پاکستان اور افغان مہاجرین۔۔۔۔ راجہ فرقان احمد

آج میں جس موضوع پر اپنے تاثرات بیان کرنا چاہتا ہوں وہ نہایت ہی حسّاس نوعیت کا ہے. میں ہمیشہ لکھتے وقت یہ کوشش کرتا ہوں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو، نہ ہی کسی کو ٹھیس پہنچے.

پچھلے کچھ دنوں سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں کافی کشیدگی آئی ،    جس کا ایک منظر پاک افغان میچ میں دیکھنے کو ملا۔   مجھے ایسے محسوس ہوا کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن انڈیا نہیں بلکہ افغانستان ہے . گراؤنڈ میں جس طرح کے واقعات پیش آئے آپس میں الجھے   شائقین، کھیل کو جنگ سمجھنے لگے۔۔  گراؤنڈ کے اندرآنے  اور کھلاڑیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی.  سوشل میڈیا پر   افغانیوں نے پاکستان کو اپنا دشمن قرار دیا,  لیکن کیاافغانستان  کو واقعی    پاکستان کو اپنا دشمن سمجھنا چاہیے؟

اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 40 سالوں سے پاکستان افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے  .جو پاکستانی قوم کے لیے فخر کی بات ہے. اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریبا 14 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین مقیم ہیں جو ترکی کے بعد مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے. اس وقت 32فیصد افغان مہاجرین کیمپوں اور 68فیصد افغان مہاجرین کیمپوں سے باہر رہتے ہیں. ہمیں اس بات کا بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم اس طرح کی سہولیات نہیں دے سکے جس کے وہ مستحق تھے ۔

بہرحال پاکستان کی کاوشوں کی بھی  تعریف کرنا ہوگی، جس نے مشکل حالات میں افغان مہاجرین کو پناہ دی .پاکستانی حکومت نے افغان مہاجرین کے مسائل پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا.  پاکستان نے اس افغان مہاجرین  کو بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دی جو ایک بہت بڑی کامیابی تھی اس کے برعکس کچھ لوگ پاکستان کو افغانستان کے حالات کا ذمہ دار سمجھتے ہیں شاید وہ ٹھیک بھی ہو ں لیکن درحقیقت پاکستان نے وہی کیا جو اس کے مفاد میں تھا.  جس طرح آج کل قوم پرستی کا دور چل رہا ہے ہر ملک اپنے انٹرسٹ  کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے ۔پاکستان نے بھی وہی کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا.

بیشتر افغانیوں کی یہ رائے ہے کہ افغانستان میں مجاہدین پاکستان نے بھیجے. میری نظر میں اگر پاکستان مجاہدین نہ بھیجتا   تو پاکستان بھی  USSR کا نشانہ بن سکتا تھا کیونکہ ہم دوسروں کی سوچ نہیں پڑھ سکتے، وہ الگ بات ہے کہ USSR نے کہاں  تک جانا تھا، اس میں اختلاف ہو سکتا ہے. افغانستان کے لیڈرز نے خودUSSR کو دعوت دی  تھی لیکن پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے ہم کسی کو اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیتے  ,   پاکستان کو بھی اپنا فیصلہ کرنا  تھا جو اس نے کیا.

میں اکثر اپنے دوستوں سے اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ پاکستانیوں نے بڑے  دل کا مظاہرہ کرکے افغانیوں کو پناہ دی لیکن میرے پیارے دوست کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ پاکستان کو  اس کام کےپیسے دیتا ہے.   اور میں حیران  ہو کر کہتا کہ وہ کونسا شخص ہے جو اپنا پورا گھردوسرے کو دیدے.  جبکہ دوسری جانب افغانستان وہی ملک ہے جس نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن پاکستان نے اس مشکل وقت میں اپنے مسلمان بھائیوں کو اکیلا نہ چھوڑا  .  جوافغانی پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے حکمران بھی پاکستان میں ہی رہ کے پلے بڑھے  . پشاور کیمپ میں رہنے والا آج افغانستان کا صدر بنا ،درجنوں کھلاڑی پاکستان میں رہے کرکٹ سکھی اور اپنے ملک کی نمائندگی کی.   پاکستانیوں کو افغانیوں پر فخر ہے کہ اس مشکل حالات میں بھی وہ آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے رہے. جس طرح افغانستان نے انڈیا کی طرف اپنا رخ موڑا کیونکہ ان کو اپنا فائدہ نظر آیا   اسی طرح افغانستان کو بھی آپ سمجھ لینا چاہیے کہ تمام ممالک اپنے فائدے کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں.  لیکن پاکستان نے اپنا فائدہ دیکھے بغیر افغان مہاجرین کی مدد کی ان کو پناہ دی ان کے  ساتھ ہرممکن تعاون کیا .

میں ان افغان لوگوں سے پوچھتا ہوں جو پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں کہ بتائیں  ،انڈیا نے کتنے افغان مہاجرین کو پناہ دی ؟  ہمیں اپنے دشمن اور دوست کو جاننا ہوگا.  پاکستان اور افغانستان کو مل جل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ کہاوت ہے کہ “ہم اپنے دشمن کو تو بدل سکتے ہیں لیکن اپنے ہمسائے کو نہیں”۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *