قندیل بلوچ کی برسی،چند مخلصانہ مشورے۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

نوٹ:“ادارہ مکالمہ عموماً اس قسم کی تحاریر شائع کرنے سے گریز کرتا ہے جس میں کسی قسم کا ذاتی عناد نکالا جائے تاہم آزادی اظہار رائے کے تحت ذہنیت کے اس زاویے کا عوام الناس کے سامنے رکھا جانا بھی اہم ہے۔ مکالمہ اس تحریر پر کسی تبصرے سے بوجہ پالیسی گریزاں ہے

محترمہ، آنسہ، جنابہ قندیل بلوچ مرحومہ و مغفورہ کا یومِ وصال غالباً دو دن پہلے گزرا۔ جسے عشاقانِ قندیل بلوچ نے انتہائی عقیدت اور احترام سے منایا ۔ مرحومہ کی یاد میں سپاس نامے تحریر کیے گئے۔ ان کی ملت بلکہ پوری دنیا کے لیے سر انجام دی گئی خدمات کو خراج عقیدت و تحسین پیش کیا گیا۔ ان کی یاد میں شاید ایک دو تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا، جہاں محترمہ شہید بی بی کی عظمت اور رفعت پر تقاریر کی گئی ہوں گی۔ اور ان کے مشن کو تا قیام قیامت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہوگا۔

گزشتہ برس بھی قندیل بلوچ کی ایک عاشقہء صادقہ کو جنت سے محترمہ کا ایک مکتوب بھی موصول ہوا۔ جہاں وہ جنت (جی جی۔۔۔۔۔ وہی المعروف “حوروں” والی جنت) کے باغات میں عبدالستار ایدھی اور نہ جانے کن کن مشاہیر کے ساتھ نہایت ارفع و اعلٰی مقام پر متمکن ہیں۔ مرحومہ کے  عاشقان صادق سبھی خواتین و حضرات کے جذبے کی گہرائی اور گیرائی کو میرا سلام ہے۔ البتہ ان تمام عشاق کی خدمت میں چند تجاویز پیش کرنا چاہتی ہوں۔ جن پر عمل کرکے مرحومہ کی یاد زیادہ بہتر طور پر منائی جاسکتی ہے۔ ان سے نہ صرف ان کی خدمات کا کماحقہ اعتراف ہونا ممکن ہوگا بلکہ ان کی روح کے لیے مستقلاً ایصال ثواب کا ذریعہ بن جائے گا۔

سب سے پہلے تو یہ کہ محترمہ کے یوم وصال کو ایک قومی تعطیل کے طور پر منایا جائے تاکہ پوری قوم کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی شہید بی بی کی خدمات کا چرچا ہو۔ سارا دن ان کے ممدوح و عشاق اپنے اپنے گھروں پر محترمہ کے ویڈیو کلپس ان کی تصاویر کی سلائیڈز اور کولاج بنا کر جملہ افراد خانہ ، خاص طور پر نوجوان بچیوں کو بٹھا کر دکھائیں تاکہ وہ بھی اس خاتون سے inspiration لے کر معاشرے میں اپنا مقام بنانے کی سعی کریں۔ محترمہ کے خاص دن پر ان کے بڑے بڑے پوسٹر لے کر اپنے گھروں کی سب دیواروں پر آویزاں کریں اور اگر ممکن ہو تو ایک دو کو فریم کروا کے اپنی بیٹیوں کے بیڈ رومز میں حصول فیض کے لیے لٹکالی جائیں۔ محترمہ کی خدمات کے اعتراف میں اور ان کے مقدس مشن کو جاری و ساری رکھنے کے لیے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے جہاں قندیل بلوچ کی خوبصورت اور دلکش تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اپنی آنے والی نسلوں کوفن کی ایک نئی جہت سے متعارف کروائیں۔ اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ ہر سال کم از کم دس قندیل بلوچ جیسی جرات مند اور بہادر لڑکیاں ان کے یہاں سے معاشرے کا حصہ بنیں۔

محترمہ کی خدمات اور فن کی گہرائیوں پر ہر سال پی ایچ ڈی سطح پر کم از کم ایک مقالہ تو ضرورہی لکھا جانا چاہیے۔
اور ہاں جسے کہتے ہیں نا last but not the least چونکہ مرحومہ کے قتل کے ذمہ دار صرف اور صرف ہمارے معاشرے کے غلیظ اور پلید مرد ہیں۔ وہ محترمہ خودتو دودھ کی دُھلی ہوئی تھیں۔ تو ان کی وفات پر ان کی روح کو سکون پہنچانے کی خاطر نیک کام کا آغاز اپنے گھر سے کرتے ہوئے مدح سرا نِ قندیل بلوچ اپنے گھر کے مردوں کو (جو ظاہر ہے کہ اسی غلیظ، منافق اور پلید پدرسری معاشرے کا حصہ ہیں) کے گلوں میں جوتوں کے ہار پہنائیں۔ شاید محترمہ کی تڑپتی ہوئی روح کو کچھ سکون میسر آجائے۔

تھوڑے کہے کو زیادہ سمجھیں۔ اور آئندہ سال قندیل بلوچ کی برسی ان کے شایانِ شان طریقے سے منا کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔ ۔۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *