتا ہے۔
یہ ایکintellectual synergyہے۔۔
یہ یونگ کے نزدیکanima +animusکی تکمیل ہے
یا اسےpleasure of androgynyبھی کہتے ہیں

“The meeting of two personalities is like the contact of two chemical substances: if there is any reaction, both are transformed.
jung

لیکن “ٹھرک ” اور چیز ہے
sexual perversionہے ۔۔جو محض جسم تک ہی محدود ہوتے ہیں ، ان کے آئیڈیل اتنے بلند نہیں ہوتے ۔صرف بارود اور آگ کے ملنے کی تمنا ہوتی ہے۔یہ عمومی طور پر  کُند اور بوڑھے لوگوں  میں  زیادہ پایا جاتا ہے۔۔
saphiophile : one who has love for genius without any erotic sense

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *