• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا شراب پہ قدغن لگانا شرعی تقاضہ ہے؟۔۔۔۔۔۔سلیم جاوید/چوتھی ،آخری قسط

کیا شراب پہ قدغن لگانا شرعی تقاضہ ہے؟۔۔۔۔۔۔سلیم جاوید/چوتھی ،آخری قسط

ہماری گزارش یہ ہے کہ اگرجدید دنیا کی طرح پاکستان میں بھی مخصوص مقامات پربار کلب موجود ہوں تواس سے اسلامی ریاست کو کوئی  خطرہ نہیں- جدید دنیا میں بھی سرکاری وتعلیمی مقامات پر مے نوشی کرنا ممنوع ہے- غل غپاڑہ کرنایا کسی کو ضرر پہنچانا تو بہرحال ایک جرم ہی ہوتا ہے تاہم جو آدمی اپنے پرائیوٹ مقام اوراپنے پرائیوٹ اوقات میں مے نوشی کرنا چاہے،اس پر کوئی  پابندی نہ لگائی  جائے- یہی اسلامی تاریخی روایت رہی ہے-

فوڈ اتھارٹی کا کام ہے کہ شراب کے نمونوں کی تحلیل کرتی رہے۔ ہمہ قسم شرابوں کے سرکاری نرخنامے مقررکیے جائیں- اگرکسی آدمی نے نقصان کیا اورچیکنگ سے ثابت ہوا کہ نشہ میں تھا تو مخمورآدمی کو ڈبل سزا دی جائے(جیسا کہ متمدن دنیا نے اصول بنارکھا ہے)- الغرض، اپنے ملکی قوانین کو”نان ایشوز” سے پاک کریں اوراسی نارمل انداز میں اپنی ریاست کو چلائیں جیسا کہ دنیا کے دیگر سینکڑوں ممالک چل رہے ہیں-

جب” نان ایشوز” سے ہماری توجہ ہٹے گی تو پھرامن، معیشت اورقومی عزت کے اصل”ایشوز” بارے ہماری توانائی  صرف ہوگی-

سوائے حرمتِ خنزیرکے، کوئی “دینی”حکم قرآن میں ایسا نہیں دیا گیا جسکی کوئی منطقی علت موجود نہ ہو(“مذہبی”احکام البتہ منطق سے ماورا ہوتے ہیں)- شراب اس لیے دینی موضوع ہے کہ یہ معاش اورمعاشرت پہ اثرانداز ہوتی ہے-

کافی عرصہ تک یہ خاکسار،حرمتِ شراب کی منطقی علت معلوم کرنے کی تگ ودو میں لگا رہا- تقریباً سارے مفسرین کی رائے یہی ہے کہ شرابی بندہ ،سماج کیلئے نقصان کا باعث بن جاتا ہے اس لیے شراب حرام قراردی گئی- سوال پیدا ہوتا کہ بالفرض کوئی آدمی خود کوکنٹرول کرسکتا ہو(یا یہ کہ جب تک نقصان کا باعث نہ بنے) توکیا اسکے لیے شراب حلال ہوگی؟-

مولانا روم نے البتہ حرمتِ شراب کی ایک منفردعلت بیان فرمائی ہے جس نے مجھے کافی محظوظ کیا ہے- کہتے ہیں کہ شراب ایسی چیزہے جوانسان کی داخلی کیفیات، جذبات اورشعور کوانگیز کردیتی ہے- پس ایک احمق اگرشراب پیے گا تو مزید حماقتیں کرے گا- ایک دانشوراگر شراب پیے گا تو مزید دانش پائے گا- فرماتے ہیں کہ عوام کی اکثریت احمق ہواکرتی ہے پس شراب کو عمومی طور پرحرام قرار دیا گیا ہے- (عوام کالانعام)-

غور کریں تواس دلیل میں وزن ہے اورہم اسکی مثال قرآن سے بیان کرتے ہیں- قرآن،ایک شرابی حاکم کا قصہ بیان کرتا ہے جوایک معاملہ فہم آدمی ہے اوراپنی قوم کیلئے فکرمند رہتا ہے-عزیزمصر کاساقی، نبی یوسف کے ساتھ قید میں تھا- اس بادشاہ کی عوام بارے فکرمندی دیکھیے کہ متوقع قحط بارےخواب دیکھتا ہے اوراسکی دانش وفہم ملاحظہ ہوکہ حضرت یوسٖف کووزیرخزانہ مقررکرتا ہے- معلوم ہوتا ہے کہ شراب، کم ظرف کو مزید کم ظرف کرتی ہے مگراہل دانش کی عقل کو مہمیزکیا کرتی ہے-

خدانے فرمایا کہ شراب میں فائدہ ہے مگراسکی مضرت زیادہ ہے- قرآن کی ساری تفاسیر،انسانی دماغوں نے لکھی ہیں – ہم نہیں سمجھتے کہ خدا نے”اکابر”کے دماغ بنانے کے بعد یہ فیکٹری بند کردی ہے- لہذا،”اسکا فائدہ کم اورمضرت زیادہ” والی بات کو یوں بھی لیا جاسکتا ہے کہ شراب، “ذہین اقلیت” کیلئے مفید اور”بیوقوف اکثریت” کیلئےمضرہے-اورایسے بھی کہا جاسکتا ہے کہ تھوڑی سی پینا”مفید” اور”زیادہ” پینا مضرہوگا-مسلم انٹلجنشیاء کا ایک نمائندہ، ظہیرالدین بابراپنی تزک میں کیا خوب لکھتا ہے:

گرتو بادہ خوری، توباخردمنداں خور
یا باصنمے لالہ رخ خنداں خور
بسیارمخور، زودمکن، فاش مساز
اندک خور، گہ گاہ خوروپنہاں خور

شراب کی اصل حرمت، حالتِ  خمار سےشروع ہوتی ہے اوراسی کو واضح کرنے خاکسار نے شراب نوشی کی تین سٹیج ذکرکی تھیں  -علماء نے اگرشراب کی ہرمقدارکوکلیتہ”حرام قراردیا ہے تویہ بطوراحتیاط کے ہے کیونکہ ایک شخص کوشراب پیتے ہوئے اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کس لمحے وہ ایک سٹیج کو کراس کرکے اگلے میں جاپڑتاہے؟- البتہ حاملینِ علم وشعور”پیتے ہوئے” بھی اس حدبندی کا ادراک رکھ سکتے ہیں( کہ حرمت کی شرعی حد سے بھی واقف ہوتے ہیں اورسیلف کنٹرول بھی رکھتے ہیں)- اسی بنا پرمجھے ایسی روایات پہ کوئی  تشویش نہیں ہوتی کہ سرسید احمدخان یاابوالکلام آزاد جیسےعلماء بھی چسکی لگا لیا کرتے تھے(ظاہر ہے کہ وہ طاہراشرفی جیسے احمق نہیں تھے)-چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اہل قلم اورنمایاں لوگوں کا ایک کثیرطبقہ ،ایک معقول حد تک شراب نوشی کا رسیا رہا ہے-

اس”خصوصی حوصلہ افزائی” کے بعدعرض ہے کہ خدائے پاک نے شراب کو گندگی کہہ کرہمیں اس سے دوررہنے کی نصیحت فرمائی ہے- قرآن وحدیث میں شراب نوشی کرنے پرسزامذکورہویا نہیں مگرایک مومن کیلئے تواپنے خدا کی یہ نصیحت ہی کافی ہونا چاہیے- ایک مہربان والد جب اپنے بیٹے کونصیحت کرتاہےکہ ہروقت موبائل فون سے مت چمٹے رہوتواسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ موبائل کوہاتھ لگانے سے موت پڑجائے گی- اسکے کہنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ موبائل فون ، بڑوں کے کام کی چیزہے مگربچوں کیلئے وقت کازیاں ہے-یا پھروہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ بیٹا، کبھی کبھاراس سےکھیل لومگرہر وقت کا استعمال نقصان دہ ہے- اب کوئی  فرمانبرداربیٹا، باپ کی نصیحت کے ظاہری الفاظ کو ہی لے لے اورموبائل کو ہاتھ بھی نہ لگائے تووالد کے سینہ میں کیا محبت کاسمندرنہیں ابل پڑے گا؟-

شراب بری چیزہے اورمسلمان کو اس سے دوررہنا چاہیے-مگرمسلمان کی ایک اورڈیوٹی بھی ہے-وہ یہ جس چیز کو خود برا سمجھے، اس سے دوسروں کو”ازراہ انسانیت” روکنے کی کوشش کرے-

بس یہیں پرپیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے اوراسی نکتہ تک پہنچانے کیلئے یہ سارامضمون لکھا گیا ہے-

عزیزان ِ من!

بات یوں ہے کہ اسلامی سماج میں،علماء اورصوفیا کا الگ الگ دائرہ کارہوتا ہے-( بالکل ایسے جیسے کہ میڈیکل ڈاکٹراورسائیکاٹرسٹ کا)-سماج کی اخلاقی اصلاح بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا قانونی-

جرم کیلئے قانونی اصلاحی نظام (بصورت قید، جرمانہ و دیگرسزائیں) بروئے کار آتا ہے جس کو وضع کرنے کیلئے اکابرین قوم پرمشتمل پارلیمنٹ، علما ئے کرام یا دانشورحضرات (تھنک ٹینک) سے مدد لی جاتی ہے- مگراخلاقی اصلاح کیلئے واعظین، اہل دعوت، صوفیاء وغیرہ ہوا کرتے ہیں –

علماء کا فیلڈ “برائی سے آگاہی”دینا- صوفیاء کا فیلڈ، اس سے” روک کردکھانا” ہے- علماء کا کام ہے کہ “رخصت اورعزیمت” دونوں کی آخری حدبندی کرکے بتائیں-جبکہ صوفیاء کا کام ہے کہ مسلمان کو”رخصت”سے اٹھا کر”عزیمت” تک لے جائیں- قرآن کی رو سےبدنظری کرنا بھی حرام ہے- بدنظری کیا ہوتی ہے؟- یہ علماء کہیں سےاستنباط کرکے بتائیں گے کہ پہلی نظر کےبعد” بدنظری” شروع ہوگی- مگربدنظری سے کراہت پیداکرنا، خالص صوفیاء کا میدان ہے-

بنا برایں، جب آپ ایک متنوع سوسائٹی میں کوئی قانون سازی کرنا چاہتے ہیں تو شرعی احکام بارے ایسی باریک بینی سے کام لینا ضروری ہے جس سے کسی فعل کا پورا دائرہ اوراسکی آخری حد واضح ہوکرسامنے آجائے- (مثلا”شراب نوشی اورشراب سپلائی ، دوالگ امورہیں-حدودبھی الگ ہیں)-

مزید یہ کہ پاکستان جیسے کثیرالعقائد اورمختلف النسل سماج میں دینی احکام کی آخری حد کا واضح کرنا ، کسی فرد واحد کے مزاج کے بس میں نہیں ہے- ہم بار بار یہ مطالبہ کیا کرتے ہیں کہ اجتماعی مسائل بارے شرعی راہنمائی کرنا،صرف اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ہونا چاہییے-(ایسے ایشوزبارے، اپنی فردی رائے پیش کرنا منع نہیں ہے اورنہ اس میں کوئی  مضائقہ ہے مگراپنا فتوی نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی)-

ہم مسلم سیکولرز کا مطالبہ بڑا واضح ہے کہ شراب بارے پاکستان میں بھی باقی دنیا کی طرح قوانین بنائے جائیں-اس سے ہمارے سماج اور دین کو کوئی  خطرہ نہیں- شراب سے روکنا، دراصل اس دھرتی کے خدارسیدہ واعظینِ کرام کا کام ہے – یہ اہل مذہب کی محنت وتربیت کی طاقت ہے کہ لوگ بھوک سے مرجائیں گے مگر گدھے کا گوشت نہیں کھائیں گے حالانکہ یہ ہرجگہ بآسانی دستیاب ہے- گدھے کو چھوڑیں، ہم نے تواچھے خاصے ایجوکیٹڈ لوگ دیکھے ہیں جوفلم نہیں دیکھتے، موسیقی نہیں سنتے- یہ سب اہل دل کی محنت کا نتیجہ ہے-( کاش کہ صوفیاء اصلی انسانی ایشوز کواجاگرکرنے  میں اپنا رول نبھاتے)-

ہماری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ خیراورشر کی دائمی جنگ میں” اہل دعوت” کے ہاتھوں میں قانون کا ڈنڈا ہوتووہ اتنا موثر نہیں ہوتا جتنا کہ انکے دل کا اخلاص اورزبان کی مٹھاس- والسلام!

نوٹ :چار اقساط  میں مکالمہ پر چَھپنے والا  یہ مضمون خالصتاً مصنف کے ذاتی خیالات  پر مبنی ہے،اور آزادیء اظہارِ رائے کے تحت شائع کیا گیا ہے۔مصنف کی رائے سے ادارے کا اتفاق ضروری نہیں !

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *