• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ناکامی پر حوصلہ بندھائیے تو خودکشی کے واقعات نہیں ہوں گے۔۔۔۔اے وسیم خٹک

ناکامی پر حوصلہ بندھائیے تو خودکشی کے واقعات نہیں ہوں گے۔۔۔۔اے وسیم خٹک

گزشتہ کئی برسوں سے امتحانات میں ناکامی کے بعد دلبرداشتہ ہوکرطلباءاور طالبات میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ جس میں زیادہ تر واقعات چترال اور گلگت میں رونما ہورہے ہیں ۔ مگر دیگر اضلاع میں بھی ایسے واقعات کی کمی نہیں ۔امتحانات میں جب بچوں کی اچھی پوزیشن آتی ہے تو والدین کی جانب سے اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ ہروالد کی اور ماں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُس کے بیٹے کے مارکس اچھے آئیں ۔ اب یہ کہاں ممکن ہے کہ کلاس کے سب بچے برابر ہوں اور سب کے اچھے گریڈ آئیں ۔جن بچوں کے اچھے نمبر آتے ہیں تو خاندان میں اُن کی تعریفیں ہوتی ہیں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ہر ایک کی زبان پر تذکرے ہوتے ہیں ۔ جس سے ماں باپ بھی پھولے نہیں سماتے ۔کئی کئی دنوں تک رشتے داروں کو کھانے پر بلایا جاتا ہے ۔ خوشی ومسرت کے اس لمحے میں رشتہ دار بھی بچوں کو تحفوں اورانعامات سے نوازتے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جس بچے کے نمبر کم آتے ہیں ۔ اسے ہزیمت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسے کزنوں کے ساتھ کمپیئر کیا جاتا ہے کہ تم سے وہ اچھا ہے ۔ ہمارے خاندان کا نام بدنام کردیا۔ حالانکہ خود اپنے بچے سے بھی پوزیشن سکول میں خراب ہوگی ۔ مگر بچے کو قصوروار ٹھہرایا جائے گا کہ یہ اس کی غلطی ہے ۔ میں نے کبھی یہ نہیں سنا کہ کسی بچے کو کم نمبروں   پر اس کے والدین نے دلاسہ دیاہو کہ کوئی بات نہیں ۔ اگلے سال بہتر تیاری کے ساتھ میدان میں جاؤ تو دنیا تمھاری ہوگی ۔کسی بھی بچے کو فیل ہونے کے بعد یا کم نمبروں   پر تحفہ نہیں دیا گیا۔ نہ ہی رشتہ داروں نے حوصلہ  افزائی کی ہے ،بلکہ الٹا لعن طعن کیا ہے ۔کبھی بھی والدین نے بچے کے فیل ہونے کے نتیجے میں گھر کی دیواروں پر شامیانے نہیں سجائے کیوں کہ ہمارے ہاں ہمت اور حوصلے کا فقدان ہے ہم ناکامی کو زندگی کی ناکامی سمجھ بیٹھتے ہیں اور ایسے واقعات ہمیں افسانہ لگنے لگتے ہیں کہ امتحانات میں ناکامی پر کسی بچے کو ہدیہ تبریک پیش کیا گیا ،انہیں بٹھاکر کہا گیا کہ بیٹا کوئی بات نہیں کامیابی اور ناکامی زندگی کا حصہ ہے اب ناکام ہوگئے ہو کل کو کامیابی مل جائے گی ۔ کیونکہ یہ سب عارضی ناکامیاں ہیں ان پر بچوں سے خفا ہونے کی بجائے انھیں حوصلہ دیجیے  اور ان کی ہمت بندھائیے تو خودکشی کے واقعات نہیں ہونگے ۔ اُن سے بیٹھ کر بات کیجیے ،وجوہات جانیے کہ بچہ کیوں کمزور ہے ۔ خود کے حالات پر نظر ڈالیے  کہ گھر کے ماحول کی وجہ سے تو بچے پر برا اثر نہیں ہے۔ اُس کی پڑھائی میں والدین کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے  حرج تو نہیں ہورہا ۔  یا بچے کو کوئی اور پریشانی سکول یا باہر دوستوں سے تو نہیں ۔ اُس کا ماحول چیک کیجیے ۔
اُس سے بات کیجیے، حقائق جانیے  کہ ضروری نہیں کہ بیٹا اچھے نمبر سے پاس ہوگا تو پیار اور تحائف کا حقدار ہوگا۔ یہ دستور سالوں سے چلتا آرہا ہے کہ پاس ہونے پر کامیابی ملنے پر تحفے تحائف اور خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں ۔ آپ نیا دستور بنائیں اپنے بچوں کی ناکامی کو سیلیبریٹ کریں انہیں تحفے دیں ۔ انہیں ڈانٹیں مت انہیں پیار دیں ۔ یقین مانیں کامیابی سے زیادہ خوشی نصیب ہوگی کیونکہ ایسا واقعہ انڈیامیں رونماہوا ہے جس میں ایک طالب علم  آشوویاس اپنی محنت کے باوجود کامیاب نہ ہوسکا آشوویاس نے جب اپنا رزلٹ دیکھا کہ وہ فیل ہو گیاتھا مگر اس کے والد نے گھر میں  شادی کا ماحول بنایا تھا ۔ دروازے پر دھوم دھام سے ڈھول بجا یا جا رہا ہے چھت پر آتش بازی اور گھر کی چاردیواری پر شامیانے کا بندوبست بھی کیا گیا تھا اردگرد کے تمام ہمسایوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ آشوبی اس کے کلاس میٹ اور ان کے والدین کو بھی مدعو کیا گیا تھا جبکہ والد صاحب نے اپنے دوست احباب کو بھی شرکت کی دعوت دی تھی اور ان کے لیے کھانے کا پروگرام بھی ہوچکا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے بیٹے نے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ہو، بیٹے نے اپنے والد کو سرگوشی میں کہا آپ کو کہیں غلط فہمی ہو گئی ہے میں پاس نہیں بلکہ ۔۔۔۔لیکن والد صاحب نے بیٹے کی ایک نہ سنی اور ناچتےگئے، بعد  میں سب کو کہا کہ آشوبی میرا بیٹا ہے یہ امتحان میں کامیاب ہو یا ناکام ہو یہ میرا بیٹا ہی رہے گا امتحان میں ناکام ہونے سے باپ بیٹے کے بیچ رشتہ ختم نہیں ہوجاتا بلکہ ناکامی پر اولاد کو والدین کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے مجھے آج کے دن   پتہ چلا کہ میرا بیٹا میٹرک کے امتحان میں فیل ہو گیا ہے، کیا فرق پڑتا ہے کہ میرا بیٹا فیل ہو گیا ہے اگر آج کوئی فیل ہو گیا ہے تو کل کو پاس بھی ہو سکتا ہے لیکن جس طرح پاس ہونے پر باپ بیٹے کا رشتہ برقرار رہتا ہے اسی طرح فیل ہونے پر بھی رشتہ برقرار رہنا چاہیے زندگی میں کامیابی امتحانات میں کامیابی پر موقوف اور منحصر نہیں اور نہ ہی یہ زندگی کا آخری امتحان تھا زندگی میں آگے اور بھی مزید بہت سے امتحانات کا سامنا کرنا پڑے گا میں کل بھی اپنے بیٹے کے ساتھ تھا آج بھی اپنے بیٹے کے ساتھ ہوں اور آئندہ بھی اپنے بیٹے کا ہاتھ تھام کر اس کی عارضی ناکامی پر اسی طرح شاندار تقریب کا اہتمام کروں گا میں اپنے بیٹے کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ان والدین میں سے نہیں ہوں جو امتحانات میں ایک بار کی ناکامی کو زندگی کی ناکامی تصور کرلیتے ہیں اور بیٹے والدین کے ڈر سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں میں ایسے والدین کو ناکام والدین سمجھتا ہوں جو اپنی اولاد کی فقط ایک ناکامی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے اس تقریب کے توسط سے میں ان والدین تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ اپنی اولاد کو موقع دیجیے  جیسے ان کی کامیابی پر ان کو مبارکباد دیتے ہیں اور خوشی کا اہتمام کرتے ہیں ایسے ہی ان کی ناکامی پر بھی ان کو حوصلہ دیجیے  ان کا سہارا بنیں اور مستقبل میں زندگی کے امتحانات کی تیاری کے لیے ان کا ساتھ دیں۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *