• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • یاد کا گُھنگُرو۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

یاد کا گُھنگُرو۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

کل شام جب میں نے سُوکھے پتوں پر پاؤں رکھا۔۔
پتوں کی آواز نے عجیب سی کیفیت طاری کردی!
مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی مختصر زندگی گزار کر۔۔
موت کی آغوش میں چلا گیا ہو۔۔
بہاریں جب خزاؤں کو خوش آمدید کہتی ہیں۔۔
میرے جیسے کئی گل وگلزار ٹہنیوں سے گر جاتے ہیں
مجھے یونہی محسوس ہوا جیسے!
ایک مکمل خزاں میرے وجود میں اُتر آئی  ہو۔
میری روح پتوں کی سرسراہٹ سے
بے چین ہو رہی تھی۔۔
ایسا لگا جیسے کوئی  میرے وجود کو
قبل از خزاں ہی مُرجھا رہا ہو۔۔
میں کسی سُوکھے پتےّ کی مانند گِر کر
بکھرنے کے انتظار میں زمین پر پڑی ہوں۔۔
ہوا جب تیز ہوئی سوکھے پتے
رقص میں مصروف ہو گئے۔۔۔۔
بھلا کوئی شاخ سے ٹوٹ کر بھی رقص کرتا ہے؟
کوئی  مُرجھا کر بھی ہواؤں کے سنگ جیتا ہے؟
مجھے محسوس ہوا جیسے۔۔
تمہاری محبت کی شاخ سے گر کر میں بھی
اس سُوکھے پتّے کی مانند ہوں۔۔
مگر رقص!
میرے قدم تو رقص نہیں کرتے
نہ فضاؤں کے سنگ چل پڑتے ہیں۔۔
کتنے موسم آتے اور جاتے ہیں
میرے دل کا موسم وہی رہتا ہے۔
اجڑا ,سنسان ,بھیانک ,تنہا ,اداس اور نمی لیے
پھر سے آنکھوں میں نمی ہی تو تھی ۔۔
اسی نمی کے سدا بہار موسم کے اثر میں
بنا گُھنگُرو پہنے تمہاری یاد میں
رقص کرتی ہوئی۔۔
کئی پتوں کو پاؤں کے نیچے روندتی
جھومتی گئی , جھومتی گئی  ,جھومتی گئی
گُھنگُرو تو نہ تھے مگر !
یاد کے گُھنگُرو ٹوٹ کر پاؤں کو زخمی کرتے گئے
جب میں زمین پر اُوندھے منہ گری
کوئی پتہ نہ تھا۔۔۔
سوکھے پتے بھی ٹھکانہ بدل لیتے ہیں مگر۔۔
میں!
میں اپنا ٹھکانہ کب بدلوں گی
یا شاید  کبھی نہیں۔۔
ٹوٹ گئی  ,بکھر بھی گئی۔۔
مگر میرا ٹھکانہ وہی رہا۔
مجھے بنا گھنگرو ہی اب
یادوں میں رقص نہیں کرنا ہے۔۔
بلکہ میں تو خود یاد کا گُھنگُرو ہوں۔
کوئی پہنے مُجھے کسی ایسے وجود پر
جہاں یاد کی خود رو جڑیں قبضہ جمائے ہوں
اور جھومتا جائے, جھومتا جائے۔۔۔
تا کہ!
میں پھر سے ٹوٹ کر بکھر جاؤں۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”یاد کا گُھنگُرو۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اسلام علیکم!
    رمشا جی!خود کلامی کی اذیت کا اک اک لفظ ( کیا یہاں لفظ کہنا صحیح ہے) نہیں بلکہ محبت سے چور احساسات دل میں اترتے محسوس ہوئے۔۔۔۔۔ آپ کی تحریر اک محبت بھرے دل کی مکمل داستان ہے ۔ اک ایسی محبت جو بچھڑ گئی ہے ۔۔۔
    یاد کے گُھنگُرو جس کا کل سرمایہ ہے ایسا سرمایہ جو بیک وقت سکون اور اذیت سے دوچار رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ شروع سے آخر تک بار بار پڑھا ہر بار آپ کی تحریرنے سحرزدہ کر دیا ۔۔۔ اک مکمل تحریر جو کسک اور محبت سے لبریز ہے ۔۔۔ہر حساس دل پے اثر پذیر ۔۔۔۔
    ہجر کی کیفیت کو بہت ہی خوبصورتی سے لفظوں میں ڈھالا ہے آپ نے ۔۔۔
    کتنے موسم آتے اور جاتے ہیں
    میرے دل کا موسم وہی رہتا ہے۔
    اجڑا ,سنسان ,بھیانک ,تنہا ,اداس اور نمی لیے
    پھر سے آنکھوں میں نمی ہی تو تھی ۔۔
    اسی نمی کے سدا بہار موسم کے اثر میں
    بنا گُھنگُرو پہنے تمہاری یاد میں
    رقص کرتی ہوئی۔۔۔۔بہت باکمال لکھا ہے آپ نے ۔۔۔۔ الفاظ کا فقدان ہے ۔۔۔۔ اور کیا کہوں۔۔۔۔
    بقول میرے👇
    کوئی دیکھو ہوا گھائل
    تم کیا گئے ساجن
    آنکھوں میں پھیلا کاجل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آنکھوں میں نمی سی ہے
    تم بن جان من
    ہر شے میں کمی سی ہے۔۔۔۔
    رمشا جی!اللہ رب کائنات آپ کو سدااپنی بیش بہا نعمتوں سےنوازتا رہے آمین یا مستجاب الدعوات۔۔۔۔☺

    1. عظمی جی۔بہت شکریہ دعا کا اور حوصلہافزائی کا۔اللہ پاک آپ کو بہت سی خوشیاں عطا کرے۔آمین۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *