• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تَن کی میل , مَن کا اندھیرا۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشیں” سے اقتباس

تَن کی میل , مَن کا اندھیرا۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشیں” سے اقتباس

SHOPPING
بعض اوقات باہر جتنی شدید روشنی ہوتی ہے انسان کے اندر اتنا ہی گہرا اندھیرا  چھایا ہوتا ہے۔۔۔دنیا کی روشنی کبھی بھی دل و دماغ اور روح کو روشن نہیں کر  سکتی۔۔باہر کی تیز روشنی ہمیں بس مغرور کرتی ہے۔۔ کہ ہاں !  ہم سب اُجلا اُجلا روشن روشن دیکھ سکتے ہیں۔ مگر حقیقت میں وہ ایک سراب کی طرح ہوتا ہے۔ جو دن کا اُجالا غائب ہوتے ہی  آہستہ آہستہ دل کو احساس دلاتا ہے کہ یہ روشنی تو جا رہی ہے اب اپنے اندر کے اندھیروں سے ملو۔ اپنے اندر کے اندھیروں سے بچنے اور ان کا سامنا نہ کرنے کے لیے ہم مصنوعی روشنیاں جلاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ  یہ روشنیاں  ہمارے وجود کو اندھیروں سے بچا لیں گی۔۔ مگر رات میں کہیں نہ کہیں مصنوعی روشنیوں کی روشنی بھی مَن کے اندھیرے سے مَات کھا جاتی ہے اور تَن کی میل واضح ہو جاتی ہے۔ ایک ایسا لمحہ یا  ایسی سوچ آ ہی جاتی ہے جس سے ہمیں اپنے اندر کے اندھیرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مَن کے گہرے اندھیروں سے روبرو ہونا ہی پڑتا ہے۔مگر ہم اس ایک پَل کو   فوراً جھٹلا کر کسی اور سوچ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مصنوئی روشنی کا  یہ سفر مصنوعی طریقے سے ,اپنے مصنوعی  وجود کو مکمل رکھنے کہ لیے بہت سی مصنوعی اور خود ساختہ بے شمار  سوچیں ہم پر حملہ آور کرواتا ہے۔ہم سب مَن کے اندھیرے سے بچنے کے لیے اَن گِنت مصنوعی سوچیں  ساتھ لیے پھرتے ہیں۔۔۔حقیقت سے نظریں چرانے کا ہُنر ہم بخوبی جانتے ہیں۔ خوش فہمی  میں مبتلا ہو کر  ہم مَن کے اندھیرے , تَن کی میل سے نظریں چرانے میں کامیاب ہو ہی  جاتے ہیں۔ خوش فہمیوں میں  ہمیں  لوگ ہی مبتلا  نہیں کرتے بلکہ ہم خود بھی اپنے آپ کو خوش فہمی   میں مبتلا کرنے میں بہت اہم  کردار ادا کرتے ہیں۔یہی خوش فہمیاں ہمیں ہمارے تَن کے میل سے بھی بے خبر کرتی ہیں اور مَن کے اندھیرے کو بھی نظروں سے اوجھل کر دیتی ہیں۔حقیقت سے دور بناوٹی خوش فہمیوں کی دنیا میں انسان صرف بھٹکتا ہے۔تَن میلا کرتا, اندھیرے سمیٹتا, حقیقتوں سے  نظریں چراتا اور مصنوعی روشنیاں ڈھونڈتا انسان اپنا وجود ریزہ ریزہ کرتا درد بدر پھرتا ہے۔پھر بالآخر اپنے تَن کی میل  زمانے کو بدبودار کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اپنے مَن کا اندھیرا  زمانے کو اندھیرے میں مبتلا کرتا نظر آتا ہے۔اور انسان  پھر اپنے بدبودار وجود   اور گھٹن زدہ ماحول سے خوفزدہ ہو کر چیختا ہے۔۔۔مگر بھلا کوئی تَن کے میلے , مَن کے کالے کو بھی سہارا دیتا ہے۔؟
پھر کوئی روشنی  بھی انسان کو کسی قسم کی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کرتی۔۔ پھر صرف حقیقت ہی  ہمارے بدبودار وجود کے ساتھ موجود رہتی ہے  اور  مَن کے اندھیرے ہمیں ناگن کی طرح ڈستے رہتے ہیں۔۔۔اور گھائل وجود لیے ہم کسی مسیحا کے انتظار میں اندھیروں میں آخری سانس تک تڑپتے رہتے ہیں۔
SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *