گلاب دین چٹھی رساں ۔۔۔۔۔۔۔۔آغا بابر

پوسٹ آفس کے پچھواڑے والی عمارت کے لمبے کمرے میں خاصی چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔ آج چٹھی رسانوں کے علاقے بدلے گئے تھے۔ چٹھی رساں گلاب دین کا چہرہ اترا ہوا تھا۔
کرم الٰہی نے اکرام سے پوچھا ”گلاب دین کی ماں کیوں مری ہوئی ہے؟“
”اس کی بدلی ہیرامنڈی ہو گئی ہے۔“
کرم الٰہی نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا۔ ”سوں رب دی؟“
اکرام بولا ”سوں رب دی“ اور اس نے بھانڈ کی چپڑاس کی طرح اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر دے مارا۔ دونوں کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ ”اس کا کیا مطلب ہوا جی، رزق دینے والا تو خدا ہوتا ہے۔ مجھے خواں نوکری نہ چھوڑنی پڑے۔ میں تو بڑے صاحب کے پاس اپیل کروں گا۔ آپ خود سمجھ دار ہیں۔ افسروں کو کچھ تو خیال کرنا چاہیے  کہ کون سا علاقہ کس کو دینا چاہیے۔“ گلاب دین اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔
وہ پانچ وقت کا نمازی تھا۔ اپنے محلے میں تراویح کی نمازوں میں قرآن خوانی کا انتظام کرنا ہمیشہ اس کا ذمہ ہوتا تھا۔ بازار میں معراج شریف کا چندہ اسی کے ایماءسے اکٹھا ہوتا اور اسی کے ہاتھوں سے خرچ ہوتا تھا۔ میلادالنبی کے جلوس پر محلے کے لڑکے بالے اسی کی ہدایت کے مطابق خوبصورت محراب نما دروازے بناتے اور جھنڈیاں لگاتے تھے۔ مسجد کے باقاعدہ نمازیوں میں اس کا شمار تھا۔ اس کو دیندار لوگوں کی صحبت سے مسئلے مسائل سے بھی خاصی آگاہی ہو گئی تھی۔ فرض شناسی اور ایمانداری کی بنا پر اپنے پرائے بھی اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مگر آج اس کی عزت کا دم گھٹ رہا تھا۔ تو ہیرا منڈی میں خط بانٹنے جائے گا۔ طوائفوں کے کوٹھوں پر چڑھ کر آواز دے گا۔ بی بی جی خط آیا ہے۔ غلیظ گلیوں میں جاکر پیشہ وروں کو ان کے یاروں کے خط دے گا جو ہوس سے شروع ہو کر ہوس ہی پر ختم ہوں گے جن کا مضمون صرف بدکاری ہو گا۔ کسی خط میں ماں کی مامتا نہ ہو گی کسی خط میں باپ کا پیار نہ ہو گا۔ ماں کی چھاتیوں میں دودھ کی جگہ سنکھیا ہو گا اور باپ کی نگاہوں میں بے غیرتی، بے شرمی، بے حیائی۔ وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔
”اگلے دن پوسٹ ماسٹر کہہ رہا تھا۔ ”گلاب دین کیوں پیش ہونا چاہتا ہے؟“
سپروائزر بولا ”آپ سے کوئی درخواست کرنا چاہتا ہے۔ صرف دو منٹ کےلیے  پیش ہونے کو کہہ رہا ہے۔“
”بلاؤ“
گلاب دین کا چہرہ بڑے صاحب کی پیشی میں زرد پڑ رہا تھا۔ دل بیٹھا جا رہا تھا۔ کترے ہوئے لب زیادہ موٹے دکھائی دے رہے تھے۔ داڑھی کے بال گھنے نظر آرہے تھے۔ وہ شاید تازہ وضو کرکے دُعا مانگ کر آیا تھا۔
”کیا بات ہے گلاب دین؟“
جی میں صرف یہ عرض کرنے کو پیش ہوا ہوں کہ میری تبدیلی ہیرا منڈی میں کر دی گئی ہے“
”تو پھر“
”جی ذرا خیال فرمائیے  میں پانچ وقت کا نمازی پرہیزگار آدمی ہوں۔ میری بڑی بے عزتی ہو گی“
اس نے درخواست نکال کر میز پر رکھ دی اور اپنے خالی کوٹ کی جیب سے کالے دانے کی تسبیح نکال کر بولا ”حضور جس ہاتھ سے یہ تسبیح پھیری جاتی ہے وہ بدکاری کے اڈوں میں جاکر پیشہ ور عورتوں کو خط تقسیم کرے گا۔ استغفراللہ مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا۔ جناب میری گزارش ہے کہ مجھے فیض باغ کا علاقہ دے دیا جائے یا مصری شاہ میں رہنے دیا جائے۔“
پوسٹ ماسٹر نے پیپرویٹ کو ہاتھ میں گھماتے ہوئے کہا ”تو تمہاری تبدیلی منسوخ کر دی جائے۔“
”آپ کے بچے جیتے رہیں یہیں کمترین کا مطلب تھا۔“
”سردست یہ مشکل ہے۔ غور کرنے کےلیے  تمہاری عرضی رکھے لیتے ہیں مگر اس وقت تبدیلی منسوخ نہیں ہوسکتی۔“
گلاب دین کے سینے میں ایک تیر سا لگا۔۔
سراج اور گلاب دین دونوں چٹھی رساں پانی والے تالاب سے ہوتے ہوئے جب نوگزے کی قبر پر پہنچے تو سراج رُک گیا۔ اس نے ہاتھ میں تھامی ہوئی ڈاک کو چھانٹا اور بولا ”مولوی گلاب دین آ۔۔۔ادھر سے شروع کریں۔“ وہ دائیں ہاتھ کو گھوم گیا۔
یہ پہلا چوبارہ فیروزاں کا ہے۔ ادھر سب گانے والیاں رہتی ہیں۔“
پھاٹک کے سامنے چارپائی بچھائے تین چار آدمی بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔ مکان کے پختہ تجاوز پر ایک عورت کندھے پر تولیہ ڈالے گیلے بالوں کو انگلیوں سے جھٹکے دے دے کر سکھا رہی تھی۔ دوپٹہ نہ ہونے کی وجہ سے گلاب دین کو بہت بے شرم دکھائی دی۔ ہر جھٹکے کے ساتھ اس کا سینہ۔ اس کا جی چاہا وہ آنکھیں بند کر لے۔ اس نے اپنی پگڑی کا شملہ پکڑ کر ناک اور منہ چھپالیے۔
”کل سے میری جگہ یہ چٹھیاں تقسیم کیا کریں گے۔“
”ہیں! نیاں چٹھی رساں لگ گیا؟“
”جی ہاں!“
لمبی مونچھوں والے نے تاش کے پتوں کو پٹاخ سے بند کرتے ہوئے پہلے سراج کو دیکھا۔ پھر گلاب دین کی طرف نگاہ پھرائی۔ دیکھنے والے کی آنکھیں سرخ تھیں اور چارپائی کا کافی حصہ اس کے بھاری جثہ نے گھیرا ہوا تھا، اس نے گھٹنہ اُٹھا کر لٹھے کی چادر کو چڈوں میں دے لیا اور پھر آسودگی سے بیٹھ گیا۔ اس کی پنڈلیوں پر منڈے ہوئے بالوں کا کھردرا غبار پھیلا ہوا تھا۔
”منشی ہوراں کا نام کیا ہے؟“ نوجوان چھوکرے نے پوچھا
سراج نے جواب دیا۔ ”گلاب دین“
نوجوان چھوکرے نے ہنس کر کہا۔ ”اور رانجھا پھل گلاب دا میری جھولی ٹٹ پیا۔“
”وے شرم نہیں آتی تجھے، سلام دُعا لینے کی بجائے الٹا مسخریاں کرنے لگا۔“ تجاوز پر کھڑی ہوئی طوائف نے جھڑکا۔ اس نے پاؤں کٹہرہ پر اٹھا رکھا تھا، جس نے اس کی وزنی رانوں کا اندازہ لگانے میں کوئی غلطی نہیں ہوسکتی تھی۔
”او بی بی اپنی شلوار جا کے سیو پہلے۔“
اس نے اپنا پاؤں کٹہرہ سے نیچے رکھ لیا اور بولی۔ ”فٹے منہ بے شرما۔“
”مونچھوں والے نے ڈبیہ اُٹھا کر گلاب دین سے کہا۔ ”سگریٹ پیو مولوی جی۔“
گلاب دین بولا۔”جی نہیں مہربانی۔“
سراج نے سگریٹ سلگا لیا اور سلام علیکم لے کر آگے چل دیا۔
”یہ مونچھوں والا کون ہے؟“
”اس گلی کا چودھری۔“
”اور لچر سا چھوکرا؟“
”یہ بلو کے چاچے کا لڑکا ہے۔ یہ بلوہی تو تھی۔ ڈھولک کے گیت بہت اچھے  گاتی ہے۔ یہ نچلی بیٹھک بالاں کی ہے اور اوپر چوبارے میں گگ رہتی ہے ”اس نے ہاتھ میں پکڑی ڈاک میں ایک لفافہ نکال کر گلاب دین کو دکھایا۔ جس پر سرنامہ میں لکھا تھا۔ زمرد سلطانہ عرف گگ۔ وہ سڑھیوں پر چڑھ کر گلیارے میں آپہنچے۔ بیٹھک خالی پڑی تھی۔ دروازے پر موتیوں سے پروئی ہوئی لڑیاں آپ ہی آپ لرز رہی تھیں۔ سراج نے میلی میلی چاندنی پر خط پھینکتے ہوئے کہا۔ ”چٹھی لے لو جی“
ایک ٹھنگنی سی عورت نے آکر خط اُٹھا لیا۔ سراج بولا بی بی جی کل سے یہ چھٹی رساں چٹھیاں بانٹا کریں گے۔
”اچھا منشی۔“ اس نے بے دھیانی میں کہا اور اضطراب سے لفافہ کو دیکھ کر یہ کہتی ہوئی اندر چلی گئی۔ ”گگ جی چٹھی آئی ہے۔“

واپسی پر تاش کھیلنے والوں کے پاس سے گزرتے وقت گلاب دین نے اپنی خالی خالی نگاہیں ہوا میں ڈال دیں تاکہ وہ پھر لچر سا لڑکا اسے مذاق سے کچھ نہ کہہ دے مگر ان لوگوں نے اب دیکھا بھی نہیں کہ کون گزر گیا۔
بازار میں پہنچ کر گلاب دین نے ایک لمبا سا سانس لیا اور شملے کے سرسے سے ماتھا پونچھا۔ ”یہ نکا پان والا ہے۔ یہ شہابے کی دکان ہے۔ شہابے کا پان ساری ہیرا منڈی میں  مشہور ہے۔ یہ اس کا شاگرد ہے۔ دن کو یہ بیٹھتا ہے۔ شہبا اس وقت سویا ہوا ہوگا۔ شام کو بیٹھے گا۔ پان سگریٹ کی دکانیں دلالی کے اڈے ہیں  مولوی جی۔“
اس وقت تک گلاب دین کو چپ لگی ہوئی تھی۔ وہ سراجی کے براہ راست خطاب پر چونک پڑا۔ ”خدا غارت کرے ان لوگوں کو۔“
بازار میں یہ لوگ جو ہم کو اس وقت دکانوں پر بیٹھے نظر آرہے ہیں  یہ طوائفوں کے ملازم ہیں۔
ایک گلی کے سرے پر کھڑے ہو کر سراج چھٹی رساں نے خطوں کو پھر چھانٹا اس گلی میں پیشہ کمانے والی بیٹھتی ہیں۔
سراج نے بغیر کسی جذبے کے کورے گائیڈ کی طرح کہا اور گلاب دین کو لے کر آگے بڑھ گیا۔ اس گلی میں سے سڑے خربوزے کی بو آرہی تھی۔ گلاب دین نے شملے سے پھر اپنا منہ ڈھانپ لیا۔ عاجزی سے بولا۔ ”اس گلی میں جانا ضروری ہے۔“
”صرف ایک خط ہے۔“
”کس کا؟“
کنجروں کے چودھری کا۔ اس گلی کی بہت کم چٹھیاں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی ہوتی ہے تو وہ چودھری کی یا کسی دلال کی ہوتی ہے۔“
چودھری کی خضاب لگی داڑھی تھی وہ چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا اور ایک شخص اس کی پنڈلیاں سوت رہا تھا۔ قریب ایک تیل مالشیہ بیٹھا تھا۔
”کدھر ماشٹر؟“ اس نے چٹھی رساں کی طرف دیکھ کر کہا۔
”چودھریو! آپ کی یہ چٹھی تھی۔“
کسبیاں اپنی اپنی دہلیزوں پر لوہے کی کرسیاں رکھے بیٹھی تھیں۔ چہروں پر پھٹکار برس رہی تھی۔
گلاب دین نظریں نیچے کیے  سراج کے ساتھ گزر رہا تھا۔ اتنے میں کسی عورت کی آواز آئی ”میاں مٹھو چوری کھانی ہے۔“
گلاب دین نے چور آنکھ سے دیکھا۔ ایک کسبی نے اپنے دروازے پر طوطے کا پنجرہ لٹکا رکھا تھا۔ چٹھی رساں کو دیکھ کر بولی۔
”منشی جی ہماری کوئی چٹھی نہیں آئی؟“
سراج نے جب نفی میں سر ہلایا تو بولی ”ہائے ہمیں کوئی چٹھی نہیں لکھتا۔“
دروازے کی چوکھٹ کے ساتھ دوپٹہ اتارے سینہ اکڑائے ایک عورت کھڑی تھی، بولی ”یاروں پٹنی اب تجھے کون چٹھی لکھے گا۔ مر گئے سب تیرے یار چٹھیاں لکھنے والے۔“
یہ دونوں آگے نکل گئے۔ سراج نے کہا ”طوطے والی عورت کا نام گلابو ہے۔ اس گلی کی رونق اسی کے دم سے ہے۔ بہت سے تماشبین اس گلی میں اسی کی خاطر آتے ہیں۔“

گلی آگے سے تنگ ہوتی جارہی تھی۔ تماشبین جو چھدرے چھدرے دکھائی دیتے تھے، اب ان کی وجہ سے راستہ رُکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ گلاب دین کا دم گھٹنے لگا۔ اس نے کھلی سڑک پر پہنچ کر اطمینان کا سانس لیا۔ پگڑی کے شملے سے ماتھا پونچھا اور داڑھی پر ہاتھ پھیرا داڑھی پر ہاتھ پھیرتے وقت اسے یاد آیا کہ اس نے تماشبینوں کے ریلے میں ایک داڑھی والے کو بھی دیکھا تھا جس کے ماتھے پر ہار لپیٹا ہوا تھا اور پھر کنجڑوں کے چودھری کی خضاب سے رنگی بھرویں داڑھی اسے یاد آئی۔ وہ تھک چکا تھا اور اپنے کام سے بیزاری محسوس کر رہا تھا۔ اس نے سوچا کاش اس کی نون تیل کی دکان ہوتی، آرام سے بیٹھا دوکان کرتا۔ اسے معلوم نہیں تانگوں کے اڈے تک پہنچنے میں کتنا وقت لگا۔ سینما کے قریب کا ماحول اسے کچھ مختلف لگا۔ اس کا جی چاہا سیڑھیوں پر بیٹھ کر آتے جاتے لوگوں کو دیکھتا رہے تاکہ اس کے اعصاب پر سے کھنچاؤ  دور ہو جائے سراج نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ ”کیوں منشی جی تھک گئے۔“
”نہیں تو۔“
”بس یہ دوچار چٹھیاں بانٹنی اور ہیں۔“
یہ کہہ کر سراج نے چار پانچ خط گلاب دین کو تھما دیئے۔ گلاب دین کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے غلیظ خون سے بھرے تھیلے کوڑے کے ڈھیر پر سے اُٹھا کر اس کے باوضو ہاتھوں میں تھما دیئے ہوں۔
اتنے میں سراج ایک مکان میں داخل ہو گیا۔ جس کی ڈیوڑھی بہت بڑی تھی، جو خالی پڑی تھی۔ وہ بے دھڑک صحن تک بڑھ گیا۔ صحن میں ایک طرف نواری پلنگ پر دو نوجوان لڑکیاں لہسن کی تریاں چھیل رہی تھیں سامنے لہسن کے چھلکوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ زمین پر چوکی بچھائے ایک لڑکی الگ بیٹھی لہسن چھیل رہی تھی۔ سرج نے گلاب دین کے کان میں کہا۔ ”یہ بدرو اور قدرو کا مکان ہے۔“ اور گلاب دین کے ہاتھ میں تھمی ڈاک میں سے ایک خط جس پر بدرالنساءکا نام لکھا تھا، نکال لیا۔ ان کی آواز سن کر دونوں لڑکیوں نے نگاہیں اوپر اُٹھائیں۔
سراج بولا ”خط آیا ہے جی۔“
دونوں لڑکیاں بیتابی سے آگے بڑھیں۔ سراج نے خط دینے کےلیے گلاب دین کو آگے دھکیلا۔ یہ پہلا خط تھا، جو گلاب دین نے دیا۔
بدرالنساءخط کھول کر پڑھ رہی تھی کہ دیوڑھی سے دوبھاری بھرکم آدمی داخل ہوئے سراج بولا۔ ”لواستاد ہوری بھی آگئے۔“
گلاب دین خط چھانٹنے لگا کہ بدرالنساءخوشی سے چلائی آپا کے کاکی ہوئی ہے ۔ دونوں لڑکیاں بدرالنساءکے پیچھے بھاگ گئیں۔
استاد نورالدین صحن میں کھڑا کہہ رہا تھا۔ ”اوحیوانوں شیطانوں، ہمیں چھٹی۔ برآمدے میں لٹی چق کے پیچھے سے کسی معمر عورت کی آواز آئی۔ ”استاد جی قمر کے کاکی ہوئی ہے۔“
”نصیبوں والی ہو، مبارکیاں ہوں۔ اماں جی۔“
آپ کو بھی ہوں۔ ”ارے لڑکیوں چٹھی رساں کا منہ تو میٹھا کرا دو۔“
استاد بولا۔ ”ایک چھٹی رساں نہیں دو ہیں۔“
سراج بولا۔ ”استاد جی! آپ بڑے جگتی ہیں۔ اپنا خط بھی لیا کہ نہیں۔“
گلاب دین نے نور الدین کو اس کا خط دے دیا۔ جو محض اشارہ پانے کا منتظر کھڑا تھا۔ دوسرا بھاری بھرکم آدمی بولا۔
”آج آپ۔۔۔“
سراج نے کہا۔ ”آج میرا آخری دن ہے۔ کل سے منشی گلاب دین چٹھیاں بانٹا کرینگے۔“
سراج کے ہاتھ میں قدرو نے آکر دو روپے دے دیئے۔ استاد نے گلاب دین کی طرف دیکھ کر جگت کی۔ ”بڑی قسمتوں والے ہو۔ کنجروں کے گھر سے پہلے دن ہی بوہنی کر چلے ہو۔“
بدرو بولی”مسخریاں چھوڑ استاد جی۔ باہر جاکر بے ہوروں کو دیکھو اور کہو گھر مٹھائی کی ٹوکری لیکر آئیں۔“
بازار میں پہنچ کر سراج نے لوہے کے جنگلے والے مکان کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ”یہاں چھیموں رہتی ہے۔ وہ ساتھ والا مکان بکھو کا ہے۔ اس کے پیچھے وہ جو بیٹھک نظر آتی ہے۔ وہ استاد نورالدین کی بیٹھک ہے۔ اسے بدرنگے کی بیٹھک بھی کہتے ہیں۔ دیکھنا تو ایک چٹھی مشتری کی بھی تھی؟“
گلاب دین نے ڈاک دیکھ کر کہا ”ہاں“
”یہ گھر زہرا مشتری کا ہے۔“ یہ کہہ کر ڈیوڑھی میں داخل ہو گیا، سامنے برآمدے میں ایک عورت چارپائی پر کروٹ بدلے لیٹی تھی، جس کے موٹے موٹے کولہوں پر سے قمیص ہٹی ہوئی تھی۔ قدموں کی چاپ سن کر بھی اس نے اس طرف نہ دیکھا۔ جیسے وہ کوئی نشہ پی کر بے سدھ پڑی ہو۔ سراج نے کھانس کر کہا۔ ”چٹھی رساں آیا۔“
ساتھ والے کمرے سے ایک نازک سی دبلی پتلی لڑکی خط لینے کےلیے  نکل آئی۔ سامنے والے کمرے میں دو سازندے بیٹھے ایک چھوٹی سی لڑکی کو سبق دے رہے تھے، جس نے ناک میں نتھنی پہن رکھی تھی۔ ہاتھ کان کے پاس رکھے لمبی آواز میں کہتی جارہی تھی….آ….اسی طرح پھر کہے جارہی تھی ….جا
نئے بازار میں آکر سراج نے دوبارہ گلاب دین کو ایک روپیہ دینے کی کوشش کی۔ دونوں روپے خود رکھ لینا اسے اچھا نہ لگتا تھا۔ اس نے ایک روپیہ زبردستی اس کے کوٹ کی جیب میں ڈال دیا اور بولا ”بزرگو یہ کوئی حرام کا پیسہ نہیں ہے۔ سمجھنے کی بات ہے۔ کسی کی جیب سے روپیہ نکال لینا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ روپیہ کا تو یہی حساب کتاب ہے۔ آج یہ ہماری جیب میں کل دوسرے کی جیب میں۔ پرسوں وہاں سے تیسرے کے پاس۔ کسی کے کب ٹھہرتا ہے۔“
گلاب دین کو وہ نتھنی والی لڑکی یاد آگئی جسے پہلا سبق یہی دیا جارہا تھا۔ آجا ….پھر آجا …. پھرجا!
یہ اب کدھر کو؟ گلاب دین نے سراج کو اب ایک تیسری گلی میں گھستے ہوئے دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔
ہمیں کسی بھڑوے کاڈرہے منشی جی، ہم اپنی ڈیوٹی دے رہے ہیں ۔ اس طرح تو آپ بھرپائے۔“
اس گلی میں کچے گوشت کی بساند  آرہی تھی۔ جیسی بیف مارکیٹ سے آتی ہے۔ دو رویہ کرسیوں پر پیشہ ور عورتیں مردوں کی طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھے بڑی بے باکانہ بیٹھی تھیں۔ ان کی باتیں بیہودہ اور حرکتیں بڑی لچر تھیں۔ کچھ اوپر چوباروں پر بیٹھی تاک جھانک رہی تھیں۔ سراج بولا ”یہاں سب درڑمال ہے۔“
نصف گلی میں پہنچ کر اس نے کہا۔ ”منشی جی۔ فضل دین معرفت الٰہی جان کا خط نکالنا، اسے دے دو۔“
گلاب دین نے اس پتے کا خط الٰہی جان کو دے دیا، جس کے پاس سے اسے نسوار کی بو آئی۔ ایک دروازے کے سامنے بہت سے تماشبین ایک مشکی رنگ کی عورت سے چہلیں کر رہے تھے۔ جس نے تہبند باندھ رکھا تھا۔ کانوں میں موتیے کے پھول تھے اور بالوں میں سرخ گلاب اڑس رکھا تھا۔ سراج نے یہ کہہ کر علاقہ کے باخبر چٹھی رساں ہونے کا مظاہرہ کیا۔ ”یہ خانگی ذات کی۔۔۔ ہے۔“
اس وقت گلاب دین کو یہ بات اچھی نہ لگی۔ باہر نکلتے ہی اس نے ہڑبڑا کر پوچھا۔ ”ان خانگیوں کی کتنی تعداد ہو گی؟“
”کوئی گنتی شمار نہیں۔ خانگیاں نہیں کہتے انہیں مولوی جی۔ یہ کنجریاں ہیں۔ نئی پیشہ بیٹھنے والی کو خانگی کہتے  ہیں۔“
خوب۔ گلاب دین نے حلق کھرچ کر زور سے تھوکا۔
ڈاک تقسیم کرنے کے دو وقت تھے۔ ایک دوپہر، ایک سہ پہر، دونوں وقت گلاب دین کو علاقہ گھومنا پڑتا۔ چاروں طرف چٹھیاں بانٹنے جانا پڑتا۔ اس بات کا اسے بڑا افسوس تھا کہ وہ بدروقدرو کے گھر سے لیا ہوا روپیہ واپس نہ دے سکا۔ اس روز سراج نے روپیہ زبردستی اس کی  جیب میں ڈال دیا تھا۔ اس نے اسے اسی طرح۔۔۔رہنے دیا کہ اگلے روز جا کر واپس دے دے گا۔ مگر اسے ادھر جانے کا حوصلہ نہ پڑا۔ اس نے سوچا کسی روز اس کی چٹھی دینے جائے گا تو روپیہ بھی واپس کر دے گا مگر چٹھی ہی نہ آئی۔ جس دن آئی اس سے دو روز پہلے اس کی جیب سے وہ روپیہ نکال کر اس کی بیوی نے مٹی کا تیل منگوا  لیا تھا۔

بدرو اور قدرو سفید چاندنی پر لیٹی ہوئی تھیں۔ گاؤ تکیہ پر ان کی چھوٹی بہن آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہوئی تھی۔ جو آج اپنی عمر سے بڑی دکھائی دے رہی تھی۔ پاس ان کا باپ بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ جب گلاب دین صحن میں داخل ہوا تو بدرو اسے دیکھتے ہی بولی ”چٹھی رساں آیا۔“
گلاب دین نے ڈاک چھانٹ کر تین لفافے اسے پکڑا دیئے۔ اس کا باپ بولا۔ ”منشی جی، جی آیا نوں۔ لڑکیاں روز کہتی تھیں۔ چھٹی نہیں آئی۔ نئے منشی جی لگے ہیں۔ کہیں ہماری چٹھیاں دوسری جگہ نہ دے دیں۔“
گلاب دین بولا ”جی نہیں، آپ کی چٹھی نہیں آئی تھی ۔“
”میری بات کا خیال نہ کریں ۔ آدمی بندہ بشر ہے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ بازار میں میری لڑکیاں بدرو اور قدرو کے نام سے مشہور ہیں۔ اصل نام بدرالنساءاور قدر النساءہے۔ تیسری قمر النساءکراچی میں بیٹھک کرتی ہے۔“
قدرالنساءچاندنی پر لیٹی لیٹی بولی ”ابا یہی تو اس روز کاکی کے پیدا ہونے کی چٹھی لائے تھے۔
”بڑے مبارک قدم ہیں۔ آپ کے منشی جی، خدا آپ کا بھلا کرے یہ منی آرڈر تو لکھ دیں۔ اس نے گاؤ  تکیہ کے پیچھے سے ایک منی آرڈر فارم اُٹھا کر گلاب دین کے ہاتھ میں دیا۔ بیٹھنے کےلیے  جگہ خالی کر دی اور حقہ اس کی طرف موڑ کر نوکر سے کہنے لگا۔
”او منشی جی کےلیے لسی لا۔“
”جی نہیں، تکلیف نہ کریں۔“
”تکلیف کس بات کی بھئی، گھر کی لسی ہے۔“
”کوئی لویرا ہے؟“
”بھینس ہے منشی جی۔“
”بدرالنساءبولی“ ہمارا گھرانہ تو مغلوں کے وقت سے آباد ہے۔“
گلاب دین کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی۔ بدرو کا باپ بولا، ہم کوئی ایسے ویسے نہیں بڑے خاندانی کنجر ہیں۔ پھر اس نے قمرالنساءکے نام منی آرڈر لکھنا شروع کیا۔ جب آخری خانہ آیا تو بولا ”یہ دو سوتمہیں کاکی کی چوسنی کےلیے بھیجا جارہا ہے۔ تمہاری ماں کی طبیعت اچھی نہیں جونہی اچھی ہوئی تمہیں ملنے آجائے گی۔“
”لسی کے شکریہ  کے طور پر گلاب دین نے پوچھ لیا۔”کیا تکلیف ہے گھر میں؟“
”چکر آتے ہیں۔ ہم لوگ پرہیز بھی تو نہیں کرتے ہیں نا منشی جی۔“
گلاب دین چلنے لگا تو بدرو کا باپ بولا ”منشی جی، جس روز گھر کی لسی پینے کو جی چاہا کرے، بلاتکلف چلے آیا کریں۔“
آہستہ آہستہ گلاب دین کو سب کے اندرون خانہ کا حال معلوم ہو گیا۔ مثلاً یہ گیروے رنگ کا کشادہ مکان، جس میں بدرو اور قدرو رہتی تھیں۔ ان کی پردادی کو ایک رئیس لالہ کمند لال نے بنوا کر دیا تھا۔ اور یہ کہ اب وہ سب سے چھوٹی لڑکی مہرالنساءکےلیے کسی اچھے رئیس کی تاک میں تھے۔ پرلے روز قدرو کو جب مجرے کےلیے گلبرگ جانا تھا تو بدرو نے مہرالنساءکو کس کس طرح سجایا تھا اور وہ بقول ان کے نتھنی پہنے ہوئے مومی گڑیا دکھائی دیتی تھی۔ بدرو اورقدرو کے باپ کا نام عبدالکریم تھا اور بھائی کا نام قیم تھا جو کانوں میں مندراں پہنے رہتا تھا۔ اچھا کھاتا، اچھا پہنتا اور کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ بدرو اور قدرو کی ماں سخت پردہ کرتی تھی۔
زہرہ اور مشتری کے گھر موٹے چوتڑوں والی عورت جو کروٹ بدلے لیٹی نظر آتی تھی۔ وہ زہر و مشتری کی سوتیلی بہن ہے جسے افیون کھانے کی علت ہے۔ اسی طرح گولی کھا کر لیٹ جاتی ہے۔ زہرہ و مشتری کی ماں پردہ کرتی ہے اور پچھلے سال حج کرنے گئی تھی۔ اس کی دیکھا دیکھی گھر والوں کے سامنے بدرو اور قدرو کی ماں بھی حج کرنے کی خواہش کا اظہار کرتی رہتی ہے مگر عبدالکریم اور اس کی تینوں بیٹیاں اس لیے حامی نہیں بھرتیں کہ ماں کی صحت کمزور ہے۔
گلاب دین کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جس گانے والی کی بیٹھک زیادہ چمکے دوسرے کے گھر فوراً خبر پہنچ جاتی ہے کہ فلاں کے ہاں آج کل زیادہ سوسائٹیاں آتی ہیں۔ یہ سب کام طوائفوں کے ملازم کرتے ہیں جو رات بھر ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ دن بھر دکانوں پر بیٹھے تاش کھیلتے اور ہارنے والوں سے پیڑے کی لسیاں پیتے ہیں۔
جن جن مکانوں کے دروازے پر دن کو موٹی موٹی چقیں اور تہ دار ٹاٹ لٹکتے رہتے ہیں۔ رات کو انہیں مکانوں کے دروازے اس زور سے کھلتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے چق دار ٹاٹ کی دھجیاں اُڑ گئیں ہیں۔ اسے یہ سب مکان پرُاسرار نظر آتے تھے۔

وہ ایک دن تھکا ہوا تھا۔ پیاس بھی لگی ہوئی تھی۔ اس کا جی عبدالکریم کے گھر کی لسی پینے کو چاہا۔ اس نے سوچا یہ چار چٹھیاں بانٹ کر چوک کی طرف مڑ جائے گا۔ جونہی وہ چار چٹھیاں بانٹنے گلی میں داخل ہوا وہاں شور مچا ہوا تھا۔ مسلن کی ایک رنڈی سے لڑائی ہو رہی تھی۔ چند رنڈیاں کھڑی تماشا دیکھ رہی تھیں۔ جب گلاب دین وہاں سے گزرنے لگا تو مسلن اپنی مخالف رنڈی کی طرف لچر سا اشارہ کرکے بولی۔ جانی تجھے چٹھی رساں……..“
”جانی۔۔۔۔۔تجھے چٹھی رساں۔“دوسری نے پلٹ کر جواب دیا۔
سب رنڈیاں کھل کھلا کر ہنس پڑیں اور گلاب دین بغیر چٹھی بانٹنے گلی میں سے نکل آیا اور عبدالکریم کے پاس پہنچا جو اپنی ڈیوڑھی میں حقہ پی رہا تھا۔ ”خیر ہے؟ آپ گھبرائے ہوئے ہیں۔“
گلاب دین نے پگڑی کے شملے سے ماتھا پونچھا اور سارا واقعہ بیان کردیا۔
عبدالکریم اگلے روز گلاب دین کو چودھری حاقو کے پاس لے گیا۔ جس نے اللہ رکھی مسلن کو خوب پیٹا اور گلاب دین سے کہنے لگا۔ دیکھو منشی جی! آپ نے مجھے یہ تو نہیں بتایا ناکہ گلابو کی گلی سے گزرتے وقت پھونداں کنجری آپ کو ٹچکریں کیا کرتی تھی۔ جب آپ گزرتے گلابو سے کہتی ”نی تیرا خصم غلام دین آیا ای۔“ مجھے شکایت دوسری رنڈیوں سے ملی تھی اور میں نے ایک دن اس بات پر پھونداں کی پسلیاں بھی توڑ دی تھیں۔ ہمیں تو آپ کا پہلے ہی بڑا خیال ہے منشی جی مگر ایک بات آپ سے کہنی ہے مجھے۔ وہ یہ کہ ان گلیوں میں سے آپ مردوں کی طرح گزرا کریں، کھسروں کی طرح نہیں۔ اس علاقے میں تو آدمی کو بڑا ستراگل ہو کر رہنا چاہیے۔“
جب گلاب دین عبدالکریم کے ساتھ اس کے گھر پہنچا، تو ڈیوڑھی سے باہر ایک لمبی سی کار کھڑی دیکھ کر عبدالکریم بولا۔ ”میرا خیال ہے رانا ہوری آئے ہیں۔“
بیٹھک میں خستہ صوفے پر جس کا غلاف پرانی میل سے موم جامہ بن چکا تھا۔ رانا صاحب بیٹھے تھے۔ صوفے کے بازو پر بدر بیٹھی تھی اور مہرو ایرانی سلک کے تھان کو اپنے بازو سے ناپ رہی تھی۔ پھیلتے بازوں سے اس کے سینے کی گوری گولائیاں سامنے آکر آنکھیں لڑا رہی تھیں۔
رانا سے ہاتھ ملا کر عبدالکریم گاؤ  تکیہ پر بیٹھ گیا اور مہرو سے بولا گنجے سے کہو منشی جی کو لسی پلائے۔
بدرو بولی وہ بازار گیا ہے، میں جاتی ہوں“ یہ کہہ کر وہ صوفہ کے بازور پر سے اٹھی اور اندر لسی کا ایک گلاس لاکر اس نے گلاب دین کے ہاتھ میں دے دیا اور پراسرار طریقہ سے بولی۔ ”آپ ابھی جائیں مت۔“ وہ وہاں سے بیٹھک میں آکر رانا سے بولی۔ ”اماں ہوری اندر بیٹھے بھینس کا سودا کر رہے ہیں۔“
پھر باپ کی طرف دیکھ کر کہنے لگی ”منشی جی کہتے ہیں۔ بھینس کا مالک کہتا ہے کہ وہ دو دن میں آکر اپنا مال لے جائیں۔“
باپ نے مسکرا کر رانا کی طرف دیکھا اور بولا۔ ”یہ دونوں بہنیں باری باری لسی رڑکتی ہیں (بلوتی ہےں) اصل میں اب ہماری بھینسیں سوکھ گئیں ہیں۔ مجھے روز کہتی تھیں ابا نئی لے دو۔“
رانا مہین سی نگاہیں بدرو کے چہرے پر ڈال کر بولا۔”تو لے لونا، کتنے میں دیتا۔“
”کیوں ابا جی آٹھ سو مانگتا ہے؟“
”ہاں پتر“
کل مجھ سے چیک لے لینا۔“ رانا بڑی بے غرضی سے بولا۔
بدرو نے چونچال پن سے وہیں کھڑے کھڑے کہا۔ اچھی منشی جی اب آپ جائیں۔ ڈوگر سے کہہ دیں، ابا جی آکر بھینس لے جائیں گے۔
اس نے باہر نکلتے ہی پٹواری سے پوچھا۔ ”یہ رانا ہوری کون ہیں؟“
جس نے بدرو کو سرفراز کیا تھا۔ اس کا …. ہے کوئٹہ سے آیا ہے۔ بھولے نہ بنو منشی جی، مال لایا ہو گا۔ اب چھوٹی بھی جوان ہو گئی ہے بڑا استرا گل آدمی ہے۔“
استراگل کیا ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہوا نوگزرے کی قبر کی طرف چل پڑا۔
اگلے روز اسے رانا کو دیکھنے کا شوق بدرو کے گھر لے گیا۔ بیٹھک میں ساتھ ساتھ دو پلنگ بچھے تھے۔ ایک ایک پر رانا بیٹھا نائی سے شیو بنوا رہا تھا۔ دوسری پر چائے کی پیالیاں وغیرہ بکھری پڑی تھیں۔ ان کا ملازم گنجا برازدے میں کونڈی میں بادام رگڑ رہا تھا اور بدرو کا بھائی قیم ریشمی تہبند کو سمیٹے استرے سے منڈی پنڈلیاں ننگی کیے  اس کے پاس بیٹھا کچھ ہدایات دے رہا تھا۔ قدرو اور مہروگاﺅ تکیوں پر چڑھ کر بیٹھی لہسن چھیل رہی تھیں۔
چودھری ہورہی ہیں گھر؟“
”نہیں منشی جی۔۔میری کوئی چٹھی نہیں آئی۔“ مہرو جلدی سے بن کر بولی۔ جیسے دو دن میں اسے پر لگ گئے ہوں۔ ”تیری چٹھی کہاں سے آئے گی ۔۔۔“ قدرو نے جھٹ سے اس کا پتہ کاٹ دیا۔ ساتھ کے کمرے سے بدرو نکل آئی۔ جس نے نہایت خوبصورت سوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خوشبو کی شیشی تھی جو وہ اپنے لباس پر چھڑک رہی تھی۔ کچھ خوشبو اس نے رانا پر چھڑکی اور بولی۔ ”منشی جی کوئٹہ کی سوغات لیتے جائیے۔ یہ چار سیوزہرہ مشتری کے گھر دیتے جائیں اور یہ دو آپ کا حصہ۔“
بدرو نے ایک پٹھو میں سے چھ سرخ سرخ سیب نکال کر گلاب دین کو تھما دیئے جو اس نے اپنے چمڑے کے تھیلے میں اڑس لیے اور لمبے لمبے سانسوں سے خوشبو کی لپٹیں لیتا ہوا باہر نکل گیا۔
زہرہ مشتری اپنی بیٹھک میں دو اجنبیوں کے ساتھ بیٹھی رمی کھیل رہی تھیں کہ گلاب دین نے جاکر سیب ان کے سامنے رکھ دیئے بہنوں نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسری کو دیکھا۔ ”منشی جی دیگ چڑھی ہے ان کے گھر؟“ زہرہ نے دلچسپی سے پوچھا۔
”میں نے نہیں دیکھی“ گلاب دین نے جواب دیا۔
برآمدے میں ان کی سوتیلی بہن کے تو بڑے نے کروٹ بدل کر گلاب دین کی طرف دیکھااور پھر پیٹھ موڑ لی۔
اگلے دن ڈاک چھانٹتے وقت اسے زہرہ کے نام کی چھٹی ملی۔ وہ چاہتا تھا۔ قدروکی چٹھی ملے تاکہ آج پھر ادھر کا پھیرا رہے۔
سہ پہر کو جب وہ ہاتھ میں زہرہ کی چٹھی لئیے مکان میں داخل ہوا تو زہرہ اور مشتری میٹنی شو دیکھنے گئی ہوئی تھیں۔ رانا برآمدے میں ا ن کی بہن سےچہلیں کر رہا تھا۔ جو اسے اپنی جتنی موٹی موٹی گالیاں دے رہی تھیں۔
ادھر بھینس خریدنے کو رقم دے آیا ہے۔ ادھر بھینس کی چٹکی لے رہا ہے۔ رانا استراگل آدمی ہے یا بھینسوں کا سوداگر، گلاب دین یہ سوچتا ہوا باہر نکل آیا۔
تین روز بعد اسے اڑتی اڑتی ایک خبر ملی۔ پٹواری کی دکان ان کے مکان کے سامنے ہے اسی سے تصدیق کرنی چاہیے۔
پٹواری بولا”جو تم نے سنا ہے ٹھیک ہے۔ رانا مہر کےلیے  تیار تھا مگر بدرو کی ماں نہیں مانی۔“
گلاب دین نے پوچھا۔ ”عبدالکریم اور قیم راضی تھے؟“
”قیم تو سردائیاں گھوٹ گھوٹ کر پلاتا تھا۔“ پٹواری مسکرا کر بولا ”جس کا مال اس کا گال منشی جی۔“
خوبصورتی کس طرح بیچی جا سکتی ہے۔ جسم کس طرح فروخت ہوسکتا ہے۔ وہ اس طرح کی باتیں سوچتا بھی جاتا، بازار میں چلتی پھرتی طوائفوں کو خالی ذہن سے دیکھتا بھی جاتا اور چٹھیاں بھی بانٹتا جاتا۔ اس نے اپنے کام سے کام رکھا اور کتنے ہی دن بدرو و قدرو کے گھر نہ گیا۔ ایک روز اسے موتی بازار میں عبدالکریم ملا جس کی زبانی اسے معلوم ہوا کہ انہوں نے اب نئی بھینس خرید لی ہے۔ عبدالکریم نے کہا۔ ”کسی روز آنا ہمارے گھر میں جلسہ ہونے والا ہے۔“
ایک روز بدرو کے پانچ سو روپے کا منی آرڈر آگیا۔ گلاب دین نے پڑھا۔ رانا حیات بخش نے کوئٹہ سے بھیجا تھا۔ آخر میں لکھا تھا جلسے کےلیے روپیہ بھیج رہاہوں۔ مجھے اس دن یاد کرلینا۔
وہ چق اُٹھا کر اندر گیا تو بدرو چارپائی پر لیٹی سگریٹ پی رہی تھی۔ آہٹ سن کر اُٹھ بیٹھی۔ ”شکر ہے آپ بھی آئے منشی جی۔“
”کوئی خط ہی نہیں تھا۔۔۔“
”خط نہ ہو تو کیا آنا چھوڑ دینا تھا۔ ابے ہورہی اتنا یاد کرتے تھے آپ کو“
کمروں میں سے عبدالکریم بھی نکل آیا۔ منی آرڈر کا سن کر سب کی باچھیں کھل گئیں۔ مہرو بھی چنگیر اٹھائے بھاگی بھاگی باہر چلی آئی۔
”اب منشی جی آپ ذرا کاغذ پنسل لے کر بیٹھ جائیں۔ کاکی اندر سے حقہ اٹھا لا۔“
مہرو نے حقہ لاکر باپ کے پاس رکھ دیا، جس نے منہ میں لے لے کر گلاب دین کو دیگوں کا مصالحہ لکھوانا شروع کر دیا۔ گلاب دین کی حیرت دور کرنے کو عبدالکریم نے کہا۔ ہم قمرو کی کاکی کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ قیم تو ناکارہ آدمی ہے۔ کل میں اور آپ جاکر سودا لے آئیں۔ نائی کو بھی ساتھ لے چلیں گے۔“
اس بات چیت میں قدرو اور بدرو بھی کبھی کبھی اپنی تجویزیں پیش کرتی رہیں۔ مہرو پکے فرش پر پالتی مارے لہسن چھیل رہی تھی۔ گلاب دین نے اپنے کان پر اٹکی ہوئی پنسل کو اٹھا کر جیب میں رکھتے ہوئے آج پوچھ ہی لیا۔
”اتنا لہسن کیا کرتے ہیں آپ؟“
قدرو نے کہا ”ہمارے گھروں میں سالن اچھا پکتا ہے اور بہت آدمیوں کےلیے پکتا ہے اس میں ڈالا جاتا ہے۔“
بدرو بولی ”ہم دن بھر کیا کام کریں۔ اسی طرح اماں کا ہاتھ بٹا دیتی ہیں۔“ مہرو اپنی اہمیت دکھانے کےلئے اور تیزی سے لہسن چھیلنے لگی۔
”اللہ رکھے اب اتوار کو دیکھ لینا نا۔“ عبدالکریم گلاب دین کے کندھے تھپتھپاتے ہوئے بولا۔
انہوں نے باسمتی چاول خالص گھی اور مصالحہ کی پوکلیاں جب تانگہ سے اتار کر ڈیوڑھی میں رکھیں تو گھر میں کوئی بھی نہ تھا۔ عبدالکریم کے کہنے پر گنجا بازار سے چائے کا ایک سیٹ لے آیا۔ وہ چائے کی سرکیاں مار رہے تھے کہ بدرو قدرو اور مہرو تینوں بہنیں سجی سجائی بیٹھک میں داخل ہوئیں۔ بدرو ہنس کر بولی۔ ”ابا جی ہم تو بلاوا دے آئے ہیں۔“
آج بدرو معمول سے زیادہ پتلی اور جاذب نظر آرہی تھی۔ قدرو کا بدن گدرایا ہوا تھا۔ اس کے ناک کی کیل بار بار چمک رہی تھی۔ مہرو پر بہار شباب کی تمام رنگینیاں لئے ان کے ہمرکاب اس طرح تھی جیسے دھلی نکھری بدلیوں کے ہمرکاب بجلی کی کڑک!
پروگرام یہ تھا کہ اتوار کو دوپہر کا کھانا اور رات کو گانا۔ گلاب دین کی طرف سے جب ڈھل مل اظہار ہو اتھا۔ عبدالکریم نے کہا ”منشی جی آپ کوئی اوپرے تو نہیں۔ ہمارے گھروں میں آپ کو کون نہیں جانتا۔ اوّل تو ہم نے زیادہ لوگوں کو بلایا نہیں یہ اڑوس پڑوس کے چند گھروں کو بلایا ہے۔ باقی رہا گانا تو وہ آپ کی مرضی“
”حافظ صاحب نے کیا فرمایا ہے قدروپتر؟“
قدرو نے کہا۔ بے سجادہ رنگین کن گرت پیرمغاں گوید…. کیوں ابا جی؟“
”کچھ نہیں پتر منشی جی کو سگریٹ دو۔“
قدرو نے سگریٹ کی ڈبیا منشی جی کے آگے کر دی، جس میں سے گلاب دین نے ایک سگریٹ نکال کر سلگا لیا۔
”بس آپ ڈاک بانٹ کر سیدھا ادھر ہی آجائیں۔“
ہفتہ کی شام کو نائی نے چولہا گاڑ دیا اور اتوار کی صبح کو اس کے د و ساتھیوں نے آکرکام سنبھال لیا۔ جاوتری، لونگ، دارچینی اور زعفران کی خوشبوچاروں طرف پھیل گئی تھی اور دیگوں میں بڑا کفگیر گڑ گڑ بجنے لگا۔
گلاب دین پیدائش منتظم تھا۔ عبدالکریم نے استاد نورالدین اور منشی گلاب دین کو دیگوں کی نگرانی پر بٹھا دیا۔
بدرو کے سازندوں نے دالانوں میں کرایہ کی چاندنیاں بچھا ڈالیں۔ قیم اور اس کے دوستوں نے گاﺅ تکئے لگا دیئے۔ پھر آتش دان پر گلاب پاشیاں رکھ دیں اور پوچھنے لگا۔” آپا بدرو ٹھیک ہے نا؟“
اس نے کمروں کا جائزہ لے کر کہا ”ٹھیک ہے۔“
”بی بی سگریٹ کےلئے پیسے تو دے دو“ اس سے بھی دس کا نوٹ ہتھیا لیا۔
دوپہر ہوئی تو طوائفوں کی ٹولیاں آنی شروع ہو گئیں۔ انگلیوںمیں سگریٹ لیے  ہوئے چھالیا چباتیں اور سرگوشیاں کرتیں، رنگارنگ آوازیں، رنگارنگ لباس، گورے چہرے، سنولائے چہرے، بھرے سینے، پتلی کمریں، دلبری کی تمام ادائیں اور غمزے ابریشم و کم خواب کے تھانوں میں لپٹے ہوئے، کچھ جوان، کچھ سرشار، کچھ ادھیڑ، دالان جیسے قمریوں اور کبوتریوں کی غٹرغوں سے چہک اُٹھا۔
نور پلاؤ ، شِیرمال اور قورمہ برتایا گیا۔ ایک آتا ایک جاتا رہا۔ زیادہ قریبوں کے گھرکھانا پہنچا دیاگیا۔ اس ہجوم دلبراں  میں گِھرے ہوئے گلاب دین کی نیچے کی سانس نیچے، اوپر کی اوپر
مہمان کا بھگتان ہو چکا تو برتانے والوں کی باری آئی۔ پھر یہ سب کھا پی کر دالان میں بچھی چاندنی پر لیٹ کر سگریٹ کا دھواں اُڑانے لگے۔ نائی اپنی دیگیں اور مجولے سنبھالنے لگا۔ پتا نہیں اپنے چٹھی رساں کو کچھ دیا ہے نہیں؟“
استاد نورالدین بولا ”بی بی نے چاول دیئے تھے۔“
برآمدے میں بدرو بولی ”میں نے دیئے تھے ابا جی“
ہمارے لیے  ہمیشہ اچھی خبریں لاتا ہے۔“
رات کو جب گلاب دین پہنچا۔ مجلس سج چکی تھی۔ فیروزہ نے سلمہ کا سوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کی سڈول کلائیاں سونے کی چوڑیوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔ زہرہ نے ساڑھی کے ساتھ برائے نام سی چولی پہن رکھی تھی۔ جب ساڑھی کا پلو سرک جاتا تو سامنے سے اس کا کساکساپیٹ، پیچھے سے اس کی چکنی چکنی کمر دکھائی دینے لگتی۔ گگ نے چوڑی دار پاجامے پر گھیردار قمیص کی گوٹ کے باولے جھلمل جھلمل کرتے۔ ریشمی غرارے میں مشتری کے سرین چکی کے دو پاٹوں کی طرح رگڑ کھا رہے تھے۔ غرارے کو انہوں نے اس طرح بھر دیا تھا جیسے اس میں انڈیلے گئے ہیں۔ مشتری کی چھوٹی بہن جو چند مہینے ہوئے آجا کا سبق لے رہی تھی۔ آج پہچانی نہیں جاتی ہے۔ اس نے ماتھے پر جھومر لٹکا رکھا تھا۔ پلکوں کے تناؤ  میں کئی اشارے اور کئی لگاوٹیں پل رہی تھیں۔ شعلہ جوالا بنی ادھر سے ادھر اپنا آپ دکھاتی پھر رہی تھی بلوپھلجڑی بنی ہوئی تھی۔ اس نے سینے پر دو پٹاخے باندھ رکھے تھے۔ اس کے کئی روپ تھے۔ مہتابی انار، پوپٹ گولہ لیکن بجلیاں نہیں تھیں۔ تمام بجلیاں آج بدرو کے حصے میں آگئی تھیں، جس کی لم جھڑی آنکھوں پر دراز پلکیں جھکی ہوئی تھیں۔ اور نسوانیت کے ابرایشمی پر ….سے چہرہ دمک رہا تھا۔ وہ پان الائچی کی طشتری لئے چاروں طرف تواضح میں جٹی ہوئی تھی۔ قدرو جب ہونٹ میچ میچ کر باتیں کرتی تو اس کے ہونٹوں کی یاقوتی تراش اور بھی غضب ڈھاتی تھی۔ وہ انگلیوں کی خفیف سی حرکت سے جب اپنے کٹے ہوئے بالوں کو گردن سے ہٹاتی تو یوں لگتا جیسے انگلیوں کی پوروں سے بلوریں شبنم کی پھوار پڑے گی۔
مہرو مہرو ہی نہیں لگتی تھی۔ اس کی دنبالہ دار آنکھوں میں اتنی گھلاوٹ کہاں سے آگئی تھی۔ چوکڑیاں بھرتی پھر رہی تھی اور اس کے تنگ لباس میں اس کا انگ انگ نظر آرہا تھا۔ چھوٹی سی  نتھنی اس کے بڑے بڑے ارمانوں اور ان کے خیالوں کی چغلی کھا رہی تھی اتنے میں ایک جوڑا اندر آیا۔ سروقد لڑکی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سمٹے ہوئے ریشم کی طرح محفل میں داخل ہوئی۔ بڑی نزاکت سے ہاتھ کو قوس بنا کر سب کو آداب کیا۔ دالان کی دہلیز پر بیٹھے گلاب دین نے پوچھا ”قیم جی! یہ لڑکی کون ہے؟“
وہ اینڈتے ہوئے بولا ”شمو میری پھوپھی کی لڑکی خواجہ صاحب کے گھر میں ہے۔“
گلاب دین کے سینے میں جیسے بہت سی سانس رکی ہوئی تھی۔ اس نے ایک لمبی سانس لے ڈالی۔ وہ خواجہ کی کوٹھی میں چٹھیاں بانٹ چکا تھا۔ وہ انہیں جانتا تھا۔
سر راہ کھلے ہوئے سارے پھول سامنے کے رخ پر اکٹھے ہو گئے تھے۔ رنگا رنگ ہنستے کھلتے دمکتے چہرے پھولوں کا گل دستہ بنے دکھائی دے رہے تھے۔ خار گل کے ساتھ کہیں دکھائیں نہیں دے رہا تھا۔ خواجہ صاحب ان صوفوں پر جا بیٹھے جدھر مرد مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک طرف کو بیٹھ کر حقے کا دھواں اُڑانے والے سازندوں میں سے ایک آدھ نے انہیں سلام کیا اور اپنے ساز لے کر قالینوں پر آبیٹھے۔سب سے پہلے آہورم خوردہ مشتری کی بہن الماس کو پکڑ کر بٹھا دیا گیا۔ اس کے گانے کے بعد شور مچا بدرو ….بدرو….!
بدرو نے اپنی گھنی پلکوں کو اوپر اُٹھایا، مردوں کی طرف مسکرا کر دیکھا، پھر محفل کا ایک نظر سے جائزہ لیا اور اپنی ریشمی شلوار کی کریز کو چٹکیوں میں تھام کر پائنچے سنبھالتی بیچ میں آ بیٹھی۔ گلاب دین دہلیز پر اور اونچا ہو گیا۔ اس نے بدرو کو اس رنگ میں کب دیکھا  تھا یا الٰہی بدرو کی آواز کا لہرا تھا یا رم جھم، ایک مہمان نے نوٹ نکالا۔
گلاب دین نے ساتھ والے سے پوچھا۔ ”کتنے کا ہے؟“
”دس کا؟“
گلاب دین کے سینے سے پھر ایک لمبی سانس نکلی جو دیر سے رُکی پڑی تھی۔ وہ سوچنے لگا۔ بدرو کے اعضا میں یہ لچکیلا پن کہاں سے اترتا آرہا تھا۔ اس کی آواز نکھرتی جارہی تھی۔ ایک نوٹ دو نوٹ، تین ، چار، پانچ
”یہ کون لوگ ہیں؟“
”اپنے اپنے ملاقاتی ہیں۔ اپنی والیوں کو سلامی دے رہے ہیں۔“
اب خواجہ صاحب نے نوٹ دیا۔ پھر شمو نے، پھر خواجہ صاحب نے، سب ہنسنے لگے۔
بدرو دو غزلیں گا کر بڑی نزاکت کے ساتھ اُٹھ بیٹھی۔ گگ جی کی فرمائش ہوئی۔ گگ نے پکے راگ سے آغاز کیا۔ جب گلا کھنگالا گیا تو ساقی نامہ شروع کیا۔ آواز کا جادو ملاقاتیوں کے سر چڑھ کر نوٹ نوٹ دلوانے لگا۔ گگ نے جب جوش میں آکر گھنگرو باندھ لئے تو سارے لوگ خوشی سے تالیاں پیٹنے لگے۔ اس نے بتا دے دے کر کس کس حسن ادائیگی سے زاہدومحتسب کی چٹکیاں لیں۔ کس کس شان دلربائی سے کمر کو لچکا دے دے کر میکدے کے دروازے پر دستک دی کہ محفل کی محفل تڑپ اُٹھی۔ بدرو  نے اُٹھ کر سینے سے لگا لیا اور بولی ”گگ جی زندہ باد ۔“
ایک کونے سے آواز آئی ”ڈھولک“ بلو نے چونکنی  ہو کر اس طرف  دیکھا جدھر سے آواز آئی تھی۔ بلو کے ملاقاتی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتایا۔ تیرا نیاز مند ادھر بیٹھا ہے۔ بلومسکرا دی۔ مہرو نے ڈھولک لا کر بلو کے سامنے رکھ دی اور الماس کو لے کر خود بھی بیٹھ گئی۔ ڈھولک کیا بجی واضع داریوں کے بند ڈھیلے پڑ گئے۔ بعض مہمان صوفوں سے اتر کر قالینوں پر آبیٹھے اور چٹکیاں بجانے لگے۔ تھاپ دینے لگے، رنگ محفل ہی بدل گیا۔ ایک صاحب پہلے نوٹ دیتے رہے پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر ناچنے لگے۔ چکر بھریاں لیتے لیتے قدرو کے پاس جا پہنچے اور ہنستے ہنستے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لے آئے۔ شورمچا ”شاباش ٹھیک ہے ٹھیک ہے“ ان صاحب نے قدرو کے گھنگھرو باندھ دیئے اور استاد کو اشارہ کیا۔ طبلے پر ہاتھ پڑاتھئی! قدرو نے اپنے یاقوتی ہونٹوں کی پنکھڑیوں کو میچ کر کلائی پر کلائی سے گرہ باندھی پڑی۔۔آنکھوں میں رس اتر آیا۔ پلکوں کا ریشمی تناؤ  ستاروں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر چاندنی میں گھلنے لگا۔ کائنات گردش میں آگئی اور قدرو رنگوں کا پیکر بن کر گھومنے لگی۔
گلاب دین کے سینے میں اب کوئی رُکی پڑی سانس باقی نہ تھی وہ مجسم حیرت بنا دیکھ رہا تھا۔ اللہ غنی یہ قدرو تھی، اس کے پاؤں  تھے یا خط چھانٹنے کی خودکار مشین سے بھاپ نکل رہی تھی۔ اس نے غور سے دیکھا۔ ملازم لوگ محفل میں گرم گرم کشمیری چائے کے پیالے سینیوں میں رکھے پھر رہے تھے۔ چاروں طرف سگریٹوں کا دھواں پھیل رہا تھا۔ وہ ان رنگارنگ آوازوں میں بھی کچھ فیصلہ کرنے نہ پایا تھا۔ عبدالکریم اس کے پاس گزرتے گزرتے کہہ گیا، ابھی جانا مت۔“
رات بہت بیت چکی تھی۔ اس نے دوچار جمائیاں بھی لی تھیں، مگر چائے کے گرم گرم پیالے نے اس کے بدن میں پھر چستی پیدا کر دی تھی۔ ابھی ان کا پیالہ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ محفل میں سے کسی نے الاپ لیا وہ پھر اپنی جگہ پر آبیٹھا۔ شمو کی بلوری انگلیاں ہوا میں ایک دائرہ بنا رہی تھیں اور اس کے  گلے میں سے نور کی آواز نکل رہی تھی۔ ایک مہک چاروں طرف پھیل رہی تھی۔ لفظوں کو انتہا پرلے جاکر وہ اس سبکی اور آہستگی سے انہیں لوٹا دیتی تھی کہ سینوں میں دل ڈول جاتے اور محفل میں واہ واہ ہونے لگی۔
اس کے بعد مشتری آئی، چہرے پر اس کے سلونا پن اور ان خیالوں کی جھلملاہٹ، ہاتھ میں فیروزے کی انگوٹھی، اونچی کرتی کے نیچے گول گول رانوں کو غرارے میں سمیٹ کر بیٹھ گئی۔ ایک کونے سے آواز آئی۔ پنجابی۔ اس نے ہولے سے استاد سے کچھ کہا اور ماہیا گانے لگی۔ ایک کے بعد ایک دوسرے کے بعد تیسرے پنجابی گیت کی فرمائشیں جب پوری ہو چکیں تو بدرو اور گگ نے کہا ”آپا فیروزاں“
فیروزاں نے سگریٹ کا ایک بھرپور کش لے کر اسے مسل ڈالا۔ پھر اپنے لب لعلین پر خنجر خونچکاں کو آب دی اور اپنی سڈول کلائیوں میں چوڑیوں کو سنوارتی اُٹھ بیٹھی۔ اس کے چہرے پر ایک خاص تمکنت، وقار اور اعتماد تھا۔ معلوم ہوتا تھا کسی وقت میں بڑی بانکی عورت رہی ہو گی۔
کسی نے کہا ”مرزا صاحباں“ اس نے اس طرف ایک نگاہ غلط انداز ڈال کر کہا ”اچھا“
رات کے سناٹے میں اس کی کھرج دار آواز بلندیوں کی خبرلانے لگی۔ جب مرزا کے بول دہرانے لگی تو جوش میں اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ اس سے بھی مطمئن ہوتی۔ دوپٹہ اُتار کر پھینک دیا اور ہاتھ اُٹھا کر لمبی لمبی تانیں اُڑانے لگی۔ جیسے راوی کی لہریں بپھر کر کناروں سے اُچھل جائیں اور ”صاحباں“ کے بول گاتے وقت آواز کو اس طرح سمٹا لیتی جیسے لہروں پر چاندنی رات میں چھوٹے چھوٹے پھول پڑے لگیں۔ وہ نوٹ سمیٹتی جاتی تھی اور محفل پر اپنی لوچدار آواز کا سحر پھونکتی جاتی تھی۔
ایک نکہت بہار تھی جو ستاروںکو جھلملاتی روشنیوں کے ہم رکاب گزر گئی۔ گلاب دین اذان سنتے ہی شاہی مسجد کے ایک دالان میں سے اُٹھا۔ حوض کے ٹھنڈے پانی سے وضو کیا۔ آج نماز پڑھنے میں اسے بڑا لطف آیا۔ خدا کے اس وسیع و عریض گھر میں اور گلاب دین کی کشادگی دل میں بڑی مماثلت تھی۔ اس نے لمبے لمبے سجدے کیے  اور روانہ ہو لیا۔

اس نے آس پاس کے علاقہ کی ڈاک تو دوپہر کو بانٹ دی۔ دو چٹھیاں جو اس طرف کی تھیں ان کو رکھ لیا کہ سہ پہر کو اس نے عبدالکریم کے گھر جھانکا تو سب سوئے پڑے تھے۔ اگلے روز جب گلاب دین نے چق اُٹھا کر دیکھا۔ تو سب لوگ بیٹھک میں لیٹے ہوئے تھے ”آﺅ منشی جی کیا حال ہے؟“
میں کل آیا تھا۔ آپ سب سوئے تھے۔“
”بُرا حال تھا ہمارا، لڑکیاں تھک گئی تھیں، کیوں اچھی رونق رہی؟“ عبدالکریم نے کہا۔
”اجی رونق، کمال ہوگیا تھا۔ گگ جی نے تو حد کر دی۔“
”ابھی تمہارے آنے سے دو منٹ پہلے گئی ہے۔ چار سو ہو گیا اسے۔ لڑکیوں کو اپنے ساتھ بری امام لے جانے کو کہہ رہی تھی۔ پچھلے سال گئی تھی، بہت کچھ لے کر آئی تھی۔“
”پھر؟“
”پھر یہ بھی تیار ہوگئی ہیں۔“
بدروتاش پھینٹتے پھینٹتے بولی ”جو اللہ کومنظور“
پندرہ روز تک تینوں بہنوں کی ہمہ وقت توجہ کپڑے سلوانے پر رہی۔ درزی روزانہ آتا جاتا تھا۔ گنجے کو ڈانٹ پر ڈانٹ پڑ رہی تھی۔ آخر سامان باندھے۔ تینوں بہنوں کو لے کر دس دن کےلئے بری امام کے میلے پر چلے گئے۔
عبدالکریم کو ان کے خط کا بڑا انتظار رہا۔ گلاب دین خط لایا تو عبدالکریم حقے کی نے منہ میں سے نکال کر بولا۔ ”تم سے کون سا پردہ ہے، پڑھ کر سنادو۔“
بدرو نے خط میں لکھا تھا کہ ہم پنڈی پہنچ کر خیریت کے ساتھ نورپور پہنچ گئے ہیں۔ جہاں دو کمروں کا اچھا ڈیرہ مل گیا ہے۔ رات چوکی دیں گے تو اندازہ لگ سکے گا کہ میلا کیسا جائے گا۔ ویسے میلا بہت بھر رہا ہے۔ چاروں طرف طرح طرح کی گانے والیاں آئی ہیں۔ کچھ ابھی آرہی ہیں۔ سنا ہے کہ یہ میلا اگلے سال نہیں لگے گا۔ فقط آپ کی بیٹی بدرو“
دوسرا خط آیا۔ جس میں لکھا تھا۔ خدا کے کرم و فضل سے میلے کے ساتھ ہم بہت اچھی جارہی ہیں۔ پانچ دن کی آمدنی چارہزار ہوئی ہے۔ جو استاد جی آج پنڈی جاکر آپ کو روانہ کر رہے ہیں۔ ہم اٹھارہ انیس کو لاہور پہنچ جائیں گے۔ ہمارے آنے سے پہلے آپ صوفوں کا کپڑا بدلوا لیں۔ صوفوں کے سپرنگ بھی ڈھیلے ہو چکے ہیں۔ وہ ٹھیک کرا لیں۔ بلکہ صوفے ہی نئے خرید لیں گے، پردے بھی نئے ڈلوا لیں۔ سستی نہ کریں۔ وجہ اس کی یہ کہ مہرو پر ایک پٹھان عاشق ہو گیا ہے، آپ نتھ اتروائی اس سے جو مانگیں گے، دے گا۔ میں نے اور قدرو نے کہا۔ یہ پردیس ہے آپ لاہور آکرہمارے مہمان ہوں وہاں ہم آپ کی خدمت کریں گے۔ کہتا ہے ہم کو کیا کھلائے پلائے گا۔ قدرو نے کہا جو آپ کہیں۔ بولا استاد جی ہم کو بس شربت وصل پلا دوہم بہت پیاسا ہے۔ استاد جی نے کہا خاں صاحب آپ آئیں تو ہم آپ کو شربت وصال کے کھوہ میں ڈبکیاں دیں گے۔ غوطے کھلائیں گے۔ مہر کے سر پر ہمیشہ سو سو کے نوٹ رکھتا ہے۔ صدقے اور قربان ہو ہو جاتا ہے۔ مہر بھی اس سے بڑے نخرے کروار ہی ہے۔گگ کے نوکر کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔ کیونکہ اس نے چاقو مار کر کسی کی انتڑیاں نکال دی ہیں۔“

عبدالکریم نے خط سن کر اطمینان کا سانس لیا اور بولا ”خدا ایسی بیٹیاں سب کو دے“ گلاب دینا۔ انہوں نے باپ کو بڑی بڑی رقمیں لاکر دی ہیں  اور اس پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔ اب اللہ کے فضل سے مہرو بھی کماؤ  ہو جائے گی۔ پھر ایک اور جلسہ کریں گے۔
جب عبدالکریم نے چارہزار کے بنک ڈرافٹ کا رجسٹری لفافہ گلاب دین کے ہاتھوں سے وصول پایا تو اگلے دن ہی قیم جاکر نئے ڈیزائن کے صوفے اور پردوں کا کپڑا لے آیا۔ بیٹھک میں سفیدی ہو گئی۔ شیشے والی دیوار گیریوں پر پالش بھر گیا۔ نئے شیشے لگ گئے، ڈبی بازار سے کاریگر بلا کر نیم چھتی سے لٹے ہوئے پرانے جھاڑ فانوس کی صفائی کرا دی۔ سارا گھر اُجلا ہو گیا۔
لڑکیاں 19کی صبح کو آرہی تھیں اور 19ہی کو پوسٹ آفس کے پچھواڑے والی عمارت لمبے کمرے میں چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔
سپروائزر نے پوسٹ ماسٹر سے کہا ”گلاب دین کچھ عرض کرنا چاہتا ہے۔“
”کیا عرض کرنا چاہتا ہے یہ ہر سال بلاؤ“ پوسٹ ماسٹر نے چڑ کر سپروائزر سے کہا۔
دوسرے لمحہ گلاب دین پوسٹ ماسٹر کے سامنے کھڑا تھا جو فائل پر نظریں جھکائے کہہ رہا تھا۔ یہ تمہاری پچھلے سال والی عرضی میرے سامنے پڑی ہے، تمہاری منشاءکے مطابق تمہاری تبدیلی اب ہیرامنڈی سے واپس مصری شاہ کر دی گئی۔ اب تم کیا عرض لے کر آئے ہو؟“
”حضور میری صرف اتنی عرض ہے مجھے یہیں رہنے دیا جائے….“
”کیا کہا؟“ پوسٹ ماسٹر نے فائل پر سے نظر اُٹھا کر گلاب دین کو حیرت سے دیکھا، جس کی داڑھی غائب تھی۔ لمبی سی تھوڑی نکلی ہوئی تھی، موٹے موٹے ہونٹوں کے اوپر مونچھوں کا ہلکا ہلکا غبار تھا۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *