• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تنازعات میں توسیع نہیں،توازن چاہیے۔۔۔۔اسلم اعوان

تنازعات میں توسیع نہیں،توازن چاہیے۔۔۔۔اسلم اعوان

مولانا فضل الرحمٰن کی اے پی سی میں اختلافات کی خبروں کے بعد حکومت اگر اپوزیشن جماعتوں کے خلاف احتسابی کاروائیوں کو محدود کرکے چھوٹے گروپوں کو مینج کرلیتی تو سیاسی اضطراب میں کچھ کمی آ سکتی تھی مگر افسوس کہ نیب اور اے این ایف جیسے سرکاری اداروں کی فعالیت کی بدولت قومی سیاست معمول کے وظائف کی طرف پلٹنے کی بجائے تھکا دینے والی کشمکش کی طرف بڑھتی جا رہی ہے،البتہ رانا ثنااللہ کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے ہاتھوں گرفتاری کی ٹائمنگ کافی اہم تھی،اس ایشو کی میڈیا میں بھرپور کوریج کے باعث سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف وکلاءکا احتجاج پس منظر میں چلا گیا۔

بظاہر یہی لگتا ہے کہ ہمارے اربابِ  بست و کشاد نے شعوری کوشش کے ذریعے  2018  کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات سے ابھرنے والی کشیدگی کے دائروں کو وسعت دے کر سیاست کی پوری جدلیات کو تہہ و بالا رکھنے کی جو حکمت عملی اپنائی،اس کا اصل ہدف نواز لیگ کو پیچھے دھکیل کر  پیپلزپارٹی کے سیاسی کردار کو نمایاں کرنا تھا، لیکن خلاف توقع مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت مخالف تحریک اس منصوبہ کو پوری طرح روبہ عمل لانے کی راہ میں حائل ہو گئی،بلاشبہ جے یو آئی نے اپنی طاقتور فعالیت کے ذریعے نہ صرف پریشان حال نواز لیگ کو سہارا دیا بلکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے چھوٹے گروپوں کو بھی مایوسی کی  دلدل میں گرنے سے بچایا۔یہ مولانا فضل الرحمٰن ہی تھے جنہوں نے شدیدترین اختلافات کے باوجود پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کامیابی حاصل کی اور پچھلے دس ماہ کے دوران پیپلزپارٹی کی طرف سے گورنمنٹ کے خلاف اپوزیشن کی ہر کوشش کو ناکارہ بنانے کی پالیسی کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن آصف علی زرداری کو چیئرمین سینٹ کی تبدیلی کے فیصلہ تک لانے میں کامیاب ہو گئے،اگر اپوزیشن جماعتیں بلوچستان کے کہنہ مشق سیاستدان میرحاصل بزنجو کو چیئرمین سینٹ کا امیدوار بنانے پہ متفق ہوگئیں تو اسے بھی مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت کا اعجاز سمجھا جائے گا۔

قصہ کوتاہ،تنازعات کو بڑھانے کی پالیسی(Conflict Management ) سے حکومت کو وہ نتائج نہیں مل سکے جو وہ حاصل کرنا چاہتی تھی،اسکے برعکس انہی تنازعات کی شدت نے بکھری ہوئی اپوزیشن کو متحد ہونے میں مدد دی ۔اگر ہم غور سے دیکھیں تو معاملات کو سلجھانے کی بجائے تنازعات کو وسعت دینے کی پالیسی سے حکومت سیاسی ماحول میں کوئی نیا رجحان تو تخلیق نہ کر سکی لیکن یہی جدلیات حزب اختلاف کے بیانیہ کو مقبولیت عطا کرنے کا سبب ضرور بنی۔مرکزی دھارے کے میڈیا میں حکومتی پالیسیوں پہ تنقید کا فائدہ بھی بلواسطہ حزب ِ اختلاف ہی کو ملتا ہے لیکن سوشل میڈیا پہ اپوزیشن کی جارحانہ مہم رائے عامہ کو حکومت کے خلاف صفِ  آرا ء کرنے میں زیادہ موثر ثابت ہوئی،اپوزیشن والے سوشل میڈیاکی وساطت سے کمرتوڑمہنگائی کے خلاف عوامی ناراضگی کو اینٹی گورنمنٹ تحریک میں بدلنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں،عوامی دکھوں پہ ماتم کناں رہنے کی پالیسی عوامی حمایت کے حصول کا موثر وسیلہ ہوتی ہے۔

بہرحال اس کشمکش سے حکومت کو کچھ ملے نہ ملے ،پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری کو میدانِ  سیاست میں اپنا دائرہ اثر بڑھانے کا سنہرامواقع مل گیا،آصف زرداری کی جعلی بنک اکاونٹس کیس میں گرفتاری اگرچہ نواز لیگ کے خلاف کی جانے والی تادیبی کاروائیوں کو دھندلانے کا شاخسانہ تھی لیکن یہ پیش دستی بھی پیپلزپارٹی کےلیے مظلومیت کی رِدا اوڑھنے کا ذریعہ بنی،حتّی کہ جیو نیوز کے پروگرام  کیپیٹل ٹاک میں آصف زرداری کا انٹرویو رکوانا بھی پیپلزپارٹی کی پروجیکشن کا موثر وسیلہ ثابت ہوا۔لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نواز لیگ نے حالات کے جبر کے تحت پیپلزپارٹی کی راہیں کشادہ بنانے کی ریاستی پالیسی کو قبول کر کے درست راہ ِ عمل اپنائی،لیگ والے جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی لامحالہ سیاسی اقدار میں یقین رکھنے والی ایسی جمہوری جماعت ہے جو سیاسی روایات اور بقاءباہمی کے قرینوں کا لحاظ رکھے گی،پیپلزپارٹی کو اگر پیشقدمی کی مہلت ملی تو اس کا فائدہ تمام جمہوری قوتوں کو ملے گا۔پتہ نہیں کیوں حکومت اپنی سیاسی حمایت بڑھانے کی بجائے دن بدن اسے گھٹانے کی پالیسی پہ کاربند دیکھائی دیتی ہے،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گورنمنٹ اے این پی،قومی وطن پارٹی اورمذہبی تنظیموں سمیت چھوٹی جماعتوں کو ہم نوا بنا کے نواز لیگ کو تنہا کرتی مگر افسوس کہ وہ اپنے ساتھ پہلے سے منسلک ایم کیو ایم اور بی این پی مینگل کو بھی مطمئن نہیں رکھ سکی۔

اس کے برعکس مشکلات کے بھنور میں الجھی نواز لیگ کی قیادت،سیاسی ساکھ کی حامل جے یو آئی اور بی این پی بزنجو سمیت چھوٹے گروپوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت مسلم لیگ نواز کے اندر سے چند صلح جُو افرادکو الگ کرنے کی سکیم کو بھی عملی جامہ نہ پہنا سکی،پہناتی بھی  کیسے؟جب شہباز شریف کو اتنی سہولت بھی نہ مل سکی کہ وہ خود یا اپنے بچوں کی جاں بخشی کرا کے مسلم لیگ کے ممبران اسمبلی کو یہ بیغام دے سکتے کہ ان سے وابستہ ہونے والوں کی کھال بچ جائے گی،پوری خود سپردگی کے باوجود جب شہبازشریف کو اپنے بیوی بچوں سمیت نیب کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تو اس سے پارٹی کے اندر نوازشریف کے مزاحمتی بیانیہ کو تقویت ملی،لیگی  ممبرانِ  اسمبلی جان گئے کہ سرنڈر کرنے کے باوجود بھی عزت بچے گی ،نہ سیاسی ساکھ۔غیر محدود احتسابی کارروائیوں کی بدولت خود شریفوں کے خاندانی دائرہ میں بھی یہ احساس پختہ ہوتا گیا کہ سیاست کی بساط پہ ان کےلیے  مزاحمت کے سوا تمام راہیں مسدود ہیں۔

مریم نواز کی طرف سے نواز شریف کو العزیزیہ مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی گفتگو پہ مشتمل مبینہ وڈیو کا  سامنے آنا بھی   کسی طاقتورمزاحمت کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے،اگر تضادات میں توازن رکھا جاتا تو نوبت یہاں تک پہنچتی، نہ مسلم لیگی قیادت مریم نواز کے پیچھے بیٹھ کے عدلیہ پہ اس مہلک وار کی پشت پناہی کرتی۔ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے  کہ چوہدری نثار جیسے تواناکرداربھی عبرت کا نشان بن گئے،انہیں بھی کوئی ایسی سہولت نہ مل سکی جس کے ذریعے وہ نواز لیگ کے اندر موجود مفاہمت کے حامیوں کےلیے  کشش کا باعث بنتے،لحاظہ مجبوراً نواز لیگ کے دوسری اور تیسری صف کی لیڈر شپ کو اپنا وزن نوازشریف کے مزاحمتی بیانیہ کی حمایت میں ڈالنا پڑا۔چنانچہ شہباز ڈاکٹرین کی ناکامی کے بعد نواز لیگ کی لیڈر شپ کا مریم نواز کے ہاتھ  آ جانا یقینی تھا۔

اب پنجاب سے تعلق رکھنے والی ملک گیر جماعت کی مزاحمت خیبر پختون خوا،بلوچستان اور سندھ کی چھوٹی جماعتوں کے علاوہ وکلاءتنظیموں کو بھی مقتدرہ کے سامنے کھڑا ہونے کا حوصلے دے سکتی ہے۔مولانا فضل الرحمٰن تو روز اول ہی سے آئینی بالادستی کی فیصلہ کن جنگ لڑنے کے حامی تھے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ مریم نواز کے مزاحمتی کردار سے متاثر ہو کے پیپلزپارٹی جیسی مفاہمت کی عادی جماعت کی نوخیز قیادت بھی شوقیہ انداز میں اسی راہ کو اپناتی نظر آئی جس کا انتخاب نواز لیگ کی شوریدہ سر قیادت نے با امر مجبوری کیا۔بلکہ نیب اور اب اے این ایف کی جانب سے مقدمات کی یلغار کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کی دلیرانہ للکار سن کے حکومتی منڈیر پہ بیٹھی،ایم کیو ایم اور بی این پی مینگل بھی پرواز کےلیے  پَر تول رہی ہیں۔حالانکہ صورت  حال  یہ تھی کہ اے پی سی میں مولانا کی قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفٰی ہونے کی تجویز کو پذیرائی اس لیے  نہ ملی کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کویقین تھا،انہوں نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تو ان کے ممبران اسمبلی کی اکثریت استعفے نہیں دے گی،دھرنوں کے وقت ایسے ہی تجربے  سے پی ٹی آئی خود بھی گزری،عمران خان نے جب قومی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کیا تو کئی پی ٹی آئی ممبران نے استعفے دینے سے انکار کر دیا،جنہوں نے استعفے دیئے وہ بھی اسپیکر ایاز صادق کو پیغام بھجواتے رہے کہ فزیکل ویریفیکیشن کے بغیر انکے استعفے قبول نہ کیے  جائیں۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *