مبارکہ طیّب علوی۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

زیر مطالعہ کہانی اقبال دیوان صاحب کی پہلی کتاب”جسے رات لے اڑی ہوا “ میں شامل ہے۔
یہ کہانی ان کی ملازمت کے دنوں سے جڑے ایک اہم اور سچے واقعے پر مبنی ہے۔ماہرہ (نام اصل نہیں) ڈاکٹر ظفر الطاف کے ملنے والے برطانیہ میں مقیم گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔دیوان صاحب کی دوست ہوا کرتی تھی، جس نے شاید اس خوف سے کہ اس کے گود لیے بچے کے جائیداد کے حوالے سے دعویدار نہ پیدا ہو جا ئیں ،کہانی کے ہر پاکستانی کردار سے تعلق توڑ لیا ہے۔
”زندگی کا یہ المیہ ہے کہ احسان کو سب سے پہلے بھلادیا جاتا ہے“۔۔یہ اس کہانی میں مذکور ایک خاتون کردار وجیہہ کا شکوہ ہے۔کہانی کے مندرجات ایدھی صاحب کی خدمات کے حوالے سے شائع شدہ کالم میں شامل ہیں مندرجہ ذیل کہانی البتہ ان کی کتاب سے لی گئی ہے۔
انعام رانا
ایڈیٹر ان چیف

ایدھی صاحب کی دنیا
ایدھی صاحب کی دنیا
ایدھی صاحب کی دنیا
ایدھی صاحب کی دنیا

عدنان کہنے لگا کہ وہ کچھ سال پہلے ایک تربیتی کورس پر چند ماہ کے لیے برطانیہ گیا تھا۔اس کورس میں لیکچر دینے ایک پاکستانی خاتون ماہرہ علوی آیا کرتی تھی، اس کا تعلق کچھ برطانیہ اور جرمنی سے تھا۔شادی اس نے ایک جرمن فریڈرک سے کی تھی۔وہ مسلمان ہوگیا تھا۔

ماہرہ علوی سے عدنان کی جلد دوستی ہوگئی کیوں کہ اس پورے کورس میں وہ واحد پاکستانی تھا۔
ماہرہ علوی اور فریڈرک جس کا اسلامی نام طیب رکھا گیا تھا، دونوں کی کوئی اولاد نہ تھی، مگر   ان دونوں کو بچے کی بہت طلب تھی۔اُنہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ ایک پاکستانی بچی جو ماں اور باپ دونوں جانب سے یتیم ہو گود لینا چاہتے ہیں، کیا وہ ان کی اس کام میں مدد کرسکتا ہے جس پر عدنان نے کہا وہ پاکستان واپس جاکر اس بات کے امکانات کا جائزہ لے کر انہیں جواب دے گا۔

یہاں آن کر اس نے ایک ادارے ایدھی ٹرسٹ سے رابطہ کیا۔ادارے نے اسے بتایا کہ اس طرح کی درخواستوں کی ان کے پاس ایک لمبی لِسٹ ہے لہذا اسے ایک کام یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے کوائف ان لوگوں کو دے جائے۔عدنان نے جب یہ بات ای۔میل کے ذریعے ماہرہ کو بتلائی تو وہ کچھ مایوس سی ہوئی، مگر کہنے لگی کہ عدنان اپنے تعلقات کا اگر استعمال کرے تو وہ بڑی ممنون ہوگی۔

عدنان کوباتوں باتوں میں پتہ چلا کہ اس کی سیکرٹری کی ایک دور کی رشتہ دار اس رفاہی ادارے کی ملازم ہے،اس نے جب اپنی سیکرٹری وجیہہ سے بات کی تو اس نے اپنی رشتہ دار سے اس بات کا تذکرہ کچھ اس دکھ بھرے انداز میں کیا کہ تین دن بعد اسکے سیل فون پر اس ادارے کی جانب سے رات دس بجے فون آیا کہ ان کے  لیے فوری طور پر ایک بچی موجود ہے وہ آن کر لے جائے۔اس نے ماہرہ کو فوراً ای۔میل کی مگر ماہرہ نے کہا کہ وہ کسی طور پندرہ دن سے پہلے پاکستان نہیں آسکتی، وہ خود اس وقت مراکش میں ہے اور طیب کہیں ویت نام میں بیٹھا ہے۔

بات آئی گئی ہوگئی۔۔لیکن ماہرہ اور طیب ایک ماہ بعد پاکستان آن پہنچے۔عدنان انہیں لے کر اس ادارے کے دفتر جب اگلی صبح پہنچا تو وجیہہ بھی ان کے ساتھ تھی۔ادارے کی سربراہ نے انہیں خوب ڈانٹا اور وہ فارم دکھایا جس پر عدنان کے نام کے آگے سرخ روشنائی سے انگریزی میں لکھا تھا “Non-Serious” یعنی درخواست گزار غیر سنجیدہ ہے۔

ادارے میں اس وقت کافی لوگ اسی مقصد کے تحت آئے ہوئے تھے اور سربراہ بتانے لگی کہ انہیں روزانہ نو سے دس نوزایئدہ بچوں کی لاشیں مختلف مقامات سے ملتی ہیں اور اتنے ہی نو مولود بچے انہیں شہر میں جو ان کے مختلف مقامات پر سینٹر ہیں وہاں پر باہر رکھے ہوئے جھولوں میں زندہ حالت میں ملتے ہیں،عدنان چونکہ ان بچوں کی لاشیں چھوٹے سفید کفنوں میں لپٹی پہلے دیکھ چکا تھا لہذا اسے اس پر کوئی حیرت نہیں ہوئی مگر وہاں موجود لوگوں کے لیے  یہ ایک جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا انکشاف تھا۔

جب سب لوگ چلے گئے تو ادارے کی سربراہ نے   کہا کہ وہ  انہیں ایک 14 سال کی بہت خوبصورت لڑکی سے ملوانے اندر لے جائیں گی، یہ بچی پانچ ماہ کی حاملہ ہے۔وہ اس سے کوئی سوال نہ پوچھیں، جب اس کے ولادت ہوجائے گی تو وہ اس کا بچہ ماہرہ اور طیب کو دے دیں گی۔اسکے ساتھ ہی اس نے عدنان کے ہاتھ میں ایک فائل سے نکال کرایک خط دیا کہ وہ انہیں پڑھ کر سنائے۔ خط میں لکھا تھا۔”میڈم صاحبہ۔ہم غیرت مند لوگ ہیں بچی کو میرا ارادہ قتل کرنے کا تھا۔مگر اس کی ماں نے بہت واسطے دیے ، یہ ہماری ایک ہی اولاد ہے،حالات کچھ ایسے ہیں کہ ہم دوسرا بچہ پیدا نہیں کرسکتے۔میری بیوی اور اس کی ماں نے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے اسے قتل کیا تو وہ خودکشی کرلے گی اس طرح میری گردن پر تین لوگوں کا خون ہوگا، میں اس آدمی کو بھی قتل کرنا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا، مگر نہ تو بچی اس کا نام بتاتی ہے نہ ماں،میں کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔بچی کی جان اور میری عزت اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔”

پریٹی زنٹا
بوسنیا کے مظالم
بوسنیا کے مظالم
بوسنیا کے مظالم

عدنان نے خط پڑھ کر جب سنایا تو سبھی رو رہے تھے حتٰی  کہ فریڈرک طیب بھی۔اس لیے  کہ ماہر ہ اسکے لیے خط کا ترجمہ بھی ساتھ ساتھ کرتی جارہی تھی۔
ماہرہ نے پوچھا ،اس نے آپ کو بتایا کہ یہ کس کی حرکت تھی۔ تو ادارے کی سربراہ نے جواب دیا کہ وہ اس کی ماں کا قریبی رشتہ دار ہے۔شاید ماموں وغیرہ بھی ہوسکتا ہے ۔یہ  لوگ ایک شادی میں گاؤں گئے تھے جہاں یہ سب کچھ ہوگیا،بیٹی نے ماں کو بھی بہت بعد میں پتہ چلنے دیا۔اب آپ لوگ اسکو دیکھ لیں، یہاں اور بھی بچے ہیں مگر ایک تو ان میں لڑکے ہیں اور زیادہ تر ذہنی طور پر معذور ہیں۔آپ کو تو لڑکی چاہیے  نا اور وہ بھی نارمل۔

ماہرہ نے کہا کہ ایک تو طیب کو لڑکی کا شوق ہے اور دوسرے وہ خود بھی اتنی مصروف ہوتی ہے کہ ایک ذہنی طور پر معذور بچّے کو پالنا شاید  اس کے لیے ممکن نہ ہو۔
ادارے کی سربراہ انہیں اند رلے گی،یہاں بچے کھیل رہے تھے۔ معصوم اور اپنے والدین کے پیار سے محروم دنیا کی زیادتیوں سے بے خبر، ایک استانی نے گھیرا بناکر کچھ بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم دینے کا بھی انتظام کر رکھا تھا۔انہیں یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ بچے کافی آرام سے تھے اور قدرے خوش بھی۔شاید یہ سب اتنے چھوٹے اور معصوم تھے کہ انہیں ماں کے وجود کا اور اپنی موجودہ حالت کا شعور ہی نہ تھا۔ان بچوں کے کمرے سے لے کروہ انہیں ایک ایسے ہال  میں لے گئی ،جہاں کچھ لڑکیاں اور عورتیں سلائی اور دیگر امور میں مصروف تھیں۔انہی میں وہ لڑکی رافعہ بھی تھی۔ماہرہ کو لگا کہ وہ ہندوستانی اداکارہ پریٹی زنٹا کا سراپا دیکھ رہی ہے، وہی دور افتادہ حسن،وہی کھوئی کھوئی سی نظریں،جامنی رنگ کے ایک ڈھیلے فراک اور گہری سبز رنگ کی شلوار پر بڑا سا چنری کا دوپٹہ اوڑھے وہ کوئی کپڑے پر گوٹا ٹانک رہی تھی۔وہ ایک نظر اس پر ڈال کرکچھ بات کیے  بغیر آگے بڑھ گئے۔

سائیں عبداللہ شاہ غازی کا مزار
سائیں عبداللہ شاہ غازی کا مزار

ماہرہ اور طیب کچھ اداس تھے۔بچی کی موجودگی اورشاید یہ سوچ کر کہ وہ اس کے آنگن میں کھلنے والا پھول اس کو بتائے بغیر توڑ کر کہیں ایسے ملک میں لے جائیں گے جس کا اس بیچاری نے نام بھی نہ سنا ہو، اس کا بچہ ایک ایسے گھر میں پلے گا جس کا ہر دروازہ، ہر کھڑکی بچے کی ماں کے لیے  بند ہوگی۔

عدنان سوچنے لگا کہ کیا وہ خواتین جو کسی زیادتی کا شکار ہو کر بچوں کو جنم دیتی ہیں، انہیں بھی اس بچے سے اتنا ہی پیار ہوتا ہے،اسے بوسنیا کی وہ مسلم خواتین بھی یاد آئیں جنہیں وہاں کے عیسائی سپاہیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حاملہ کیا جسے  انہوں نے  نسلی صفائیEthnic Cleansing کا نام دیا۔ کیا ان عورتوں کو جو ایک نفرت کے تحت ان کے وجود کا زبردستی حصہ بنادئیے گئے انہیں بھی ان کی مائیں اسی طرح چاہیں گی جس طرح وہ اپنے سماجی طور پر مروجہ اور محبت کے واسطوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو چاہتیں۔عدنان کے ذہن میں اس بچی کو دیکھ کر سوالات کا ایک سونامی پھٹ گیا۔ وہ سوچتاہی رہا کہ ان بیچارے بچوں کا جانے کیا بنا ہوگا اور ان کی ماؤں کا کیا ہوا ہوگا۔؟
جبر و استبداد کا دور جانے کب تک دنیا کی بے حسی کی وجہ سے جاری رہتا مگر پھر یہ ہوا کہ جہاں مسلمان ممالک کی حکومتیں اور افواج عالمی سیاست کی مصلحتوں کا شکار ہوکر اس ظلم و بربریت کو روکنے سے قاصر رہیں وہاں وہ جہادی اور عرب جو افغانستان سے روس کے ٹوٹنے  سے فارغ ہوگئے تھے، کسی طرح بوسنیا جہاد کے لیے  پہنچ گئے اور جب دنیا کی بڑی طاقتوں کو لگا کہ جہاد کی یہ آگ بہت پھیل جائے گی اور یورپ جہاں مسلمانوں کی آبادی اب دوسری بڑی آبادی ہے کسی نئی جغرافیائی اور مذہبی شناخت کا ذریعہ بن جائے گی، تو یہ جنگ روک دی گئی اور سابقہ یوگوسلاویہ کے حصے بخرے کردیے  گئے۔

عدنان نے دونوں میاں بیوی کو گھر کھانے کی دعوت دی،کھانے سے واپسی پر جب وہ ان کو ہوٹل واپس چھوڑنے جارہا تھا، تو طیب کی نگاہ ایک گنبد پر پڑی،یہ ایک مشہور مزار تھا جسکی سیڑھیوں پر گیٹ کے باہر لوگوں کا ایک بڑا ہجوم تھا۔اس نے کہا کہ کیا وہ اس جگہ کو اندر سے دیکھ سکتا ہے، اس نے کوئی مزار اندر سے کبھی نہیں دیکھا، لوگ وہاں کیا کرتے ہیں تو عدنان اور ماہرہ نے بتایا کہ وہاں فاتحہ پڑھتے ہیں، کئی لوگ اسے وہاں قرآن کریم یا ساتھ ہی احاطے کی مسجد میں نمازیں پڑھتے ہوئے بھی نظر آئیں گے۔اس نے طیب کو وضو کرایا اور وہ اوپر مزار کے اندر چلے گئے۔طیب کے لیے  یہ ایک حیران کُن ماحول تھا۔
جس وقت وہ مزار پر کھڑے تھے اور یہ دونوں میاں بیوی دعا مانگ رہے تھے رات کے ٹھیک ساڑھے دس بجے تھے۔
واپسی پر وہ ایک ایسے راستے سے گزرے جہاں ایک کھلی جگہ پر ریسٹورانٹ تھا جہاں لوگ شیشہ پی رہے تھے۔ طیب نے ضد کی کہ وہ یہاں کچھ دیر بیٹھ کر شیشہ پیے  گا۔ماہرہ نے احتجاج کیا کہ شیشہ صحت کے لیے  اچھا نہیں مگر طیب نے ضد کی کہ کبھی کبھار  سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور کراچی میں تو ویسے بھی اتنا کاربن فضا میں موجود ہے کہ یورپ کے بعض صنعتی شہروں میں اس سے کم کاربن وہاں کی فضا میں ہوگا۔وہ کہنے لگا کہ  برصغیر کے کچھ شہروں میں ستر فیصد فضائی آلودگی وہاں کی گاڑیوں کی وجہ سے ہے۔

جب وہ بیٹھ کر وہاں عربی قہوہ اور شیشہ پی رہے تھے تو ماہرہ کچھ کھوئی کھوئی اور چپ چاپ سی تھی،طیب نے شاید  سوچا ہو کہ وہ اس بارے میں اس سے ہوٹل کے کمرے میں پوچھے گا،مگر عدنان نے اس سے اردو میں پوچھ ہی لیا کہ وہ کیوں اتنی اداس ہے۔؟
ماہرہ علوی نے ایک دھماکہ کیا کہ وہ اس لڑکی  کے  بچّے کو گود نہیں لینا چاہتی۔
وہ کیوں؟ عدنان نے اس سے استفسار کیا۔۔
کہنے لگی کہ “اس کا کلیجہ اس خیال سے ہی کٹ رہا ہے کہ لڑکی کے ساتھ ایک تو پہلے ہی بہت ظلم ہوا اور وہ موت کے منہ سے واپس آئی ہے،جس جذباتی کرب سے وہ گزر رہی ہوگی،اس کا اندازہ ایک عورت ہونے کے ناطے وہ بہت اچھی طرح کر سکتی ہے۔دوسرا ظلم اس لڑکی پر یہ ہوگا کہ جب بچہ پیدا ہوگا تو اس بچے کو اس سے یہ کہہ کر جدا کردیا جائے گاکہ اس کی موت واقع ہوگئی ہے اور اس خاموشی سے دفنا دیا گیا ہے۔مجھے یقین ہے ادارے والے، اُسے بچہ پہلے بھی نہ دیتے، ان کی کوشش یہ ہی ہوگی کہ لڑکی واپس اپنے والدین کے پاس چلی جائے اور یہ راز کہ وہ ایک بچے کی ماں بن چکی ہے ہمیشہ کے لیے  اس گھر کی چار دیواری میں دفن ہوجائے جہاں اس نے بچے کو جنم دیا۔سوچیں عدنان میاں یہ کتنا بڑا جرم اور جھوٹ ہوگا۔میں نہیں چاہتی کہ جس وجود کی ابتدا  جھوٹ اور جرم سے ہو اس کی اپنی گود میں پالوں۔میرے لیے  یہ ایک بہت بڑااخلاقی تضاد ہے اور میں اس سے سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔”
عدنان نے دیکھا کہ یہ سب بتاتے ہوئے ماہرہ کی  آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے،طیب نے کھڑے ہوکر اپنے کرتے کے دامن سے اس کے آنسو پونچھے۔
ماہرہ نے ہچکیوں کے درمیان اسے بتایا کہ ” اس نے مزار پر اللہ سے دعا کی ہے کہ اسے کوئی اور بچہ گود لینے کے لیے  دے۔ اس لڑکی کا بچہ وہ نہیں لے گی۔”
طیب نے اس سے درخواست کی کہ ” کیا وہ کچھ اور بندوبست نہیں کرسکتا۔؟”
ماہرہ کہنے لگی وہ تین دن بعد واپس فرینکفرٹ چلی جائے گی۔ اگر کل کچھ ہوجائے تو اچھا ہے وہ دو دن کے لیے  طیب کو لاہور دکھانا چاہتی ہے۔
عدنان نے کہا وہ صبح خود تو مصروف ہوگا مگر وہ نعیم اور وجیہہ کو گاڑی کے ساتھ بھیج دے گا۔نعیم اس کا ایک بہت سمجھدار اور تعلقات والا افسر ہے وہ چاروں واپس اس ادارے کی سربراہ کے پاس جائیں،ان کو اپنی مشکل بتادیں ہوسکتا ہے کہ کوئی حل نکل آئے۔
واپسی پر عدنان نے دور سے انہیں اس ادارے کی ایک برانچ پر رکھا ہوا جھولا دکھایا جس میں بعض دفعہ لوگ خاموشی سے اپنے بچے ڈال جاتے ہیں۔
اگلے دن جب وہ سینٹر پر پہنچے تو ادارے کی سربراہ نے انہیں وہاں  دیکھ کر شدید برہمی دکھلائی،کہنے لگی کیا سمجھتے ہو تم لوگ، بچہ لینا کوئی کھیل نہیں، تم سمجھتے ہو کہ تمھارے پاس دولت ہے تو تم ساری دنیا خرید سکتے ہو، چپ کر کے  یہاں کونے میں بیٹھ جاؤ جب تک میں نہ کہوں یہاں سے ہلنا نہیں ورنہ میرے سینٹر پر آئندہ مت آنا۔
طیب تو بے چارہ  ڈانٹ کے بعد کمرۂ ملاقات سے باہر نکل گیا اور  گلیوں میں ٹہلنے لگا۔جس معاشرے کا وہ فرد تھا وہاں گفتگو کبھی بھی ان الفاظ میں یا اس طور نہ ہوتی تھی۔

کلیمپ
بچہ گود لینے کا فارم
مبارکہ یہاں ملی
مبارکہ یہاں ملی

ما ہرہ کو یہ فکر ہوئی کہ وہ ان گلیوں میں گم نہ ہوجائے،لہذا اس نے آنکھ کے اشارے سے نعیم کو اس کے ساتھ باہر رہنے کو کہا اور خود اس سوچ میں پڑگئی کہ  ادارے کی سربراہ نے انہیں سب کے سامنے ڈانٹ  کر  چپ چاپ بیٹھ جانے کو کیوں کہا۔
آج ادارے کی سربراہ کا موڈ بہت خراب لگ رہا تھا۔بچہ گود لینے کے لیے  جتنے بھی جوڑے آئے ہوئے تھے تقریباً سب ہی کو ڈانٹ پڑ رہی تھی۔ماہرہ سوچنے لگی کہ آخر میں وہ اس کا اور طیب کا نہ جانے کیا حشر کرے گی۔جب ملاقاتی ہال سے آخری جوڑا رخصت ہوا تو اس نے دروازہ بند کرنے کو کہا اور چپڑاسی کو حکم دیا کہ اس کے میاں کو بھی اندر بلالے۔طیب ڈرتے ڈرتے ہال میں داخل ہوا اور اس کے پیچھے دھڑ سے دروازہ بند ہوگیا، نعیم بے چارہ ہال کے باہر ہی رہ گیا۔سربراہ کے تیور دیکھ کر ماہر ہ کی ہمت نہ پڑی کہ  وہ اسے بھی اندر بلانے کا کہے۔
سربراہ نے طیب کے اندر آتے ہی وہ کچھ کہا کہ جس کی وہاں موجود کسی بھی فرد کو ہرگز توقع نہ تھی۔اس نے کہا، “چل تیرے کو تیرا بچہ دوں “۔وہ انہیں عین اس جگہ لے گئی۔چند قدم کا یہ فاصلہ ماہرہ اور طیب کے علاوہ وجیہہ کو بھی صدیوں کی مسافت لگا۔
جب وہ اندر پہنچے تو اس نے آیا کو کہا ” زبیدہ! جا وہ بچی لے آ۔”
آیا زبیدہ گئی اور برابر کے کمرے سے ہلکے گلابی کمبل میں لپٹی ایک کومل سی بچی لے آئی جو آنکھیں کھولے اپنے نئے ماں باپ کو دیکھے جاتی تھی۔بچی خوبصورت بھی تھی اور کمبل کو دیکھنے سے لگتی تھی کہ وہ کسی اچھے گھرانے کی تھی۔اس کی  ناف پر جو ایک کلیمپ clamp لگا تھا وہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ بچی کو پیدا ہوئے ایک آدھ دن سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور اس کی پیدائش بھی موزوں طریقے سے ہوئی ہے۔

ادارے کی سربراہ نے ماہرہ کا ماتھا چوما اور آہستہ سے دعا دی کہ ” اللہ تیرا اور اس کا دونوں کا نصیبہ اچھا کرے۔ تیرا میاں بہت اچھا آدمی ہے، ادھر کے ہمارے مردوں جیسا غصیلا اور ہلکا نہیں۔ کل رات کو ساڑھے دس بجے ہمارے وہ کلفٹن والے سینٹر پر   ایک ٹیکسی آکے رکی۔ ہمارے سینٹر کا انچارج باہر ہی کھڑا تھا۔جو بڑی بی بچی کو جھولے میں ڈالنے کے لیے  کار سے اتری تھی وہ گھبرا گئی مگر ہمارا انچارج بولا کہ میں اندر چلا جاتا ہوں، آپ فکر مت کرو اور بچی کو ڈال دو  ،تو اس نے بچی کو اس کو دے دیا اور خود چلی گئی ٹیکسی میں بیٹھ کے۔”
سادہ لوح ماہرہ نے پوچھا کہ اچھا وہ لوگ ٹیکسی میں آئے تھے۔؟
ادارے کی سربراہ کہنے لگی “اب ٹیکسی میں آئے تھے کہ پانی کے جہاز میں تو اتنی پنچات(فکر) کیوں کرتی ہے۔تو اور تیرا میاں فارم پر سائین کر اور بھاگ بچی کو لے کر۔ ایک سال بعد تو اس کا فوٹو بھیجنا تیرے اور میاں کے ساتھ اور تیرا وہ بوائے فرینڈ کہاں اس کے بھی سائین ہوں گے۔ اس کی گارنٹی ہوگی۔ یہ ہماری الماس(وجیہہ کی رشتہ دار) ہے نا اس نے میرا لوئی(لہو) چوس لیا تھا کہ ماں ان کو اپنے کو بچی جرور دینی ہے”۔
جس وقت وہ فارم پر سائین کررہے تھے ادارے کی سربراہ کہنے لگی۔۔”یہ مالدار لوگ ادھر ٹیکسی میں آتے ہیں بچے ڈالنے، گھر کے مردوں اور ڈرائیوروں سے چھپانا ہوتا ہے بات کو،اپنی گاڑی کا نمبر بھی چھپانا ہوتا ہے نا۔ گھیلی(پاگل)۔ادھر یہ چھوڑ کر گئے اس کو ادھر میرے کو سیل فون پر انچارج کا فون آیا، میں بولی اس کو فوراً تو ادھر ایمبولنس میں ڈال کر پارسل کر میرے پاس۔آج تیرا وہ بوائے ٖفرینڈ نہیں آیا کیا ناراج (ناراض)ہوگیا ہے میرے سے۔وہ جرا (ذرا) ناجک(نازک)مزاج لگتا ہے۔ آفیسر ہے نے۔میرا میاں اس کی بہت تعریف کرتا ہے۔بولا کہ اپنے کو اس کو کام جرور (ضرور)کرنا ہے۔”
ماہرہ جس کے لیے  لفظ بوائے فرینڈ کا استعمال مسلسل الجھن پیدا کر رہا تھا۔کہنے لگی ” وہ میرا بوائے فرینڈ نہیں،میرا بوائے فرینڈاور میاں یہ کھڑا ہے “۔۔وہ طیب کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی۔ جو فارم پڑھ رہا تھا اور اس کے مندرجات کو بھرنے کی کوشش میں لگا تھا۔
“تو وہ آفیسر تیرا دوست ہے نا،؟”ادارے کی سربراہ نے ایک شرارت بھری معصومیت سے پوچھا۔
“جی،”ماہرہ نے دبے دبے لہجے میں جواب دیا۔
” لڑکے کو انگلش میں کیا بولتے ہیں “؟ادارے کی سربراہ نے اصرار کیا۔
“بوائے”ماہرہ نے کہا
“اور دوست کو”؟وہ پوچھنے لگی
“فرینڈ”ماہرہ کو اب کچھ سمجھ میں آیا کہ بڑی بی اس کو  گھسیٹ کر کہا ں لے جا رہی ہیں۔۔
“تو میں نے کیا بولا”ادارے کی سربراہ نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا۔
“بوائے فرینڈ” ماہرہ نے اپنی شکست کا تاثر اپنے لہجے سے ظاہر کرتے ہوئے کہا
“تو میں نے غلط بولا”بڑی بی نے اپنی انگریزی کی برتری ماہرہ پر آخری مرتبہ ثابت کرتے ہوئے کہا

ماہرہ شرماگئی اور اس خیال سے کہ یہ موقع اسے ٖفرینڈ اور بوائے فرینڈ کا نازک فرق سمجھانے کا نہیں۔ اس نے اس کا شکریہ ادا کرنا شروع کردیا۔ وہ ہدایت دینے لگی کہ” نوزایئدہ بچوں کو شروع میں یرقان ہوجاتا ہے وہ جائے اور پہلے اس کا ٹیسٹ وغیرہ کرائے اور وہ اس کا نام کیا رکھے گی۔اس کے بعد میونس پالٹی(میونسپلٹی) سے اس کا برتھ سارٹی  فیکیٹ(سرٹیفکیٹ) بنے گا وہ جو تیرا دوست ہے نا اس کو بولے گی تو سارا کام فون پر ہوجائے گا۔دیکھ تیرے ساتھ اپنے دو فرشتے بھیجے ہیں نا۔یہ مارا ماری کرکے سب کام کردیں گے۔ہمارے ادھر آفیسروں کا بہت جور ہ(زور)ہے
“مبارکہ طیب علوی”ماہرہ نے تمام تفصیلات میں صرف نام بتانے کو مناسب جانا۔
نعیم نے بچی کے ہاتھ میں پانچ سو روپے کا ایک نوٹ دیا۔ ماہرہ انکار کرتی رہی مگر نعیم کہنے لگا کہ یہ ہماری طرف رسم ہے۔
ادارے کی سربراہ نے اس پر کہا کہ بچی خوش نصیب ہے۔جس پر ماہرہ نے اپنا پرس کھول کر جتنے ڈالرز تھے وہ تو ان کے عطیات کے بکس میں ڈال دیئے اور پاکستانی نوٹ وہاں عملے میں تقسیم کردئیے، عملہ پیسے لینے پر رضامند نہ تھا۔ وہ یہ سب خدمت بے لوث جذبے کے طور پر کرتے تھے، مگر جب ماہرہ نے بہت اصرار کیا اور یہ کہا کہ یہ سب کچھ اتنی اچانک ہوا ہے کہ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اس کی معافی دی جائے۔
وجیہہ کوالبتہ اس نے وہ فارم دیا کہ جائے اور گارنٹی فارم عدنان سے دستخط کراکے لاکر الماس کو دے دے اور مذاق میں کہنے لگی کہ تیرا تو وہ بوائے ٖفرینڈ نہیں ہے نا؟
جس پر وجیہہ شرماگئی اور کہنے لگی کہ عدنان صاحب اس کے اور نعیم صاحب کے باس ہیں۔
ادارے کی سربراہ نے آخری دفعہ مذاق کیا کہ ماہرہ یہ ہمارے پاکستان میں صاحب بہت جمع ہوگئے ہیں عدنان صاحب، نعیم صاحب، ایس پی صاحب،آئی جی صاحب،صدر صاحب۔۔تھوڑے تو ادھر اپنے ملک ہالینڈ میں لے جا تو ادھر ہم کچھ سکون کا سانس لیں۔

ماہرہ نے چلتے چلتے انہیں بتلایا کہ وہ ہالینڈ میں نہیں انگلینڈ میں رہتی ہے۔ بے چاری ماہرہ کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ ہالینڈ اور انگلینڈ، یہ ترکمانستان،ازبکستان اور تاجکستان میں فرق نہ کرنا اس سادہ لوح، دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والی خاتون کا ہی مسئلہ  نہ تھا بلکہ ردیف،قافیے کے ستائے ہوئے بڑے بڑے وزیر صاحبان بھی دنیا کی جغرافیائی حدود اپنے انداز سے متعین کرنے کے عادی تھے۔
مبارکہ بی بی کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ اسی دن، جرمنی کا پاسپورٹ تیسرے دن بن گیا ایک بہترین ہسپتال میں اسے کراچی کے ماہر امراض طفل نے مکمل صحت یابی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا، ہسپتال سے نکل کر یہ معصوم  سیدھی کراچی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے بزنس سوئیٹ میں رہنے پہنچ گئیں اور پاسپورٹ جاری ہونے کے پانچویں دن اپنے گھر اپنے دادا دادی کے پاس فرینکفڑٹ کے ایک نواحی گاؤں میں پہنچ گئیں جہاں ان کی بڑی جائیداد تھی، طیب ان کی اکلوتی اولاد ہونے کے ناطے اس جائیداد کا تنہا وارث تھا بلکہ اسکی بیوہ نانی کی جائیداد بھی اسے  ہی ملنی تھی جو یہودی تھی۔
سوچ کے دو متوازی دھارے اس دوران بہہ رہے تھے۔ایک ماہرہ علوی اور طیب کے ذہن میں:

ایم ایس این ،فیس بُک سے پہلے کی دنیا
آئس لینڈ کی اُڑتی راکھ
انٹر لاکن
انٹر لاکن
شہزادی حیا
شیٹ لینڈ پونی
مارٹینا ہنگز

ماہرہ اور طیب یہ سوچ رہے تھے کہ ان کی اس پوری کاوش میں اس مزار، ساڑھے دس بجے کے وقت،طیب اور ماہرہ کی مزار پر دعا اور عدنان،وجیہہ اور ماہرہ کے اس لڑکی کے ہونے والے بچے کو گود نہ لینے کے فیصلے کا کیا رول تھا۔
عدنان، وجیہہ اور دیگر افراد جو اس پوری کاوش میں شریک رہے، وہ بچی مبارکہ،اسکی ماں کی بے خبری اور نصیب کا کیا رول تھا، کیا اس کی  ماں کو پتہ ہوگا کہ اس کی  بچی کس ناز و نعم میں پلے گی۔ کیا زندگی میں نصیب سے بڑھ کر بھی کسی اور شے کا دخل ہے؟

ہندوستان کا مشہور اداکار راج کپور کہا کرتا تھا۔ “ماں جنم دے سکتی ہے، کرم(نصیب) نہیں دے سکتی۔”مبارکہ کی ماں نے بھی اسے صرف جنم دیا تھا اور اسے کرم رضائے الہٰی سے ملا تھا۔
عدنان نے جب مبارکہ کو چوما، ماہرہ کو گلے لگایا تو آہستہ سے وقتِ رخصت ائیر پورٹ پر اداکار راج کپور کے الفاظ دہراتے ہوئے صرف اتنا کہا۔” The Show must go on! ”
بعد از داستان
۔۔۔۔۔۔
ماہرہ اسے ایک دن اتفاقاً چارلس ڈیگال ئیرپورٹ پر بیٹھی MSN پر مل گئی۔ان دنوں آئس لینڈ کے آتش فشاں سے اڑنے والی راکھ نے اس کی فلائٹ کا معمول درہم برہم کردیا تھا۔وہ خود بھی کسی مسافر خاتون سے برلن کے ہوائی اڈے پر بیٹھا چہلیں کررہا تھا کہ اس کی فلائٹ کا وقت ہوگیا اور وہ اسے تڑپتا چھوڑ  کر چل دی۔

SHOPPING

اس نے بتایا کہ مبارکہ کو خیر سے اب ساتواں برس لگ گیا۔طیب کی والدہ  اپنی والدہ کے انتقال کے بعد سوئزر لینڈ کے علاقے انٹر لاکن میں ان کے گھر منتقل ہوگئی ہیں۔ وہ سب وہاں رہتے ہیں۔مبارکہ بھی انہی  کے ساتھ ہے۔ اسے انگلستان کی شہزادی بیٹریس،دوبئی کی شیخا حیا اور ٹینس کی مشہور کھلاڑی مارٹینا ہنگز کی طرح گھڑ سواری کا بہت شوق ہے۔ساتویں سالگرہ پر دادی نے اسے ایک دس ہاتھ کا شیٹ لینڈ پونی (چھوٹے قد کے گھوڑے) تحفے میں دیا ہے۔جس کا نام اس نے فرانسیسی زبان میں Filou(شریر لڑکا) رکھ دیا ہے۔پڑھائی میں اسے کوئی خاص دل چسپی نہیں۔پڑوس میں رہنے والی ایک ہندوستانی فیملی کی وجہ سے ستار بجانے اور گانے میں بہت مزا آنے لگا ہے اور فلم نوبہار کا گیت اے ری میں تو پریم دیوانی میرا درد نہ جانے کوئی، موہے  پنگھٹ  پہ  نند لال چھیڑ گیو رے اور اے دلِ  ناداں آرزو کیا ہے جستجو کیا ہے بہت عمدگی سے گاتی ہے۔اسکول میں تیراکی کی چمپئین ہے۔اس نے جب کہا کہ مبارکہ کو یہ پرانے گانے کیوں گانے کا شوق ہے تو ماہرہ ہنس کر کہنے لگی کہ I think she has an archaic soul like Tayeb(میرا خیال ہے کہ اس میں طیب کی طرح کسی قدیم روح کا بسیرا ہے) وہ بھی بیتھون، شوپن اور موزارٹ کی سمفنیاں اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر سنتا ہے۔ دوسرے موسیقی جو عورت یعنی ہماری پڑوسن سکھا تی ہے اسے ہندوستان چھوڑے تیس برس سے اوپر ہوگئے۔اسی نے اس کے لیے  چھوٹی ستار بنارس سے منگوائی ہے۔
جب ماہر ہ کو بتایا گیا کہ اس نے مبارکہ پر ایک کہانی لکھی ہے اور کتاب میں شامل ہے تو وہ متردد ہوئی کہ کہیں اس کے لواحقین اسے لینے نہ پہنچ جائیں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *