گھبرانا نہیں۔۔۔۔راجہ فرقان احمد

محترم وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد قوم سے خطاب کیا۔ دورانِ  خطاب بڑے بڑے دعوے اور وعدے کیے،مخالفوں پر تیر برسائے، تبدیلی کا نعرہ بلند کیا    اور آخر میں کہا “آپ نے گھبرانا نہیں ہے”۔
اس خطاب کے بعد میں اکثر اپنے دوستوں سے پوچھتا کہ یہ گھبرانا  کسے کہتے ہیں شاید یہ کوئی بیماری ہو یا کوئی اور چیز مگر میرے پیارے دوست اس سوال کے جواب میں مجھے مطمئن نہ کر سکے۔  میں عمران خان کو بڑا لیڈر مانتا تھا کیونکہ وہ جو کہتا تھا کر کے دکھاتا تھا  اور  ا مجھے امید تھی کہ  گھبرانے کا جواب بھی وہ خود  دےگا۔  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  گھبرانے کے اثرات نظر آنے لگے  میں شاید ہی وہ پہلا شخص نہیں تھا بلکہ مجھ جیسے  سینکڑوں ایسے لوگ  اس دنیا میں موجود تھے جو  اس لفظ کا مطلب صحیح معنوں میں سمجھ نہ پائے۔ مجھے لگا شاید   تبدیلی کا  انتہائی تیز جھٹکا  ہو جو پاکستان کو امریکہ کے مقابلے میں لے آئے ، لیکن جب میں نے اس تبدیلی کا صحیح  معنوں میں جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ تبدیلی توہمیں   امریکہ کے نہیں  بلکہ   یوگنڈا کے مقابلے میں لے آئے گی۔  لیکن میں گھبرایا نہیں   کیوں کہ مجھے امید تھی کہ عمران خان کی سوچ مثبت ہے اس ملک میں وہ تبدیلی  اور نئے پاکستان کا نظام  جس میں برابری ,عدل و انصاف   ہوگا ، نافذ کرے گا۔
وقت گزرتا گیا اور گھبرانے  کا مطلب بھی سمجھ میں  آنے لگا  ۔ جس طرح خان صاحب یو ٹرن لینے کے  ماہر ہیں،  ملکی حالات  اور حکومت کی پالیسیوں کو دیکھ کر  میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا اب تو عوام کا گھبرانا بنتا ہے۔  پاکستان کی عوام نے عمران خان کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ وہ بڑی تبدیلی لا سکے لیکن  تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ عمران خان نے اپنی  باتوں سے یوٹرن لے لیا۔  یہ وہی عمران خان ہے جو کبھی کہتا تھا  آئی ایم ایف کے پاس گیا تو میری لاش آئے گی لیکن حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی بھی وہ الگ بحث ہے کہ  خزانہ خالی تھا کہ نہیں,  پچھلی حکومتوں کی تمام پالیسیوں کو عمران خان آگے لے کر چلے، نوکریاں دینے کے بجائے چھینی گئی,  90 لاکھ   لوگ غربت کی سطح پر آئے ,  50 لاکھ  لوگوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے,تمام دوست ممالک سے مہنگی شرائط پر قرض لیا، مہنگائی میں اضافہ ہوا ، جو وعدے خان صاحب نے حکومت میں آنے سے پہلے کیے تھے ان تمام وعدوں پر خان صاحب نے یوٹرن لے لیا کیا۔
کیا یہ ہے نیا پاکستان؟ کیا یہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیاں؟ خان صاحب اس قوم نے آپ کو لیڈرعوام کو گھبراہٹ میں ڈالے کے لیے نہیں بلکہ کچھ کردکھانے کے لیے بنایا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *