تیزاب گردی۔۔ ایک تاریخی فیصلہ۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

رب کائنات نے انسان کو احسن التقویم کا درجہ دے کر پیدا فرمایا۔ اس کائنات میں شاید کروڑوں نہیں ارب ہا مختلف انواع و اقسام کے جانور موجود ہیں ۔جن میں سے بہت سوں کو رکائنات نے بہت حسن بھی دے رکھا ہےکہ ایک دفعہ دیکھنے سے ہی دل باغ باغ ہوجائے۔ لیکن جو حسن، جو رعنائی، جو دلکشی اور جو خوبصورتی خدائے بزرگ و برتر نے انسان کو عطا فرمائی ہے اس کی کائنات میں مثال ملنا ممکن نہیں۔ کسی بھی انسان کی شناخت کے لئے عموماً ہم نام کا استعمال کرتے ہیں، لیکن در حقیقت انسان کی پہچان کا حتمی حوالہ اس کا چہرہ اس کی شکل و صورت ہے۔ رب کائنات نے انسانی خدوخال میں ایک بہترین تناسب، دلکشی، حسن اور رعنائی رکھی ہے جو کسی اور مخلوق کا خاصا نہیں۔ اتنی خوبصورت شکل و صورت عطا فرمانے کے بعد اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ اس مٹی کی مورت کو اشرف المخلوقات بھی قرار دیا گیا۔ ساری کائنات ایک مخلوق کی اگے مسخر کردی گئی۔ اسے وسعتِ افلاک سے لے کر زمین کی تہوں کی گہرائیوں تک ہر ایک مظہرِ کائنات کی تسخیر کی کنجی دے کر مخلوقات میں سب سے اعلیٰ اور افضل قرار دے دیا۔

لیکن افسوس کہ جب یہ اشرف المخلوقات رب کائنات کی طرف سے عطا کیے گئے اپنے منصب کے تقاضوں سے روگردانی کرتا ہے تو ایسی ایسی نیچ اور ارزل حرکتوں کا مرتکب ہوتا ہے۔ کہ جن کا محض تصور کر کے ہی روح تک لرز جاتی ہے۔ انہی قبیح ترین افعال میں سے ایک رب کے تخلیق کردہ کسی بھی احسن التقویم سے اس کی شناخت چھین لینا اور کسی زندہ انسان کو بے چہرہ کر دینا ہے۔ اور بدقسمتی سے اعداد و شمار کے مطابق وطن عزیز میں ہر سال کم و بیش 750 خواتین کے چہرے تیزاب سے جھلسا کر انہیں زندگی بھر کے لئے ایک دہکتے ہوئے جہنم میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ انسان فطرتاً اپنی ظاہری وضع قطع کے لیے بہت متردد رہتا ہے اور خاص طور پر خواتین اپنی شکل و صورت اور بناؤ سنگھار کے حوالے سے کتنی تگ و دو کرتی ہیں، اس سے کون واقف نہیں۔ ایک ایسی نوجوان امنگوں بھری خوبصورت لڑکی کو جو دن رات سج سنور کر آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر خود ہی خوش ہوتی رہتی ہے ،اس سے اس کا چہرہ ہی چھین لینے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے اس فعلِ قبیح کی بہت معمولی وجوہات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کبھی کوئی شقی القلب شوہر اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی بیوی کا چہرہ جھلسا ڈالتا ہے کہ اسے جہیز نہیں دیا گیا تو کبھی کوئی اوباش کسی راہ چلتی نوجوان لڑکی کو دعوت گناہ دینے کے بعد اس کی طرف سے انکار کی صورت میں یہ فعلِ بد سرانجام دیتا ہے۔ تیزاب پھینکنے والے کے تو شاید چند سکّے اور کچھ لمحے ہی صرف ہوئے ہوں گے لیکن وہ عورت جس کے ساتھ یہ ظلم ہوا اس کی ساری زندگی جہنم سے بھی بدتر عذاب میں ڈھل جاتی ہے۔ کوئی بھی جرم جب سرزد ہوتا ہے تو معاشرے پر ایک بھاری بوجھ کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور وہ بوجھ ہوتا ہے اس جرم کے حقیقی مجرم کو قرار واقعی سزا دلوانا۔

بدقسمتی سے ہمارا تھانہ کلچر اتنا فرسودہ اور culprit friendly ہے کہ یہاں سے شاذ ہی کوئی حقیقی مجرم جرم کی پاداش میں سزایافتہ ہوتا ہے۔ اور اگر اس فرسودہ نظام میں سے کہیں کوئی حقیقی مجرم سزایافتہ ہو بھی جاتا ہے تو اس گھناؤنے ترین جرم کی سزا زیادہ سے زیادہ عمر قید ہے۔ یعنی 14 سال ۔ جو دن رات ملاکر محض سات سال رہ جاتی ہے۔ اور ایک جیتے جاگتے انسان کی پوری زندگی جہنم واصل کرنے والا گھناوءنا مجرم محض سات سال کی قید کاٹ کر واپس اپنی من پسند گزارنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ جو کہ انتہا سے بھی زیادہ تکلیف دے امر ہے۔ آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تیزاب گردی کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ سنایا جہاں ایک تیزاب گردنے درخواست دائر کی تھی کہ اسے مضروبہ خاتون نے معافی دے دی ہے، اس بنیاد پر اسے رہا کیا جائے ، چیف جسٹس آف پاکستان نے اس فیصلے میں تاریخی ریمارکس دیئے۔ اور کہا کہ ہوسکتا ہے کہ مضروبہ خاتون تمہیں معاف کردے لیکن ریاست کا قانون کبھی کسی ایسے شخص کو معاف نہیں کرے گا جو کسی کا چہرہ تیزاب سے جھلسا دے۔انہوں نے تیزاب سے کسی پر حملے کو قتل سے بڑا جرم قرار دیا۔ اور قرار دیا کہ ممکن ہے کہ اس خاتون کو عدالت میں یہ بیان دینے پر مجبور کیا گیا ہو۔ اور مجرم نے اس عورت پر تیزاب سے حملہ کر کے انتہائی سنگ دلی کا ثبوت دیا ہے۔ اور ان تاریخی ریمارکس پر اس شخص کی بریت کی درخواست نامنظور قرار دے کر خارج کردی گئی۔ یہ فیصلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک بہترین فیصلہ اور اس پر دیے گئے چیف جسٹس کے ریمارکس تاریخی الفاظ ہیں۔ ہمیں بطور معاشرہ اس طرح کے لوگوں کو جو کسی بھی طرح اس جرم میں ملوث ہوں مکمل طور پر تنہا کر دینا چاہیے۔ میری چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست ہے کہ جسٹس صاحب کو قرآن مجید فرقان حمید کے واضح حکم ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت کے مصداق جو لوگ اس گھناؤنے فعل میں واقعتاً ملوث پائے جائیں انہیں قید میں ڈالنے سے پہلے ان کے چہرے اگر نہیں تو کم از کم ان کے دونوں ہاتھ کہ جن سے وہ اس گھناوءنے فعل کے مرتکب ہوئے، تو ضرور ہی تیزاب جھلسا دینے چاہئیں۔ تاکہ ان کی سزا بھی ان کے گھناؤنے جرم کی طرح ان کی ساری زندگی پر محیط ہو۔ اللہ پاک ہمارے قانون ساز اداروں کو احکامات ربانی کی روشنی میں معاشرے میں انصاف قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *