تحریک انصاف کے دوستوں سے گزارش ۔۔۔ معاذ بن محمود

سیدھی سی بات ہے۔ ہمارے دوست احباب کی اکثریت اناپرستی اور ضد میں اپنے تئیں خان صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جو بات اندر اندر وہ خود بھی جانتے ہیں وہ یہی ہے کہ وہ دراصل خان صاحب کے سرپرستوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بالواسطہ نہ سہی، بلاواسطہ کہہ لیجیے۔ اگر ریاست کی ناکامی کی اصل وجہ کرپشن ہے تو مبینہ طور پر تمام کرپٹ آپ کے پاس ہیں۔ قید ہیں۔ سو دن میں کرپشن کا صفایا کرنا تھا آپ پانچ سال لے لیجیے۔ کرپشن ختم کر کے ریاست کامیاب ہو سکتی ہے تو یہ گز یہ میدان۔

لیکن آپ بھی جانتے ہیں کہ کرپشن ریاستی ناکامی کی وجہ نہیں ہو سکتی۔ کرپٹ بندہ تیس فیصد جیب میں رکھ لے تب بھی ستر فیصد ریاست ہی پر لگے گا۔ تیس فیصد ویسے بھی ثابت نہیں لیکن چلیں آپ کے گمان کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی ریاست کی ناکامی کرپشن نہیں۔ کرپشن ختم کرنے کے نام پر جو راستہ آپ طے کر رہے ہیں وہ خطرناک ہے۔

ریاست ناکام ہے۔ عمومی طور پر عدم استحکام کی وجہ سے اور اس وقت آپ کے ہیجان خیز فیصلوں کی وجہ سے۔ آپ ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہتے ہیں، ہم اس قدم کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں لیکن آپ یہ نہیں سوچ رہے کہ ایک جانب ہوشربا ٹیکس کا بار عوام پر ڈالا جا رہا ہے تو دوسری طرف روپے کی قدر کم ہونے کے باعث بڑھنے والی مہنگائی کا بوجھ بھی اسی دوکاندار اور اسی نجی یا سرکاری ملازم پر ہے جس کی تنخواہ مہنگائی کی شرح کے حساب سے نہیں بڑھتی، ہاں اخراجات بڑھتے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ آج یا کل آپ سے نفرت کی صورت میں ہی آئے گا۔ آنا شروع ہو بھی چکا ہے۔

اس پر مزید ستم یہ کہ آپ ریاست کو کال آف ڈیوٹی گیم سمجھ کر کھیل رہے ہیں۔ ہر سیاسی مخالف کو “دشمن” مان کر آپ اسے یا خاموش کرا رہے ہیں یا سلاخوں کے پیچھے ڈال رہے ہیں۔ رانا ثناءاللہ اور سلمان تاثیر مرحوم کا چھتیس کا آکڑہ رہا۔ اس قسم کے مضحکہ خیز الزامات لگا کر تاثیر مرحوم بھی اپنی خنس نکالنے سے باز رہے۔ آپ ہر سیاسی مخالف کو کچلنے کے درپے ہیں۔ حضور، یا تو آپ ببانگ دہل بادشاہ وقت ہوتے تو شاید یہ حرکت ریاستی استحکام کے کام بھی آجاتا مگر آپ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وقت اس ملک میں اب لنگڑی لولی ہی سہی مگر ایک جمہوری سوچ کو پروان دے چکا ہے۔ معاشی ناکامی اور سیاسی عدم استحکام دونوں کو دوام دینے میں آپ جتے پڑے ہیں۔ جبکہ یہ ایک مصمم حقیقت ہے کہ معیشت اور سیاسی استحکام کم از کم غیر آمرانہ ریاستوں میں ایک دوسرے سے کچھ ایسے منسلک ہیں کہ ایک کا کمزور ہونا دن بدن ایک ناکام ریاست کی جانب قدم بڑھاتا رہتا ہے۔

اس تحریر کا مخاطب تحریک انصاف کے وہ دوست ہیں جو خان صاحب کے مخلص حمایتی تو ہیں مگر آمریت کے بہرحال خلاف ہیں۔ دوستوں، اسٹیبلشمنٹ کو اس حد تک لے جانے میں جو ساتھ آپ دے رہے ہیں کل کو آپ اسی کے زیر عتاب آنے والے ہیں۔ اگر میاں صاحب جیسا پھٹو شخص ایک موقع پر آکر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑا ہوگیا ہے تو خان صاحب کی اعصابی صلاحیتیں تو پھر قابل سوال ہیں۔

گزارش ہے کہ اناپرستی اور ضد کے رویے سے باہر آکر سوچئے کہ جو ہوچکا سو ہوچکا، آگے کیسے بڑھنا ہے؟ کیا ہر سیاسی مخالف کو محض کرپشن کی بنیاد پر سزا دی جارہی ہے؟ اگر آپ واقعتا ایسا سمجھتے ہیں تو بات ختم۔ اللہ آپ کی خوش گمانی کو ریاست کے حق میں کسی معجزے کے ذریعے بہتر فرمائے۔ تاہم بندہ چونکہ جاہل ہے، لہذا اپنی کم علمی کی بنیاد پر یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے جس کے ذریعے ملکی استحکام کو سبوتاژ کرنے کے باوجود ریاست معاشی طور پر استحکام حاصل کر سکتی ہے۔

تاہم اگر آپ واقعتاً خان صاحب اور خان صاحب سے زیادہ ریاست کے مخلص ہیں تو آپ کو کم سے کم درجے میں بھی اپنی ضد اور سیاسی مخالفین سے نفرت کے احساس سے باہر آکر ہوش مندانہ فیصلوں کا مطالبہ کرنا ہوگا۔ جو ہوا سو ہوا، اب کے بعد سے ریاست میں سیاسی و معاشی استحکام کی جانب سنجیدگی سے توجہ دلوائیے۔ خان صاحب جس ڈگر چلوائے جا رہے ہیں اس کا انجام خطرناک ہے۔ خان صاحب کے لیے بھی اور ریاست کے لیے بھی۔ آپ میاں صاحب سے نفرت کرتے ہیں میں اسے آپ کا حق مان لیتا ہوں۔ تاہم آپ اس نفرت میں عدلیہ فوج گٹھ جوڑ سے کسی کو سزا دلوانے کی توجیہات دینے لگیں تو آپ کو سوچنا پڑے گا کہ آپ کے لیے مقدم کیا ہے، آپ ہے جذبات یا آئین، اصول اور نظریات۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تحریک انصاف کے دوستوں سے گزارش ۔۔۔ معاذ بن محمود

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *