کتب بینی اور سفرنامہ اسرائیل فلسطین۔۔۔۔ہارون الرشید

کہانیاں اور کتابیں پڑھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا بلکہ گھر میں سب ہی کتابیں پڑھنے کے شوقین تھے۔ بچپن میں بنت الاسلام اور طالب ہاشمی کی بچوں کے لیے لکھی ہوئی بیسیوں کہانیاں اب بھی ذہن میں کہیں نہ کہیں محفوظ ہیں جن میں “برگد کا درخت”، “سو برس کی نانی” اور”بڑی بی کا گول برتن”  آج بھی یاد ہیں، گول برتن جسے بڑی بی مانجھ کر کھڑکی پر رکھ دیا کرتی تھیں اور وہ لڑھکتا ہوا باہر نکل جاتا اور کبھی کسی شادی کی تقریب سے اور کبھی کسی حلوائی کی دکان سے  بڑی بی کے لیے مزے مزے کے کھانے اپنے اندر بھروا  کر لے آتا۔ بڑی بی مزے لے لے کر کھانا کھاتیں ، اپنے بچوں، جو یا تو تھے ہی نہیں یا تھے تو پیسہ کمانے ملک سے باہر جا کر بڑی بی کو بھول گئے تھے،   کو یاد کرتیں اور پھر برتن مانجھ کر دوبارہ کھڑکی پہ رکھ دیتیں ۔ یہ عمل روز ہوتا تاآنکہ ایک دن گول برتن اپنے اندر کھانے کی بجائے پیسے لے آیا۔ بڑی بی نے پیسے دیکھے تو نہال ہو گئیں اور لگیں بار بار گننے۔ بڑی بی کو پیسے کم محسوس ہوئے تو برتن کو نہ مانجھا نہ دھویا بلکہ حکم صادر کر دیا کہ جا اور پیسے لے کر آ۔ برتن غصے میں آیا اور اپنی جگہ سے بار بار کہنے پر بھی نہ ہلا تو بڑی بی نے برتن کو اٹھا کے دروازے سے باہر رکھا اور غصے سے بولیں کہ جا اور پیسے لے کر آ۔   برتن ناراض ہو کر ایسا گیا کہ پھر کبھی واپس نہ آیا اور بڑی بی اپنے  لالچ کی وجہ سے مزیدار کھانوں سے بھی محروم ہو گئیں۔

ان کہانیوں کے علاوہ بچوں کے کئی اصلاحی ماہنامے ڈائجسٹ گھر پر آتے جن میں پیغام ڈائجسٹ  اور نور رسالہ ہوتے، تعلیم و تربیت ہم خود بازار سے خرید لاتے اور ایک ہی نشست میں  پڑھ ڈالتے۔ ہفتے کے روز اخبار میں بچوں کا صفحہ پہلے پڑھنے پر بہن کے ساتھ لڑائی بھی ہوتی۔ مجھے یاد ہے کہ میں بمشکل پانچ چھ  برس کا تھا جب میری بہن نے نسیم حجازی کا ناول “داستانِ مجاہد” مجھے حرف حرف سنایا، میں وہ سن کر بہت رویا، میں چپ ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا بلکہ بہن کو ڈانٹ بھی پڑی کہ کیا ضرورت تھی بچے کو سنانے کی ، اور پھر ابا جی مجھے  بہلانے کی غرض سے باہر لے گئے اور آئس کریم بھی کھلائی۔  کتابیں پڑھنے سے کبھی کسی نے منع نہیں کیا تھا کیونکہ آٹھویں نویں جماعت تک سکول میں پوزیشن بھی آ جا یا کرتی تھی لیکن جب  کتابیں درسی کتب کے تناسب سے زیادہ پڑھی جا رہی ہوتیں تو پھر ڈانٹ بھی پڑتی اور کبھی سکول کا نہ پڑھنے پر مار بھی پڑ جاتی۔ جب ڈانٹ پڑنے کا اندیشہ ہوتا تو پھر کتاب اور منہ رضائی میں دے کر کتاب پڑھی جاتی اور جب پکڑے جاتے تو مزید ڈانٹ پڑتی کہ اب اپنی نظر بھی خراب کرنی ہے؟ کبھی کبھار گرمی میں سٹور روم میں کتاب یا ڈائجسٹ  پیٹی پہ رکھ کے اور خود پیٹی  کے ساتھ لگ کے کھڑے ہو کر دیر دیر تک پڑھتے رہتے یہاں تک کہ پسینے میں شرابور ہو جاتے اور کھڑے کھڑے پاؤں بھی سو جاتے ۔ پھر امی کی گرجدار آواز آتی تو فوراً کتاب بند کرتے، دروازے سے جھانک کر دیکھتے کہ  آواز آئی کس طرف سے ہے اور پھر دبے پاؤں  اُس کمرے کی طرف بھاگتے جہاں امی موجود نہ ہوتیں لیکن بحمدللہ کبھی باتھ روم میں بیٹھ کر کتاب نہیں پڑھی، البتہ باتھ روم میں بیٹھ کر کتاب پڑھنے کی لذت حسنین اشرف یا بھائی انعام رانا بتا  سکتے ہیں۔

کتابیں پڑھنے کی چاٹ ایسی تھی کہ درسی کتاب کے علاوہ جو کتاب ہاتھ آتی پڑھ  ڈالتے۔ بانو قدسیہ کی فلسفے سے بھرپور “راجہ گدھ” بھی اُس عمر میں پڑھ لی تھی جب اُس کی ککھ سمجھ  نہیں آئی تھی لیکن الحمدللہ کتاب مکمل پڑھی تھی۔  یہ اُس وقت کی باتیں ہیں جب بڑی بڑی ضخیم کتابیں ایک ہی نشست میں پڑھ لیتے تھے ، کھانے پینے کے ہوش کے بغیر چاہے پورا دن ہی لگ جائے۔  اب تو زمانہ ہوا  ایک نشست میں کوئی کتاب مکمل پڑھے ہوئے  یہاں تک کہ چند دن قبل جناب طارق محمود کا ‘سفرنامہ اسرائیل فلسطین’ بذریعہ ڈاک موصول ہوا جو ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالا۔  جیسے کہ ابھی تذکرہ کیا  کہ سکول کالج اور یونیورسٹی کے زمانے تک کئی کتابیں  ایک ہی نشست میں پڑھنے کا اعزاز حاصل رہا ہے لیکن پھر ہم بڑے ہو گئے ، کتابوں کے علاوہ اور فکریں لگ گئیں۔ کچھ وقت موبائل فون،  فیس بک  اور دیگر سوشل میڈیا اور کینڈی کرش نے ملکر برباد کر دیا اور پڑھنے کے لیے کتاب ہاتھ میں اٹھاتے ہیں اور کھول موبائل پہ فیس بک یا کینڈی کرش لیتے ہیں۔ لیکن کتاب پڑھنے کی تمنا گویا اب بھی ہر وقت دل میں رہتی ہے۔ کالج کے زمانے تک کتابیں لائبریری سے لے کر پڑھتے رہے لیکن اُس کے بعد جب بھی کوئی کتاب پڑھی الحمدللہ خرید کر ہی پڑھی۔ اب بھی کتب میلوں یا سعید بک بنک جیسی دکانوں پر جاؤں تو جی چاہتا ہے کہ ساری کتابیں خرید لوں لیکن جیب ایسے کاٹ دار طنزیہ انداز میں گھورتی ہے کہ خواہش دل میں دبا لیتا ہوں۔ گزشتہ دو برس سے پاک چائنہ سنٹر میں لگنے والے سالانہ میلے میں صرف اِس لیے نہیں جا رہا کہ کتاب میلہ جیب پہ بہت بھاری پڑ جاتا ہے اور ابھی ایسی کئی کتابیں خرید کر رکھی ہوئی ہیں جو ابھی تک پڑھے جانے کی منتظر ہیں۔ایک دوست ، جو کمینے دوستوں کی  قسم سے تعلق رکھتا ہے، کتابیں نہیں پڑھتا لیکن میری کتابیں دیکھ کر خواہ مخواہ متاثر رہا کرتا تھا، مجھ سے کتابیں مانگتا تھا میں نے اسے کبھی کتاب نہ دی، اُلٹا ایک دن اُسے کہہ دیا کہ جو کتاب ادھار دیتا ہے بڑا بیوقوف ہوتا ہے اور جو کتاب  ادھار لے کر واپس کر دے وہ اُس سے بھی بڑا بیوقوف ہوتا ہے۔ میرا احساس ہے کہ اُسی دن اُس نے تہیہ کر لیا تھا کہ میرے سے کتابیں ضرور لے کر جائے گا۔ میں جب برطانیہ پڑھنے کیلئے جا رہا تھا تو وہ مجھے ملنے آیا  اور کافی ساری کتابیں مجھ سے لے گیا  کہ  جب  تُو واپس آئے گا تو لَوٹا دوں گا لیکن میں تو برطانیہ سے واپس آ گیا لیکن میری کتابیں واپس نہیں آئیں  جو وہ کہتا تو ہے کہ  اُس نے پڑھی ہیں لیکن مجھے یقین ہے اُس نے  نہیں پڑھیں، صرف خود کو مجھ سے بڑا بیوقوف ثابت نہ کرنے کی غرض سے مجھے کتابیں نہیں لَوٹا رہا۔

بات بہت لمبی ہوگئی، لکھنا طارق محمود کے سفرنامے پر چاہ رہا تھا  اور بات بڑی بی کے گول برتن سے شروع ہو کر کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ طارق محمود پاکستانی نژاد  سویڈش ہیں، مشہور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور بلاگر ہیں۔ سویڈن میں مقیم ہونے کے باوجود ہر بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کی طرح پاکستان کے حالات سے گہری واقفیت اور دلچسپی رکھتے ہیں۔ طارق اردونامہ کے نام سے بلاگنگ ویب سائیٹ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ میری مکالمہ پر شائع ہونے والی چند تحریریں بھائی انعام رانا کی اجازت سے اردونامہ پر بھی چھاپ چکے ہیں۔ خان صاحب کے سپورٹر بھی ہیں تو میں نے اپنی آخری تحریر جو مکالمہ پر  “ہینڈسم، موریاں، تسبیح، چپیڑیں ” کے عنوان سے شائع ہوئی تھی، اس کا لنک انہیں ارسال کر کے ازراہِ مذاق کہا کہ طارق بھائی! یہ بھی اردو نامہ پر شائع کریں گے؟ تو ہنس کر کہنے لگے کہ انعام بہت ڈاہڈا وکیل ہے، کاپی رائٹ کا کیس نہ کر دے۔ میں نے کہا کہ اگر انعام بھائی نے ایسا کیا تو  بطور وکیل آپ کا کیس میں لڑ لوں گا۔ مذاق ایک طرف لیکن گزشتہ دنوں طارق فلسطین اور اسرائیل کے سفر پر تھے جس کی ہلکی پھلکی روداد فیس بک پر لکھتے رہے لیکن پھر اپنے سفر کی پوری روداد “سفرنامہ اسرائیل فلسطین” کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کی۔ پاکستان میں چند روز قیام کے بعد چند  روز قبل ہی سویڈن واپس سدھارے ہیں۔ طے تو پایا تھا کہ وہ اسلام آباد آ کر بذاتِ خود کتاب عنایت کریں گے لیکن وقت کی تنگی اور بیٹے کی ناسازی طبع کے باعث اسلام آباد نہ آ سکے لیکن اُن کا سفرنامہ بذریعہ ڈاک دو تین روز قبل دفتر میں موصول ہوا۔   دیدہ زیب نیلگوں سرورق جو سرزمینِ انبیاء کے سفرنامے کے لیے خاصا موزوں اِس لیے بھی ہے کہ نیلا رنگ آفاقیت کی علامت ہے اور سرزمینِ فلسطین سے تینوں آسمانی مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت، جو آفاقیت کے مظہر ہیں،  یکساں عقیدت رکھتے ہیں۔ سفرنامہ انتہائی  آسان زبان میں لکھا گیا ہے۔ کہیں کہیں انگریزی الفاظ کا استعمال بھی کیا گیا ہے جن کا اردو متبادل انتہائی آسانی سے دستیاب ہو سکتا ہے لیکن طارق پندرہ سال سے یورپ میں مقیم ہیں، لہذا اِتنی غلطی کی گنجائش اُن کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ سفرنامہ پڑھتے وقت محسوس ہو رہا تھا کہ قاری بھی راقم کے ساتھ ہی اُس سفر پہ ہے۔ سفرنامہ دلچسپ معلومات سے بھرپور ہے۔ مثلاً مسجد عمر کا ذکر کرتے ہوئے طارق نے لکھا کہ حضرت عمر نے چرچ میں کھڑے ہو کر دور ایک پتھر پھینکا، جہاں پتھر گرا وہاں انہوں نے نماز ادا کی، جس جگہ بعد میں صلاح الدین ایوبی نے مسجد عمر تعمیر کروائی۔ یہ واقعہ پڑھتے ہوئے چشمِ تصور نے حضرت عمر کو  وہ پتھر پھینکتے دیکھا۔ 

طارق بھائی کا رنگین مزاج بھی جا بجا کتاب میں بکھرا نظر آیا۔ اسرائیلی فوج کے بارے معلومات بھی طارق بھائی کے بقول ایک چوبیس سالہ خاتون اسرائیلی  فوجی سے مسکراہٹوں کے تبادے کے دوران لی جاتی رہی۔ اور بحیرہ مردار کی گیلی مٹی جسم پر ملنے سے جسم بھی غالباً ایک دم اِس لیے چمکنے لگا کہ وہ مٹی اُنہیں ایک پولش دوشیزہ  بوزینہ  فراہم کر رہی تھی۔ اُن کی رنگین مزاجی کا مزید تذکرہ دانستہ چھوڑ رہا ہوں کہ سفرنامہ پڑھنے والے خود بھی کچھ پڑھ سکیں۔ اسرائیلی فوج کے بارے میں ایک دلچسپ بات جو اسرائیلی فوجی خاتون نے طارق بھائی کو بتائی کہ اسرائیلی فوج کا سربراہ براہِ راست منتخب کابینہ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اسرائیلی فوج کاسربراہ تو پاک فوج کے سربراہ کو بڑے رشک سے دیکھتا ہو گا کہ جسے وزیرِاعظم سمیت منتخب کابینہ جوابدہ ہوتی ہے۔

میرے خیال میں  طارق بھائی دورہ اسرائیل کے حوالے سے کچھ ضرورت سے زیادہ حساس بھی واقع ہوئے اور جابجا کہتے پائے گئے کہ لفظ اسرائیل کا بار بار استعمال اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی سفرنامے کا کوئی سیاسی مقصد ہے۔ اور آزادیِ فلسطین کے حوالے سے اپنی رائے پر بھی باقاعدہ نوٹ انہوں نے لکھا کہ  یہ اُن کی اپنی ذاتی رائے ہے غالباً وہ یہودی لابی کے ایجنٹ کی پھبتی سے بچنے کے لیے اس کا اظہار کرتے رہے لیکن طارق بھائی خاطر جمع رکھیں، جب تک وہ پاکستانی سیاست میں حصہ نہیں لیتے کوئی انہیں یہودی ایجنٹ نہیں کہے گا۔ ایسی وضاحتوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کتاب میں انبیاء علیہم السلام کے مقبروں، تاریخی  مساجد اور گرجا گھروں ، پہاڑوں اور سمندروں سمیت تاریخی مقامات، مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کے رائج نظام کے بارے میں انتہائی مفید معلومات ہیں جن کو پڑھ کر بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان خود وہاں موجود اِس سیر کا حصہ ہے۔  طارق محمود بھائی کا یہ پہلا سفرنامہ تھا، میری دعا ہے کہ ربِ کریم اُن کا قلم مثبت سمت میں رواں رکھے۔

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *