داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط22

پیش لفظ۔
بھرپُور اور ایونٹ فل زندگی سے واقعات کے چناؤ اور ان کے باعث کرداروں کے اقوال و افعال بیان کرتے۔۔اس کے بیک گراؤنڈ عوامل کو اجاگر کرنا ضروری ہے، مقصد کہانی سنانا نہیں بلکہ آپ کو اپنے تجربات سے آگاہی دینا ہے۔ معاملات ِزندگی کافی حد تک ہمارے ماحول سے مماثل ہوتے ہیں ۔ ہم کہاں بھٹکے، کہاں پھسلے   اور کیسے بہت سی الجھنوں سے نبردآزما ہوئے۔ پچھلی قسط میں دو اہم ترین واقعات کی بیس کا تذکرہ ہوا، ایک کا تجسس رکھتے ہیں دوسرازیر ِتصنیف دورانیہ میں ہی عمرہ اور زیارات کی سعادت بھی نصیب ہوئی لیکن اسے علیحدہ ابواب میں لکھنے کا ارادہ ہے۔

نئی قسط!
سوسائٹی ،معاشرہ یا سماج ،اسے جو بھی کہیں اس کا مسلمہ اصول ہے کہ انسان کو اس میں رہتے ہر سہولت کے بدلے سہولت دینی ہوتی ہے یا قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ جو جذبات بھی ہو سکتے ہیں۔ ماحول میں اگر ایکٹیوٹی میں تیزی آ جائے تو بہتر حل بریک لینا ہے۔ ہم اپنے ڈیسک پر آ بیٹھے، کینٹین سے کافی کا مگ منگوایا، سامنے پڑے بلز اور ڈاک کو بغیر چیک کیے فولڈر میں لپیٹ کے سائیڈ ریک میں رکھ دیا۔ رائٹنگ پیڈ پہ ان ہینڈ پرابلم لسٹ کیے، کافی پیتے ان پہ ون بائی بن غور کیا۔ لیڈی سیکرٹری سے شام کو طے ملاقات پہ کراس لگایا، ممانی کے ہاں جانے کو بھی کاٹ دیا۔
ڈاکٹر ارشاد کے کیس کو بھی التوا میں رکھا۔ باقی ٹٹ بٹس کو بھی اگنور کرتے، بریگیڈیئر صادق صاحب کی آفر کو سنگل آؤٹ کرتے ، یہ سوال فریم کیا ۔۔
“ کیا ایمبیسی کی ملازمت از خود چھوڑ دی جائے، یا کسی ممکنہ حادثے تک چلنے دیں”؟
ہم میڈی ٹیشن میں کھوئے غور و فکر میں ڈوبے تھے۔ فون کی گھنٹی سے چونک گئے، چکوال سے کال تھی، ہمارے پرانے دوست کلاس فیلو , رومیٹ ، صادق  کی۔۔
صادق اور میں ایف اے سے ایم کام تک ساتھ تھے، ہم پنڈی ملازمت میں آئے تو وہ لیبیا چلا گیا، ہماری گیس پراجیکٹ میں پوسٹنگ ہوئی  تو وہ بھی لیبیا سے واپس آیا، ہم نے اسے اپنے ساتھ اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ بھرتی کروا لیا۔
ہم نے وہاں سے ملازمت چھوڑی تو وہ بھی جرمنی چلا گیا تھا، چار سال سے زائد عرصے بعد اس کی آواز سن کےظاہر ہے بہت ہی خوش ہوئے۔ ۔اور جب اس نے یہ بتایا کہ وہ مستقل واپس آ گیا ہے اور اب یہاں سیٹل ہونے کے لیے پروگرام مجھ سے مل کے بنانے کو اسلام آباد آنا چاہتا ہے تو ہم نے بغیر سوچے اسے کہا ،
میں آج شام چکوال آ رہا ہوں۔۔ اس نے فرمائش کی، تین چار دن کی چھٹی لے کے آنا ۔۔۔
اب ہماری لسٹ پہ بس دو “صادق ” تھے۔۔
ڈیسک ورق اپنے اسسٹنٹ کے حوالے کیا۔ تین دن کی رخصت منظور کرائی، ایڈمن اٹیچی کو مطلع کیا، دفتر سے خاموشی سے نکلے، پٹرول پمپ سے ٹینک فُل کرایا، گھر گئے۔ کپڑے بدلے ، کھانا کھایا، گھر بشیر کے حوالے کیا، موچی بابا سے سلام دعا کی ۔ بتایا کہ تین چار دن کا ٹُور ہے گھر اور آئے گئے کا دھیان رکھے، شام پانچ بجے ہم اپنی کولیگ بی بی کے گھر کی بجائے چکوال اپنے گھر پہنچ گئے۔
چکوال جاتے ہم روایتی ” پرنا ” ہمیشہ ساتھ رکھتے۔ بعد دوپہر مندرہ سے آگے سورج ڈھلتے سامنے ہوتا یا دائیں ہاتھ ۔
ڈیش بورڈ پہ دھوپ کی چمک رے بین کے گلاسز کے باوجود آنکھوں پہ  پڑتی ، تو پرنا تہہ کر کے ڈیش بورڈ ڈھانپ دیتے۔
گھر کے سامنے گلی میں کار پارک کی تو دیکھا کہ ڈیوڑی کا بڑا چوبی دروازہ بند تھا۔ لٹو نما ہینڈل گھما کے ہوڑا کھولا۔ کواڑ کھلتے چڑچڑائے۔ ڈیوڑھی سے گزر کے صحن میں آئے ۔ کوئی فرد سامنے نظر نہیں آیا تو شغل سوجھا کہ بابا جی تو گھر نہیں ہوں گے کیوں نہ ان کی گھر میں انٹری کے سین کی سُنت ادا کی جائے۔ دونوں بھینسیں کھرلی پہ گُتاوہ کھا رہی تھیں۔
مطلب دودھ دوہا جا چکا تھا۔ صحن میں ٹوکا مشین کے آگے مکئی کا کُترا ہوا چارہ پڑا تھا۔ پرنا سر پہ باندھا۔ کھاری میں چارہ بھرا۔ اسے کھرلی میں ڈالتے بھینس کو اونچی آواز میں ڈانٹ پلائی۔ بچپن میں ہم بابا جی آمد پہ یہی سین دیکھتے۔۔
ان کی غصیلی آواز سے ہم سب بہن بھائی سہم جاتے  اور بھاگ بھاگ کے ہاؤس ان آرڈر کرنے لگ جاتے۔
ہماری آواز سن کے دونوں چھوٹے بھائی  اپنے کمرے سے نکل آئے، مصنوعی  غصے میں ان کو ڈانٹا کہ یہ بھینسیں بھوسہ چاٹ رہی ہیں ہرا چارہ مکس کیوں نہیں  کیا ! دونوں نے سلام کیا گلے ملے ۔ کان میں کہا بابا جی گھر ہیں تو ہم واقعی سہم گئے کہ ڈانٹ کھانے کا چارہ تو ہم کر چکے۔ اماں جی درمیان والے کمرے جسے مآل کہتے وہاں نماز پڑھ رہی تھیں، بھائی کو کار کی چابی تھمائی کہ سامان نکال لے، ڈرتے ڈرتے بابا جی کے کمرے میں گئے، گاؤ تکیہ سے ٹیک لگائے وہ ” اخبار جہاں” کا مطالعہ کر رہے تھے، ہم نے پاؤں چھُو کے سلام کیا، انہوں نے سر پہ شفقت سے ہاتھ پھیرتے پوچھا ۔ ۔ خیریت ؟ عرض کی تین دن کی چھٹی پر ویسے ہی ملنے رہنے کو آیا ہوں۔ انکا حقہ اٹھایا ۔ ۔دھو کے تازہ کیا۔۔
صحن میں چارپائی بچھا کے تمباکو والے ڈبے  کو صاف کرکے رکھا۔ اماں جی نماز کے بعد زیارت پڑھ کے فارغ ہوئیں۔
جائے نماز پر ہی ان سے گلے ملا۔ تسبیح پکڑے میرا منہ چُوما ، آنسو میرے گال پر گرے، میں نے بیٹھ کے انکے پاؤں پر ہاتھ رکھے ۔ رو پڑا۔۔ اُفف وہ تڑپ گئیں، پکڑ کے اٹھا کے کہا” شالا تُوں کدی نہ روویں “۔۔
بابا جی صحن میں آ گئے تھے۔ کھنگار کے بولے ‘ ماں پُتر مل چکے ہو تے وت چاہ بناؤ “۔۔
بہنیں محلہ میں قرآن پاک پڑھانے والی آپا جی کے ہاں سے واپس آ گئیں، صحن بھر گیا۔ ہم جیتے جی جنت میں تھے۔
بھائی گاڑی سے ڈبے اٹھا لایا۔ سب سے اہم گفٹ تو کیک رس تھے، ٹوٹنے سے بچانے کے لیے بیکری سے سپیشل پیک کرائے تھے۔ بابا جی کے پسندیدہ ۔۔ وہ ہمیشہ چائے کی پیالی کے ساتھ ساسر میں رکھ کے اسے بائیں ہاتھ میں رکھتے۔اور دائیں ہاتھ سے چائے میں ڈبو کے کھاتے، ہاتھوں میں رعشہ تھا لیکن مجال ہے کہ چائے کا قطرہ بھی کیک سے پیالی کے باہر گرے۔ اماں جی کی شال اور امپورٹڈ کینوس سلیپر تھے۔ بھائیوں کے لیے دو ڈائریاں اور کیلنڈر بنک والوں نے جو ایمبیسی سٹاف کے لیے دیے ،ان میں سے اٹھا لایا ۔ رونق تو وہ ڈبہ تھا جو بانڈڈ سٹور سے امپورٹڈ کھلونوں سے میں بھر لایا تھا۔ یہ بچیوں کے کھیلنے کو گڑیا اور ٹوائے تھے، برآمدے میں رکھ کے بھائ ینے کھولا تو ہر کھلونے پہ بہنوں کی۔۔یہ میں لوں گی کی تکرار ہوئی، جب شور زیادہ ہوا تو اماں جی نےانہیں ڈانٹ کے بڑے کمرے میں بھیج دیا ۔ لیکن تقسیم اور ادل بدل جاری تھی کِہ دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ صادق کو ہمارے پہنچنے کی خبر ہو گئی تھی۔ وہ ملنے آ گیا، بھائی اسے اندر لے آیا کہ بچپن سے ساتھ پلے دوستوں سے گھروں میں پردہ نہیں  ہوتا تھا سب کی مائیں بیٹوں کے دوستوں کو بیٹا سمجھتیں۔
سلام دعا اور حال احوال کے بعد صادق اور میں بیٹھک میں چلے گئے۔
صادق سے پہلا سیشن ڈنر تک چلا۔ اس نے اب تک جو لوگوں سے مشورے لیے تھے وہ کوئلے کی کان،اینٹوں کا بھٹہ ، ٹرانسپورٹ،اور آڑھت جیسے کاروبار تھے۔ مجھے چونکہ ساتھ پارٹنر بننے کی آفر تھی۔ میں نے سب یکسر مسترد کر دیئے کہ یہ فوج سے ریٹائر ہونے والے یا بیرون ملک سے واپس آنے والے ہر بندے جس کے پاس پونجی ہو اسے گھیر کے پھنسانے اور نقد نارائن بٹورنے کے نسخے تھے ۔ میں ان سے بخوبی واقف تھا۔ کھانے کے بعد ہم دوستوں کو یاد کرتے رہے کہ کون کہاں ہے کیا کر رہا ہے۔ اسی دوران خیال آیا کیوں نہ جی ٹی روڈ ڈرائیو پہ  نکلیں ۔ لاہور تک ہر شہر میں دوستوں سے بالمشافہ  ملتے جائیں۔ طے ہوا کہ صبح سویرے نکلیں گے، گھر میں بتا دیا۔ بابا جی سے آشیر باد اور اماں جی سے دعا لے لی۔
صبح نو بجے ہم جہلم شاندار چوک میں قریشی بک ڈپو پر تھے۔ طارق قریشی جو ہمارا فرسٹ پارٹ میں رومیٹ بھی تھا،دکان کھول رہا تھا، حیران ہوا۔ میں نے اسے ناشتہ منگوانے اور دیگر دوستوں سے بات کرانے کا کہا۔ افتخار ملک بنکر نے معذرت کی، زمان  ملنے آ گیا اور افتخار ڈار جو صادق کا چہیتا دوست تھا ساتھ چل پڑا۔ گجرات میں اسلم ساہی سے بات ہوئی۔ اس نے تجویز دی کہ گوجرانوالہ میں شام کی میٹنگ رکھیں ۔ خواجہ خالد چیمبر کا عہدے دار ہے وہ سب کو بلا لے گا ۔ خالد کو فون کیا وہ تو خوشی سے نہال ہو گیا۔ گجرات ساہی کے ساتھ لنچ کیا۔ اس نے شام کو پہنچنے کا وعدہ کیا۔ ہم بھی ڈرائیو انجوائے کرتے ، ماضی کی یادیں تازہ کرتے، رکتے رکاتے گوجرانوالہ پہنچ گئے۔ خالد کو پی سی او سے فون کیا۔ اس نے وہیں جہاں ہم تھے ڈرائیور بھیج دیا۔ ہم چیمبر بلڈنگ پہنچے، تو خالد۔۔ اکبر بھٹی، رؤف بھٹی شیرازی اور چند اور دوست موجود تھے۔ لاہور سے شیخ مجید آ گئے سیالکوٹ سے لیاقت پہنچے، اسلم ساہی بھی شامل ہو گئے۔ یوں سمجھیے ہمارا ہیلی کالج ہاسٹل کا پورا بیج اکٹھا ہو گیا۔ لطیفے جُگتیں پرانی حماقتیں سب یاد کرتے رہے۔
کس کی شادی ہوئی کتنے بچے ہیں ۔ کیا شغل ہے۔ جیسے ہم سب ہاسٹل میں تھے۔ اور تب بھی ان کا یونین میں سی آر میں تھا۔ میں نے سب کو متوجہ کر کے اس وزٹ کا مقصد بیان کیا کہ صادق کو کیسے ایڈجسٹ کیا جائے۔
میٹنگ کی شکل میں سنجیدہ گفتگو ہونے لگی، لیکن ہر دوست کی رائے میرے لیے ہوتی، زور اس بات پہ تھا کہ چکوال میں اِنکم ٹیکس کی وکالت شروع کی جائے اسلم اور لیاقت تو گجرات اور سیالکوٹ میں یہ وکالت کر رہے تھے۔
تمام دوستوں کی متفقہ رائے یہ بنی کہ صادق اکیلے یہ کام نہیں کر پائے گا مجھے اس کا پارٹنر ہونا چاہیے ۔۔۔
میں نے اعتراض کیا کہ میری بہت اچھی تنخواہ اور مراعات ہیں اسلام آباد میں ٹہکا ہے۔
اب دوست تو دوست ہوتے ہیں رعایت نہیں کرتے۔ اکبر بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا ،  کل وہ ایمبیسی سے نکال دیں تو!
مجید شیخ نے لقمہ دیا ۔ سفارت خانے میں لوکل ملازم سارے دلال ہیں ! خالد نے اسے ڈانٹ دیا۔
قصہ مختصر یہ طے ہوا کہ چکوال میں صادق  خان اینڈ کمپنی کا دفتر بنے گا۔ صادق چلائے گا اور میں فارغ وقت چکوال آ کے اس کی معاونت کروں گا ۔۔۔
خواجہ نے رہائش کا بھی بندوبست کیا تھا۔ لیاقت مجید اسلم واپس چلے گئے، صادق میں اور ڈار رات وہاں رکے۔
اگلے دن ناشتہ گوجرانوالہ ، لنچ جہلم اور شام کو واپس گھر پہنچے ۔ راستے میں تفصیلات اور جزئیات پر بات ہوئی۔
سی بی آر سے لائسنس ، دفتر کی جگہ ، فرنیچر و دیگر انتظام طے ہو گئے ۔تین ماہ بعد چکوال اِنکم ٹیکس آفس کے قریبتلہ گنگ روڈ پر تار گھر سے ملحق عمارت کی پہلی منزل پر ، صادق خان کمپنی کا بورڈ آویزاں تھا
یوں یہ سفر وسیلہ ظفر بنا۔
اگلے روز صبح کو اماں جی سے ممانی کی یلغار پہ بات ہوئی۔ تو انہوں نے حسب عادت ، اس سے بچ کے رہنا۔۔ کہہ کے بات ختم کر دی۔
بابا جی کے ساتھ بھی نشست ہوئی۔ ایمبیسی بارے حکم ہوا ،لگّی روزی چھوڑنی نہیں۔۔

بریگیڈیر صادق نواز کی آفر بتائی۔ ارشاد ہوا ،اسے مشاورت چاہیے ، وہ فارغ وقت میں دینی چاہیے۔
صادق خان کمپنی پر دلچسپ تبصرہ فرمایا۔ چکوال صادق کو ۔ صادق چکوال کو موزوں ہیں تمہیں نہیں۔۔۔
دو تین سال سفارت خانہ نہیں  چھوڑنا، بریگیڈر کی مشاورت کے ساتھ ٹیکس کی مشاورت بھی کی جا سکتی ہے۔
جب چل پڑے تب چلا لینا آسان ہو گا ۔۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *