ریکوڈک۔۔۔۔۔آصف محمود

ریکوڈک کیس میں ہونے والے خوفناک جرمانے پر ، پریشان ہونے کا وقت ہی نہیں ملا۔ اس خیال سے دل لرز اٹھا کہ ایران بھی گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر ہمارے خلاف عالمی عدالت چلا گیا تو کیا ہو گا؟نوٹس تو اس نے ہمیں پہلے ہی سے دے رکھا ہے۔ اگر وہ مقدمہ کر دیتا ہے تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔کیا آپ کو معلوم ہے ہمارے افلاطونوں نے ایران کے ساتھ کیا معاہدہ کر رکھا ہے اوراس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ ایران کے ساتھ ہونے والے گیس پائپ لائن معاہدے میں ہم نے اس شق پر اتفاق کر رکھا ہے کہ 31 دسمبر 2014 تک دونوں ملک اپنے اپنے علاقے میں گیس پائپ لائن بچھا لیں گے۔ اس تاریخ تک جو ملک اپنے حصے کا کام نہ کر سکا وہ دوسرے ملک کو ہر روز ایک ملین ڈالر جرمانہ ادا کرے گا۔ ( ایک ملین میں دس لاکھ ہوتے ہیں)۔یہ جرمانہ تب تک ادا کیا جاتا رہے گا جب تک وہ ملک اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کر سکتا۔ ایران نے اپنے علاقے میں پائپ لائن بچھا لی ہے ۔ پاکستان اس پر کام نہ کر سکا ۔ کیوں نہ کر سکا اور کس کس ملک نے دبائو ڈالا، یہ الگ کہانی ہے۔معاہدے کی شق کے مطابق 31 دسمبر 2014 سے لے کر اب تک ہم نے ہر روز ایران کو دس لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کر نا ہے۔ آج پندرہ جولائی تک ، یہ ایک ہزار چھ سو چھپن (1656)دن بنتے ہیں۔یعنی ایک ہزار چھ سو چھپن ملین ڈالر کا جرمانہ ۔یعنی ایک ارب پینسٹھ کروڑ ڈالر۔اور ابھی پائپ لائن کی کوئی خبر نہیں، کیا جانے جرمانہ کب تک بڑھ کر کتنا ہو جائے۔اس پر سود کی رقم شامل کیجیے تو بات کہیں اور آگے بڑھ جائے گی اور روپے کی ناقدری بھی اس حساب میں شامل کیجیے تو چودہ نہیں تو دس بارہ طبق تو روشن ہو ہی جائیں گے۔ یہ محض ایک امکان یا خدشہ نہیں ۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایرا ن باقاعدہ ہمیں ایک نوٹس بھی بھیج چکا ہے کہ کیوں نہ ہم آپ کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ جی جناب وہی عدالت جہاں سے ہمیں ریکوڈک کے معاملے میں قریبا چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ہو چکا ہے ۔عمران خان کی ہدایت پر اگر چہ ایران کو اس کا مدلل جواب دیا جا چکا ہے کہ آپ پر پابندیاں تھیں اس لیے ہم اس پراجیکٹ کو مکمل نہ کر سکے لیکن یہ جواب عالمی عدالت کے کٹہرے میں کتنا معتبر ہوگا ، اس سوال سے دل ڈرتا ہے۔ یہ ڈر بلاوجہ نہیں۔بین الاقوامی فورمز پر مقدمات ہارنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ کشن گنگا پراجیکٹ کی کہانی کو یاد کر لیجیے۔بھارت نے ہمارے سامنے ہمارے پانی پر قبضہ کر لیا ، نیلم کی پوری تہذیب خطرے سے دوچار ہو گئی لیکن ہم تماشا دیکھتے رہے۔ہمیں یہی بتایا جاتا رہا کہ ہم بہترین انداز سے مقدمہ لڑ رہے ہیں اور انشا اللہ کامیاب ہوں گے۔ادھر حالت یہ تھی عدالت نے بھارت کے خلاف ثبوت مانگے تو ہم بغلیں جھانکنے لگ گئے۔ نہ ہماری تیاری تھی نہ ثبوت تھے۔ ہم نے دس دن کی مہلت مانگی اور واپس آ گئے۔ پھر ہمارے خلاف فیصلہ آ گیا اور اس پر شرمندہ ہونے کی بجائے قوم کو بتایا جاتا رہا کہ یہ فیصلہ ہمارے حق میں اور بھارت کے خلاف آیا ہے۔یہ تو ہمیں بعد میں علم ہوا کہ عدالت نے فیصلے کے صفحہ 34 پرلکھا وہ پاکستان سے ثبوت مانگتی رہی لیکن پاکستان نے بھارت کے خلاف کوئی ثبوت نہ دیا۔کوئی اور ملک ہوتا طوفان کھڑا ہو جاتا۔ یہاں کسی کے خلاف معمولی سی تحقیق تک نہ ہو سکی کہ عدالت کو ثبوت کیوں نہیں دیے گئے ، کس نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور کون کس کا کھیل کھیل رہا تھا۔ ابھی ریکوڈک کیس کو دیکھ لیجیے۔ جس روز ہمارے خلاف فیصلہ ہوا اس روز سب نے شور مچا دیا۔لیکن کیا اس سے پہلے ایک بار بھی کابینہ میں یا پارلیمان میں کہیں کسی نے اس پر بات کی کہ ایک خطرہ سر پر منڈ لا رہا ہے اس کے تدارک کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کیجیے۔کسی کو کچھ پرواہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے۔ اتنا سنگین معاملہ درپیش تھا، یہاں کسی نے اس پر بات کرنا گوارا نہیں کی۔شاید کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ایک ایسا کیس زیر سماعت ہے۔ یہاں وزیران باتدبیر سر شام گنڈاسہ لے کر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی فن اب یہاںمعیار فضیلت ہے۔ معاملہ چند بیوروکریٹوں اور دو چار نامعلوم قانون دانوں کے سپرد کر کے پارلیمان اور کابینہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف رہتی ہیں۔اب فیصلہ آ گیا تو کمیٹیاں بن رہی ہیں۔ ہمیں اپنی فیصلہ سازی کے عمل پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ریکوڈک کے حوالے سے دو اہم ترین معاہدے نگران حکمرانوں نے کیے؟ایک نگران وزیر اعلی نے اور ایک نگران وزیر اعظم معین قریشی نے۔ ہمیں اس پہلو پر غور کرنا چاہیے کہ محض تین ماہ کے لیے قتدار کی مسند پربیٹھے لوگ اتنے اہم معاہدے کیسے کر گئے؟ یہ اتفاق ہے یا ایک واردات؟ ہمارے ہاں اکثر معاہدے خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے قطر سے معاہدہ کیا ، پارلیمان چیختی رہ گئی کہ ہمیں کچھ تو بتائو لیکن پارلیمان کو اس قابل نہ سمجھا گیا کہ اعتماد میں لیا جاتا۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا یہ اس عجیب الخلقت معاہدے میں شامل تھا کہ اسے خفیہ رکھا جائے گا۔سی پیک کا یہی حال ہوا۔ قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن شور مچاتی رہی کہ اس کی تفصیلات تو ہمارے سامنے رکھو لیکن کسی نے پارلیمان کو کچھ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ہمیں ایک میکنزم وضع کرنا ہو گا کہ جب اس طرح کا معاہدہ ہو تو وہ ایک وسیع تر مشاورت کے بعد ہو اور شفافیت یقینی بنائے جائے ،جب ہو جائے تو اس کی پاسداری کی جائے اور کوشش کی جائے کہ نزاعی معاملات ’’ آئوٹ آف کورٹ‘‘ طے کیے جائیں۔ بلوچستان حکومت اسے سپریم کورٹ لے کر گئی اور اب یہ عالم ہے کہ ہمیں اسی کمپنی سے دوبارہ معاہدہ کرنا ہو گا اور کمزور شرائط پر کیونکہ ہمارے پاس جرمانہ ادا کرنے کی رقم نہیں ہے۔کوئی ہے جو رات کی تنہائی میں سوچے اس ساری مشق سے ملک کو کیا حاصل ہوا؟

Avatar
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *