اپنے بچوں کو مُرجھانے سے بچائیں۔۔۔۔عارف خٹک

میٹرک میں الحمداللہ میرے 457 نمبر آئے تھے،اور  والد صاحب نے ڈنڈا دے دیا تھا۔

زبردستی F.Sc کروائی،جس کو کرتے کرتے فزکس اور کیمسٹری سے شدید نفرت ہوگئی۔سیکنڈ ایئر میں 610 نمبر آئے۔ ابا نے ڈنڈا دےکر دوبارہ امتحان دلوایا،تو الحمداللہ 590 آگئے۔ اس لیے میڈیکل ڈاکٹر بننے سے رہ گیا ۔جس کے لیے میں اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہی ہوگا۔

پی ایم اے لانگ کورس کا خواب جو اکثر والد صاحب دیکھا کرتے تھے ۔وہاں بھی ان کے خواب اور خواہشات چکنا چُور کر ڈالے۔تو والد صاحب نے اماں کی طرف شکایتی نظروں سے دیکھتے ہوئے یہ ماننے سے انکار کرڈالا کہ میں واقعی اُن کا بیٹا ہوں۔

گریجویشن، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کرنے کے لیے میں نے اپنی مرضی سے مضامین منتخب کیے۔۔ اور روسی زبان سے نابلد ہونے کے باوجود ہمیشہ ٹاپ ہی کرتا رہا۔میری قابلیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں،کہ آج تک بوجۂ شرمندگی اپنے نام کےساتھ ڈاکٹر نہیں لکھوایا،مبادا پڑھا لکھا سمجھ کر علاج کا نہ پوچھ لے کوئی۔

میں بچپن سے ہی کری ایٹیو مزاج کا بچہ تھا۔ مُجھے فلموں میں کام کرنے اور ڈائریکشن کا بُہت شوق تھا۔ مُجھے کتابیں پڑھنی اچھی لگتی تھیں۔میں آزاد زندگی کا حامی تھا۔ مگر مُجھ سے زبردستی میرے خواب چھینے گئے۔ میں اندر سے حساس دل رکھنے والا ایک زنانہ نوجوان تھا۔جو بچپن سے کسی کو دُکھ اور پریشانی میں دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پاتا تھا۔اُس کو آپ فوج میں کیسے بھیج سکتے تھے۔ اُس بچے کے ہاتھ میں آپ بندوق کیسے تھما سکتے تھے۔

میرا بڑا بیٹا سپیس سائنس کا شوقین ہے۔ میں نے آج تک اس کا رزلٹ کارڈ دیکھ کر اُس کو یہ نہیں بولا،کہ بیٹا اپنے اے لیول کی ہی کُچھ لاج رکھ لو۔ دوسرا بیٹا کلاس فور میں پڑھ رہا ہے،مگر اپنا نام تک انگریزی میں نہیں لکھ سکتا۔ اُس کی ماں کبھی کبھار ڈنڈا اُٹھا کر دے مارتی ہے۔تو میں اُسے سختی سے منع کردیتا ہوں کہ خبردار ہاتھ بھی مت لگانا۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اتنا سکھائیں گے،کہ وہ کچھ پڑھ اور سمجھ سکیں۔ کیوں کہ انگریزی کا کوئی بھی گانا اُس کے سامنے لگادو،فوراً صحیح تلفظ کےساتھ گُنگُنانا شروع کردے گا، مگر مجال ہے کہ اپنے نصاب کی انگریزی کی اے بی سی بھی آپ کو سُنا سکے۔ بیوی روہانسی ہوکر پوچھتی ہے کہ بڑا ہوکر اس کا کیا بنے گا۔ جواب میں بیٹا گُنگُنانے لگتا ہے کہ “میں میراثی، میرا پیو میراثی میرا داد میراثی۔۔۔۔۔”۔ اب اُس کو میوزک کلاسز کروا رہا ہوں۔ بڑا ہوکر نامی گرامی میراثی بنے گا ان شاءاللہ،اور ہمارا نام روشن کرے گا۔ تیسرا بیٹا بہت ڈپلومیٹ ہے۔ گیمز کا از حد شوقین ہے۔ پڑھائی میں بھی بہت اچھا ہے۔اور میرے ساتھ کلاس کی بچیوں کو بھی ڈسکس کرتا رہتا ہے۔ ماں کا موڈ خراب ہو تو مسکے لگا کر اُسے راضی کرکے ہی چھوڑتا ہے۔ دیکھ کر سوچتا ہوں،کہ ایک بُہت اچھا لیڈر بننے کی خصوصیات ہیں اس میں۔

کہانی سُنانے کا مقصد یہ ہے،کہ اپنی اولاد پر چیزیں مت تھوپا کریں۔ ان کو پریشرائز مت کیا کریں،کہ وہ انسان کی بجائے خود کو روبوٹ سمجھنا شروع کردیں۔ورنہ ایک وقت ایسا آئے گا  کہ جب آپ 65 کے ہوجائیں گے،تو یہی بچے آپ کو دیکھ کر راستہ بدلیں گے کہ سامنے ہٹلر خٹک آرہے ہیں۔

ڈگری اور اعزازات کامیابی نہیں کہلاتی۔ کامیابی اُسے کہتے ہیں،کہ آپ کا بچہ کس جی داری سے آنے والی آزمائشوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ آپ اپنے بچے کے اندر کا خوف دُور کریں۔اُسے پُر اعتماد اور جی دار بنائیں۔اُسے ٹریپ نہ  کریں۔ اپنی خواہشات کے لیے اُسے باندھیں مت۔جینے دیں اُن کو اپنی زندگی۔ ہاں ڈائریکشن کی ذمہ داری آپ کی ہے  کہ بچہ کسی غلط سمت میں زندگی کی گاڑی نہ  موڑ لے۔بجائے سخت گیر والدین کے اُس کا دوست بننے کی کوشش کریں۔کہ وہ اپنی ہر خوشی غمی،مُشکل پریشانی صرف آپ ہی سے شئیر کرتا رہے۔بجائے اس کے کہ دوسروں کو اپنا ہمدرد جان کر اُن کے ہاتھوں میں کھیلتا رہے۔ 1990ء کے ایک ڈنڈا بردار باپ کی طرح حاکم بن کر یہ مت کہا کریں ۔۔کہ اگر پڑھا نہیں اور سرکاری افسر نہیں بنا،تو شکل مت دکھانا مُجھے۔ یا ماں بن کر ڈبے کے دودھ کی قسمیں مت دینا۔ ورنہ ایک وقت ایسا بھی آپ پر آسکتا ہے کہ اپنی اولاد پر فخر کرتے ہوئے شرمندگی سے آپ کے آنسو نکل پڑیں گے کہ یار بڑی زیادتی کی ہے میں نے اپنے بچے کےساتھ۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *