جمہوری مغالطے۔۔۔۔ اعظم معراج/اختصاریہ

(جگنو محسن کےٹی وی انٹرویو سے ماخوذ)

ایک مدت بعد جب آمریت کے بادل چھٹے اور جمہوریت کا سورج طلوع ہوا،پھر فوراً  ہی اس کم عمر سورج کو   گرہن لگ گیا۔ اور جمہوریت کا سورج جمہوریت کے لیے جان ومال کی قربانی دینے والوں کی بجائے صرف چند گھرانوں کو روشنی اور جمہوری پروانوں کی زندگیوں میں سے روشنیاں اور کم کرنے لگا ۔ ۔تو پروانوں کی ایک محسن – جگنو نے سورج کی دیوی سے کہاں یہ کون سی جمہوریت ہے؟ تو دیوی نے تیوری چڑھائی اور کہا ۔۔کیا ہم الکپونی ڈاکٹرائن اپنائے بغیر اپنے ان حریفوں سے جو گاڈ فادر کے پیروکار ہیں مقابلہ کر سکتے ہیں؟۔۔ سمجھو بیوقوفوں — وہ اور دیس ہوتے ہیں ۔جہاں الکپون ہارتے اور نیلسن جیتتے ہیں۔یہاں صدیوں سے منافق ،سازشی، مکار،عیار ،سفاک ،جابر ،ظالم،غاصب،اور استحصالی سرمایہ دار جیتتے آئیں ہیں۔

اس طرح دیوی نظریاتی سے عملی ہو کر الکپونی ڈاکٹرائن کی پجارن اور الکپونی ڈاکٹرائن سے فیضیاب ہونے والوں کی دیوی بن گئی،اور پھر الکپونی ڈاکٹرائن کے اصل پجاریوں نے اسے ماہر شکاریوں سے مروا کر بین الاقوامی پیشہ ور ماہرین سےحنوط کروا کے بڑے پجاری نے اصل مخطوطہ اور چھوٹے پجاریوں نے اسکی چھوٹی چھوٹی مورتیاں بنا کر گھروں میں سونے کے بنے طاقچوں میں سجا لی۔ اور یوں الکپونی ڈاکٹرائن امر کردیا گیا۔

اعظم معراج ریئل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں کئی کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کاکاروبار” ،شناخت نامہ،شان سبز وسفید اور دھرتی جائے کیوں پرائے ،نمایاں ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *