• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جدید نظم کے بارے میں میرے خیالات اور سرمد سروش کی سالگرہ۔۔۔۔علی عمر عمیر

جدید نظم کے بارے میں میرے خیالات اور سرمد سروش کی سالگرہ۔۔۔۔علی عمر عمیر

سرمد کا تعارف ہی یہی ہے کہ وہ نظم کا شاعر ہے۔ جدید نظم کا شاعر۔۔ جدید نظم جو اپنے اسلوب میں ردھم کا ایسا لطیف تاثر مانگتی ہے جو ایک خوبصورت بے قاعدگی لیے ہوتا ہے، کسی مبتدی کے ہاتھ میں نہیں آتی۔ نظم، بظاہر جس میں غزل کی نسبت بہت آزادی ہے، جب کسی شاعر کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو دو ہی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ پہلی اور عمومی یہ کہ شاعر نظم کی آزادی کے سحر میں مبتلا ہو کر بھٹک جاتا ہے اور دوسری یہ کہ شاعر آسانی سے اپنا مدعا بیان کر جاتا ہے۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ نظم الفاظ سے بنتی ہے، جبکہ غزل اشعار سے۔ اگر غزل میں ایک شعر اچھا نہیں ہو سکا تو خیر، اس سے اگلا شعر اچھا نکل آئے گا لیکن جب نظم کے الفاظ کی بات آتی ہے تو ایک لفظ کی وجہ سے پوری نظم اپنا تاثر کھو بیٹھتی ہے۔ نظم نہ ایک لفظ اضافی برداشت کر سکتی ہے نہ کم۔ اور یہی کچھ باتیں ہیں جو نظم کو غزل کی نسبت مشکل ثابت کرتی ہیں۔

میں جدید نظم اور افسانے کو بہت مماثل سمجھتا ہوں(یہ میری ذاتی رائے ہے)۔ اگر آپ مشّاق افسانہ نگار ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ افسانہ کانٹیکسٹ کی جامعیت کی شرط بالکل نہیں رکھتا۔ آپ مرکزی خیال سے نکل کر جزئیات میں لے جائیں، افسانہ کبھی بوجھل نہیں ہو گا، بلکہ آج کل اکثر لکھے جانے والے افسانے بہت ہی کمزور مرکزی خیال یا پلاٹ کے باوجود، صرف بیانیے کی پختگی اور جزئیات کے اظہار پر مہارت کی وجہ سے کامیاب ہو  جاتے ہیں۔ میرے خیال میں جدید نظم بھی اب اس نہج پہ ہے کہ مرکزی خیال سے زیادہ جزئیات اور اظہار اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ آپ پر ہے کہ آپ بیانیہ کتنا مضبوط لاتے ہیں، الفاظ کے بجا استعمال پر کتنی گرفت رکھتے ہیں اور مرکزی خیال کی کٹیا سے باہر نکل کر کتنی اور کیسی تانک جھانک کرتے ہیں اور اس تانک جھانک کا کیا کیا اور کیسے ، اس طرح نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ قاری کو یہ محسوس ہی نہ ہو کہ آپ نے اسے کس عنوان اور کس مرکزی خیال کے جھانسے میں نظم کے ایک جہان میں بُلایا لیکن کتنے ہی مختلف جہانوں کی سیر کرا دی ۔

جدید نظم کا المیہ یہ ہے اور یہی خوبی بھی ہے کہ یہ ایک حسی واردات ہوتی ہے جو اپنے اندر کئی احساسات کو ایک پلیٹ فارم کی صورت میں سامنے لاتی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ اسے اس کے معیار کی حِسی قرات نہیں مل سکتی۔آپ جدید نظم کو تحت اللفظ میں پیش کرتے ہوئے سخت مشکل کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن جب آپ نظم کو اچھے سے پیش کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو اس کا تاثر غزل سے زیادہ ہوتا ہے۔

جدید نظم کی دوسری بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ کبھی کبھار خود شاعر کے لیول سے بھی اونچی ہوتی ہے۔ ایسے میں عام کیا، خاص قارئین بلکہ خود شاعر بھی نظم کے اصل معیار کا ادراک نہیں کر پاتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ نظم لکھنے سے زیادہ مشکل لکھی ہوئی نظم سے اس کے معیار کے مطابق لذت کشید کرنا ہے۔ دراصل جدید نظم اپنے موضوعات کے لحاظ سے بھی افسانے کے نزدیک نزدیک ہے۔ فلسفے کے دقیق تصورات، سائنسی نظریات، مذہبی عقائد ،معاشرتی مسائل، عمرانی علوم اور نفسیات جیسے سنجیدہ موضوعات جدید نظم کے موضوعات ہیں اور اگر نہیں ہیں تو ہونے چاہئیں۔جبکہ ان موضوعات میں الجھنے والے قارئین بہت کم ہیں۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نظم کا قاری چُنا ہوا اور پڑھا لکھا، صاحبِ ذوق انسان ہی ہے۔

سرمد جدید نظم کا صرف شاعر نہیں بلکہ نقاد بھی ہے۔ سرمد نے جدید نظم کو اپنایا ہے اور جدیدنظم کے تمام بنیادی تصورات کو اڈاپٹ کرنے کے بعد لکھا ہے۔ اس نے تحت اللفظ کی مشکل پر بھی قابو پایا ہے۔ سرمد جب نظم کی قرات کرتا ہے تو واضح ہوتا ہے کہ نظم سرمد نے صرف لکھی نہیں بلکہ نظم کو اپنایا بھی ہے۔ اس کے علاوہ سرمد نے دقیق موضوعات کو لطیف پیرائے میں بیان کرنے کی کئی کامیاب کوششیں کی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سرمد کو اپنی نظم کے معیار کا بخوبی اندازا ہے۔

نظم کے شعراء میں سرمد کا شمار ہونا یقیناً اس کا حق ہے، جو اس نے یقیناً بہترین مطالعہ، فنی مہارتوں اور مستقل ریاضتوں سے حاصل کیا ہے۔سرمد سے میری ذاتی شناسائی بہت ہی کم ہے۔ صرف کبھی کسی مشاعرے میں سلام دعا ہی تک محدود۔ لیکن میں نے سرمد کی جتنی نظمیں پڑھی یا سنی ہیں، ان سے اس کے بارے میں اچھا تاثر قائم ہوا ہے۔ امید ہے ادبی منظر نامے پر سرمد ایک بہترین مقام حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو گا۔

ایک عرصے سے میری ایک نظم ادھوری پڑی تھی، آج نظم کے شاعر سرمد سروش کی سالگرہ کا نوٹیفیکیشن ملا تو نکالی اور مکمل کی۔
سو۔۔۔۔ سرمد کی سالگرہ پر سرمد کے نام نظم۔

“کینوس چھوٹا ثابت ہوا۔۔”

میں نے انسان ہوتے ہوئے
جانور بھی کھنگالے
فرشتے بھی دیکھے
اور انسانیت بھی پھرولی
خدا کے تصور سے الجھا
کائناتی عوامل کو کھوجا
صحیفے، جو نازل ہوئے تھے، جنہیں، جن پہ نازل ہوئے تھے، انہی نے بگاڑا تھا، میں نے پڑھے
اور وہ بھی پڑھا، جس کا پڑھنا تلاوت ہے
میں نے کتابوں کا رس اپنے اندر نچوڑا
ان کتابوں کا رس جو کہ میرے ہی جیسوں نے لکھی تھیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعرو! تم زبردست ہو
تم نے الفت محبت وغیرہ کو لکھا
بڑے زور سے عشق و مستی وغیرہ کی ترویج کی
حسن و تحسین پر جب قلم تم اٹھاتے ہو، کتنوں کو تڑپاتے ہو
آہ!!! لیکن یہ میں
جس نے شاعر بہت بعد میں، پہلے انسان ہوتے ہوئے
جتنا سوچا یا جانا، وہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے لیے نظم کا کینوس چھوٹا ثابت ہوا
یعنی میں۔۔۔۔
اچھا شاعر نہیں ،
یعنی میں۔۔۔۔۔
اپنی نظموں کی گہرائی سے کچھ زیادہ ہی گہرا ہوں۔

Avatar
علی عمر عمیر
اردو شاعر، نثر نگار، تجزیہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *