الوداع ۔۔۔ جابر ریان

محبت ہوتی ہے یا کی جاتی ہے۔ یہ تو مجھے نہیں معلوم۔ مگر لیلیٰ سے الفت شاید اسی روز پیدا ہوگئی تھی جب اس نے میسنی سی صورت بناکر کہا “جابر! میں نے آج تختی پر گاچی نہیں پھیری۔ ماشٹر جی سزا دیں گے۔ تو اپنی تختی مجھے دے دے”۔
“اچھا بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟”۔ اس وقت جسمانی خواہشوں کا تو ادراک نہیں تھا مگر اتنی عقل ضرور تھی کہ یہ سودے کا موقع ہے۔ “ایک شرط پر تختی دوں گا۔ تو میرے لیے نہر سے تین سرکنڈے توڑ کر لائے گی”۔ میں نے اپنی طرف سے بہت بڑی شرط رکھی جو اس کملی نے جھٹ پٹ قبول کرلی۔ لیلیٰ کے حصے کی سزا مجھے ملی اور ماسٹر صاحب نے دھوپ میں کان پکڑا کر عالَم کو میرے اوپر بٹھادیا۔ وہ بھی خرمستی میں چپکا نہیں بیٹھا بلکہ مسلسل ہلتا جلتا رہا۔ جس کی وجہ سے میں بار بار گرجاتا اور پھر اٹھ کر کان پکڑتا۔

“یہ لے جابر! دیکھ تیرے لیے کتنے اچھے کانے توڑ کر لائی ہوں”۔ لیلیٰ نے حسبِ وعدہ میری شرط پوری کردی۔ “اور یہ لے۔ کالا دانہ اور پھوس بھی لائی ہوں۔ ایک مہینے تک شیاہی بھی ختم نہیں ہوگی۔ میں بھی تجھ سے ہی لے لیا کروں گی”۔ اس کی آواز سے جوش امڈرہا تھا۔ مگر پھر وہ اچانک افسردہ ہوگئی اور مسمسے لہجے میں کہا “جابر! تجھے میری وجہ سے سزا ملی نا؟۔ مجھے بہت دکھ ہوا”۔
میری ٹانگیں صبح پورا ایک گھنٹہ کان پکڑنے کی وجہ سے اب تک کانپ رہی تھیں۔ مگر میں نے ہمت مجتمع کرکے ہشاش بشاش لہجے میں کہا “ارے نہیں پگلی! ہم تیری طرح چھوئی موئی نہیں جو اتنی سی سزا سے ہمت ہاردیں”۔ کہنے کو تو میں کہہ گیا مگر میرے لہجے نے دغا کردی اور لیلیٰ کے بشرے سے اندازہ ہوگیا کہ اسے بھی میرے جھوٹ کا علم ہوگیا ہے۔

پھر تو اس کا معمول ہی بن گیا۔ روز کسی بہانے سے آجاتی اور دیر تک میرے کان کھاتی۔ “جابر! قلم تو تراش دے۔ دیکھ کیسا گھس گیا ہے۔ میں اس سے حقے والی ح لکھتی ہوں مگر دو چشمی ھ لکھی جاتی ہے۔ ذرا اس کیا قط تو ٹھیک کردے”۔
“تو لکھنا پڑھنا چھوڑ کمہار کی بچی اور حقے ہی بنایا کر”۔ عالم نے اسے چھیڑا۔
“ہاں ہاں! حقے بھی بناؤں گی، ہنڈیا بھی اور مٹکے بھی۔ اور دیکھنا عالی کے بچے! میرے ہاتھ کے برتن شہروں میں بکا کریں گے”۔ لیلیٰ نے تنک کر جواب دیا۔ “میرے ابے نے ابھی سے مجھے مٹی گوندھنا سکھادیا ہے۔ ایک دن اس سے ہنڈیا بھی بناؤں گی۔ پھر دیکھنا تمہاری لگائیاں ضد کیا کریں گی کہ ہمارے لیے لیلیٰ کے ہاتھ کی بنی ہنڈیا لاؤ۔ ہم تو اسی میں کھانا پکائیں گی”۔
“پکانے والے ہاتھ بھی لیلیٰ کے ہوں تو ہم یہ طعنہ سننے سے بچ جائیں گے”۔ میں نے بے دھیانی میں کہا۔ نہ مجھے اندازہ ہوا کہ کیا کہدیا اور نہ لیلیٰ کو خبر ہوئی کہ وقت ایک دم آگے بڑھ گیا ہے۔ آج یہ جملہ یاد آتا ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ بے خبری میں کتنی بڑی بات کہہ گیا تھا۔ شاید لیلیٰ بھی اس کا مطلب سمجھ گئی ہوگی اور جانے کیا سوچتی ہوگی۔ یا پھر ایک بچے کی بڑ سمجھ کر بھول چکی ہوگی۔

“جابر! سنا ہے تم تینوں شہر جارہے ہو؟”۔ میں نے پہلی بار بانس کا قلم بنایا تھا اور چاقو سے اس کی نوک درست کررہا تھا۔ اسی اثناء میں لیلیٰ آدھمکی اور افسردگی سے سوال کیا۔ میں نے چاقو جیب میں رکھا اور اثبات میں جواب دیا تو کھٹاک سے اگلا سوال آیا “پھر میں اکیلی کیا کروں گی؟۔ مجھ سے قلم بھی نہیں بنتا۔ خوشخطی بھی نہیں ہوتی۔ ابا تو مجھے برتن بنانے پر لگادے گا”۔ لیلیٰ نے اپنے اندیشوں کا اظہار کیا۔ “تو رک جا۔ انہیں جانے دے۔ تو یہیں پڑھ لے”۔ آخر میں اس نے اپنا مطالبہ رکھا اور بیم و یاس کی کیفیت میں جگ مگ کرتی آنکھیں مجھ پر مرکوز کردیں۔
“نہیں لیلیٰ! ابو نے کراچی میں گھر بنالیا۔ اب وہ چاہتا ہے کہ سب اس کے ساتھ رہیں”۔ مجھے نہ تو اپنے لہجے کی کرختگی کا احساس ہوا اور نہ ہی لیلیٰ کی آنکھوں کے بجھتے چراغ دکھائی دیے۔ کاش اس وقت میں جھوٹ بول دیتا یا کوئی بہانہ ہی کردیتا۔

چار تانگوں میں ہم گاؤں سے نکل رہے تھے۔ ایک میں عالم کے گھر والے تھے۔ ایک میں کبیر کے گھر والے اور ایک میں میرے۔ چوتھے تانگے میں لیلیٰ اپنے ابے کے ساتھ ہمیں جڑانوالہ جانے والی ویگن میں بٹھانے کے لیے ضد کرکے سوار ہوگئی تھی۔ بغیر کنگھی کیے بال، چہرے پر اداسی کا ڈیرہ، آنکھوں میں ناراضگی، دکھ، افسوس اور حسرت۔ کون سی کیفیت تھی جس کا لیلیٰ شکار نہیں تھی۔ اسٹاپ پر پہنچے اور سامان ویگن میں رکھا تو لیلیٰ ہمارے قریب آکر کھڑی ہوگئی۔ خاموش سمندر کی مانند جس کے سینے میں ہزارہا طوفان مقید ہوں۔ آنکھوں میں نمی جو کسی بھی وقت سیلاب بننے کو تیار۔ عالم کی نگاہ پڑی تو اس نے پوچھا “او کمہارن! تو کیوں رو رہی ہے؟۔ شہر تو ہم جارہے ہیں۔ تو تو یہیں رہے گی۔ مزے سے کیریاں کھائے گی۔ نہر میں ٹبیاں مارے گی۔ باندر کلا کھیلے گی”۔
“لیکن میں اکیلی خوش کیسے رہوں گی؟”۔ لیلیٰ نے عالم سے سوال کیا مگر نگاہیں مجھ پر رکھیں۔ اس کے سوال کا جواب نہ عالم سے دیا گیا اور نہ مجھ سے۔ ہم خاموشی سے ویگن میں بیٹھ گئے۔ ملنا ملانا پورا ہوا۔ سب سوار ہوگئے۔ لیلی اپنے ابا کے ساتھ وہیں رہ گئی۔ ویگن چلی۔ میں نے کھڑکی سے جھانک کر ہاتھ ہلایا تو لیلیٰ کے لب ذرا سے کپکپائے۔ شاید اس نے الوداع کہا ہوگا۔ آنکھوں سے موتی برسے۔ شاید اس نے الوداع کہا ہوگا۔ سانس ذرا سی تیز ہوئی۔ شاید اس نے الوداع کہا ہوگا۔ ہاتھوں میں لرزش ہوئی۔ شاید اس نے الوداع کہا ہوگا۔ اور پھر اچانک وہ جوار بھاٹا کی مانند اپنی جگہ سے ہلی اور ویگن کے ساتھ دوڑتے دوڑتے کہا “کبھی کبھی ملنے تو آیا کرے گا نا؟۔ میں تیرا انتظار کروں گی جابر!”۔ ویگن نے رفتار پکڑلی۔ لیلیٰ ویگن کی رفتار سے ہارگئی اور میں شاید لیلیٰ ہارگیا۔ کتنا بدبخت تھا میں کہ اس سے واپسی کا وعدہ بھی نہ کرسکا۔ کتنا بدنصیب تھا میں کہ اسے الوداع بھی نہ کہہ سکا۔۔۔۔۔۔۔

(ایک بوسیدہ ڈائری کا گم شدہ ورق)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *