فادرٹریسا۔۔۔۔ایمان شاہ

“ڈھونڈو گے اگر  ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں ۔۔۔۔ نایاب ہیں ہم ”

آہ ۔۔۔۔!!

تین سال پہلے آج کے دن ہم نے ایک انمول رشتہ کھودیا ۔ ایک ایسا چہرہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا جس میں ہمیں اپنا گَرد آلود  عکس بھی   صاف و شفاف نظر آتا تھا ۔۔۔وہ آنکھیں بند ہوگئیں جن سے ہمیں یہ دنیا  بے حد  اُجلی نظر آتی تھی ۔ وہ ہاتھ ہم سے چھوٹ گئے جنہیں بے اختیار بوسہ دینے کو دل چاہتا تھا ۔۔وہ ۔۔۔ جو صرف ایک انسان نہیں بلکہ پورا زمانہ تھا ۔۔۔

ایدھی۔۔۔۔جس نے انسانیت کی اس طرح خدمت کی کہ ہر بے کس و نادار انسان مدد کے لیے ایدھی ایدھی پکار اٹھا ۔۔۔اور آج ہم روتے ہیں کہ انسانیت کی خدمت کرنے والا چلا گیا ۔ جی ایدھی تو چلاگیا مگر ایدھی کا رول ماڈل آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے ۔۔۔
بات صرف لفظوں سے آگے بڑھنے کی ہے ۔۔بات عمل کی ہے   اور عمل کرنے کے لیے  فقط وہ ایک جذبہ ہی کارگر ثابت ہوا کرتا ہے جو انسان کو زمین کی پستی سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچادیتا ہے  اور اس کی سب سے بہترین مثال ہمارے لیے  عبدالستار ایدھی کی زندگی ہے ۔
آیئے سرسری سا جائزہ لیتے ہیں ۔۔

ایک ایوارڈ یافتہ انسان دوست شخصیت تھے  جو کہ اپنے فلاحی کاموں کے سبب پاکستان میں رحمت کے فرشتے اور پاکستانی ” فادر ٹریسا ” کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔۔
عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928 کو گجرات کے ایک چھوٹے سے گاؤں بنتوا میں پیدا ہوئے ۔ 19 سال کی عمر میں پاکستان بننے کے تھوڑے عرصے بعد ہی کراچی منتقل ہوگئے ۔عبدالستار ایدھی نے کبھی اسکول کی تعلیم بھی حاصل نہیں کی مگر وقت نے ثابت کیا کہ آج وہ دنیا بھر میں ایک بہترین استاد مانے جاتے ہیں ۔
انہوں نے محسوس کیا کہ کتنے ہی پاکستانی ایسے ہیں جو اجناس سے لے کر ادویات ، تعلیم اور دیگر ضروریات زندگی سے محروم ہیں ،اور پھر اسی احساس کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا کہ ان تمام ضرورتمند افراد کی مدد کی جائے ۔۔۔ اور اسی جذبے کے تحت 1951 میں ایدھی فاونڈیشن کی بنیاد رکھی   جو کہ اب پاکستان سب سے بڑی ویلفئر آرگنائزیشن کے نام سےرجسٹرڈ ہے ۔ایدھی فاونڈیشن نے اپنی ابتداء کے ساتھ ہی 20 ہزار تُرک بچوں کی زندگی بچائی ۔۔۔50 ہزار  یتیم بچوں کو اپنے فلاحی سینٹر میں بحال کیا ۔اور تقریباً 40ہزار  نرسز کو تربیت دی۔
دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کا آغاز  کیا   جو کہ آج نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی ممالک میں بھی دوستانہ خدمات انجام دے رہی ہیں ۔2005 میں ایدھی فاونڈیشن کی جانب سے امریکہ میں آنے والے ہیوکرین کیٹرینا کے متاثرین کے لیے  100000$ بطور امدادی رقم فراہم کیے  گئے ۔۔۔ان کی خدمات کی بدولت انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی ممالک کی جانب سے بھی لاتعداد ایوارڈز دیئے گئے ۔۔۔جن میں سے چند ایک کی تفصیل ذیل میں ہے ۔۔۔۔

٭ریمن میگسیسے ایوارڈ برائے عوامی خدمات (1986)

٭امریکی ارتھ کوئیک ڈزاسٹر کے لیے  بے مثال خدمات کے عوض سابقہ سوویت یونین کی جانب سے امن انعام (1998) حاصل کیا ۔۔۔۔
٭دنیا میں سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس آرگنائزیشن کے قیام پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز (2000) کا اعزاز حاصل کیا ۔۔
٭ متحدہ عراب امارات کی جانب سے انسانی و طبی خدمات کے لیے ہمدان ایوارڈ برائے والنئٹر (2000) حاصل کیا ۔۔۔۔
٭ اٹلی کی طرف سے انسانیت، امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے انٹرنیشنل بلزان انعام (2000) حاصل کیا ۔۔۔۔۔
٭دہلی سے امن اور یگانگت کا ایوارڈ 2001 حاصل کیا ۔۔۔۔
٭اٹلی سے 2005میں وولف آف بھوگیو پیس من ایوارڈ حاصل کیا ۔
٭2007 میں دہلی سے گاندھی امن ایوارڈ حاصل کیا ۔۔۔
٭2007 میں پیرس سے یونیسکو مدن جیت سنگھ امن ایوارڈ حاصل کیا ۔۔۔۔
٭2008میں جنوبی کوریا سے امن ایوارڈ سیؤل حاصل کیا
٭انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی جانب سے 2006میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کی ۔۔۔۔

نیشنل یا قومی ایوارڈز :
٭کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز، پاکستان کی جانب سے آپ کو سلور جوبلی شیلڈ عطا کی گئی ۔۔۔۔
٭1989میں آپ کو حکومت سندھ پاکستان کی جانب سے سوشل ورکر آف سب کانٹیننٹ کا ایوارڈ دیا گیا ۔۔۔
٭1989 میں ہی آپ کو حکومت پاکستان نے نشان امتیاز، سول ڈیکوریشن کا ایوارڈ دیا
٭1989 میں وزارت صحت اور سماجی بہبود حکومت پاکستان کی جانب سے 80کے عشرے میں مولانا کی بے شمار شان دار سماجی خدمات کا شایان شان اعتراف کیا گیا ۔۔۔۔۔
٭1992میں پاکستان سوک سوسائٹی کی جانب سے آپ کو پاکستان سوک ایوارڈ سے نوازا گیا ۔۔۔مگر
ان تمام ایوارڈز کا حامل ہونے کے باوجود عبدالستار ایدھی نے اپنی پوری زندگی دو جوڑوں اور دو کمروں کے کوارٹر میں گزار دی ۔۔
میں سمجھتی ہوں کہ عبدالستار ایدھی دنیا کا وہ امیر ترین غریب آدمی ہے جسے اپنی خدمات کے بدلے میں کسی نوبل پرائز کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ایدھی کا وجود تو بذات خود کل انسانیت کے لیے  کسی نوبل پرائز سے کہیں بڑھ کر تھا ۔عبدالستار ایدھی کی زندگی اور وفات کے بعد دونوں طرح سے تعریف و تنقید کی زدمیں رہی ۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں ایدھی کی زندگی یہ بتاتی ہے ، سکھاتی ہے کہ انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے  آپکا بہت زیادہ امیر و کبیر ہونا قطعاً  ضروری نہیں ۔۔۔ فقط یہ جذبہ ہی آپ کو آپ کی منزل کی بلندیوں پر لے جاتا ہے ۔۔۔۔

ایدھی مر نہیں سکتا
کیوں کہ
تاریخ کے صفحات اگر اسے انسانیت سے محبت کرنے والے
ابو بن ادھم کا درجہ نہیں بھی دے سکتے ۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔ اس کا نام سنہری لفظوں میں لکھے جانے سے بھی کوئی نہیں روک سکتا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *