اے پی سی ناکام ہو گئی؟۔۔۔۔اسلم اعوان

اپوزیشن جماعتوں کی وہ آل پارٹیز کانفرنس بلآخر منعقد ہو گئی جس کے انعقاد کو مولانا فضل الرحمٰن حکومت گرانے کی تحریک کا نقطہ آغاز باور کراتے رہے لیکن عملاً یہ پیش رفت خود اپوزیشن کی ذہنی تقسیم کو نمایاں کرنے کا وسیلہ بنی،اے پی سی سے یہ ثابت ہوگیا کہ اپوزیشن جماعتیں نہ صرف پراگندہ خیال اور کمزور ہیں بلکہ انتہائی گہرے فکری و سیاسی تضادات میں بھی الجھی ہوئی ہیں۔

یہ تو واضح ہے کہ موجودہ بندوبست کی سب سے بڑی بینفشری ہونے کے ناطے پیپلزپارٹی کافی آسودہ ہے،پی پی پی کو اپنی سیاسی بیس یعنی سندھ میں نہایت معقول اکثریت کے ساتھ صوبائی اقتدار حاصل ہے،قومی اسمبلی میں ساٹھ سے زیادہ نشستوں کے علاوہ سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین کا منصب بھی پی پی پی کے ہاتھ میں ہے اس لیے  آصف زراداری کو حکومت گرانے کی جلدی ہے نہ کارکنوں کو کسی سنجیدہ مزاحمتی تحریک کی سرگرانی میں الجھنے کی ضرورت،وہ وقت گزاری کی خاطر حکومت سے ہلکی پھلکی چھیڑخانی سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے،چنانچہ بلاول بھٹو زرادری کو سیاسی اخلاقیات کے اعلی مقام پہ بیٹھ کے گفتگو کرنا زیب دیتا ہے اور شاید اسی لیے فرزند ارجمند نے اے پی سی میں مولانا فضل الرحمٰن کو فلاسفیانہ انداز میں جمہوری اخلاقیات کا درس دیکر میڈیا،مقتدرہ اورسول سوسائٹی سے خوب داد پائی۔

شریف خاندان کا معاملہ ان سے بالکل مختلف ہے وہ اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین عہد سے گزر رہے ہیں  اورمسلم لیگ اس وقت حصول اقتدار کی نہیں بلکہ اپنی بقاءکی جنگ میں سرگرداں  ہونے کی وجہ سے کسی ایسی کشمکش کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہو گی جس کے نتیجہ میں اسے پھر کسی سمجھوتہ کے تحت محدود اختیار والی منتخب جمہوری حکومت بنانے کی  سکیم کو قبول کرنا پڑے کیونکہ نوازشریف کا 35  سالہ سیاسی سفر انجام سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے،وہ نہیں چاہتے کہ آزمائش کی اس آخری گھڑی میں اپنے دامن پہ سیاسی سمجھوتوں کا کوئی ایسا داغ لیکر اس دنیا سے رخصت ہوں جس سے تاریخ انہیں ایک بزدل اور موقع  پرست سیاستدان کے طور پہ یاد رکھے۔

نوازشریف اس حقیقت سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں کہ جنہوں نے تین بار انہیں چین سے حکومت نہیں کرنے دی وہ اسے راہ نجات دینے کےلیے  نہیں بلکہ سیاسی موت مارنے کےلیے  سمجھوتوں کی دہلیز تک لانا چاہتے ہیں،ان کےلیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی کو سودا بازی پہ مبنی سیاسی تفریح طبع میں ضائع کرنے کی بجائے بہادرانہ انداز میں مریں،چنانچہ اسی فیصلہ کن ارادے  کے پیش نظر نوازلیگ ابتلاءکی تاریکیوں سے ٹٹول ٹٹول کے نکلنے کی کوشش کے علاوہ قافلہ سیاست کو فیصلہ کن معرکہ کی طرف لے جانے کی منصوبہ بندی کرے گی، وہ جے یو آئی،پیپلزپارٹی اور بائیں بازو کی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ وابستہ رہنے کے باوجود اپنے منتخب کردہ راستہ کو چھوڑنے کا ارادہ ترک نہیں کرسکتی۔کہنہ مشق سیاستدان مولانا فضل الرحمٰن کا مسئلہ  البتہ ان سب سے الگ ہے جن قوتوں نے ان کے اعتماد کو دھوکہ دیکربساط سیاست پہ انہیں دوبار چاروں شانے چت کیا وہ انہیں سبق سیکھانے کی خاطر اپنی زنبیل میں موجود ہر ہتھیار کو استعمال کرنے کےلیے بیقرار ہیں۔

اے پی سی میں انہوں نے جو دو آپشن پیش کیے وہ اسی نفسیاتی اضطراب کی غمازی  کرتے ہیں،پہلی تجویز انہوں نے یہ دی کہ عمرانی حکومت کو گرانے کی خاطر شعار دین کی مبینہ توہین کو ایشو بنا کے مذہبی تحریک اٹھائی جائے(ہمارے ہاںسیاسی محرکات پہ پردہ ڈالنے کےلیے مذہب کے استعمال کا رواج عام ہے )دوسرے وہ اپوزیشن کو قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ سے مستعفی  ہو کے موجودہ سیاسی بندوبست کومنہدم کرنے جیسے اقدام کی طرف لانا چاہتے تھے۔

مولانا کہتے ہیں کہ اس کشمکش کے نتیجہ میں اگر مارشل لاءبھی لگے تو لگنے دیجیے  کیوں کہ جمہودی لبادوں میں پوشیدہ اس ڈھکے چھپے مارشل لاءسے وہ اعلانیہ مارشل  لاء ہزار گناہ بہتر ہو گا جسکے خلاف ہماری مزاحمت کو بھرپورعوامی حمایت اور عالمی تائید مل سکے گی۔لیکن پیپلزپارٹی نے اصولی سیاست کا سہارا لیکر مولانا فضل الرحمٰن کی ان دونوں تجاویز کو ردّ کرکے مولانا کی سکیم ناکام بنا دی اور دیگر شریک جماعتوں نے خاموشی اختیار کر کے مولانا کے فیصلہ کن وار کا بھاری پتھر اٹھانے سے گریز کیا۔اگر اپوزیشن مولانا کی پہلی تجویز مان کے مذہبی ایشوز پہ حکومت مخالف تحریک اٹھانے کی راہ اختیار کرتی تو اس صورت میں دیگر مضمرات کے علاوہ اپوزیشن کو اپنی مہار مذہبی رہنماؤں خاص کر مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ میں  دینا پڑتی،اپوزیشن 1977میں اس قسم کا ایک تلخ تجربہ کر چکی ہے،پیپلزپارٹی جیسی مقبول جماعت تو نظام مصطفی تحریک کا شکار بن گئی لیکن پی این اے میں شامل نیپ اور تحریک استقلال سمیت تمام لبرل جماعتیں بھی اسی اتحاد کے ہاتھوں برباد ہوئیں،مگر اسی نظام مصطفے تحریک کی مقبولیت ہی مذہبی جماعتوں کی عوامی حمایت بڑھانے کا سبب بنی،اس لیے   اے این پی سمیت تمام علاقائی جماعتیں اے سی پی کے انعقاد سے قبل ہی مذہبی بنیادوں پہ چلائی جانے والی تحریکوں کا حصہ نہ بننے کا عندیہ دے چکی تھیں۔

سیاستدانوں کو ادراک ہے کہ بدلتے حالات میں ہمارے سیاسی ماحول کے اندر مذہبی تحریکوں کےلیے گنجائش کم اور عالمی سیاست میں لبرل تحریکوں کی پذیرائی کے دائرے وسیع تر ہو رہے ہیں،اس لیے  وہ مذہبی قیادت کو قبول کر کے مستقبل کی سیاست میں اپنی راہیں مسدود نہیں کرنا چاہتی ۔اے پی سی میں چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پہ اتفاق رائے بھی اس لیے  ممکن ہوا ہو گا کہ حالات کے جس جبر نے سنجرانی کو اس منصب تک پہنچایا اب وقت کے وہی تقاضے شاید انہیں پس منظر میں دھکیلنے کا تہیہ کر چکے ہوں گے۔موجودہ سیاسی بندوبست کو چلانے کی خاطر اپوزیشن کو کچھ نہ کچھ گنجائش تو ضرور دینا پڑے گی،اگر سینٹ کی چیئرمین شپ اور نوازشریف کی ضمانت پہ رہائی کی قیمت پہ سیاسی بحران ٹل سکتا ہے تو یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہو گی۔لیکن اوپر بیان کردہ تضادات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن اب آرام سے بیٹھ جائیں گے یا نواز لیگ اور پیپلزپارٹی نرم مزاحمت کی راہ ترک کر دیں گی بلکہ قرائین بتاتے ہیں کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی خواہش ہو گی کہ مولانا فضل الرحمٰن دینی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے مذہبی ایشوز کو لیکر الگ سے مخالفانہ تحریک چلا کر حکومت کو کمزور کریں اور پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتیں جمہوری انداز میں آئینی طور طریقوں کے ذریعے دباؤ بڑھا کے حکومت کو ناکام بنانے کی منزل حاصل کریں۔

تاہم ان ساری لنترانیوں کے باوجود سیاسی جماعتوں کی مجموعی رائے یہی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ملک کو معاشی مشکلات کی دلدل سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی چنانچہ الجھنے کی بجائے اگر اسے حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا جائے تو معاشی حالات کی سنگینی کے پیش نظر مقتدرہ بہت جلد سیاسی جماعتوں کی راہ میں بچھائی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے پہ تیار ہو جائے گی۔لیکن اس صورت حال میں بھی پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی ترجیحات مختلف ہوں گی،پیپلزپارٹی ان ہاؤس  تبدیلی کے ذریعے موجودہ پارلیمنٹ کو پانچ سال تک چلانے کو اپنی سیاسی بقا کےلیے  ناگزیر سمجھتی ہے جب کہ نواز لیگ مڈٹرم الیکشن   ہی میں اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *