سیتا بھی یہاں بدنام ہوئی۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
SHOPPING

ن لیگ کی دونوں مریم بی بیاں پی ٹی آئی والوں کی گالی بریگیڈ کے ہاتھوں ان دنوں ہراساں ہیں۔ہم نے ان  کے ایک ہمدرد کو   رامائن سے جُڑا یہ قصہ سنایا تو تڑپ اٹھے۔کہنے لگے لندن جاتاہوں بھائی کے فون سے باجی کو اور چند دن بعد طلال چوہدری کی نااہلی کی خبر سن  کر چوڑیاں توڑنے والی اور مانگ میں خاک انڈیلنے والی مریم اورنگ زیب کو سناتا ہوں۔پہلی کوشش میں کامیابی ہوئی  تو نانی مریم کے وزیر اعظم بنتے ہی سینٹری پکی۔ ہم نے کہا سینٹر کا عہدہ سینے ٹری نہیں سینٹر شپ کہلاتا ہے کہنے لگے وہ سر ہماری رضیہ سلطان آف راۓ ونڈ آپ کی طرح چھوٹی چھوٹی غلطیاں نہیں پکڑتی وہ Big- Picture Personality ہیں۔ ان کے پاس کامیابی نہ ہوئی تو مریم اورنگ زیب کو ہلکا نہ لیں ماں انڈے مرغی صدقہ واری کرتی ہے ۔مر پڑ کر صوبائی سیٹ دلوادے گی۔بھائی جان تین نسلوں کی دودھ لسی اس ایک سیٹ سے نکل آئے گی۔تم کراچی کے میمن اور مٹروے کیا جانو،جج، جرنیل اور ممبر بننے کے کیا فائدے ہیں۔تمہیں تو سوئی سے کنواں کھودنے کی بیماری ہے۔

طلال چوہدری
مریم اورنگ زیب کی بے چارگی
رامائن
رامائن چھوٹی

ہم نے کہا جج اس فہرست میں کہاں سے آگئے۔کہنے لگا اے لو فیملی کا ایک بندہ جج لگ جائے۔خاندان کے سارے داماد، چیمبر کے وکیل جج پکے۔سیدھے ہائی کورٹ اگّے پھر نو لکنگ بیک۔لُٹّی  جاؤ کھائی جاؤ۔افتخار چوہدری،ڈوگر، جمالی،ناصر الملک،جواد خواجہ اوئے تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔اوئے تم طاقت اور عقل سے ہزار میل دور رہنے والے کراچی کے کینچوئے سرکار کی طاقت کی چس کیا جانو۔
ہم نے پوچھ لیا کہ اگر پھر بھی دونوں یہ عفت مآب بی بیاں قابو نہ آئیں تو کہنے لگا کوئی اور ویڈیو دیکھیں گے۔پارٹی میں ہر بڑے کا سارا ٹبر گھسا ہوا ، کوئی نہ کوئی بی بی کہیں نہ کہیں گھونٹ بھرنے جام چھلکانے گئی ہو گی۔بٹن کیمرے عام ہیں۔ رانا ثنا کو بھی تو سکھیکی پر اس کیمرے  نے قابو کیا نا جو اے این ایف نے ثبوت پکا ہونے پر تفتیشی ریمانڈ نہیں مانگا۔ہم بھی کوئی کلپ بھیج دیں گے۔
پھر کیا ہوگا۔۔
پھر جناب۔۔پھر ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی کی طرح بوسنیا میں سفارت پکی۔ہم نے پوچھ لیا وہ کیسے تو کہنے لگے آپ کے ہیرو حجاج بن یوسف کی انگوٹھی پر لکھا تھا کہ ہر شے کی ایک قیمت ہے۔جسے امریکیوں نے میکڈونلڈ لے جاکر رسوا کردیا کہ There are no free lunches۔
نوازر شریف کے سابقہ دور میں ٹرانسپرینسی انٹرنیشل کے عادل گیلانی کسی چینل پر آکر بہت اودھم مچاتے تھے۔حکومت کے گندے پوتڑے اپنی سنی سنائی تحقیق میں ڈبو ڈبو کر میڈیا پر لہراتے تھے
کچن کیبنٹ کے رکن نے کہا وزیر اعظم نوں آکھو کراچی دا اے مٹروا ایک سفارت دی مار اے،بوسنیا کیہڑا امریکہ ہے اوتھے سٹو(وزیر اعظم کو بتاؤ کہ یہ ایک سفارت کی مار ہے بوسنیا کون سا امریکہ ہے وہاں دے مارو)۔سفیر بنتے ہی ہرطرف ایک خاموشی چھاگئی۔
جب تک وہ اگلی ویڈیو ڈھونڈ کر مریم صفدر اعوان کے وزیر اعظم بننے کا  سپنا پورا ہونے کا انتظار کریں، آئیں ہم کہیں ماضی کے دھندلکوں میں گم ہوجاتے ہیں۔

کہانیوں کی کتاب
معاشی دہشت گرد نامی کتاب
معاشی دہشت گرد نامی کتاب
ملکہ حیا اور شیخا جلیلہ
جے۔کے۔راولنگ
ہیری پورٹر
پہلا ایڈیشن اور آٹوگراف
پہلا ایڈیشن اور آٹوگراف
جان پرکنس۔مقتولین کے نئے ہمدرد

ایک قصہ پڑھتے ہیں۔یہ ہی وہ قصہ ہے جس کو ان کے ہمدرد اگر انہیں سناتے تو اس کی وجہ سے ان دو ہراساں مریم بی بیوں کا دل اپنی عفت و پاکیزگی، ان کا یقین اپنی مہم اور سیاست کی سچائی پر مضبوط و مستحکم ہوتا۔انہیں اس داستانِ  پارینہ میں یوں بھی بہت تسکین و تقویت ملتی کہ بھارت میں ان کے ابا جی، سب کے باؤجی کے دل دے جانی مودی اور جندل بھارت میں راج کرتے بیٹھے ہیں۔۔

جیسے الزامات ان کے ابا حضور نواز شریف نے بے نظیر اور ان کی والدہ پر۔ ہیلی کاپٹر سے پھینکے گئے پمفلٹوں کے ذریعے  ابا جی کے دور میں لگائے جاتے تھے ، ویسے ہی الزامات ان پر لگائے جانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ویڈیوز کا ایک ایسا Can of Worms (کلبلاتے کیڑوں کا پٹارہ) کھلنے کے لیے بے تاب ہے کہ ایک دفعہ تو ویڈیو دیکھ کر پروین شاکر کا وہ کلام دوپٹہ کھینچ کر شرمانے کو بے تاب ہے کہ
کوئی رات میرے آشنا
مجھے یوں بھی تو نصیب ہو
نہ خیال ہو لباس کا
مجھے اتنا تو نصیب ہو
وہ تو شکر کریں کہ ٹوئیٹر،یوٹیوب،فیس بک کے اخلاقی معیار ہم سے بہت بلند اور بااصول ہیں۔وہ ایسی ویڈیوز نہیں چلاتے ۔لے دے کے  واٹس ایپ بچتا ہے مگر اس کی رسائی کام والی ماسیوں اور منی بس کے ڈرائیورز تک نہیں۔ایسی دل و دیدہ فرش راہ کرنے والی ویڈیوز سب سے پہلے بوڑھے سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ فوجی افسران،اکبری اور سوتر منڈی کے آڑھتیوں کے گروپس کے ذریعے
خلائی مخلوق عام کرتی ہے۔ گریڈ بیس سے اوپر کے سویلین افسران کو ایسی ویڈیو ملے تو وہ فرحت ہاشمی کے درس سے ہدایت یافتہ بیگم کو دکھا کر اسے ڈیلیٹ کردیتے ہیں۔یہ قصہ جو ہمارے دوست ان کے ہمدرد انہیں بیچنا چاہتے ہیں ہم نے بھی ویلم ریڈس کی کتاب Myths and Legends of India Vol-1 میں پڑھا تھا۔

آپ بھی کتابیں پڑھا کیجیے، یہ نیم خواندہ اینکروں کے اور بستہ بے کے سیاست دانوں کی بکواس پر مبنی ٹی وی پروگراموں سے زیادہ سود مند ہے۔اس میں انفرادی ترقی کے مواقع زیادہ ہیں کہ ان کے ذریعے آپ کو نئے خیالات سے آشنائی ہوتی ہے۔کتاب سے الجھن ہوتی ہے تو ٹی وی کی بجائے یوٹیوب دیکھا کریں۔ ہماری امریکہ میں ایک سات سالہ بچے سے ملاقات ہوئی۔مسلمان
پاکستانی جو لاہور کے ایک مولانا سے قرآن الکریم کی تجوید(ہجے اور لسانی ضابطوں کی مدد سے عربی کی تعلیم) آن لائن سیکھتا ہے اور اس کی مشق یوٹیوب  پر کرکے وہ دوسرے پارے میں پہنچ گیا۔وہاں سے فراغت پاکر وہ ایک دن اپنے پیانو اور دوسرے دن تائی کوانڈو کے اسباق کی مشق بھی یو ٹیوب کی مدد سے کرتا ہے۔تینوں شعبوں میں نام نکال رہا ہے۔پیانو اسباق پورے ہوجائیں تو وہ گھڑ سواری سیکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ہم نے بتادیا ہے کہ دوبئی کی شیخا حیا کی صاحبزادی شیخا جلیلہ بھی سات برس کی ہیں۔ والدہ کی طرح انہیں بھی گھڑ سواری کا شوق ہے۔اب کی باری جمائما نہ سہی کوئی جلیلہ ہی پاکستان گھونگٹ کاڑھ کر دلہن بن کر آجائے۔وہ بھی امریکہ کی بجائے برطانیہ میں اسکول جانے کا آرزو مند ہے۔اب خوابوں پر بھی اعتراؔض ہے تو عمران خان کو ان کی باجیاں نکما اور بدصورت سمجھتی تھیں مگر کیا نام نکالا کیا کام دکھایا

شیخ احمد دیدات

ہم آپ کو یہ قصہ یوں سنا رہے ہیں کہ اب آپ نے جنوں پریوں کی کہانی پڑھنا چھوڑ دی ہیں، جو کہ اس وقت بلین ڈالر کی انڈسٹری ہے۔آپ ان قصوں کو بکواس سمجھتے ہیں تو جان لیں کہ برطانوی مصنفہ جے۔ کے۔رولنگ کو ایسی ہی بکواس جس کا نام ہیری پوٹر ہے نے دنیا کی مالدار ترین خاتون بنادیا ہے۔یہ قصے اس نے طلاق اور نروس بریک ڈاؤن کے بعد اپنی بیٹی کو بہلانے کے لیے
گھڑے تھے۔ان کا آٹو گراف اگر آپ کے پاس ہیری پوٹر کی کتاب کے پہلے ایڈیشن پر موجود ہے تو آپ اس کو بیچ کر چوبیس ہزار ڈالر کی مالیت کے حساب سے مانسہرہ اور گجر خان میں ڈھائی مرلے کا گھر باآسانی خرید سکتے ہیں۔آپ نے بیٹ مین اسپائیڈر مین سپر مین اور اوتار نامی فلموں کی آمدنی کے بارے میں کچھ نہیں سوچا۔یہ جن پریوں اور ماضی کی داستانیں اور قصے جب دنیا کا عظیم سائنس دان آئن سٹائن سائنس سے فرار حاصل کرنے کی سوچتا تو وہ یہ قصے پڑھا کرتا تھا۔ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ وہ کہا کرتا تھا کہ ان قصوں سے تخیل کو تحریک ملا کرتی ہے۔آپ اگر بچوں کو ذہین بنانا چاہتے ہیں تو انہیں پریوں کے قصے کہانیاں سنائیں۔مزید ذہین بنانا چاہتے ہیں تو اور بھی ایسی کہانیاں پڑھنے اور سننے کو دیں۔

جان پرکنس جس کی کتابوں نے دنیا کو اکنامک ہٹ مین جیسی خوفناک اصطلاحات اور ان سے جڑے محمد شعیب،معین قریشی،محبوب الحق،شوکت عزیز، علی رضا،اسحق ڈار،حفیظ شیخ،کرداروں پر نظر رکھنے کا شعور دیا وہ ایک دن کسی قرضہ خور ملک کے مصنف (غالباً گبرئیل گارشیا مارکیز)سے گفتگو  کے دوران پوچھ بیٹھا کہ وہ ناول اور فکشن کیوں لکھتے ہیں۔وہ تو مقتدر حلقوں میں بہت رسائی رکھتے ہیں۔حقائق کا جو ادارک اور ذخیرہ ان کے پاس ہے،وہ تو خیرہ کُن ہے۔ایسا   خزانہ اور کسی کے پاس کہاں۔ جھینپ کے بولے فکشن لکھنے میں بچت ہے۔میرا فکشن بہتcontroversialہے۔ویت نام، ہیٹی میکسکو کو ڈرگ کارٹیل،جرنیل۔۔کئی پبلشر تو نان فکشن کو دیکھ کر ہی مجھ سے خوف کے مارے منہ موڑ کر میرے  بارے میں ان دشمنان جاں کو خبر کردیں گے۔جو میں لکھتا ہوں وہ فیصلہ نہ سہی، تفکر کو راستہ دکھا کر شعور تو بیدار کرتا ہے۔مصنف کے لیے یہ اہم ہے کہ اس کی اہم بات ہر خاص و عام تک پہنچ جائے۔

یہ جو قصہ ہم سنا رہے ہیں یہ آپ کو شاید یہ کوئی دیومالائی کہانی لگے مگر ڈیڑھ سو کروڑ کے قریب ہندو اس کا لفظ لفظ سچا سمجھتے ہیں۔
ہمارے شیخ احمد دیدات جو تقابلی مذاہب کے مناظروں میں مخالفین کو دھول چٹاتے تھے اور   دنیا کے سب سے طاقتور انسان رومن کیتھولک پوپ جان پال سے مل کر ان امیر مقام کو اسلام کی دعوت دینے کے درپے تھے مگر پوپ نہ مانے۔ایک ملاقات میں ان کا کہنا تھاکہ پوپ اگر مسلمان ہوجائے تو دنیا سے ساٹھ فیصد عیسائیت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
شیخ احمد دیدات مرحوم کو رام اور سیتا کے قصے میں بہت شرارت اور جھوٹ نظر آتا تھا۔ان کی ہندو ازم پر ایک بہت عمدہ ویڈیو یو ٹیوب پر ہے۔یہ لازماً دیکھیے  گا ،استدلال میں بہت شوخی ہے بہت مزا آئے گا۔وہ کہا کرتے تھے عجب خدا تھا۔اپنی بیوی کورانا ثنا اللہ جیسے راون لفنگے سے نہ بچاپایا۔بندروں کی امداد سے برسوں بعد اپنی بیوی کو راون کی قید سے آزاد کرنے کے لیے پتھر برج  بنا کر سری لنکا گئے جب کہ رام کے زمانے سے پہلے ہی موہن جو دوڑو کے زمانے سے ہندوستان کا باشندہ لکڑی اور دھات کا استعمال سیکھ گیا   تھا۔کشتی کا سفر عام تھا۔دیدات صاحب کا یہ لیکچر مسلمان طلبا کے لیے تھا۔نوجوان ذہن ایسے جارحانہ دلائل سے متاثر ہوتے ہیں۔ آپ یہ لب و لہجہ مت اختیار کریں۔ہمارا کام دوسروں کے  خداؤں کو برا کہنا نہیں۔ ہمیں تو قرآن کی ہدایت کے مطابق دین حکمت اور حسن ِاخلاق سے پھیلانا ہے۔ ہمارے نبی محترم محمدﷺ کے پہلے چالیس سال کردار کے ایسے تھے کہ ابوجہل جیسے دشمن بھی ان کے کردار کی  رفعت اور تقدیس کے معترف تھے۔کردار کا نمونہ چالیس برس، تبلیغ کے پہلے تیرہ برس میں سوائے صلواۃ  کے کوئی فرض عبادت نہیں اور آخری دس سال مدینہ کے جو کہا جو سکھایا اس پر عمل انفرادی اور جماعت کی شکل میں عمل کرکے دکھایا۔تبلیغ اس وقت بے اثر ہے جب اس کا عملی مظاہرہ اپنی ذات میں نہ ہوتا ہو۔۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا با شعور شہری سراج الحق ہوں،مفتی منیب، مفتی قوی، یا فضل الرحمن کسی مذہبی رہنما کو قابل تقلید و توصیف نہیں سمجھتا۔انہیں وہ پیکر منافقت اور منصب کا حریص جان کر یکسر رد کرتا ہے۔

راکھشس

یہ قصہ   پہلے سیدنا عیسی علیہ سلام کی پیدائش سے پانچ سو سال قبل گرو والمیک نے سنسکرت میں رام کے دو بیٹوں لاوا اور کش کو سنانے کے لیے لکھا تھا۔
رام اورسیتا سری لنکا ڈھاکر راون کو برباد کرکے واپس ایودھیا آگئے تھے۔ایودھیا فیض آباد ضلع میں ان کی حکومت تھی۔ امراؤ جان بھی یہیں کی ہوا کرتی تھیں۔تب وہ امیرن کہلاتی تھیں اغوا ہوکر لکھنو کوٹھے پر پہنچ گئیں تھیں۔ چاہنے والے نواب سلیم نے ان سے ایک شام اداسی کا سبب پوچھا تو ساتھ بیٹھی کوئی حاسد نوچی(طوائف)کہنے لگی”پہلے امیرن تھیں پھر امراؤ، پھر امراؤ جان اور پھر امراؤ جان ادا ہوگئیں۔نام جوں جوں بڑھتا گیا خوشی یوں یوں گھٹتی گئی۔ بڑے ناموں کا یہ ہی دکھ ہے۔

قصہ یوں ہے کہ رام کسی دن اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایودھیا کے بازار سے گزر رہے تھے۔وہ ایودھیا کے راجہ تھے۔سیتا ان دنوں حاملہ تھیں۔ایسے دورے ان کی آگاہی مہم کا حصہ ہوتے تھے۔ہندوستان کی راج نیتی میں ان دنوں RAW اورIntellignece Bureau کا عمل دخل نہیں ہوتا تھا۔۔راجہ کی ہر خبر پر نظر رہتی تھی ہمارے وزیر اعظم کی طرح ڈالر کے بھاؤ کا اندازہ ٹی وی دیکھ کر نہیں لگاتے تھے۔عوام کے حالات کا خود جائزہ لیا کرتے تھے۔ایسے میں ان کی نگاہ اچانک ایک عورت پر پڑی جسے اس کے میاں نے ان کے سامنے ہی گھر سے باہر نکال دیا تھا۔میاں غصہ میں تھا کہ وہ کسی رشتہ دار سے ملنے اس سے پوچھے بغیر کیوں گئی تھی۔
عورت نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ”سیتا تو برسوں  سے بُرے راون کے گھر سے کوسوں دور اکیلی رہی مگر ہمارے رام جی کتنے اچھے ہیں کہ انہوں نے اس پر نہ کوئی تہمت لگائی نہ اسے بطور بیوی قبول کرنے سے انکار کیا۔مجھے لگتا ہے تم تو خود کو ہمارے راجہ رام سے بھی پوتر اور بڑا سمجھتے ہو۔رام جی محل واپس لوٹے تو عورت کے کہے گئے جملے ان کے کانوں میں گونج رہے تھے۔سیتا کو دیکھا تو شک ہوا کہ اتنے عرصے وہاں راون لفنگے کے محل میں رہ کر آئی ہیں۔وہ راکھشش تو علامت ہی گناہ اور بلتکار کی ہے۔بس کیا تھا رام کے اندر بھی پاک و ہند کی دیہاتی مرد کی غیرت جاگ گئی اور سیتا ماں کو گھر سے نکال دیا۔

یہ ہر عورت کے لیے پہلا سبق ہے کہ مرد کا دماغ بھلے سے وہ خدا کا درجہ کیوں نہ رکھتا ہو کبھی بھی آؤٹ ہوسکتا ہے۔مرد اور داماد گدھے کی پچھلی لات ہیں ، کوئی پتہ نہیں کب دولتی جھاڑ دے۔سیتا کو گھر چھوڑنا پڑا ۔اب وہی بن باس یعنی دشت نوردی تھی مگر اب کی دفعہ  میاں رام اور دیورلکشمن ہمراہ نہ تھے۔پیر بھاری بالآخر وہ ایک آشرم (Hermitage۔خانقاہ) پہنچیں جہاں گرو والمیک کا ڈیرہ تھا۔دوسرے پنڈت اور سنت جو وہاں موجود تھے انہیں سیتا کی کہانی بہت مشکوک لگی مگر والمیک کی بات کچھ اور تھی۔ وہ تو مہادیو تھے۔ان کا خیال تھا کہ راون نے سیتا کے ساتھ  ممکن ہے وہی کچھ کیا ہو جس کا رام جی کو شک ہے۔

بھارتی صدر
بھارتی صدر اور ان کا سادہ مزاج گھرانہ
نقاب پوش پارٹی کی رات
نقاب پوش پارٹی کی رات
نقاب پوش پارٹی کی رات

والمیک کا نقطہء نگاہ کچھ اور تھا۔وہاں  سب سے بلندنگاہ اور دل نواز سخن رکھتے تھے۔سادھووں کو حکم دیا گیا کہ انہیں یہ گیان ہوا ہے کہ سیتا،ساوتری ہے،پاک ہے۔رام کے علاوہ کسی اور نے اس کو چھوا تک نہیں۔رام جی سے بھول چوک ہوگئی ہے۔اس پر سیتا نے بنتی(التجا) کہ سادھو گروپ اگر کوئی امتحان کوئی پرکھشا لینا چاہے تووہ حاضر ہے۔سادھو گروپ نے کہا یہاں ایک جھیل ہے جو ہماری ایک مقدس عورت،تھیت بائی کے نام پر ہے۔ اس کے شوہر نے بھی ایسا ہی کوئی الزام لگایا تھا۔ اس نے دھرتی ماتا سے پراتھنا(دعا) کی کہ میری بے گناہی کا ثبوت دو تو جھیل زمین سے اوپر اٹھ گئی تھی۔

سیتا ماں نے بھی دھرتی ماتا سے دعا کی کہ اے جگت ماتا اگر میں پاک پوترہوں تو میرا دامن گیلا نہ ہو اور اگر رام کا الزام سچ ہے تو بیچ جھیل کے ڈوب مروں۔ یہ ہمارے ہند و پاک میں شرم سے پانی میں ڈوبنے کا جو محاورہ ہے اسی واقعے سے جڑا ہے۔جیسے ہی وہ جھیل میں آگے بڑھتی گئیں جھیل انہیں اوپر بلند کرتی گئی اور وہ دوسرے کنارے خشک دامن نکل آئیں۔

اب کیا تھا کہ سادھو گروپ رام کا مخالف ہوگیا قریب تھا کہ رام کے خلاف کوئی فارورڈ بلاک بن جاتا ،سیتا ماں نے سمجھایا ۔رام کا کوئی دوش نہیں۔راج نیتی نام ہی Fairness اور Character کا ہے ۔ راجہ کی جو رانی ہوتی ہے اس کا کردار ہر شک سے بالاتر ہونا چاہیے۔اس کی سینٹرل لندن  چھوڑ، ایویدھیا میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہونی چاہییے۔اس کو اپنی عزت و ناموس کا پاس ہونا چاہیے۔میں ہی ایسی ابھاگن (منحوس ماری) تھی کہ پہلے راون کی وجہ سے میرے پتی پرمیشور کی بدنامی ہوئی کو اب اس عورت کے طعنے کی وجہ سے کشٹ(دکھ)اٹھانا پڑا۔ رام جی کو نیب اور محاسبے کے علاوہ بھی اپنا نام صاف رکھنا چاہیے ۔چار سو سال بعد ایسے ہی ایک اور واقعے کی وجہ سے انگریزی میں بھی Caesar’s Wife Must Be Above Suspicion کا محاورہ عام ہوگیا جس کا مطلب یہ ہے کہ عوام پر حکومت کرنے والوں سے وابستہ افراد بیوی، اولاد، بھائی، بہن ماں باپ پر بھی اعلی کردار اور طرز عمل کی پابندی لازم ہے۔ہندوستان کے صدر عبدالکلام کا بھتیجا اول شاہ ال حمید ان کی صدارت کے دور میں بھی اپنی چھوٹی سی موبائیل فون کی دکان چلایا کرتا تھا۔ کسی سرکاری محکمے کی کوئی کار اس کے پاس نہ تھی۔ ایک اور قریبی عزیز نظام الدین مصطفے مانکیار ریونیو میں کلرک تھے۔کسی کو وزیر گل آغا کی بہن کی طرح نیکٹا میں سفارش پر نہیں گھسیڑا گیا۔کسی سوتیلے داماد کو بڑے عہدے پر نہیں لگایا گیا۔

ہمارے صدر نے تو چالیس لاکھ کا مشاعرہ ایوان صدر میں سرکاری خرچ پر لوٹ لیا ۔ساٹھ لاکھ کے طوطوں کے پنجرے بنوالیے اس سے پہلے سرکاری خزانے سے ایک تہجد گزار صدر نے فائرنگ رینج اور پولو گراؤنڈ بنالیا ۔ بھارت میں معاملہ کچھ اس کا الٹ ہوا ۔عبدالکلام کی سالگرہ پر ایوان صدر میں مہمان اور کیک کی پارٹی دیکھی تو صدر صاحب بہت حیران ہوئے۔اخراجات کا بل منگوایا تو تین لاکھ روپے۔پوچھایہ کون دے گا؟۔۔ عملے نے جواب دیا کہ صدر کی سالگرہ راشٹر پتی بھون کے بجٹ میں شامل ہوتی ہے۔آپ کے مزاج کی سادگی دیکھ کر ہم نے تو مختص رقم تیس لاکھ کی جگہ صرف تین لاکھ کا خرچہ کیا ہے۔ بھارت کے میزائل مین جو فائٹر پائلٹ کی تربیت بھی رکھتے تھے دنیا بھر میں سب سے اعلی تعلیم یافتہ صدر مانے جاتے تھے اور بھارت میں میزائل بنانے کا سہر ان کے سر تھا ، انہوں نے اسی وقت سیکرٹری کو بلوایا کہ میرے اکاؤنٹ سے تین لاکھ کا یہ چیک سرکاری خزانے میں جمع کرادیں۔میری سالگرہ کا عوام کے ٹیکس سے جمع کردہ رقم سے کیا تعلق اور آئندہ ایسی کوئی تقریب میری پیشگی اجازت کے بغیر نہیں ہوگی۔

یہ جو Caesar’s Wife والا محاورہ ہے اس کا پس منظر  ہوا یوں تھا کہ کلاڈیس نامی ایک شخص رانی پومپی کا پرانا جاننے والا ایک Masquerade Ball میں گھس آیا تھا۔یہ ذرا فری فار آل قسم کی پارٹی ہوتی ہے مگر ان کی آئی ایس آئی کو پتہ لگ گیا اور دہشت گرد جس کا ارادہ رانی پومپی کے ساتھ محض ایک رات بتانے کا تھا پکڑا گیا۔ مقدمہ چلا، جولیس سیزر نے مقدمے میں کلاڈیس کو تو کچھ نہ کہا مگر جرم ثابت نہ ہونے کے باوجود بیوی کو یہ کہہ کر طلاق دے دی کہ بادشاہ کی ملکہ کو شکوک و شبہات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ اس بات کو سیتا ماں نے یہ کہہ کر لپیٹ دیا کہ میرے میاں کا شک غلط لیکن راج نیتی میں پبلک امیج کی بہت اہمیت ہے۔بادشاہ گیری کے لیے Optics ٹھیک ہونا لازم ہے۔

اس قصے میں پبلک امیج،کردار اور سیانوں کی صحبت سے جڑے جو اسباق ہیں وہ وزرات اعظمی کی دلدل مین لتھڑے افراد کو ہند و پاک میں کون سمجھائے گا۔

SHOPPING

ہم نےمعرفت سے ہم آغوش جواں سال دیدہ زیب اور طوفاں بدست ہندوستانی خاتون دوست سے پوچھا کہ سیتا کی کہانی سے جدید ہندوستانی دھرم داسی کیا گیان لیتی ہے؟۔۔ کہنے لگی وہی جو تمہارے مسلمان صوفیوں نے کتے سے سیکھا تھا۔ ہم نے پوچھا “وہ کیا؟” ارے گرو جی دونوں کا گیان وہی ہے جو کتے سے سیکھا کہ مالک نکال دے تو لوٹ کے اس کے پاس  واپس نہیں جانا، سیتا پلٹ کر ایودھیا واپس نہیں گئی ۔ہم نے آہستہ سے کہا” ہر مرد رام نہیں ہوتا کہ 14 برس بعد واپس گھر میں ڈال لے ” کہنے لگی ابھی ماں کو مندر لے کر جانا ہے بعد میں بات کروں گی۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *