زنا شوئی کا تعلق (Conjugal Relation)

خاندان معاشرے کی اساس ہے، اور میاں بیوی خاندان کی اساس۔ محبت، پیار، احساس، تربیت اور ذہنی ہم آہنگی سے ایک صحت مند گھرانہ اور ایسے گھرانوں کی بنیاد پر ایک اچھا معاشرہ جنم لیتا ہے۔ کیا مرد و زن اس تعمیرِ معاشرہ میں اپنا کردار صحیح طور سے ادا کر رہے ہیں؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ کیسا روپ پیش کر رہے ہیں؟ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ آئیے ان موضوعات پر کچھ بے ترتیب سے سوالات اور ان کے جوابات دیکھتے ہیں۔

آج انسانی حقوق کی تنظیمیں ہر سماجی اور انسانی مسئلے پر صرف فقرے اچھال رہی ہیں۔ مگر جس بنیادی مسئلے کی نشان دِہی اور اصلاح ضروری ہے اس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہمارا میڈیا آواز اٹھا رہا ہے عورت کے حقوق کے استحصال کی، اور عورت کی تحقیر پر بات کر رہا ہے۔ یہ میڈیا مختاراں مائی جیسے کرداروں کی تخلیق کا ذمہ دار بھی ہے اور ان کو تحفظ دینے کا دعوے دار بھی۔ مگر حقیقتًا ناکام ہے۔ میڈیا کی سالہا سال کی شورا شاری کے نتائج پر ایک نگاہ ڈال لیجیے: کیا آج بھی ہم ونی اور ستی جیسی رسومات سے جان چھڑا پائے؟ کیا بہن بیٹی کو جائیداد و وراثت میں اس کا حق ملا؟ کیا عورت کو معاشرے میں عزت ملی؟ نہایت کڑوا سچ یہ ہے کہ عورت کے جو اصل حقوق ہیں وہ اس کو ابھی تک ملے ہی نہیں، اور آزادی کے نام پر، حقِ رائے دِہی کے نظریہ سے، اسے اپنے گھر کی حکومت سے بھی خارج کر دیا گیا ہے۔ میڈیا اور این جی اوز کی جدوجہد کا اب تک کا حتمی حاصل یہ ہے کہ عورت کو حقوق بھی نہ ملے اور وہ فرائض سے بھی بے بہرہ ہوگئی۔ معاشرے میں فرائض سے غفلت کا رویہ اور جہالت وہیں رہی۔ ہاں، مگر اس کو سجا کر مزید نکھار دیا گیا۔

آج نئے سے نئے عنوانات کے تحت عورت کے حقوق کے استحصال کا ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے اور مرد کی فرائض سے غفلت کا۔ مگر یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرے رخ سے پردہ پوشی کیوں؟ مرد کے حقوق کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ یہ لوگ عورت کے فرائض کی بات کیوں نہیں کرتے تاکہ معاشرے میں توازن آ سکے۔ یہ تسلیم کہ عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیے ہیں اور برابر بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جب تعمیر و ترقیِ معاشرہ میں دونوں کا کردار برابر کا ہے تو عورت عورت کا شور مچا کر صرف ایک پہلو کو کیوں میڈیا ہائپ دی جا رہی ہے؟ یہ سوال واضح الفاظ میں پوچھنا ضروری ہے کہ مرد کے احساسات و جذبات کو کیوں بیان نہیں کیا جا رہا؟ کیا اس لیے کہ اس سے ہمارے معاشرے پر قدامت پسندی کا لیبل لگے گا؟ یا پھر ہم کوئی حقیقی اصلاحی قدم اٹھانا ہی نہیں چاہتے؟

ہم بھول گئے قرآن کا بیان کہ تم ان کا لباس ہو اور وہ تمھارا لباس ہیں۔ لباس کی کیا تعریف ہے؟ لباس صرف ستر پوشی نہیں ہے۔ لباس زینت بھی ہے، تحفظ بھی، اور پردہ پوشی بھی۔ میاں بیوی کا ازدواجی تعلق بھی ان کا لباس ہے۔ ہم نے سماج میں لباس کو صرف معاشرے میں اکیل پن کے خوف سے اٹھنے والے عدم تحفظ کے احساس سے جوڑ دیا اور اس ضروری تر امر کو نظر انداز کیا کہ یہ لباس مرد و عورت کی نفسیاتی، جذباتی، شہوانی اور جبلی ضرورت ہے۔

مثالی ازدواجی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ عورت دنیا کو مرد کی آ نکھ سے اور مرد دنیا کو عورت کی آنکھ سے دیکھے۔ ازدواجی رشتہ باپ بیٹی، بھائی بہن، ماں بیٹا کے رشتہ سے بہت بالاتر اور مقدس اور خوبصورت ہے اور اس کی آبیاری میں مرد اور عورت دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ مگر جہاں اس امر کی نشان دِہی کی جاتی ہے کہ عورت کے جذبات و خواہشات کا خون کیا جاتا ہے، اس کو ایک گھر کا تحفظ نہیں ملتا، اس کو حق رائے دِہی نہیں ملتا، وہاں کچھ بات اس نقطہ نظر سے بھی کی جائے کہ کیا عورت بھی اس رشتے میں انصاف کر رہی ہے؟

اس میں شک نہیں کہ ہمارے معاشرے کی پروان میں عورت اس خوف کے احساس کے ساتھ جیتی ہے کہ اگر اس کی شادی نہ ہوئی تو وہ ذلیل و خوار ہوگی۔ لو جی بیاہ ہوگیا۔ اور عورت کو یہ ذہنی سکون ملا کہ اس معاشرے کی لعنت سے بچ گئی۔ اور اب وہ ایک نئے خوف کا شکار ہے کہ کیا وہ ماں بن سکے گی؟ لیں جی، دو تین بچے ہوگئے۔ عورت نے یہ جانا کہ اس کے قدم جم گئے اس گھر میں۔ اور اب وہ بیگم سے بے غم ہوگئی۔ مگر اس سارے عرصہ میں اس نے اس مرد کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی جو اس کا جیون ساتھی ہے اور اس کی محبت کا طلب گار۔ چند بچوں کی پیدائش کے بعد مرد کو اس کی خواہش اور حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اس سارے عمل میں کہیں محبت کا احساس جنم نہ لے پایا۔

اور مرد… اس کی حیثیت ایک مزدور کی سی ہوگئی، کہ وہ محنت مشقت کرے اور بس گھر کو اناج سے بھر دے۔ گھر کا خرچ، بچوں کی فیسیں، یوٹیلیٹی بل، کپڑے جوتے، آنے جانے والوں کی مہمان داری، موت فوت، بیماری، فیشن، ہر موقع پر پیسے دے اور پیسے کم دینے کا دائمی طعنہ سنتا رہے۔ اس کو پیار کے دو بول نصیب نہ ہوئے۔ صبح جائے تو چخ چخ سنتا، واپس آئے تو طعن و تشنیع کے دھار دار ہتھیاروں سے چھلنی۔ نتیجہ کیا ہوا؟ مرد گھر سے یعنی اپنی عورت اور بچوں سے دور ہوتا چلا گیا۔

عورت اور مرد اپنے ازدواجی تعلق سے متعلق جس بھی ذہنی انتشار کا شکار ہوتے ہیں، ہ ارے سماج کی بُنت ایسی ہے کہ اس میں وہ کسی سے کھل کر اپنا خلجان بیان نہیں کر پاتے اور بہت سی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ازدواجی زندگی کے اسی دباؤ اور بے ہنگم پن نے آج کے سائبر دور میں مسلمانوں تک کے گھروں میں سائبر میاں بیوی، سائبر بہن بھائی اور خدا رکھے، سائبر باپ بیٹی تک پیدا کر دیے ہیں۔ اور آنکھوں دیکھی بات ہے کہ یہ سائبر رشتے حقیقی رشتوں سے بہت زیادہ پائیدار اور باہمی احترام و اعتماد والے ہو چکے ہیں۔ اسلام اور اس کی تعلیمات بہت پیچھے کہیں رہ گئی ہیں۔

ماننا چاہیے کہ اگر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے تو یقین جانیے کہ ایک ناکام مرد کے پیچھے بھی یہی عنصر کار فرما ہے۔ ہمارے سماج میں غربت اور اقدار کی زبونی کی بڑی وجہ عورت کا اپنے فرائض کی ادائیگی کے احساس اور کردار میں ناتراشیدہ رہ جانا ہے۔

نشہ زدگان کی بحالی کے فلاحی اداروں میں آ نے والے مریضوں میں 70 فیصد سے زیادہ مریض ایسے پائے گئے جن کی بیویاں انھیں درخورِ اعتنا ہی نہیں سمجھتیں۔ جیسے عورت خواب بنتی ہے ویسے ہی مرد بھی ایک پرسکون گھر کی خواہش کرتا ہے۔ عورت نے مرد کو طاقتور کا لیبل لگا کر ایسی اونچی مسند پہ بٹھا دیا کہ اسے چھو بھی نہ سکے۔ اور نتیجتہً مرد تنہائی اور اکیل پن کا شکار ہوکر نشہ کرنے لگا، اور جہاں کسی دوسری عورت نے جو خواہ اس کی بیٹی کی عمر کی ہو یا ماں کی عمر کی، اس سے دکھ سکھ کرنا شروع کیا تو وہ پیار و توجہ کا ترسا فوراً اس کی طرف مائل ہونا شروع ہوگیا۔

مرد بھی قربانی دیتا ہے۔ اگر عورت اس کی ضروریات پوری نہیں کرتی تو وہ کبھی نفس کی قربانی دے کر، کبھی اپنی اولاد کی بہتر پرورش کے لیے اور کبھی معاشرے کے خوف سے رہتا تو گھر ہی میں ہے مگر اس ذہنی انتشار و بے سکونی میں ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتا ہے جہاں نعوذ باللہ حلال حرام کی تمیز نہیں رہتی۔ اس ساری صورت حال کی واحد ذمہ دار صرف گھر کی عورت ہے۔ لیکن یاد رکھنے کی بات ہےکہ ہر مرد قربانی نہیں دے پاتا۔ ہر مرد ہوس زدہ نہیں ہوتا۔ عورت کا رویہ مرد میں منفیت لاتا ہے۔ حوادثِ زمانہ اسے کہیں کا کہیں لے جاتے ہیں، اور انجامِ کار، عورت اور اولاد تنہا تر ہو جاتے ہیں۔

میاں بیوی کے رشتے میں یہ بات دیکھی گئی کہ مرد کے لیے ازدواجی تعلق پہلی ترجیح اور جسمانی ضرورت ہوتا ہے اور عورت کے لیے آخری۔ سو جب ذہن و جسم کو سکون نہیں ملتا تو اس میں تعفن پھیل جاتا ہے۔ میاں بیوی کا یہ رشتہ تعفن کا شکار ہو جاتا ہے اور ایک عجیب مردم بیزاری جنم لیتی ہے۔ اس بیزاری کا اظہار عورت اپنی زبان سے کرتی ہے اور اپنے بیڈ روم میں کرتی ہے۔ یہ بیزاری بڑھتے بڑھتے ہر حد پار کر جاتی ہے اور عورت میاں کو بچوں اور خاندان والوں اور پھر ہر آئے گئے کے سامنے یہاں تک کہ سڑک اور مارکیٹ تک میں ذلیل کرنے لگتی ہے۔ مرد اس بیزاری کا اظہار گھر سے دور رہ کر، دوسری عورت کے پاس جاکر، یا جو بہت ڈرپوک ہو وہ نشے میں تلاش کرنے لگتا ہے۔

جاننا چاہیے کہ شادی کا مقصد صرف افزائشِ خاندان نہیں ہے۔ شادی کا اولین مقصد زوجین کی محبت اور سکون ہے۔ جیسا کہ سورہ روم میں ہے: اس خدا کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تمھارے لیے تمہاری جنس سے تمھارے لیے جوڑا پیدا کیا تاکہ ان کے ساتھ تمھیں آ رام ملے اور تمھارے درمیان مودت و رحمت قرار دیا۔ اب ہر عورت خود دیکھ لے کہ آیا وہ اپنے مرد کو آرام اور سکون دے رہی ہے؟ ہمارے پیارے نبی کی زندگی کا ہر پہلو امت کے لیے بیان کر دیا گیا ہے۔ کیا مسلمان عورت نے اس سے بھی نہ سیکھا؟

یہ عورت کی کم عقلی ہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کے علاوہ کسی اور کو اپنا ہمدرد اور غم خوار سمجھے، یہاں تک کہ اپنی ماں کو۔ عورت کو اپنے مرد کو ایسا سمجھنا چاہیے کہ وہ اس کی چھایا ہے۔ اس کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مرد کو جو دلکشی باہر کی دنیا میں نظر آتی ہے وہ اس کو گھر میں مہیا کر دے۔ کامیاب ہے وہ عورت جو پیار کا مجسمہ ہو، مزاج آشنا ہو، اور زمانے کے رنگ ڈھنگ جانتے ہوئے اپنے آپ کو لوازمات سے لیس کرے۔ اگر عورت اپنے ان فرائض سے غفلت نہ کرے تو مرد کے دل میں قید ہوجائے۔

پیار محبت اور احساس کی قید سے مرد کبھی رہائی نہیں چاہتا۔ مرد کو زندگی کے ہر phase میں عورت کی ضرورت ہوتی ہے:
٭بھگوڑی جوانی میں محبت کی لگام کی،
٭زمانے کی آزمائش میں عورت کی تسلی کی کہ وہ اس کے ساتھ ہے،
٭بچوں کی تربیت میں اس کے تعاون کی،
٭ڈھلتی عمر میں اس کی ستائش کی کہ وہ اس کی محنت اور محبت کی قدر دان ہے،
٭بڑھاپے میں ایک ایسی دوست کی جو اس کی ہر کیفیت کو سمجھتی ہو۔

عورت اور مرد کا ساتھ اسی احساس سے پروان چڑھتا ہے۔ عورت صرف اپنی محبت کی آبیاری سے مرد کو سیراب کرسکتی ہے۔ اگر عورت اپنا یہ کردار فعال طور پر ادا کرے تو معاشرے میں دوسری عورت کا سوال ہی ختم کر دے۔ ہمارے معاشرے میں عورت نے دوسری عورت کا کردار اپنے اسی بے توجہی والے رویے سے پیدا کیا ہے۔

عورت کو اپنے عمل کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں اس نے اپنے مرد کو ایسے مقام پر تو نہیں پہنچا دیا جہاں اس میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوگئی ہو؟ دارالافتاء میں بیٹھنے والے جانتے ہیں کہ جو باپ اپنی بیٹی کے ساتھ جنسی درندگی کر گزرتا ہے اس کی حقیقی وجہ بیٹی کی ماں کا باپ کی خواہش کو پورا نہ کرنا ہوتا ہے۔ عورت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مرد کے دوسری عورتوں میں دلچسپی لینے کی سب سے بڑی وجہ وہ خود ہے۔ اللہ نے اسے وہ سب سامان دے رکھا ہے جو دوسری عورت کے پاس موجود ہے، کمی اس عورت میں ہے کہ اپنے اس سامان کو اپنے مرد کے لیے ضرورت کے وقت مہیا کرنے اور مرد کی توجہ لینے میں ناکام رہتی ہے۔ اپنی ناکامی کا الزام مرد پر نہیں دھرنا چاہیے، اور اپنی ناکامی کی وجوہات کو دور کرنے کے لیے سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ اپنی ناکامی کی وجہ صرف آپ خود دور کر سکتی ہیں۔

میاں بیوی کے رشتے کے تقدس کے لیے دونوں کا ایک دوسرے کو سمجھنا ضروری ہے۔ ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے کمپلیکسز اور دنیاوی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر طعنہ زنی سے اجتناب کرتے ہوئے صرف محبت اور احساس سے اس رشتے کو پروان چڑھائیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت اور مرد اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اپنے رشتے کی نزاکت کا خیال کریں۔ دونوں اگر اپنے فرائض صحیح طور سے ادا کریں تو حصولِ حقوق کی جنگ ختم ہوجائے اور فرائض کی ادائیگی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا عندیہ پیدا ہوجائے۔

میاں بیوی کا رشتہ اٹوٹ انگ نہیں ہے۔ اگر عورت توجہ دے تو یہ رشتہ اٹوٹ انگ بن سکتا ہے اور ایک خوبصورت معاشرے کی اساس۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *