• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • گل رحمٰن کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام ادبی محبت نامہ اور اس کا جواب

گل رحمٰن کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام ادبی محبت نامہ اور اس کا جواب

جناب محترم خالد سہیل صاحب !
آداب کے بعد عرض ہے کہ میں گل رحمٰن بہت ہی کم عرصے میں آپ کی شخصیت ، ادبی اور علمی قابلیت ، آپ کے اخلاق اور دوست احباب سے معاملات سے متاثر ہوئی ہوں ۔اس تھوڑی سی مدت میں میں نے یہ دیکھا اور محسوس کیا ہے کہ آپ تک رسائی نہ صرف آسان ہےبلکہ آپ اپنے دوستوں کو جو عزت و احترام کے علاوہ اپنا قیمتی وقت اور مشوروں سے نوازتے ہیں،اس کا آج کل کے دور میں کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ آپ خط و کتابت کو ترجیح دیتے ہیں جس سے آج کا انسان خود کو آپ سے ذاتی طور پہ قریب پاتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ایک آسان اور خوبصورت انداز میں ان کو درپیش مسائل میں اپنے پروفیشنلزم سے ایسے مشورے دے جاتے ہیں کہ نہ صرف اُن کی نفسیاتی نشو ونما ہو تی ہے بلکہ خود اعتمادی کو بھی اُجاگر کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔اس لیے میں بھی آج ہمت پکڑ کر کچھ لکھنے بیٹھ گئی ہوں۔ اُمید ہے آپ میری کہانی پڑھ کر اپنی قابل آراءسے مجھے مستفید کریں گے۔

جناب قصہ یوں ہے کہ مجھے جہاز میں بیٹھے بیٹھے کچھ نہیں تو لگ بھگ چھ گھنٹے ہو چکے تھے ۔ ایک ہی جگہ ایک ہی حالت میں سوچوں کا تانہ بانہ بُنتے ، کچھ لکھنے کی آرزو ، کچھ بیان کرنے کی کیفیت ، عجب سی بیقراری اور خواہش کہ دل اور دماغ آج کچھ خاص آمیزش بنائیں اور ایک دل پذیر اقتباس قلمبند ہو جائے۔ اس کشمکش میں بےچینی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی ،جیسے وقت بھاگ رہا ہو اور میں اُس کی لگام کا سرا ڈھونڈ رہی ہوں ۔ طبیعت کی چابک بس برسنے کو تیار ۔ آج کا موضوع کیا ہو ، حالیہ کرکٹ ورلڈ کپ پہ روشنی ۔۔۔ دو بڑے مخالف انڈیا پاکستان کی پرفارمنس یا میرے اٹلی کے تازہ ترین ٹرپ پہ تبصرہ ۔ سوڈان اور یمن کا لیٹسٹ چیلنج یا وزیر اعظم پاکستان کا امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے دعوت نامہ ۔ عالمی اور قومی سطح پہ مسائل یا فیمنزم کے اوپر اظہار خیال ؟ دماغ تو کہتا کچھ بھی لکھنا آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ جہاں بڑے بڑے نامور ، لکھنے والے ، حالاتِ حاضرہ پر بحث و تکرار کرنے والے، صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح کہنے والے موجود ہوں، وہاں میری کیا مجال اپنی ناقص سی رائے دوں ۔ بالآخر اسی پہ خود سے اکتفا کیا کہ جناب خاموش ہی رہا جائے اور ہمیشہ کی طرح اپنی مثبت سوچ کا گلہ گھونٹ کر آج کچھ بھی لکھنے سے گُریز کروں ۔ سو یہ خیال آتے ہی میں نے جہاز میں بیٹھے بیٹھے اپنا اعلی گُفتار جس میں میری خطاطی نوٹس کے باکس میں رہتی ہے اُس کا بٹن آف کر کے بیگ میں رکھ لیا اور سر کو نشست   کی پُشت سے ٹِکا لیا۔

اب جونہی آنکھیں موندیں یکا یک آنکھوں سے پانی کا سلسلہ رواں ہو گیا ۔ اُف یہ کیا آنکھوں پہ اختیار کیوں نہیں   رہا؟ ۔۔ خیر تو ہے ؟ کوئی جہاز میں ہوا کا دباؤ ایسا کرنے پہ مجبور کر رہا ہے یا کسی نے پرفیوم وغیرہ کا چھڑکاؤ کر دیا ۔ یقین جانیے اس میں بالکل مبالغہ آرائی نہیں ہے ۔ ایک ہچکی کا سلسلہ سا بندھ گیا اور میں شاید خود کے قابو سے باہر ہو گئی۔ اپنی کیفیت کا  ذمہ دار اب کس کو ٹھہراتی جب خود کچھ نہیں جانتی تھی ۔ چند منٹوں کی دقت کے بعد اوسان بحال ہوئے تو حساسیت کی اُس وجہ کا جائزہ لیا۔ بے جان اور ہیجان کی حالت سمجھ آئی ۔۔۔۔ شاید کچھ اس طرح سے اُس کو قلمبند کرنا  مناسب ہوگا ۔ اصل میں مَیں شعوری اور لاشعوری حالت میں شاید پچھلے چھ گھنٹے سے اپنے گرد و نواح میں بہت سے لوگوں کی حرکات کو محسوس کر رہی تھی جس سے مجھے یہ سمجھ آئی کہ دنیا صرف ہمارے اندر اور ارد گرد کی خوشی ، غمی یا ضروریات کا نام نہیں ہے ۔ ہم خود غرض لوگ اپنی پسند ناپسند، اپنی شدت پسندی کی عینک سے بس اس دنیا کو دیکھتے رہتے ہیں ۔ اپنی ناقص رائے قائم کرنا اور دوسروں پہ مسلط کرنا ہماراہی شیوہ ہے ۔ بہت آسانی سے کبھی کسی پہ محبت اور عزت کا غلاف چڑھا دیتے ہیں اور پھر یکدم اُسے سرِ بازار ننگا کر دیتے ہیں ۔ کسی کے لیے جہاں مطلب ہو تو سر پہ بٹھا لیا اور مطلب نہ ہو تو منہ کے بل گرا دیا۔ شش و پنچ اور بے یقینی اس معاشرے کا ایسے ہی دوسرا نام نہیں ہے ۔ اب  سنیے میں نے جہاز میں کیا دیکھا۔ دائیں جانب ایک شخص جو انتہائی وزنی جسامت کا مالک تھا ہماری آٹھ گھنٹے کی پرواز میں کم سے کم ۵ گھنٹے وہ اپنی کرسی پر نہیں بیٹھا ،جانتے ہیں کیوں ؟ کیونکہ اس کی وجہ سے ساتھ کی نشست والے شخص کو کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ایک تین سالہ بچہ جو فلو کی وجہ سے  ہوائی پریشر سے شاید درد محسوس کر رہا تھا اس کی ماں مسلسل اسے قابو کیے بیٹھی تھی تاکہ اُس کی بد امنی ماحول کو خراب نہ کر دے۔ ایک خاتون جو وقتا فوقتا اپنی ضبط کی کمزوری کی وجہ سے غسل خانے جارہی تھی، اس کے ساتھ والے مسافر بغیر کوئی بدتہذیبی دکھائے، بِنا ماتھے پہ بل ڈالے  مسکرا کے اُس کے لیے راستہ خالی کر دیتے تھے۔ جہاز کھچا کھچ لوگوں سے بھرا تھا مگر مجال ہے کسی نے باآواز بلند بے مقصد گفتگو کر کے دوسروں کی نیند برباد کی ہو۔ اور ایسی کئی چھوٹی چھوٹی مثالیں نظر آئیں جن کو ایک حساس شخص ہی محسوس کرسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ میری نظر میں انسان کیونکہ ایک سماجی جانور ہے اس لیے اس کی بہترین بقا دوسروں سے سیکھنے اور سکھانے کی مرہون منت ہونی چاہیے ۔ ہم اپنی دور اندیشیوں اور خدشات میں اتنے الجھے رہتے ہیں کہ اپنے قریبی رشتے اور روزمرہ کے ساتھیوں کی زندگی میں کیا ہو رہا ہے بھول جاتے ہیں ۔ بس کچھ ایسے ہی حالات کا جائزہ لیا تو آنکھ بھر آئی۔ اب آپ سے درخواست ہے کہ ذرا ان سوالات پہ روشنی ڈالیں کہ آج کا انسان کیوں اپنی ذات میں اخلاقی ، تعلیمی ، نفسیاتی طور پر اور خودداری میں نا مکمل ہے ؟ ایک بے راہ روی اور بے حسی کا معاملہ ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ کیوں ؟ کیا ہم ہر بات کا قصور وار ہمیشہ دوسروں کو ہی ٹھہراتے رہیں گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالد سہیل کا جواب
گل رحمٰن صاحبہ !
آپ کا خط آپ کے خلوص اور آپ کی اپنائیت کا آئینہ دار ہے۔چونکہ آپ ایک شاعرہ ہیں اس لیے آپ نے مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے اور میری کچھ زیادہ ہی تعریف کر دی ہے۔میں تو ایک درویش منش انسان ہوں جو زندگی’ ادب اور نفسیات سے محبت کرتا ہے۔ مجھے میرے دوست بہت عزیز ہیں۔ میں ان کے ساتھ مل کر ادبی کام کرتا ہوں۔ ان کی محفلیں مجھے انسپائر کرتی ہیں۔ میں انہیں اپنا EMOTIONAL RRSP سمجھتا ہوں۔اسی لیے میں دوستوں کے حلقے کو فیملی آف دی ہارٹ کہتا ہوں۔
آپ کے خط سے مجھے احساس ہوا کہ آپ ایک بہت ہی حساس انسان اور ادیبہ ہیں اور بہت ہی حساس ہونا ایک MIXED BLESSING ہے جو انسان کے دکھوں اور سکھوں میں ایک خاص طرح کی شدت پیدا کر دیتا ہے۔

مجھے یہ احساس بھی ہو رہا ہے کہ شاید آپ ایکIDEALIST ہیں اس لیے جب آپ کی شخصیت کی مثالیت پسندی زندگی کی حقیقت پسندی سے ٹکراتی ہے تو آپ دکھی ہو جاتی ہیں اور آنسو بہاتی ہیں۔ آپ زندگی کی ناہمواریوں۔۔۔ناانصافیوں ۔۔۔محرومیوں اور زیادتیوں کو دیکھ کر دلبرداشتہ ہو جاتی ہیں۔شاید آپ انسانوں کی منافقت سے پریشان اور دکھی رہتی ہیں۔

میں انسانی نفسیات کا ایک طالب علم ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک منافق معاشرہ انسانوں کو منافق بنا دیتا ہے کیونکہ انسان جانتے ہیں کہ وہ پورا سچ نہیں کہہ سکتے  اور نہ  لکھ سکتے ہیں ، کیونکہ پورے سچ کی انہیں قیمت ادا کرنی ہوگی جو بعض دفعہ بہت بھاری قیمت ہوتی ہے۔ اسی لیے ابنِ انشا کہتے ہیں
؎ سچ اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا۔۔

میری نگاہ میں ہر دور کے ادیب ’ شاعر اور دانشور انسانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر بہتر انسان بننے کے خواب دکھاتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ایک دن وہ خواب شرمندہِ تعبیر ہوں گے اور انسان اس کرّہِ ارض پر ایک منصفانہ اور پُر امن معاشرہ تعمیر کر سکیں گے۔

ہر انسان اور ہر ادیب یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے انسانیت کی کس طرح خدمت کرنی ہے۔میں ایک ماہرِ نفسیات کی حیثیت سے ہر روز چند مریضوں اور ان کے خاندانوں کا علاج کرتا ہوں اور ان کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے میں ان کی مدد کرتا ہوں اور ہر ہفتے ‘ ایک ویب سائیٹ  کے لیے ایک کالم لکھتا ہوں تا کہ ہم اپنے مسائل کو سمجھ سکیں اور ان مسائل کو حل کر سکیں۔ میں سیاہ رات کی شکایت کی بجائے اس میں اپنے حصے کی ایک شمع جلانا چاہتا ہوں۔میں اپنی تخلیقات کو دکھی انسانیت کے نام اپنے محبت نامے سمجھتا ہوں۔۔
گل رحمٰن صاحبہ۔۔۔مجھے ادبی محبت نامہ لکھنے کا بہت بہت شکریہ۔اب آپ بھی میری فیملی آف دی ہارٹ کا حصہ ہیں۔
اپنا خیال رکھیے گا
آپ کا ادبی دوست
خالد سہیل
۳ جولائی ۲۰۱۹

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *