صحافت کی مِیرا سے ایک گزارش۔۔۔روبینہ فیصل

جی ،وہی مِیرا ، انگریزی والی ۔ ۔ میرا دوست سمجھ رہا تھا کہ میں اُس سنسنی صحافی کو شاعر میرا جی سے ملا رہی ہوں ۔ ۔ اس کی تصحیح کی تو  ایک سنئیر صحافی نے کہا اس غدار کو میرا بچاری سے کیوں ملا رہی ہو ، میرا توغدار نہیں ۔ ۔ ۔ میں نے کہا میں اُس صحافی کو بھی غدار کہا ں کہہ رہی ہوں ، میری یہ مجال کہ میں یہ ٹائٹل بانٹتی پھروں اور اُس کی یہ اوقات کہ وہ یہ ٹائٹل وصول کرے ،کیونکہ اس لفظ کی تاریخ ، ہمارے ملک کی ڈانواڈول تاریخ میں ، جہاں ایک سے بڑھ کر ایک با بصیرت اور باتدبیر بیور کریٹ ، فوجی یا سیاستدان نے راج کیا ہے وہاں اس لفظ غدار کو ایساہی مس یوز کیا گیا ہے کہ وہ بھی ایک اعزاز بن گیا ہے ۔ ۔ جسے غدار کہا جاتا ہے ، وہی خود کو محترمہ فاطمہ جناح سمجھنا اور مشہور کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ ۔ حالانکہ دیکھا جائے تو ماضی میں جنہیں غدار کہا گیا وہ سارے ہی فاطمہ جناح کی طرح بے قصور نہ تھے کئی سچ میں غدار تھے اور میں آج تک حیران ہوں کہ انہیں ملک توڑنے کے لیے  اتنی ڈھیل دی ہی کیوں گئی ۔ ۔ اگر اندرا گاندھی ، گولڈن ٹیمپل میں گھس کر علیحدگی پسند سکھوں کاقلع قمع نہ کر دیتیں تو آج بنگلہ دیش کے ساتھ ایک خالصتان بھی دنیا کے نقشے پر جگمگا رہا ہوتا اور وہاں بھی سکھ حضرات ، بنگالیوں کی طرح زیادہ آزاد ، زیادہ پرسکون زندگی گزار رہے ہو تے ۔ مگر اندراگاندھی نے ہندوستان سے الگ ہونے کی خواہش کو ، غداری کہا ، سمجھا اور اسی حساب سے اس کا خاطر خواہ علاج کیا ۔

ہم نے پاکستان کے غدار مجیب الرحمن کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور آج اس کی بیٹی ہمارے منہ پر تھپڑ مارتے ہو ئے کہتی ہے کہ تم لوگ جو سمجھ رہے تھے ، میرا باپ وہی تھا ۔ ۔ کیونکہ آج وہ یہ اقرار کرتی ہے تو بنگالیوں کا ہیرو مجیب الرحمن بنتا ہے ۔ تحریک کامیاب ہو جائے تو غدار، ہیرو بن جاتے ہیں ۔ لیکن کیا اگر تلہ سازش محض ایک واہمہ تھا۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں ، یہ آزادی نہیں کہ علیحدگی پسندوں کو اتنا چوڑا کیا جائے کہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر علیحدگی کی باتیں بغیر کسی خوف کے کرتے جائیں اور ہمارے ان صحافیوں جیسے ہلہ شیری کے ماہر ین ان کو بلا بلا کر یہ موقع دیں کہ وہ پاکستان کے اداروں کے خلاف بک بک کریں اور یہ بڑی بڑی مونچھوں تلے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا دبا کر مزے لیں ۔ کیا ایسا دنیا میں کہیں بھی ممکن ہے ؟حتی کہ امریکہ یا کینیڈا میں بھی نہیں ۔ ۔

صحافت کی آزادی کا یہ عالم ہے کہ کینیڈا جیسے ملک میں بیٹھ کر بھی   میں کسی ایسے پرو جیکٹ ، کسی ڈرامے میں کینیڈا کی کوئی ایسی چیز دکھائیں جس سے یہاں کا امیج خراب ہو ۔ ۔ گورنمنٹ فنڈنگ ملنا مشکل یا ناممکن ہو جاتا ہے ۔ ۔ تو اب آپ بتائیے آزادی صحافت کے نام پر پاکستان میں سنسنی خیزی اور ڈرامے بازیوں کا جو رحجان چل رہا ہے وہ سوائے ایک اور جہالت کے کیا ہے۔ جتنا پاکستان کا میڈیا اپنے ہی ملک کی ایک ایک خامی کو ، کمزوری کو جی بھر کر اچھالتا ہے اتنا کسی اور ملک کا میڈیا کرتا ہے تو میرے علم میں اضافے کے لیے مجھے بتایا جائے ۔ ۔ ۔

دوسرے ملکوں میں بیٹھے بلوچ لیڈراور ہمارے آپکے دلارے الطاف بھائی ، کیا کیا نہیں ملک کے ہی خلاف پاکستان کے مین میڈیا میں کہتے رہے ۔ ۔ کیا یہ آزادی کسی اور ملک کے انتشار پسندوں اور دہشت گردوں کو ملتی ہے؟

یہ تو تھی غداروں کی بات اور ان کے علاج معالجے کی ۔ ۔ میں اس صاحب کو یا ان جیسے دوسروں کو غدار بھی نہیں کہوں گی وجہ اوپر تفصیل سے سمجھا چکی ہوں ۔ ۔ اس کا فیصلہ ان لوگوں کے ضمیروں پر یا ضمیروں کی عدم موجودگی یا فوتگی کی صورت میں خدا یا وقت پر چھوڑ دیا جائے تو ہم کافی ساری مغز ماری سے بچ جائیں گے ۔

پاکستان میں صحافت اور جمہوریت ،اسلام کی طرح ہر وقت خطرے میں رہتی ہیں ۔ انہی میرا صحافی کو زرداری جیسے ملزم کو دانت نکال نکال کر انٹرویو کرنے پر مذمت یا روکا جائے ،ریاست کی بقا کے لیے  کچھ موضوعات پر زبان کو حد میں رکھنے کو کہا جائے ، عدالت میں چلنے والے کیس کے ملزموں کو ٹی وی پر بلا بلا کر اپنا موقف بیان کرنے اور رائے عامہ کو اپنی مرضی کے حساب سے موڑنے پر کوئی پیمرا مداخلت کر دے تو صحافت خطرے میں ،اسی طرح کرپشن اور کرپٹ لیڈروں کے احتساب کی بات آئے تو جمہوریت خطرے میں ۔ ۔

ننھا بلاول اپنی اور اپنی بہنوں کے ابو کو بچانے، اور ان ہی کی ہم عمر ننھی مریم اپنے اور اپنے بھائیوں کے ابو کو بچانے کے لیے جو اچھل کود کر رہے ہیں ( پاکستان کوئی تیس سالوں سے امیروں کے بچوں کی گیند ہی تو ہے جو وہ ایک دوسرے کی طرف اچھال اچھال کر اپنی اپنی باری لیا کرتے تھے ) ، یہ گیند اتفاق سے اب کسی اور کے ہاتھ آگئی  ہے ، اور ایسا ہو تے ہی جمہوریت اورصحافت ، دونوں خطرے میں آگئی ہیں ۔ ۔

بات صحافت کی مِیرا کی ہو رہی تھی ۔ ۔ جو ہر دوسرے دن ایک نئی سنسنی کے ساتھ میدان میں آتی ہے ۔ خبروں میں رہنے کا شوق میرا کو بھی ہے اور ایسے صحافیوں کو عمومی اور اُس صحافی کو خصوصی جس کے نام کا آخری حصہ بھی اسی میرا ہی کی یاد دلاتا ہے ۔

مریم نواز اور صفدر کی شادی کی کہانی انہی کی زبانی ، بے نظیر کی زرداری والی وصیت کے امین ، پھر جنگلوں بیابانوں سے ڈھونڈ کر ، جہاں امریکہ کی سی آئی اے بھی نہ پہنچ سکی ،اسامہ بن لادن کا انٹرویو کرنے والے ، ملالہ کی بی بی سی میں لکھی گئی ڈائری کی خبر تک سب سے پہلے پہنچنے والے ، ملک سے بھاگے بلوچ لیڈروں کو اپنے شو میں ،جو منہ میں آئے کہنے کی اجازت دینے والے ، تہلکہ مچانے کے ماہر ۔ ۔ جنگ کے دفتر پر مشرف حکومت کے حملے پر سب سے زیادہ اداکاری کے نمبر حاصل کرنے والے اورآئی ایس آئی کے نکموں کا نشانہ جس عظیم صحافی پر چوک جائے ، وہ یہی صحافت کی مِیرا صاحب ہی تو ہیں ۔ ۔

اداکارہ میرا ، ایک حد سے زیادہ پُر عزم خاتون ہین، اداکاری کا زمانہ جب لد گیا تو پھر خبروں میں رہنے کے لیے کبھی میرا برینڈڈ انگریزی لانچ ہو نے لگی اور کبھی اخلاق سے گری ہو ٹل کے کمروں کی نیلی پیلی ویڈیوز ریلیز ہو نے لگیں اورکبھی ایک سے زیادہ شوہر نمودار ہو نے لگے ۔ ۔ مقصد ایک ہی تھا کہ شہرت کو چار چاند لگے رہیں چاہے وہ گہنائے ہو ئے ہی کیوں نہ ہوں ۔ ۔ یہ صرف میرا یا اس میر صاحب کی خصلت نہیں ، یہ ہر حد سے بڑھے نرگسیت کا شکار لوگوں کی پرابلم ہو تی ہے کہ گفتگو کا مرکز ان کی ذات ہو نی چاہیے چاہے گفتگو کتنی ہی منفی   کیوں نہ ہو ۔ ۔

اسی لیے یہ گھنی مونچھوں والے صحافی ، اسی لے باقی تمام ، ترقی کی خاطر شارٹ کٹ مارنے والے صحافیوں سے زیادہ نمایاں رہتے ہیں کہ ان میں اضافی علت یہ ہے کہ انہیں سنسنی پھیلانے ، خود کو نمایاں کرنے اور ملک میں چلنے والی ہر چھوٹی بڑی لڑائی میں ، ہیرو سے کم کا کردار نہیں چاہیے ہوتا ۔ ان کی تازہ تازہ ویڈیو ، وٹس ایپ پر کسی کرم فرما نے بھیجی تو ، دیکھ سن کر یقین نہ آیا کہ یہ کالمنسٹ ، یہ اینکر پرسن ، لاکھوں میں تنخواہیں لیتے ہیں۔ ان کا مینٹل لیول کیا ہے۔۔۔ اور بات کرنے کا طریقہ کیا ہے ۔ کیا پاکستان کی نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت ، رہنمائی کر نے والی دانش کا یہ عالم ہے  مین سٹریم اخباروں اور چینل والوں نے اس ملک کی باگ دوڑ کن مداریوں کے ہاتھ پکڑا رکھی ہے ۔

زرداری یا شریف خاندان نے نہ صرف اپنی نایاب نسل ، پاکستان کی نسلوں پر مسلط کی ہے بلکہ اپنے سطحی پن اور ذاتی مفادات کی خاطر ایسے لوگ ، دانشوری ، صحافت اور ادب کے نام پر پاکستان کے نوجوانوں پر مسلط کر دئیے ہیں ۔ اب کوئی چاکا نہیں لڑائی کھل کر ہو گی ۔ ۔  میں تو اس ٹپوری پن کے صدقے دن میں دس مرتبہ ہو چکی ہوں ۔ ۔ ۔ سیاست ، اور سیاستدان ایک دوسرے پر گند اچھالتے ہیں ، ہونا تو وہ بھی نہیں چاہیے مگر ان کے سٹیک دیکھ کر رعایت دی جا سکتی ہے کہ سیاست کا میدان ہی کچھ اور ہے مگر صحافت میں ایسا ٹپوری پن ۔ ۔ اور وہ بھی تب جب آ زادی صحافت پر نہیں بلکہ صرف اور صرف آپ کے ذاتی مفادات پر ضرب لگی ہو ۔ ۔ ۔

قوم کو چاہیے اپنی ذاتی جنگ لڑنے والوں کو ، چاہے وہ سیاستدان ہیں چاہے یہ زرد صحافی یہ تنبیہ کر دے کہ اپنی ذات اور انا کی لڑائی میں ہمارا نام نہ لیا جائے ۔ ۔ ہم نے جب اٹھنا ہو گا تو سب سے پہلے آپ لوگوں کے خلاف ہی اٹھیں گے ۔ ۔ ابھی   ہمیں سکون سے سونے دیا جائے ۔ ہمارا نام بار بار استعمال کر کے ہمیں اور خود کو اپنی اپنی نظروں میں نہ گرا یا جائے ۔ ۔ ۔ ۔

عین نوازش ہو گی ۔

 

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *