ڈاکٹر کا نسحہ اور ڈاکٹر کا بل۔۔۔ساجد محمود خان

ایک امریکی صحافی Earl Wilson کا قول ہے کہ آپ ڈاکٹر کی  لکھی ہوئی تحریر اور نسخے کو صحیح طریقے سے نہیں پڑھ سکتے ہیں مگر اس کی لکھی ہوئی دوائی کا بل واضح طور پر پڑھ سکتے ہیں۔

یہی معاملہ ہمارے معاشرے میں  ڈاکٹروں کا ہے جن کی کارکردگی کا تو کچھ خاص پتہ نہیں چلتا مگر ان کی ہڑتالیں اور مطالبات ہر وقت میڈیا کی زینت بنے ہوتے ہیں۔ اس ملک میں آپ کسی بھی شہر میں سروے کروا کر دیکھ لیں کہ عوام کے ساتھ ان ڈاکٹروں کا رویہ سرکاری ہسپتالوں اور نجی کلینک میں کیسا ہوتا ہے۔ کیا اس میں کھلا تضاد نہیں پایا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے سرکاری ہسپتالوں سے اپنی عوام کو صحت کی مکمل سہولیات فراہم کرنا تقریباً ناممکن سی بات ہے۔ اس سلسلے میں نجی شعبے کے تعاون سے لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں میں عوام الناس کے لیے صحت کی یکساں سہولیات فراہم نہیں کی جاتی ہیں مگر حکومت کی جانب سے کچھ ایسے اقدامات اور اصلاحات کی جاتی ہیں جس سے لوگوں کو قدرے بہتر خدمات حاصل ہوتی ہیں۔ کچھ ایسی اصلاحات خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے کی جارہی ہیں جو کہ صحت کے شعبے میں بہتری کا سبب بنے گی مگر بدقسمتی سے  ان اصلاحات کی راہ میں حائل رکاوٹ صرف ڈاکٹر طبقہ ہے جن کے مطالبات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے منشور میں  یہ بات شامل ہے  کہ عوام کو صحت  کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی اور جب ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آتا ہے  تو بدقسمتی سے ڈاکٹر حضرات نے  نہ صرف ان اصلاحات کو  ماننے سے انکار کر دیا بلکہ  آئے روز ہڑتال کرکے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ بھی کر تے رہے ہیں۔ تمام تر ہڑتالوں اور تاخیری حربوں کے باوجود خود حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ عوام کی بہتری کے لیے صحت کے شعبے میں اصلاحات لے کر آئیں گے جن کا عوام سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر حضرات بھی اپنی ضد اور انا دکھانے کے بعد مذاکرات کی میز پر تمام مسائل مذاکرات سے حل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹروں کی طرف سے حکومتی اصلاحات کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈوں سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ جب بھی اصلاحات کی بات کی جاتی ہے تو ڈاکٹر حضرات محتلف حیلے بہانوں سے حکومت کے لیے مشکالات پیدا کرتے ہیں اور اصلاحات کو متنازع بناتے ہیں۔  ڈاکٹر حضرات صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے تیار نہیں ہیں لہذا اس شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے ہونگے۔

اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وطنِ عزیز میں صحت کے شعبے سے منسلک افراد کو بچپن سے ہی صحت کے شعبے سے دلچسپی ہوتی ہے۔  آپ اگر کسی چھوٹے بچے سے پوچھیں کہ آپ بڑے ہو کر کیا بنیں گے تو اکثر بچوں کا جواب یہ ہو گا کہ وہ ڈاکٹر بن کر غریبوں کی مدد کریں گے۔ مگر نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر یہی بچے بڑے ہو کر نہ تو وہ جذبہ رکھتے ہیں اور نہ ہی غریب دوست پالیسیوں کے لیے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی قربانی دینے کو تیار ہوتےہیں۔  یہ بات نہایت افسوس ناک ہے کہ اکثر والدین بچوں کو بچپن سے ڈاکٹر بننے کی ترغیب تو دیتے ہیں مگر صحیح معنوں میں انسانیت کی خدمت کے لیے قربانی کا درس نہیں دیتے ہیں۔ شاید والدین کو ملک و قوم کے بیماروں اور مریضوں سے زیادہ فکر مال و دولت اور نام بنانے کی ہوتی ہے۔ بہت کم طلباء ایسے ہونگے جو انسانیت کے جذبے سے سرشار ہو کر ڈاکٹر بننے کے خواہش مند ہونگے۔ اس بات کا اندازہ ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان پائے جانے والے گزشتہ تناؤ سے لگایا جا سکتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر ڈاکٹر حضرات نہ تو حکومتی اصلاحات ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اپنے آبائی علاقے میں اپنے ہی لوگوں کو خدمات پیش کرنے کو تیار ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ کل اگر ہمیں ان ڈاکٹر حضرات کی خدمت کسی جنگ زدہ علاقوں میں پڑ گئی تو یہ حضرات تب بھی ہڑتال کی کال دینگے اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر جنگ کے محاذ پر جانے سے انکار کر دیں گے۔

ساجد محمود خان
ساجد محمود خان
۔ سیاسیات کا طالب علم۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *