اقتدار کا نشہ۔۔۔۔۔عزیزخان

کُرسی اور اقتدار کا نشہ بھی بڑا عجیب ہے، اس نشے  سے زیادہ طاقتور  شاید ہی کوئی نشہ ہو ۔۔۔ اس نشے  میں بھائی نے بھائی کو قتل کیا ،بیٹے نے باپ سے بغاوت کی، میر جعفر نے غداری کی ،اس دوڑ میں دکن کا صادق کیسے پیچھے رہتا، غرض تاریخ بھری پڑی ہے ایسے واقعات اور حادثات سے۔

اس نشے  کی خاطر بھٹو جیسا لیڈر اپنے نشے  میں جنرل ضیا کے نشہ کی بھینٹ چڑھ گیا۔

بینظیر بھٹو پتہ نہیں کس کے نشہ کا شکار ہوئی؟ آج تک معلوم نہ ہوا، کوئی اپنا تھا یا غیر تھا؟

نواز شریف نے اقتدار کے نشہ میں پرویز مشرف کو شکار کرنے کی کوشش کی اور خود اپنے نشے  کا شکار ہو گیا۔

نواز شریف وہ واحد بدقسمت سیاستدان حکمران ہے جو دوسری دفعہ بھی اپنے نشے  کا شکار ہوااور اپنی بیٹی کے ساتھ کرپشن میں سزا یاب ہوا اور جیل گیا اور اب اقتدار کے نشے  کی خاطر مارا مارا پھر رہا ہے۔جس خاندان کی یکجہتی کو کوئی نہ توڑ سکا ،اقتدار کی ہوس اور نشے  نے توڑ دیا، نواز شریف جیل اور شہباز شریف لندن میں بیٹھا ہے، اور جو بھائی نواز شریف کی طرف آنکھ اُٹھا کے بھی نہیں دیکھتا تھا ائیرپورٹ تک نہ پہنچ  سکا ۔

ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی شاید آپ دوستوں کو آجائے اقتدار پہ یا کُرسی پر رہتے ہوئے لوگوں کی شکل پر عجیب سا نکھار ہوتا ہے، گالوں کی سُرخیاں اور چال ڈھال بتا رہی ہوتی ہے کہ صاحب آج کل اقتدار میں ہیں یا بہُت اچھی پوسٹنگ ہے ان کے پاس ۔
ان کے آگے پیچھے پولیس کی گاڑیاں چل رہی ہوتی ہیں، کئی کئی گن مین جیسے سب سے زیادہ خطرہ ان کی ذات کو ہے۔۔۔اور جب یہی لوگ اقتدار میں نہیں ہوتے تو ان کی شکل پر عجیب سی اداسی چھائی ہوئی ہوتی ہے، یتیمی برس رہی ہوتی ہے، نہ سوٹ نہ بوٹ ،کوئی گن مین بھی نہیں کوئی پولیس وین بھی نہیں اور نہ ہی جان کو کوئی خطرہ۔

پچھلے دنوں ایک تصویر نظر سے گزری جس میں ن لیگ کے سابقہ وزیر اعظم کے ساتھ ن لیگ کی ٹاپ لیڈر شپ بغیر کسی پرٹوکول کے اور سکیورٹی کے اپنے خرچہ پہ ایک ہوٹل میں چائے پی رہی تھی اقتدار میں ہوتے تو ان کی جان کو بھی خطرہ ہوتا اور شاید وہ اس ہوٹل میں بھی نہ آتے۔۔اور  بیچارگی اور مایوسی چہرے سے صاف  عیاں تھی۔

اچھی پوسٹنگ کا ادراک مجھے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں رہتے ہوئے بھی ہوا جب میں نے اپنے  ایس ایس پی  کو کہتے سُنا تھا کہ آپ یہ کام کر لو تو آپ کو اچھی پوسٹنگ دوں گا اور یہ اچھی پوسٹنگ کیا ہوتی تھی آپ سب جانتے ہیں۔

وزرا میں بھی اچھی اور بُری وزارتیں ہوتی ہیں اچھی وزرات کا مطلب جہاں اختیارات زیادہ ہوں، جہاں آپ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنا سکتے ہیں۔
اچھی وزارت پہلے سے ریزرو ہوتی ہے، جو جتنا لیڈر کے قریب ہو گا اُتنی اچھی وزارت ملے گی اور اچھی وزرات ہمیشہ کماؤ پوت کو ملتی ہے، جو خود بھی کھائے اور لیڈر کو بھی کھلائے، خاص طور پر یہ بات آپ کو اُس وقت نظر آئے گی جب حکومت کمزور ہو اور ایم کیو ایم اور ق لیگ جیسی پارٹیاں اچھی وزرات مانگ رہی ہوں۔

رحیم یارخان ضلع میں بطور پولیس افسر سیاستدانوں سے بڑ ے اچھے تعلقات رہے مگر کوئی بھی میری (اچھی )پوسٹنگ کیلئےایس ایس پی کو سفارش نہیں کرتا تھا وجہ مجھے معلوم نہیں۔۔اور چند ایک ایس ایس پی صاحبان کو چھوڑ کر سب ہی سفارش پہ پوسٹنگ کرتے تھے۔

یہ سیاستدان جب اقتدار میں نہ ہوں تو بہُت polite ہوتے ہیں اپنے متعلقہ ایس ایچ اوکی خدمت اور خوشامند کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، اپنے دولت کدہ پر دعوت دیتے ہوئے اچھے سے اچھے کھانے اور خود ڈش اٹھا کے  پیش کر رہے ہوتے ہیں ،جس کا مجھے بھی کئی دفعہ اتفاق ہوا اور جب وہی سیاستدان اقتدار میں آتا ہے اور وزیر بنتا ہے تو وہ پہچاننے سے بھی انکاری ہوتا ہے اس کا بھی مجھے تجربہ ہوا

پاکستان کی سیاست خاص طور پر دیہی علاقے  کی سیاست صرف ایس ایچ او ،پٹواری،ڈی ایس پی اور تحصیلدار لیول کی ہوتی ہے۔ایم پی اے  کو دو باتوں سے غرض ہوتی ہے کہ ایس ایچ او ر ڈی ایس پی ان کی مرضی کا ہو، پٹواری اور تحصیلدار ان کی مرضی کا ہو، کیونکہ جب یہ ان کی مرضی کے  ہوں گے تو کوئی فکر نہیں ،سب اچھا ہوتا ہے۔

شہباز شریف کے دور ِ اقتدار میں پالیسی تھی کہ ڈی ایس پی کی پوسٹنگ کیلئے ضروری تھا کہ حلقہ کاایم این اے اور دوایم پی اے وزیر اعلیٰ کو سفارش کرتے تھے توڈی ایس پی کی اچھی پوسٹنگ ہوتی تھی اور جو ڈی ایس پی اپنی پوسٹنگ اس منت اور خوشامند سے کروائے  گا وہ زیربار ڈی ایس پی کیا انصاف کرے گا؟؟
جس ڈی ایس پی کی سفارش نہیں اُس کی اچھی اور مرضی کی پوسٹنگ نہیں ہو سکتی تھی۔

آج کل بھی وہی پالیسی چل رہی ہے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔۔

اکثر سیاستدانوں کو یہ بھی کہتے سُنا کہ عوام کی خدمت کا جذبہ لے کہ سیاست میں آئےہیں مگر وہ جذبہ اور خدمت کیا ہوتی ہے، سب کو معلوم ہے۔

وزارت سے لیکر اہم عہدوں کا  لالچ اور اقتدار کی ہوس کی دوڑ چل رہی ہوتی ہے اور جب اپنی مرضی کی کرُسی اور اقتدار مل جائے تو پھر جو اطمینان ،اکڑ اور چہرہ پہ لالی نظر آتی ہے تو اس کی خاطر تو جان بھی دی جا سکتی ہے۔
سیاست نہ تو خدمت ہے نہ عبادت ،صرف ہوسِ  اقتدار ہے، جس میں اختیارات اور دولت تو ہے مگر عزت نام کی کوئی چیز نہیں۔
عزت تو آنی جانی چیز ہے، عزت تو نیلام ہوتی ہے میڈیا پہ ،سوشل میڈیا پہ، مگر اقتدار کا نشہ ہی ایسا ہے کہ نہ تو ماں ،بہن ،بیوی اور خاندان کی عزت نظر آتی ہے نہ ہی جذبہ حُب لوطنی بس نظر آتا ہے تو اقتدار کا نشہ اور ہوس    اور اب کِس کا نشہ کس کو شکار کرے گا اللّٰہ جانتا ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *