ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی 67ویں سالگرہ پر گوہر تاج صاحبہ کا خط

ادارہ مکالمہ ڈاکٹر صاحب کو ستاسٹھویں سالگرہ  کے موقع پر مبارک   باد  پیش کرتا ہے۔

خواتین و حضرات !
میں آج ان ساعتوں کی متشکر ہوں جن میں مجھے خالد سہیل کی سالگرہ اور کتابوں کی رونمائی میں شرکت کا موقع ملا۔ اکثر ادیب عمر کے اس حصے میں تھک سے جاتے ہیں اور عمرِ گزشتہ میں لکھی تخلیقات کا جشن منانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں لیکن خالد سہیل کی تخلیقی تروتازگی کا اندازہ ان کی کتابوں کی تعداد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو ان کی عمر سے زیادہ ہیں۔

خالد سہیل کی پہلی سوانح عمری ’اپنا اپنا سچ‘ ۲۰۰۹ میں شائع ہوئی تو دوسری THE SEEKER آٹھ سال کے توقف کے بعد, جس کی زبان اور انداز مختلف سہی لیکن جو بات مشترک ہے وہ اپنے سچ کی تلاش اور آنکھوں میں بسے خوابوں کا سلسلہ  ہے۔۔۔یہ خواب ہیں امن و آشتی کے‘ شعور کے ارتقا و آگہی کے‘ دوستی اور بھائی چارے کے۔ انسانیت کے تار تار ہوتے اس دور میں ایسے سپنوں کی جوت جگائے رکھنا اور سچ کی تلاش کا تسلسل کمال نہیں تو پھر کیا ہے؟

خالد سہیل نے اپنی ودیعت کردہ زندگی اور تخلیقی صلاحیتوں کی قدر کی اور انہیں بڑے احترام سے برتا۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے مجھ سے کہا ’میں مذہبی انسان نہیں ہوں لیکن تخلیقی کام عبادت کی طرح کرتا ہوں‘۔ ان کی عبادت کی طرح گزاری زندگی اور جنم دن کے حوالے سے میں نے آج اپنے عزیز دوست ن م دانش کی ایک نظم کا انتخاب کیا ہے۔ جس کا عنوان ہے

مصنفہ :گوہرتاج

آدمی کو کتنا جینا چاہیے ؟
آدمی کو کتنا جینا چاہیے
دو برس‘ دو سو برس یا چند سال
بات اگر جینے کی ہے
وہ بھی خالی ہاتھ ‘خالی دل
خوابوں کے بغیر
تو ہزاروں سال کا جینا ہو کہ لمحوں میں مرنا ایک جیسا
ہاں اگر ہاتھوں میں تارے
دل میں امیدیں ہیں
اور آنکھوں میں خواب
تو پھر ایک پل کا بھی جینا ہے امر
ایک دن صدیوں برابر
ایک اک لمحے کی اپنی زندگی ہے
اور ہر ایک لمحے میں پوشیدہ
ایسی انگنت دنیائیں
جن میں سانس لینے والے پاگل جانتے ہیں
سانس کی قیمت ہے کیا
زندگی کرنا کسے کہتے ہیں
اور مرنا ہے کیا
جرم کیا ہے
چیخ اور انکار کے معنی ہیں کیا!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دانش کی اس نظم کا جواب میں نے خالد سہیل کی سوانح عمری میں تلاش کیا۔یہ ایک خط ہے جو انہوں نے اپنے دوست امیر حسین جعفری کو دسمبر ۲۰۰۸ میں لکھا تھا۔

اے میرے دانشور دوست ! کیا تم نے کبھی سوچا کہ یہ زندگی آخر کیا ہے؟
میری نگاہ میں تو
زندگی ایک ایسا کورا کاغذ ہے جس پر ہم اپنی اپنی کہانی تحریر کرتے رہتے ہیں
زندگی ایک ایسا سادہ کینوس ہے جس پر ہم سب اپنے خوابوں کے نقوش چھوڑ جاتے ہیں
زندگی ایک ایسی خالی صراحی ہے جسے ہم صبح و شام اپنے جذبوں سے بھرتے رہتے ہیں
اور
زندگی ایک ایسا ساحل ہے جس پر ہم اپنے نقشِ پا چھوڑ جاتے ہیں۔
میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ جب میں اس دنیا سے رخصت ہوں گا تو اپنے پیچھے کیا چھوڑ جاؤں گا
چند غزلیں۔۔۔چند نظمیں۔۔۔چند افسانے۔۔۔چند مضامین۔۔۔چند تراجم۔۔۔ اورچند انٹرویو
میری یہ تخلیقات دکھی انسانیت کے نام میرے محبت نامے ہی تو ہیں۔ ان کے علاوہ دوستوں کے دلوں میں بہت سی یادیں۔میں اپنے آپ کو کتنا خوش قسمت محسوس کرتا ہوں کہ مجھے زندگی میں بہت سے مخلص دوست اور پیار کرنے والی محبوبائیں  ملیں۔
تم میری زندگی کے درویشانہ فلسفے سے بخوبی واقف ہو۔مل جائے تو شکر اور نہ ملے تو صبر۔ خوش قسمتی سے میرے حصے میں شکر کرنے والی راتیں صبر کرنے والے دنوں سے زیادہ آئی ہیں۔
تمہارا ادبی ہمسفر
خالد سہیل ۳۱ دسمبر ۲۰۰۸
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خواتین و حضرات ! اس خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ خالد سہیل اپنے آدرشوں اور خوابوں سے گندھی زندگی سے مطمئن ہیں۔ہم میں سے اکثر لوگ اس بات کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے بہت سے نئے لکھنے والوں میں سپنوں کی جوت جگائی اور تخلیقی عمل کی تکمیل میں حوصلہ افزائی کی۔
آج ان کی سالگرہ کے موقع پر ان کی اس حاصلہ افزائی اور اعتماد کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ جو انہوں نے مجھ جیسے بہت سے لوگوں کو دیا۔ان کی ادب قامتی کے باوجود ان کی سادگی‘انکساری‘علم دوستی اور انسانیت سے محبت ان کا گرانقدر تحفہ ہے۔مجھے امید ہے کہ اگلے کئی سال وہ اور بہت سے لوگوں میں سپنوں کی جوت جگاتے رہیں گے اور چونکہ خواب کبھی نہیں مرتے تو بھلا خالد سہیل کس طرح فنا ہوں گے؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی 67ویں سالگرہ پر گوہر تاج صاحبہ کا خط

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *