حاکم جس کی ڈور رعیت کے ہاتھوں میں ۔۔۔۔ماریہ خان خٹک

جس طرح اللہ اپنی مخلوقات پہ نعمت و عنائیت کرتا ہے ۔مخلوق کی حیثیت اور قابلیت دیکھے بنا اس کی سنتا ہے ،عطاکرتا ہے، اس کے گناہوں کو درگزر کرتا ہے۔۔اور اپنے بندے سے محبت کرتا ہے۔تو بندہ خطا کا پتلا ہے اللہ کی نافرمانیاں بھی کرتا ہے، نا شکرا بھی ہوتا ہے لیکن وہ رب اس کی عبادات دیکھ کر عطا نہیں کرتا بلکہ اپنی شان کے مطابق عطاکرتا رہتا ہے، ناراضگی کے باوجود۔۔۔۔۔۔
اسی طرح شوہر کو اللہ تعالی نے خدائی  صفات عطا کی، کچھ اوصاف کےساتھ عورتوں پہ فضیلت دی ہے ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ عورتیں عقل سے ادھوری ہوتی ہیں ۔لیکن مرد کبھی ان پہ یہ نہیں جتاتا کہ تم میں عقل نہیں ہے ۔وہ بیوقوف ترین بیوی کو بھی یہی تعریف کرکے خوش کرے گا کہ تم تو بہت عقل رکھتی ہو۔۔ مجھے مشورے دیا کرو۔۔۔۔

سارا دن بیچارا مرد دھوپ گرمی سردی برداشت کرکے کماتا ہے جب بیوی کو کچھ دلاتا ہے تو خود کو بادشاہ کی طرح دکھاتا ہے تاکہ اس کی بیوی خوش ہو اور اعلیٰ سے اعلیٰ لباس، جوتے،زیور  خرید کر دیتا ہے ۔۔اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرتا ہہے۔

انسان کے خدو خال،اللہ تعالی نے بنائے ہیں ،اُس پر اعتراض کاحق کسی کو نہیں ،لیکن جیسے ہر لڑکی کسی شہزادے کے خوان دیکھتی ہے ،اسی طرح مرد بھی کسی شہزادی کےخواب دیکھتے ہیں ،لیکن نکاح کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ بیوی  خدو خال کے حساب سے جیسی بھی ہو،مرد اس کے ساتھ اچھا رویہ رکھتا ہے،اور اُسے کسی احساسِ کمتری میں مبتلا نہیں کرتا ۔اسی کی تعریفیں کرتا ہے۔کیونکہ وہ اس کی بیوی ہے،شریکِ حیات،دُکھ سُکھ کی ساتھی،اس کے بچوں کی ماں ۔۔۔۔

مرد میں عورت سے زیادہ برداشت ہے ،صبر ہے ۔مرد کبھی چار لوگوں کے بیچ بیوی کی برائی  نہیں کرتا، اور معاشرے کی نظر سے بھی دیکھا جائے تو بیوی کی برائیاں کرنے والے کواچھا نہیں سمجھا جاتا ۔غم کی آخری سرحدوں کو چھوکر بھی وہ رو نہیں سکتا۔ چار لوگوں کے بیچ اپنے ساتھ ہونیوالے ظلم و ستم عورتوں کی طرح سہیلیوں کے جھرمٹ میں بیان نہیں کرسکتا کیوں کہ وہ مرد ہے ۔۔۔۔۔
ایک آدمی جب بچہ ہوتا ہے تو تب ہی سے اس میں ایک شوق ہوتا ہے سرداری کا اور وہ ہر وقت اپنی عمر سے بڑا بننے کے کام میں ہاتھ ڈالنے کی سوچتا رہتا ہے ۔ جب بھائی  ہوتا ہے تو حکم دینے کے جذبات سر اٹھاتے ہیں انا غرور اور خود کو منفرد دکھانے کیلئے وہ ہر ممکن کوشش کرتا رہتا ہے کہ رعب دار کہلائے ۔۔

لیکن جب وہ شوہر ہوتا ہے تو خود کو بہت  نرم طبعیت کا ثابت کرنے کی کوششوں میں   درگزر سے کام لیتا ہے جو کہ خدائی  صفات ہیں اور بدلے میں کیا چاہتا ہے صرف وفا اور محبت  ۔۔اور اسے احساس دلایا جائے کہ وہی ہے جو خدا کے بعد  بیوی  کے لیے سب سے اہم ہے ۔ ۔

کہنا یہ ہے کہ ہر وقت مظلومیت کا رونا رونے سے پہلے غیر جانبدار ہوکر سوچا جائے خود کی بیتی کسی اور پہ فرض کی جائے ۔۔۔۔۔ یقیناً  آپ سجدہ شکر کرنے لگ جائیں گی کہ آپ جس معاشرے میں رہتی ہیں ۔وہاں مرد کی حاکمیت ضرور ہے لیکن اس کی ڈوریاں عورتوں کے ہاتھوں میں ہیں ۔ اور جو رہی سہی کسر مردانگی کے زعم میں رہ جاتی ہے وہ تمام حقوق آپ خوش نصیب ہیں کہ مسلمان عورت  ہونے کے ناطے  آپ کو آپ کا دین اسلام فراہم کرتا ہے ۔۔

مرد سے دلی محبت سے جب آپ اس کی ہر بات تسلیم کرنے والی بنتی ہیں تو مرد آپ کی خوشی دیکھ کر ہی اپنے تمام امور آپ کی مرضی کے  مطابق  ڈھال لیتا ہے۔
کہنا یہ ہے کہ انڈین میڈیا کے پیش کردہ ڈراموں میں ہونیوالی دجالی چپلقش بری طرح ہماری چار دیواری کی سلطنت کو تہس نہس کرنے پہ تلی ہوئی ہے۔ سنیں سب کی کہ معلومات اچھی چیز ہے لیکن ہر باعث کشش بات کو خود میں سمونے کی کوشش مت کریں یہ ہمارے رویوں پہ بری طرح اثرانداز ہوکر دلی کدورت کو جنم دیتی ہے۔

ہم مسلمان خواتین خاص کر پاکستانی مسلم خواتین دنیا بھر کی عورتوں سے زیادہ پرسکون زندگی گزار رہی ہیں۔اور ہمارا یہی سکون غیروں کو کھٹکتا ہے۔ اور انہی چالوں سے بچتے بچاتے خود کی اسلامی روایات اور تہذیبی رویے اپنائیے۔ مرد کو اس کی حاکمیت تسلیم کرنے کا احساس دیجیے ۔رویوں میں شیرینی و شائستگی گھولیے تاکہ معاشرتی ناہمواریوں کو موقع ہی نہ  ملے کہ وہ جڑ پکڑ سکیں۔

ماریہ خان خٹک
ماریہ خان خٹک
میرا نام ماریہ خان ہے خٹک برادری سے تعلق ہے ۔کراچی کی رہائشی ہوں ۔تعلیم ،بچپن اور دوستوں کے ساتھ سندھ کی گلیوں میں دوڑتی رہی ہوں ۔ کتابوں کے عشق اور مطالعے کی راہداری کو عبور کرکے خود قلم اٹھانے کی لگن ہے ۔طالب دعا ہوں اللہ تعالی قلم کا حق ادا کرنے کی توفیق دے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *