ہر بچہ ہی ” شودہ ” ہوتا ہے ۔۔۔۔میا ں جمشید

بہت ہی ” شودہ” بچہ ہے تمہارا ۔ ۔ بہت ہی  شودے  ہو تم ۔ ۔ ایسے شودوں کی طرح کھا رہے جیسے پہلے کبھی کھایا نہ ہو یا آج آخری بار کھا رہے ہو ۔

آپ سب نے ایسے “شودہ” مطلب لالچی یا ندیدے  پن والے کلمات لازمی سنُے ہوں گے اپنے لیے  بھی اور دوسروں کے لیے  بھی۔ یہ بھی ایک قسم کی تضحیک ہی ہے جس کا نشانہ تقریباً ہر بچہ ہی اپنے بچپن میں بنتا ہے۔ جو بچے ” ذرا ہٹ کے” ہوتے  ہیں وہ تو ایسی پکار کی کبھی پروا نہیں کرتے اور لگے رہتے  ہیں اپنے “شودے پن” میں لیکن جو بیچارے کمزور اور ڈر پوک قسم کے ہوتے ہیں وہ بیچارے شرمندہ ہوتے ہیں اور اگلی دفعہ سب کے سامنے شودے پن سے گریز ہی کرتے ہیں ۔  لیکن پھر بھی اکیلے ہو کر یا کہیں موقع پا کر اپنا شودہ پن کا چسکا پورا کر کے ہی چھوڑتے ہیں ۔

جب بچے کسی کے گھر مہمان ہوں یا جب بچوں والے گھر میں کوئی مہمان آ جائے۔ تو ایسے فقرے عموماً دونوں صورتوں میں ہی سننے کو ملتے ہیں ۔ تب یقین مانیں بچوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن والدین خاص کر ماؤں کی جان اٹکی رہتی ہے  کہ بچے کہیں شودے پن کا مظاہرہ ہی نہ کر دیں۔ لیکن بچے تو پھر بچے ہیں جناب۔ آپ کو تیار رہنا ہی پڑتا ہے ، دوسروں سے سننے کو کہ ” کچھ نہیں ہوتا کھانے دو بچے ہی تو ہیں” لیکن والدین جانتے ہیں کہ جانے کے بعد دوسروں کی جانے والی باتیں” توبہ، دیکھا تھا کیسے “شودوں” کی طرح کھا رہے تھے اس کے بچے۔شکر ہے ہمارا گڈو ایسا نہیں ہے” تب انکا گڈو بھی معصوم سی  صورت بنائے مہمانوں کے آنے سے پہلے کی ماں کی ڈانٹ یاد کر رہا ہوتا ہے ” اگر تم نے مہمانوں کے آگے رکھی کوئی چیز کھائی تو دیکھنا پھر تم ہڈی پسلی ایک کر دوں گی تمہاری” –

دوستو، یقین مانیں بڑے ہو کر جب اپنی کمائی کا، اپنی مرضی سے کھاتے ہیں تو اس بچپن کے شودے پن کو  بہت مِس کرتے ہیں ۔ ۔کہ کچھ چیزیں شرارتی  بچپن کا حصّہ ہوتی ہیں، جو فطری ہونے کے ساتھ ساتھ پیاری و معصوم بھی ہوتی ہیں  اور یہ شودہ پن بھی ان میں ایک ہے۔ اگر آپ بڑے ہیں اور اپنے بچپن میں شودہ پن کرتے رہے ہیں تو اپنے بچوں یا چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی کرنے دیں نا ” رٙج ” کے “شودہ پن” تاکہ وہ بھی اپنی ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں اور ان پر پڑنے والی ڈانٹ کو یاد کرتے مسکراتے ہوئے گنگنا سکیں کہ ” میرے بچپن کے دن ، کتنے اچھے تھے دن ، آج بیٹھے بیٹھائے کیوں یاد آ گئے” –

میاں جمشید
میاں جمشید
اس تحریر کے لکھاری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مثبت طرز ِِِ زندگی کے موضوعات پر مضامین لکھتے اور ٹریننگ دیتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *