وطن کی مٹی گواہ رہنا (کیپٹن منیب خٹک شہید)۔۔۔رائد ضرار

کیپٹن منیب احمد خٹک ولد سعید احمد (مرحوم) 21 مارچ 1983ء کو پیدا ہوئے سرفراز پبلک سکول سے انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی گورنمنٹ ہائی سکول بوگرہ سے میٹرک پاس کیا اور سکول بھر میں اوّل رہے۔ اس کے بعد ایف جی کالج واہ کینٹ (ٹیکسلا) سے ایف ایس سی پری انجینئرنگ کی، انٹرمیڈیٹ کے بعد آپ نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں الیکٹریکل ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا ۔چار بھائیوں اور پانچ بہنوں میں آپ سب سے چھوٹے تھے کیپٹن منیب جب پانچ سال کے تھے ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ منیب احمد نے 2003ء میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور 2005ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی  کاکول سے بطور کمپنی سارجنٹ میجر (سی ایس ایم)، صلاح الدین کمپنی سے پاس آؤٹ کیا ان کا تقرر 20 اے- کے (آزاد کشمیر) رجمنٹ میں ہوا اور اس کے بعد مستقل طور پر انہیں 10 این ایل آئی (نادرن لائٹ انفنٹری) میں بھیج دیا گیا ۔کیپٹن منیب نے بطور ایڈجوائنٹ اور کوارٹر ماسٹر کے یونٹ میں اپنی خدمات انجام دیں ۔آپ افسران اور فوجی جوانوں میں یکساں طور پر مقبول تھے جسکی وجہ کیپٹن منیب کا سادہ، منکسرالمزاج ہونا تھا ،شہید کیپٹن منیب کو ان کے قریبی عزیز اور ساتھی “ملنگ” کہہ کر پکارتے تھے ۔آپ لمبی قامت اور مضبوط جسامت کے مالک تھے ۔والی بال کے بہت اچھے سمیشر اور کرکٹ کے بہترین آل راؤنڈر تھے- جہاں وہ ایک طرف منکسرالمزاج (شائستہ اطوار کے حامل) انسان تھے، وہیں ایک بہترین جنگجو بھی تھے۔

مئی 2008ء 10 این ایل آئی کو وانا (جنوبی وزیرستان ایجنسی) جانے کے احکامات ملے اس دشوار گزار علاقے میں آپریشن کے دوران کیپٹن منیب نے ہمت بہادری اور ذہانت سے کئی مشن کامیابی سے مکمل کیے۔ مئی 2009ء میں، کیپٹن منیب اپنی یونٹ 10 این ایل آئی کے کیو آر ایف (کوئیک ری ایکشن فورس) کے ساتھ بطور ٹُو آئی سی (سیکنڈ ان کمانڈ) اپنے فرائض ادا کر رہے تھےاس فورس کے ذمے تنائی ژوب روڈ پر واقع سپن کالے نامی گاؤں کے ذریعے فوجی کانوائے کو محفوظ راستہ فراہم کرنا تھا 9 مئی کو کانوائے کو محفوظ راستہ دیتے ہوئے منزل پہنچے ٹاسک مکمل کرنے بعد واپسی پر تنائی ژوب روڈ پر گھات لگائے دہشتگردوں نے اچانک فوجی کانوائے پر چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے اندھا دھن فائرنگ شروع کردی فوجی کانوائے میں کیپٹن منیب سمیت دو افسران اور 16جوان تھے جن میں کیپٹن منیب اور دوسرا آرٹلری آبزرور شامل تھے کیپٹن منیب نے اور ان کے ساتھیوں نے دفاعی پوزیشنیں سنبھال لیں، اسکے بعد کیپٹن منیب نے ہیڈکوارٹرکو تمام صورتحال سے آگاہ کیا ،اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ دہشتگردوں پر بھرپور جوابی حملہ کیا ،کوئیک ری ایکشن فورس کے جوابی حملے نے دہشتگردوں کے پاؤں اکھاڑ دئیے ،عسکریت پسندوں کو اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر بھاگنے میں عافیت سمجھی، اسی دوران کیپٹن منیب نے دو عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا اور کور فائر لیتے ہوئے اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ دہشتگردوں کا پیچھے بھاگے، کیپٹن منیب اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعاقب کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے پر پہنچ گئے۔ ایک عسکریت پسند جو گارڈ ڈیوٹی پر موجود تھا فوجیوں کو دیکھتے ہی ان پر فائر کھول دیا کیپٹن منیب کو گولیاں لگیں اور ایک راکٹ لانچر کیپٹن منیب کے بالکل پاس پھٹا جس سے وہ زخمی ہوئے،کیپٹن منیب کے دو ساتھی انہیں بچانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھے لیکن شدید فائرنگ کے نیتجے میں دونوں زخمی ہوئے لیکن دونوں جوانوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنے کمانڈر کو محفوظ جگہ لائے اور ابتدائی طبی امداد دینے لگے لیکن زخموں سے زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے کیپٹن منیب شہید ہو گئے۔

اسی اثناء میں باقی جوان بھی پہنچ گئے اپنے کمانڈر کی شہادت نے باقی جوانوں کو جہاں افسردہ کیا وہیں ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے کیپٹن منیب کے سیکنڈ ان کمانڈ نے جوانوں کو دوبارہ سے منظم کیا اور دہشگردوں پر فیصلہ کن حملہ کیا اور فیصلہ کیا وہ اپنے کمانڈر کی شہادت کا بدلہ لیکر چھوڑیں گے اور عسکریت پسندوں کا خاتمہ کرکے رہیں گے 17 جوانوں میں جن میں چند زخمی تھے عسکریت پسندوں پر بھرپور حملہ کیا اور اللہ کی مہربانی سے دو گھنٹوں کی شدید لڑائی میں دہشتگردوں کا صفایا کرکے علاقے کو محفوظ بنایا ۔اس معرکے میں کوئیک ری ایکشن فورس کے 18 جوانوں نے 42 دہشتگردوں کو ہلاک کیا جبکہ کیپٹن منیب احمد شہید اور 3 جوان زخمی ہوئے،تازہ کمک آنے کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر مزید کاروائی شروع کی اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانے سے جہادی لٹریچر،رابطے کے آلات عسکریت پسندوں کے نقل و حمل میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور اسلحے اور بارودی مواد کا ذخیرہ تباہ کیا۔

کیپٹن منیب احمد خٹک نے پاک فوج کی روایات کو قائم رکھتے ہوئے اپنے جوانوں کو فرنٹ سے لیڈ کیا اور مشکل صورتحال میں ہوش و حواس قائم رکھتے ہوئے بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنایا اور ان کا صفایا کیا کیپٹن منیب احمد کی بہادری کے اعتراف میں انہیں ستارہ بسالت سے نوازا اللہ شہید کیپٹن منیب احمد کے درجات بلند فرمائے اور پاکستان کو شہیدوں کے قربانیوں کے طفیل امن عطا فرمائے آمین۔

رائدضرار
رائدضرار
بلھا کی جاناں میں کون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *