فطرت۔۔۔اجمل صدیقی

عربی میں اس کا مطلب ہے کوئی کام پہلی دفعہ کرنا۔
تخلیق اور اولیت کا مفہوم اس میں نمایاں ہے۔
خلق کہتے  ہیں پیدا شدہ چیزوں کی ایک نئی ترکیب بنادینا۔ بدع کے معنی بغیر گزشتہ نمونے کوئی ماڈل بنا دینا۔
فطر البئر ۔۔۔اس نے پہلی دفعہ کنواں کھودا۔
اس سے مراد وہ اولین قوانین ہیں جو موجودات اور مظاہر کے پیچھے کار فرما ہیں۔ جن کا اداراک صرف کائنات میں موجود مظاہر کے مشاہدے سے ہوتا ہے۔
فطرت ایک سائنسی مفہوم رکھتی ہے۔ جوparticlesاور waves تک پہنچی ہے۔
فطرت کا دوسرا مفہوم فلسفیانہ ہے ۔جس کی رو سے فطرت کے دو حصے ہیں۔۔فطرت فاعلی active natureسپنی نوزا کی زبان میںnatura naturansمذہب کی زبان میں یہ خدا ہے۔

فطرت کا دوسراحصہ فطرت انفعالی passive nature
سپی نوزا کی زبانnatura naturata
یہ فطرت کا مفعولی حصہ یہ ہماری کائنات، ہماری زندگی، ہمارا جسم ہے۔۔
فطرت فاعلی natura naturans کی لا محدود صفات ہیں لیکن وہ انسانوں کے سامنے صرف فطرت انفعالی natura naturata کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں ۔ باقی صفات ابدیت کی پُر اسراردھند میں ملفوف ہیں ۔ وہ infinity سے finitude میں نہیں آتے ہیں ۔ وہ عالم امر میں ہی رہتے ہیں ۔وہ مشیت خداوندی یا فطرت کے ازلی راز ہیں ۔

اس کے صرف دو attributes صفات انسان کیلئے قابل فہم ہیں ۔

ذہن اور مادہ ۔mind and matter. یہی عالم امکان میں ظاہر ہوتے ہیں

فطرت کے یہی دو روپ انسان کیلئے ہیں۔
انسان کو فطرت نے اپنے قریب آنے کیلئے جو عینک دی ہے
وہbifocalsہے ۔
انسان فطرت کو کبھی مادے کی آنکھ سے دیکھتا ہے کبھی ذہن کی آنکھ سے ۔
ذہن کے mode میں تخیل اور دلیل ہم ہیں ۔۔

مادے کے mode میں حس اور مشاہدہ ہیں۔

انسان کبھی مشاہدے اور حس سے اور کبھی دلیل اور تخیل کی مدد سے فطرت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔

انسانی ذہن اور مادہ کی ثنویت کی وجہ فطرت کو بھی دو میں تقسیم کرکے دیکھتا ہے۔ دو ئی سے کثرت میں اور ذات سے صفات کے التباس illusion میں گم ہوجاتا ہے۔۔
فطرت نے اپنی طرف آنے والا  ایک خفیہ راستہ بھی رکھا ہے۔جہاں ہم فطرت سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں ۔۔وہ محبت کا راستہ ہے۔
یہ bypass ہے گم ہونے کا خطرہ ہوتا ہے لیکن راستے کی scenery اور فاصلہ فطرت سے بالکل قریب ہے۔صوفی اور آرٹسٹ یہی راستہ چنتے ہیں۔
اور اپنے لعل وگہر انسانیت کو دے جاتے ہیں ۔
رومی، دانتے، ملٹن، شیکسپئر، مائیکل انجلیو ،غالب ،کالی داس، ہومر۔
مادے کے راستے کے فطرت تک پہنچنے والے دیمو کرائٹس، لیوکریش، ہو لباخ اور تمام سائنسدان اس میں شامل ہیں ۔ذہن کے زور سے فطرت کا دامن اٹھا کر دیکھنے والے افلاطون سقراط ارسطو برکلے وغیرہ ہیں ۔
لیکن فطرت ایک ہے ۔۔سمندر ایک لہریں ۔۔۔بلبلے بہت زیادہ ہیں اس کی تہہ میں موتی بھی ہیں اور مگر مچھ بھی۔۔۔فطرت آپ کے اندر بھی ہے فطرت میرے اندر بھی ہے ۔فطرت سے آپ بھی بے خبر ہیں فطرت سے میں بھی بے خبر ہوں ۔۔آپ بھی اس کا حصہ ہیں میں بھی اسی کا حصہ ہوں ۔۔آپ وہاں ہیں میں یہاں ہوں ۔
“آپ” اور” میں ” اور “یہاں” اور” وہاں “۔۔ عقل کے انداز بیاں ہیں ۔ہمیں کیا پتہ ہم کہاں ہیں؟ ۔
فطرت ایک حسین راز ہے۔اسکے راز ہی رہنے میں ذہن اور دل کی  نشو و نما ہے۔۔۔۔
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرَے دل چیریں ۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *