یادِ گزشتہ اور تہذیبِ نَو۔۔۔۔۔محمد حسنین اشرف

ہمیں کتب کی چاٹ کب اور کیوں لگی، یہ آج تک معلوم نہ ہوسکا۔۔ لیکن اتنا یاد پڑتا ہےکہ بچپن میں، یہ سلسلہ عمرو عیار کی کہانیوں سے شروع سے ہوا اور آج تک جاری ہے۔ گھر میں غیر نصابی سرگرمیوں پر شدید پابندی ہونے کی بنا پر ایسی تمام کتب جن کے سر ورق پر ‘انشاء پردازی’ ، ‘فلاں گائیڈ’ اور فلاں ‘ سپر ون گائیڈ’ جیسے بڑے بڑے الفاظ چسپاں نہ ہوتے وہ شجر ممنوعہ تھیں۔ لیکن ہمارے دادا بھی تو آدم ٹھہرے، بھلا یہ کیونکر ممکن تھا کہ ہمیں کسی چیز سے روکا جاوے اور  ہم اس  کام کو ذوق و شوق سے نہ کرنا شروع کردیں۔

پانچویں جماعت تک ہم عمر و  کی عیاریوں کے اسیر تھے اور حیران تھے کہ اس  زنبیل سے بوقت ضرورت اتنا کچھ کیسے نکل آتا ہے۔ خیر، گرمیوں کے دنوں میں یہ شو ق تب فرمایا جاتا جب گھر والے سو رہے ہوتے۔ لیکن اس کہانی کو ڈھونڈ کرلانے کا قصہ بھی کچھ کم  پُرلطف نہ  ہے ۔ وسائل کی کمی اور گھریلو بندشوں کی بناء پر، عمرو عیار کی یہ کہانی پیدا کرنا، چھپا کر رکھنا اور پھر پڑھنا ایک فن سے کم نہ تھا۔ ہر روز جب دوپہر میں سب قیلولہ کر رہے ہوتے تو ہم سخت دھوپ میں، دوستوں کی منتیں کر رہے ہوتے کہ ہمیں کہانی عنایت کردی جائے، ہم جلد لوٹا دیں گے۔ لیکن، المیہ یہ تھا کہ شیزان کی بوتل کی طرح عمرو عیار کی یہ کہانی، ظہر سے عصر کا وقت پورا ہونے سے قبل ہی ختم ہوجایا کرتی اور باقی وقت  مجبوراً  ہمیں سونا پڑتا۔۔ اور اگلے دن پھر تپتی دوپہر میں، منتیں کرنا پڑتیں۔

مصنف: محمد حسنین اشرف

پانچویں کے بعد، جیسے ہی مولانا طارق جمیل کی اکلوتی کیسٹ جو بعد ازاں ہماری تفریح کا واحد سامان ایک عرصہ رہی، تشریف لائی تو ہمارے گھر سے ٹی وی کو ہمیشہ سے خیر آباد کہہ دیا گیا۔ کیونکہ بزرگوں کے نزدیک یہ ایک نہایت غیر ضروری چیز تھی، جس سےایک تو وقت ضائع ہوتا ہے اور دوسرا فحش چیزیں دیکھ کر ، بچوں کے اذہان پر اچھا اثر نہیں پڑتا۔ موخر الذکر، دلیل سن کر ہمارے بائیں کندھے پر بیٹھا فرشتہ ایک نہایت میسنی سی  ہنسی بھی ہنسا تھا۔ جسے ہم نے گھور کر چپ کرا دیا۔ یوں، کتابوں اور خاص کر کہانیوں سے رشتہ بہت گہرا ہوتا چلا گیا، لیکن مجھے آج تک سمجھ نہ آ سکی کہ میں نے ڈائجسٹ پڑھنے شروع کیوں نہ کیے ؟ ۔۔۔خیر، مڈل تک یہ سفر، عمرو عیار سے ہوتا، ابن صفی کی سیریز اور نسیم حجازی پر جا رکا۔ جس پر ایک عرصہ ہم تکیہ کیے بیٹھے رہے۔ عمران سیریز کی چاٹ کچھ ایسی لگی کہ پھر گھر والوں کو باقاعدہ ایک سٹنگ آپریشن  کرکے ہمیں اس سے روکنا پڑا۔

جیسا کہ اوپر مذکور ہے کہ غیر نصابی سرگرمیاں اور کتب ہر گز صحت مند نہیں  سمجھی جاتی تھیں۔ اور بڑوں کا ماننا تھا کہ بچے کو ہمہ  وقت صرف اور صرف تعلیمی کتب میں گھسے رہنا چاہیے۔ یعنی  اگر وہ کھانا بھی کھا رہا ہے تو اس کے سامنے درسی کتاب ہونی چاہیے، بلکہ اول تو اسے یہ ہوش ہی نہیں ہونا چاہیے کہ درسی کتب پڑھتے وقت کھانے اور پینے جیسی فضول حاجات بھی انسانی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے ہاں، خاصی عام سوچ کا نتیجہ تھا  کیونکہ کلاس میں  اول  آنا، بچے کے والدین کے لیے باعث افتخار ہوا کرتا تھا۔ اس لیے ہمیں سخت ہدایت تھی کہ گاؤں سے سکول تک کا فاصلہ جو سائیکل پر ماموں کے پیچھے بیٹھ کر طے  کیا جائے گا۔ اس میں بھی ہم درسی کتاب کھول کر پڑھیں گے تاکہ درمیان کا یہ  والا وقت ضائع نہ ہو۔۔ لیکن، بحمدللہ، خباثت ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی تو  ہم اس سفر کو غنیمت جان کر کوئی نہ کوئی غیر نصابی کتاب، نصابی کتاب کے درمیان رکھ لیتے اور پندرہ بیس منٹ کا یہ سفر اچھا کٹ جاتا۔

اس ساری کہانی میں، ابن صفی  بہت دم خم کے ساتھ داخل ہوئے، مجھے آج بھی یاد ہے کہ تفریح کے وقفہ میں، فٹ بال کے گراؤنڈ میں کسی نے مجھے عمران سیریز تھما دی تھی۔ اس کے بعد  سے عمران سیریز پڑھنے کی ایسی چاٹ لگی کہ ہمارا گھر میدان جنگ بن گیا۔ پانچویں سے مڈل تک غیر نصابی کتب کے پڑھنے میں کچھ سہولت یوں تھی کہ گرمیوں میں دوپہر اور سہ پہر کا وقت گھر والے سو کر گزارتے اور ہمیں کوئی کونہ کھدرا کتاب پڑھنے کو مل جایا کرتا تھا۔ جیسے ہی پانچویں کے بعد  کلاس ششم  میں ہم  نے قدم رنجہ فرمایا تو   غیر نصابی کتب کے مطالعے کا  یہ وقت ضائع ہوگیا۔ ہماری شرارتوں سے تنگ یہ حکم دیا گیا کہ ہم کلاس کے بعد سے شام تک کا وقت کڑی نگرانی میں، دکان پر گزارا کریں گے اور وہاں ایسی کتب کا پڑھنا، خاصا جان جوکھوں کا کام ہوتا تھا۔ بہرحال، اس دوران  اہم کام کسی ناول یا کتاب کو،  پتلون کے نیفے میں اڑس کر بیگ اور بیگ سے باحفاظت گھر پہنچانا ہوتا تھا۔ گھر  میں ناول پڑھنے کا یہ کام اکثر، چھت کی کھلی فضاء میں اعلی تعلیم کے بہانے یا بیت الخلاء میں، رفع حاجت کی غرض سے پڑھا جاتا۔۔لیکن اس میں پکڑے جانے کا خطرہ اکثر رہا کرتا تھا۔

اس سارے دور میں ایک احساس ہمیں شدت سے ہوا کہ بیت الخلاء وہ واحد محفوظ جگہ ہے جہاں آج تک ہم پکڑے نہیں گئے،لیکن نجانے کیوں، ناول کا ایک باب مکمل کرنے بعد جب ہم نکلتے تو گھر والے اکثر ہماری طبعیت سے متعلق استفسار کرتے، جس کی آج تک ہمیں سمجھ نہ آسکی۔ خیر، چھت وہ غیر محفوظ جگہ تھی جہاں، کتاب کے اندر ناول وغیرہ  رکھ کر ہم پڑھ رہے ہوتے اور حملہ آور دبے پاؤں چھت پر آتا اور کتاب میں مگن ہمیں احساس تب ہوتا جب تڑاخ کی آواز سے گردن  پر چُبھن سی  محسوس ہوتی،یا پھر خواجہ آصف جیسی آواز ہمارے کان سے ٹکراتی کہ ‘کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیاء ہوتی ہے’۔۔۔ اس کے بعد اکثر، آسمان نے یہ منظر دیکھا کہ کتاب دو تین حصوں میں منقسم ہو کر ہمارے لب و رخسار سے ٹکراتی اور بے عزتی کا ایک نہ  ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اس کارروائی سے ہمیشہ یہ نقصان ہوتا کہ مانگے تانگے سے لایا گیا ناول قابل واپسی نہ رہتا، یوں ایک دو کامیاب کارروائیوں کے بعد ، احباب نے ہم پر یہ عنایت کرنا بند کردی اور ہمیں خود پیسے جمع کرکے براہ راست، د کاندار سے تعلق استوار کرنا پڑے، جو ایسی ہی وجوہات کی بناپر زیادہ دیر نہ چل سکے۔ بلکہ اس کے بعد، رات میں ہم گھر سے جھڑکیاں کھاتے اور صبح  ہم د کاندار کی ہفوات سنتے۔ اس سب کے باوجود، ہم انٹرمیڈیٹ تک، ایک اچھا حصہ رائج لٹریچر کا پڑھ چکے تھے۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ زبان کی چاٹ ہمیں تب نہ لگی تھی تو ‘وصی شاہ’  ‘فرحت عباس شاہ’ اور ‘نوشی گیلانی’ سے دل بہلانا پڑتا، کیونکہ زیادہ گہری شاعری، لونڈے  کے بگڑنے کا اشارہ ہوا کرتی تھی۔ باقی اقبال و غالب تو ہماری قوم غیر مستعمل معانی کے ساتھ بچپن سے ہی پڑھانا شروع کردیتی ہے۔  اسی لیے ہم ‘بالے جبریل’ کے علاوہ ‘دیوانے غالب’ بھی پڑھ چکے تھے۔

آج واپس مڑ کر ایک نظر اپنے بچپن پر ڈالتا ہوں اور اپنے اردگرد کے بچوں کو دیکھتا ہوں تو یہ احساس شدت سے گھیر لیتا ہے کہ کہانی سننے، سنانے اور پڑھنے کا ذوق ختم ہوگیا۔ کتاب محض معلومات کا ایک ملغوبہ ہے، جسے سارا سال رٹ کر بچے نے سال کے آخر میں اُگل دینا ہے۔ ماں باپ نے بچوں کو کہانیوں سے دور کردیا، وہ کہانیاں جو ادب کی پہلی سیڑھی ہیں۔۔ اور تو اور، وقت ضائع کرنے کا رواج بھی ختم ہوگیا، سنا ہے، اب تو کہتے ہیں کام ہی وہ کرو جس میں اتوار کو بھی تمہیں چھٹی نہ لینی پڑے۔ یہ سن کر اپنے لبوں پر پھیلتی طنزیہ مسکراہٹ میں تو شاید نہ دکھا سکوں، لیکن یہ بتادوں کہ کولہو کے بیل بناتی جدید تہذیب، ہمیں کہیں  کا نہ چھوڑے گی۔ پھر تو ہم کتابیں بھی کام پر جاتے ہوئے، کار میں سنا کریں گے ۔ مجھے مصحفی کا شعر یاد آتا ہے:

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا

کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

مصحفی کو کیا علم کہ  نسلِ  نَو، اس کے اس تخیل کی لذت سے محروم، ایک گھڑیال بن چکی ہے۔ جہاں ہر کسی کو ایک دوڑ میں شامل ہو کر مد مقابل سے جیتنا ہے، لیکن اس بات سے بے خبر ہیں کہ مد مقابل کون ہے؟ خود ہی سے جیت کر اپنا آپ ہار رہے ہیں۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *