ناکردہ گناہ یا مکافاتِ عمل۔۔۔۔عزیز خان

SHOPPING
SHOPPING

زرداری گرفتار ہو گئے ،اُنکی ہمشیرہ کی ضمانت بھی خارج ہوئی ،دونوں  سیون  سٹار  جسمانی ریمانڈ  کے مزے لوٹ رہے ہیں

آغا سراج بھی ریمانڈ پر سندھ اسمبلی کی صدارت فرما رہے ہیں اور اجلاس کئی مہینوں سے جاری ہے۔
شرجیل میمن بھی شہد اور زیتون سے جان بنا رہے ہیں۔

شہباز شریف جیل یاترا کرکے واپس آگئے، خاموش رہنا چاہتے ہیں مگر اُن کی بات نقار خانے میں طوطی کی آواز ہے۔۔پارٹی کی صدارت تقریباً اُن سے چھن گئی ہے۔پریس کانفرنس میں بھی کُرسی صدارت پہ مریم بی بی بیٹھی تھیں ،منڈی بہاوالدین کے جلسہ پر بھی وہ نظر نہیں آئے۔

مریم بی بی وزیراعظم بننے کیلئے سب کُچھ قربان کرنے کو تیار ہیں چاہے باپ ہی کیوں نہ ہو۔

خبر ہے نواز شریف کا (پرہیزی)کھانا جیل میں بند کر دیا گیا ہے اور مریم بی بی نے جیل کے باہر دھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پہلے سیاستدان حکومت گرانے کیلئے دھرنا دیتے تھے اب نواز شریف کا (پرہیزی) کھانا بحال کرانے کیلئے دھرنا دیں گے۔

اب نوبت یہاں تک پُنہچ گئی ہےکہ پہلے نعرہ تھا (ووٹ کو عزت دو)اور اب نعرہ لگائیں گے (میاں کا کھانا بحال کرو)۔

حمزہ شریف کا کوئی پتہ نہیں وہ بھی خاموش ہیں۔جیل یاترا بڑی اوکھی ہے بڑے بڑوں کو خاموش کرا دیتی ہے۔
سعد رفیق کو ہی دیکھ لیں ؟۔۔

خاموشی میں ہی عافیت ہے۔۔

ان تمام حکمران خاندانوں اور ان کے وزیروں  مُشیروں کے چہروں سے عجیب سی وحشت اور بے بسی چھلکتی ہے کوئی پتہ نہیں کس کا نمبر کب آجائے کیونکہ سب کو اپنے کرتوتوں کا پتہ ہے۔
موجودہ حکمران پارٹی کے  وزرا اور ممبران بھی سہمے ہوئے ہیں شاید پارٹیاں بدلنا بھی ان کے کام نہ آئے۔

ایک زمانہ تھا سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف بھینس چوری اور پانی چوری کے مقدمات درج کرواتے تھے پر اب وقت بدل گیا ہے
اُس وقت نہ تو اتنے اینکرز تھے نہ الیکٹرانک میڈیا نہ سوشل میڈیا اور نہ ہی خفیہ کیمرے !

مگر اب تو چھینک بھی آ  جائے تو چھینک مارنے والے کو بعد میں پتہ چلتا ہے اور سوشل میڈیا اور چینلز  پر وائرل ہو جاتی ہے۔

رانا ثنا اُللہ سے 15 کلو منشیات برآمد ہوئی میڈیا نے ابھی سے ہی اُن کو بےگُناہ ثابت کر دیا۔
سوشل میڈیا اور میڈیا بھی کیا عجیب ہے جس کو چاہے مجرم بنا دے جس کو چاہے بے گُناہ کر دے، اپنے اپنے دم کی اور پہنچ کی  بات ہے۔

خود ہی مدعی ،خود ہی گواہ۔۔ خود ہی عدالت۔
میں حیران ہوں کہ کوئی اتنا بھی بے وقوف ہو سکتا ہے کہ 15 کلو منشیات لے کے اپنی گاڑی میں گھوم رہا تھا۔
پھر یہ بھی خیال آتا ہے جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو سب احتیاطیں اور تدبیریں ختم ہو جاتی ہیں۔

آج معلوم ہوا کہ رانا صاحب کا موچھوں کا تاو تو جعلی تھا ۔جس سے وہ اپنے مخالفین کو ڈرایا کرتے تھے۔
اُنہیں تو ایک آنکھ سے %90 نظر نہیں آتا دل کے وہ مریض ہیں کمر میں اُن کے تکلیف ہے۔وہ زمین پر نہیں بیٹھ سکتے، 35 سال سے وہ شوگر کے مریض ہیں اور آخر میں اُنہوں نے بھی لندن میں علاج کے لیے ڈاکٹر سے نواز شریف کی طرح ٹائم لیا ہوا تھا۔

کاش ان سیاستدانوں کو بھی میڈیکل گراونڈز پر سرکاری ملازمین کی طرح گھر بھیجنے کا رواج ہوتا۔
مگر ان کی یہ ساری بیماریاں قوم کو اُس وقت معلوم ہوتی ہیں جب یہ کرپشن میں یا اپنے کرتوتوں کی وجہ سے گرفتار ہوتے ہیں۔

رانا صاحب کی بیوی کے میڈیا کے سامنے بندھے ہوئے ہاتھ اور فریادیں سن کر مجھے ماڈل ٹاون کی بچی کی وہ چیخیں یاد آگئیں جو خدا تک تو پہنچ گئیں مگر عدلیہ کے اُونچے ایوانوں تک نہ پہنچ  سکیں۔

میری دوستوں سے عرض ہے کہ اپنے لیڈروں سے ضرور محبت کریں مگر اُن کی ہر بات پر اندھا اعتماد بھی ٹھیک نہیں۔

اپنے اداروں پر حملے کرنا۔۔ایک دوسرے کی ذاتی زندگی پر گھٹیا اور مادر پدر آزاد جملے کسنا۔کارکنوں کا تو سُنا تھا اب تو لیڈران بھی اس کارِخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

تُوتُو میں میں کی سیاست عام ہے۔۔

عدلیہ کے ججوں کی تضحیک ان کی کردار کُشی۔۔اپنی فوج کو خلائی مخلوق کہنا۔۔
ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں ؟

اتنے لیڈران کی ایک ساتھ گرفتاری ؟؟

سب کو پتہ ہے یہ سیاسی نہیں ہے سب ہی جانتے ہیں کہ دو دہائیاں پہلے جو سائیکل پر گھومتے تھے آج اربوں کی جائیداد کے مالک ہیں یہ سب کہاں سے آیا۔۔ پوچھا جائے تو سیاسی مقدمات ہیں۔عدالت میں کُچھ ثبوت پیش نہیں کرتے، باہر آکر کہتے ہیں جج اور فیصلے غلط ہیں
شہباز شریف نے تو حد کر دی نیب کو دھمکاتے ہوئے بولے بس کُچھ دنوں تک ہماری حکومت آجائے گی ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔۔
میاں صاحب وہ دن گئے اب بھی سدھر جائیں۔۔
اگر یہ سب سیاستدان پھر بھی بے گناہ ہیں تو ان کو اللہ سے توبہ کرنی چاہیے اور معافی مانگنی چاہیے۔

پھر ان پر یہ اللہ کا عذاب ہے اور ناکردہ گناہ ہیں یا بدعائیں ہیں جو ان کا پیچھا کر رہی ہیں۔

ان تمام حالات کے یہ سیاستدان خود ذمہ دار ہیں جب بھٹو کو پھانسی دی جا رہی اُس وقت ووٹ کی عزت کہاں تھی ؟
اگر یہ سیاستدان اُس وقت اکٹھے ہوتے تو شاید بھٹو بچ جاتا اور نعروں میں زندہ ہونے کی بجائےدِلوں  زندہ ہوتا۔

اب جمہوریت اور (ووٹ کو عزت دو )کا نعرہ لگانے والے یہ سیاستدان اُس وقت آمروں کی گود میں بیٹھنے کے لیے اُن کے تلوے چاٹ رہے تھے۔۔اب یہ گِلہ کرتے ہیں ادارے غلط ہیں۔

اُن کے مُنہ کو لہو لگانے والے تو یہ خود تھے اب کس بات پہ یہ روتے ہیں؟

اب بھی وقت ہے آپس میں حکومت کی خاطر لڑنے کی بجائے اس پاکستان کا سوچیں۔سندھی کارڈ ،پنجابی کارڈ، بلوچی کارڈ، پختون کارڈ استعمال کرنے کا ہرگز  مت سوچیں۔

SHOPPING

پاکستان ہے تو سب کُچھ ہے۔ پاکستان نہیں تو کُچھ بھی نہیں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *