کب آئے گا عمران؟۔۔۔۔عزیز خان

مورخہ 10 جولائی کو ایک پلاٹ کی رجسٹری کے سلسلہ میں تحصیل دفتر ملتان جانے کا اتفاق ہوا، دفتر میں بے تحاشا  رش تھا، نیا شیڈول جاری ہو گیا تھا۔ ہم لوگ بھی رجسٹرار کے  آفس گئے، میں نے بھی بڑا سینہ چوڑا کر کے اپنا تعارف کروایا اور کہا کہ موضع عالمگیر کی رجسٹری آپ نے کرنی ہے۔ رجسٹرار صاحب بولے ،نہیں ۔۔ساتھ کھڑا ریڈر بولا، نہیں۔۔۔ ڈوگر صاحب نے کرنی ہے!

ہم لوگ باہر آگئے تو ریڈر بولا یہ صاحب ایسے کام نہیں کرتے ۔یہاں رجسٹری کروانے کا ٹوٹل رقم کا ایک پرسینٹ لگے گا ۔میں نے حساب لگایا 56 لاکھ کی رجسٹری تھی تو 56 ہزار بنتا تھا۔ میں بولا یہ کیا بات ہوئی تو ریڈر بولا ڈی ایس پی  صاحب آپ کا محکمہ بھی تو لیتا ہے۔ میں شرمندہ سا ہو گیا، ریڈر میرے دوست کو  کہنے لگا کہ  آپ علیحدہ میری بات سُنیں، تھوڑی دیر بعد واپس آئے تو میرا دوست بولا بھائی آپ گھر جائیں آپ کے ہوتے ہمارا کام نہیں ہو گا۔

بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اُنہوں نے 50 ہزار رشوت دے کر رجسٹری کروا لی۔ اُس دن تحصیل آفس میں دو سو افراد تقریباً موجود تھے کتنی رجسٹریاں تھیں 25/30 لاکھ یومیہ کمائی صرف ریڈر کی تو نہیں ہو سکتی ،اس میں ڈپٹی کمشنر اور پتہ نہیں کتنے افسران ملوث ہوں گے ۔ پولیس کے محکمہ میں جب کوئی درخواست پولیس والے کے خلاف آئی جی کو دی جاتی ہے وہ پھرتے پھرتے واپس اُسی تھانہ پر آجاتی ہے اور بعض اوقات تو اُسی اے ایس آئی  کے پاس آجاتی ہے جس کے خلاف درخواست ہوتی ہے، یہی حال عمران خان کے سٹیزن پورٹل کا ہے میرے ایک دوست جس نے مقدمہ 162/19 تھانہ بغدار ضلع بہاول پور درج کرایا یہ مقدمہ آر پی اوبہاول پور نے  ڈی پی اوکو کہہ کے نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر خارج کروا دیا ،کیونکہآر پی اوبہاولپور کو کوئی بڑی سفارش تھی جب سٹیزن پورٹل پر شکایت کی گئی تو یہ شکایت آئی جی سے ہوتے ہوئے پھر اُسی ایس ایچ اوبغداد کے پاس آگئی ہے اور پھر کیا ہوتا ہے آپ سب کو معلوم ہے مدعی دربدر ہے ہمارے مُلک میں  ایف آئی آر  درج کروانا کتنا مُشکل کام ہے، اس کا اندازہ مجھے پہلے بھی تھا اب شاید زیادہ ہو رہا ہے ۔۔

میرے ایک دوست جو ایک جنازہ میں شریک تھے، کی جیب سے اُن کا قیمتی موبائل فون کسی نے چوری کر لیا ۔اس جنازہ میں اور بھی لوگوں کے موبائل جیبوں سے نکال لیے گئے۔ میرے دوست کو صرف چوری کا مقدمہ درج کرانے کےلیے بشمول میرے سفارشیں اور منتیں کرتے دو ماہ لگ گئے۔ فرنٹ ڈیسک جس کا پولیس افسران بہُت شور کرتے ہیں ،اُس میں بھی تفتیشی نے جھوٹی رپورٹ درج کرا دی کہ چوری ہوئی ہی نہیں اور بعد میں سی سی ٹی وی نے جس کی فوٹیج بھی مدعی لایا اور ایس پی کے کہنے پر مقدمہ درج ہوا، مقدمہ تو درج ہو گیا پر صاف  سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود آج تک نہ تو ملزم گرفتار ہوئے،  اور موبائل ملنا تو دور کی بات ہے۔

لاہور کی ایک خاتون کی گاڑی دھوکے سے ایک جاننے والا لے گیا ،فراڈ سے  آگے بیچ بھی  دی ۔مقدمہ درج کرانے کے لیے تھانہ ستو کلہ میں سات ماہ لگے، گاڑی آج تک نہیں ملی ،مدعیہ در بدر۔۔۔۔

ملتان کے ایک بزنس مین نے دوبئی میں آف شور کمپنی بنائی 25 کروڑ ہنڈی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی، اس کے خلاف حارث نامی شخص  کی طرف سے  ایف آئی  اے ملتان میں درخواست دی گئی، چار ماہ ہو گئے  ،کسی نے اُس صنعتکار کو پوچھا تک نہیں کیونکہ اُس کے تعلقات ملتان کے بڑے بڑے لوگوں سے ہیں جو برسر اقتدار ہیں اور  ہزاروں پاکستانی ایسے ہوں گے جن کی ایک ہی کہانی ہوگی۔۔

کسٹمز ڈیپارٹمنٹ میں غیر ضروری طور پر تاجروں کو حراساں کیا جاتا ہے اور لاکھوں روپے رشوت لے کر کنٹینر کلیئر کیے جاتے ہیں اور اگر رشوت نہ دیں تو مہینوں ذلیل کیا جاتا ہے۔ ایف بی آر ڈپارٹمنٹ میں خودایف بی آر کے ملازمین جعلی آڈٹ رپورٹس اور ریٹرنز کے طریقے بتاتے ہیں کروڑوں روپے کمانے والے تاجر 10/15 ہزار سے زیادہ ٹیکس نہیں دیتے ،پولیس تھانوں میں ا یف آئی آر دینے کے پیسے، نہ دینے کے پیسے، ملزم پکڑنے کے پیسے، نہ پکڑنے کے پیسے، حوالات میں بند کرنے کے پیسے، حوالات سے باہر سُلانے کے پیسے، بے گناہ کرنے کے پیسے، گناہ گار کرنے کے پیسے ،ضمانت قبل از گرفتاری کا موقع دینے کے پیسے، گرفتاری کے بعد ضمنی لکھ کر ضمانت کروانے کے پیسے، تفتیش خراب کرنے کے پیسے، غرض ہر کام کے پیسے لیے جاتے ہیں۔ افسران بالا فنڈز کو لگے ہوئے ہیں کون کس سے پوچھے؟؟ جیلوں میں ملاقات کے پیسے ،ٹیلی فون رکھنے کے پیسے، اچھی بیرک یا ہسپتال میں رکھنے کے پیسے، جیل میں شراب چرس اور دیگر نشہ سپلائی کے پیسے ،عدالتوں میں لمبی پیشی لینے کے پیسے بھی دینے پڑتے ہیں اور پتہ نہیں جوڈیشری میں ناصر جنجوعہ جیسے لوگ ججز کے تبادلے کیسے کروا لیتے ہیں اور جج صاحبان طارق ملک جیسے لوگوں سے کیوں ملتے ہیں؟

خان صاحب اس مُلک میں مہنگائی ہے کوئی بات نہیں ،مُلکی خزانہ میں پیسہ نہیں ۔۔کوئی بات نہیں، نواز شریف شہباز شریف فیملی رقم واپس نہیں کر رہی کوئی بات نہیں، زرداری قابو نہیں آرہا کوئی بات نہیں ،مگر یہ محکمے تو آپ کے انڈر ہیں کیا یہ بھی آپ کے قابو میں نہیں ؟؟؟ تو پھر آپ کی ٹیم نکمی ہے آپ سے مخلص نہیں ،یہ فرعون جیسے بیوروکریٹس آپ کے قابو نہیں آرہے ،ایکڑوں رقبے   کے محلات میں رہنے والے یہ افسران اور ملازمان بھی اس مُلک کو جونک کی طرح چوس رہے ہیں ان کا تو کوئی علاج کر دیں جو عوام کو ذلیل کر رہے ہیں، ان کی جائیداد تو چیک کروائیں، خان صاحب کبھی عوام کہتی تھی ۔۔ اب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان اور اب عوام آپ سے پوچھتی ہے ؟ “” کب آئے گا عمران؟

تازہ ہواکے شوق میں اے پاسبانِ   شہر

اتنے نہ در بناؤ کہ دیوار گر پڑے

جھک کر سلام کرنے میں حرج نہیں

مگر اتنا نہ سر جھکاؤ کہ دستار گر پڑے!

دشمن ملائے  ہاتھ تو تم بھی ملاؤ ہاتھ

مگر ایسا نہ ہو کہ ہاتھ سے تلوار گر پڑے!

نوٹ:عزیز اللہ خان صاحب ریٹائرڈ ڈی ایس پی ،اور حالیہ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ ملتان ہیں ۔ان کی تحریر کا مقصد عوام میں اپنے حقوق بارے آگاہی بیدار کرنا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *