قیدی نمبر چار سو بیس۔۔۔۔۔۔۔عزیز خان

میں 1999 میں ایس ایچ او کوٹسبزل تعینات تھا۔ ایک کام کے سلسلے میں  رحیم یار خان  میں موجود تھا کہ میرے موبائل پرڈی آئی جی رانا عابد سعید صاحب مرحوم کی کال آئی، اُنہوں نے کہا کہ  مخدوم احمد محمود آپ سے ملیں گے ان کا کام ہے ،ضرور کرنا ہے اور فون بند ہو گیا۔

تھوڑی دیر بعد مخدوم صاحب کی کال آئی ،خیریت پوچھنے کے بعد اُنہوں نے بتایا کہ لاہور کے ایک بٹ صاحب نے ہمیں دھوکا دیا ،یہاں بزنس اور پولٹری کے کام کا کہا، میرے اور یوسف رضا گیلانی سابقہ وزیر اعظم کے تقریباً 5 لاکھ ڈالر کھا گیا ہے، جو وصول کرنے ہیں۔۔۔
کیونکہ میرا بھی مخدوم صاحب سے اچھا تعلق تھا اور ہے تو میں نے قانونی کاروائی کا وعدہ کیا۔

اگلے دن اسلم گیلانی اور ظفر عباسی صاحبان میرے پاس آئے تمام کاغذات دیکھنے کے بعد مقدمہ بجرم 406ت پ درج کر لیا اور تفتیش ایس آئی  رانا کو دی۔

ملزم  کا تعلق چونکہ لاہور کا تھا اور کافی بااثر شخص تھا اور پھر کیونکہ ڈی آئی جی صاحب کا بھی حکم تھا، میں ملازمین  کے ساتھ لاہور کے لیے  روانہ ہوا، ملتان سے بلال گیلانی جو یوسف رضا گیلانی کے کزن ہیں بھی ہمارے ساتھ نشاندہی کے لیے ساتھ ہو لیے۔
لاہور پہنچ  کر آرام کیا،  کافی لمبا سفر تھا، اُن دنوں سڑکیں بھی اتنی اچھی نہیں تھیں۔۔۔اگلے دن تیار ہو کے شام کو تھانہ گلبرگ اپنی آمد کی  اطلاع کی،لیکن وہاں سے کسی کو ساتھ نہ لیا۔
رات کو کافی دیر تک بٹ کے دفتر واقع مین بلوارڈ گُلبرگ لاہور کے باہر  انتظار کیا۔۔ تقریباً 12بجے رات بٹ صاحب اپنی نئی ہونڈا سوک میں بیٹھنے لگے تو ہم نے لپک جھپک کر قابو کر لیا، جب موصوف کو دیکھا تو ایک دفعہ  تو میں پریشان ہو گیا ،بٹ صاحب اتنے موٹے تھے کہ اپنی کار میں پورے نہیں آرہے تھے۔
بڑی مشکل سے بٹ کو کار سے نکالا، ملازمین کے ساتھ ویگن میں بٹھایا اور فوری طور پر رحیم یار خان کیلئے روانہ ہو گئے۔
راستے میں موصوف کے موبائل پر کالز آتی رہیں۔۔
مُلتان  پہنچنے  پر مجھے اپنے ایس ایس پی صاحب کی کال آئی کہ کس کو اُٹھا لائے ہو  ، پورا لاہور ہِلا ہوا ہے ،میں نے اُنہیں بتایا کہ ڈی آئی جی صاحب نے حکم دیا تھا اب وہی اس کو سنبھالیں گے، یا پھر میں سسپینڈ ہوں گا ۔۔آپ تسلی رکھیں۔

آخر کار ہم کوٹ سبزل پہنچ  گئے۔ بٹ صاحب کھانے پینے کے کافی شوقین تھے، باوجود گرفتاری و پریشانی اُن کی خوش خوراکی میں کوئی فرق نہ آیا اور کیونکہ خرچہ بذمہ مدعی تھا مجھے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
تھانہ پہنچ  کر بٹ صاحب سے پیسوں کا بڑے آرام سے پوچھا ،کیونکہ بٹ صاحب نے ہمیں راستے میں خبردار کر دیا تھا کہ وہ بلڈ پریشر ،دل اور شوگر کے مریض ہیں اُن سے کی گئی   کسی قسم کی زیادتی ہمارے لیے  نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔

اور میرے ذہن میں اپنے ساتھ گزرا سانحہ یزمان گھوم گیا۔۔ جس میں مَیں اور میرے بے گُناہ ملازمین 42 دن حوالات اور جیل یاترا کر چکُے تھے۔

کیونکہ بٹ صاحب کو اندازہ تھا کہ اُن کی سفارشیں تگڑی ہیں  اور وہ جلدی چھوٹ جائیں گے اس لیے  وہ میرے سامنے بڑی کرس پر بیٹھے بڑے تحمل اور آرام سے چائے پی رہے تھے۔

کُچھ دیر بعد دو تین بڑی گاڑیاں آ کے تھانہ کے باہر رُکیں، جن سے کافی خوش پوش افراد اُتر ے پورا تھانہ پریشان ہو گیا کہ اب کیا ہو گا۔کیونکہ مدعی بھی بااثر تھے جن میں رئیس محبوب اسلم گیلانی، بلال گیلانی اور دیگر تھانے  میں موجود تھے، اس لیے ہمارے لیے بہتر ہوا اور دونوں آپس میں مصروف ہو گئے۔
شام تک کوئی نتیجہ نہ نکلا بٹ صاحب کوئی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔۔۔

اور میں تھا کہ کبھی کسی ڈی آئی جی ،کبھی ایس ایس پی ،کبھی  کسی سیاستدان کے فون پر فون بھگتا رہا تھا،جو کبھی آرام سے اور کبھی دبی دبی دھمکیوں کے ساتھ مجھے سمجھانے کی کوشش فرما رہے تھے کہ بٹ کو نہ چھوڑا تو میرے حق میں بہتر نہ ہو گا۔

پھر مجھے اپنے ڈی آئی جی رانا عابد سعید کی کال آئی وہ بھی مجھ پہ ناراض ہو رہے تھے کہ میں نے معاملے کو درست طریقہ سے ہینڈل نہیں کیا اور ساتھ یہ بھی بولا کہ اگر اس میں کوئی گڑبڑ ہوئی تو تمہاری خیر نہیں۔۔۔اب یہ صورت حال تھی کہ آگے گڑھا پیچھے کھائی۔۔۔۔

ملزم کے سفارشی اُسے چھوڑنے کا کہہ رہے تھے اور مدعی یہ چاہتے تھے کہ 5 لاکھ ڈالر ابھی مل جائیں۔۔

اب میری یہ حالت تھی بٹ کو چھوڑتا تھا تو مرتا تھا اور نہیں چھوڑتا تو بھی مرتا تھا۔

میں نے اپنے تجربات کی روشنی میں سوچتے ہوئے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ اب جو بھی ہونا ہے، میرے ساتھ ہی ہونا ہے، کسی بھی افسر نے میری مدد نہیں کرنی تھی، چنانچہ  میں تھانے  کے اندر گیا اور تمام سفارشیوں کو کہا کہ آپ لوگ جائیں یہ  ایف آئی آر  کا مُلزم ہے میں اسے گرفتار کرتا ہوں سب میرا مُنہ دیکھنا شروع ہو گئے کہ ایس ایچ او کو کیا ہو گیا ہے۔
جونہی مدعی مقدمہ کے سفارشی اور ملزم کے سفارشی باہر گئے میں نے بٹ صاحب کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کرسی سے کھڑا کیا، محرر کو کو کہا کہ ان کو حوالات میں بند کر دے ،گرفتاری ڈال دے۔۔۔ان کا پر ہیزی کھانا (نہاری ،ہریسا، مٹن پالک، سری پائے) بھی بند کر دے اور میں ساتھ ہی واقع اپنی رہا ئش گاہ پر چلا گیا۔۔

گرمیوں کے دن تھے جون کا مہینہ تھا تقریباً  دس بجے رات محر ر تھانہ میری رہائش پر بھاگتا ہو آیا اور بولا سر تھانہ پر چلیں بٹ نے شور مچا  کر  تھانہ سر پر اُٹھایا ہُوا ہے۔
میں فوراً  تھانہ گیا، بٹ صاحب حوالات کے جنگلے سے مُنہ لگائے رو رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ مجھے باہر نکالو، میری بیوی کی طلاق پہ دستخط کروا لو پر مجھے باہر نکالو،گرمی ,حوالات میں ایک پنکھا اور 22/23 حوالاتی اور موٹے بٹ صاحب طبیعت درست ہو گئی۔۔۔

انہیں حوالات سے نکلوا کر میرے دفتر میں لایا گیا ،بٹ بولا میرے سفارشیوں کو بلوائیں ،چنانچہ مدعی اور سفارشیوں کو بلایا گیا بٹ صاحب نے اپنا قصور مانا اور فوری طور پر ادائیگی کا فیصلہ ہو گیا اور ادائیگی کر دی گی۔
مگر میں نے بٹ کو رات  وہیں رکھا ،  صُبح مدعی نے عدالت میں صُلح نامہ دیا اور بٹ کی ضمانت ہو گئی۔

یہ ساری کہانی لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جیل میں اے کلاس گھر سے مزیدار کھانے ،اپنی مرضی کے پروڈکشن آرڈرز ،ریمانڈ جسمانی پر انٹرویوز اور پریس کانفرنسز میڈیکل پر عیاشی ،شہد ،بوتلیں  تو عمران خان صاحب اس طرح تو مُلک و قوم کا پیسہ نہیں نکلے گا۔

آپ کو اُنگلی  ٹیڑھی کرنی پڑے گی ورنہ آپ قوم سے کیا گیا وعدہ کبھی پورا نہیں کر سکیں گے اور پھر جو آپ کا حال ان سب نے مل کے کرنا ہے  آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔
عزت ذلت زندگی موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، اب بھی وقت ہے کر جاو اس مُلک کو بچا لو، ورنہ مریم صفدر پھر جُنید صفدر ،بلاول زرداری اس کے بعد آصفہ زرداری ہمارے حکمران ہوں گے۔اور ہم تو ویسے غلامی میں رہنا پسند کرتے ہیں، پہلے انگریز پھر فوجی آمر اور پھر ان آمروں کی پیداوار حکمران۔۔۔

کیا اس لیے  قائد اعظم نے پاکستان بنایا تھا، یہ قائد کا پاکستان تو نہیں ہے، یہ تو ان کُچھ خاندانوں کا پاکستان ہے جو ہمارے آقا ہیں اور یہ پاکستانی ان کے غلام۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *