• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • موبائل فون ہی نہیں انسان بھی ہینگ ہوجاتے ہیں ۔۔۔ماریہ خان خٹک

موبائل فون ہی نہیں انسان بھی ہینگ ہوجاتے ہیں ۔۔۔ماریہ خان خٹک

شاندار اور پرآسائش طرز زندگی اور ٹیکنالوجی میں ترقی نے ہمارے رہن سہن کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیاہے ہمارے بیچ کے مہینوں کے فاصلے سکینڈز تک محدود ہو چکے ہیں، ٹیکنالوجی میں ترقی نے جہاں ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں اس کے مضمرات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔۔اور سب سے بڑا جو نقصان ہے وہ یہی ہے کہ ہم اس کے نقصانات جانتے ہوئے بھی ان سے بچ نہیں سکتے ۔

ٹیکنالوجی کا شاہکار یہ چھ سات انچ پر مشتمل وہ سلیمانی آئینہ بن چکا ہے کہ ہر کوئی  اس کے سحر میں مبتلا ہے اور صدیوں کی مسافت پہ قائم علاقوں سے جادوئی  طرزپہ روابط بحال کرتے ہمیں یہ جتلاتا ہے کہ ہم اس کے آقا ہیں جو ہم کہیں یہ کرے گا ۔۔ لیکن دراصل ہم اس کے غلام ہیں اور بنتے جارہےہیں ، جو یہ کہتا ہے ہم کرتے جارہے ہیں ۔

جی آپ صحیح سمجھے۔۔۔ میں بات کررہی ہوں اس سلیمانی جادوئی آئینے کی جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے یعنی اینڈرائیڈ موبائل جس کے ہوتے ہمیں کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہتی ،ہم اکیلے بور نہیں ہوتے ،ہمارا اوڑھنا بچھونا یہی بن کر رہ گیا ہے، رات سوتے ہیں تو اس سے اتنی دوری برداشت نہیں کرسکتے کہ یہ ہمارے تکیہ کے نیچے چلا جاتا ہے، صبح ادھ کھلی آنکھوں کے ساتھ ،ہاتھ بڑھ کرتکیہ کے نیچے سے اسے نکال کر ہمارے سامنے کردیتا ہے۔اور ہم پانچ دس منٹ بغیر منہ دھوئے اسکا دیدار کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ہمیں ماننا پڑے گا کہ موبائل نے سات سمندر پار لوگوں کو تو ہمارے قریب کردیا ہے ،لیکن ساتھ رہتے پیاروں سے دور کردیا ہے، ایک ہی گھر میں، ایک چھت کے نیچے ہم گھنٹوں موبائل میں مصروف رہتے ہیں ہمیں وقت کااحساس ہی نہیں ہوتا ،ہم اپنے آس پاس کے ماحول سے بے خبر ہوجاتے ہیں اور ہمیں ہوش نہیں رہتا کہ جو شخص سامنے ہم سے کچھ کہہ رہاہے وہ کیا کہہ رہا ہے ۔

موبائل لینگویج ہمارے ہاں کس قدر بڑھ چکی ہے ،ملاحظہ کیجیے۔۔
موبائل پر میسج آیا، پرس کھول کر موبائل نکالا ابھی میسج پڑھ ہی رہی تھی کہ
بچہ -مس پانی پینے جائیں ؟؟
میں- سر ہلاتےہوئے ہمم ۔۔
بچے  نے شاید سنانہیں ۔۔پھر سے تھوڑا زور سے بولا ، مس پانی پینے جائیں؟
دوسرا بچہ چلا جا حیدر مس ہینگ ہوگئی ہیں, اب منع نہیں کریں گی۔۔۔
امی بھی جب موبائل دیکھ رہی ہوتی  ہیں، میں ان کے پرس سے پیسے نکالوں تو کچھ نہیں کہتیں ۔۔۔
سچ میں بچے کی بات درست ہے ہم واقعی موبائل چلاتے آس پاس کے ماحول سے بے  خبررہتے ہیں مطلب ہینگ ہوجاتے ہیں ۔
ہمارے جسم تو موجود ہوتےہیں لیکن ہمارے دماغ کسی اور دنیا میں رہتے ہیں ۔

موبائل فون ضرور استعمال کریں اس سے فائدہ اٹھائیں لیکن خیال رہے کہ اس کا استعمال اس وقت نہ ہو جب آپ اپنے گھر ،والدین یا بزرگوں کے پاس بیٹھے ہوں، اپنے والدین کے سامنے موبائل بالکل ہی آف کردیں تاکہ آپ کی تمام تر توجہ ان کو حاصل ہو ،آپ کی طرف سے انجانے میں ان کا دل نہ ٹوٹے، اپنے بچوں کے پاس بیٹھ کر ان سے باتیں کریں، ان کے ساتھ کھیلیں، ان کی پسند نا پسند جانیں، ان کو اپنے بچپن کے واقعات سنائیں ،اگر وہ کہیں بھی کہ ان کو کارٹون دیکھنے ہیں   یا وڈیوگیمز کھیلنی ہیں   تو منع کریں کہ ہم آپس میں بات کرتے ہیں، ان کو کہانیاں سنائیں، ان کو کمپیوٹر گیمز اور کارٹونز  کے حوالے مت کریں ،ورنہ وہ انسان نہیں کارٹون ہی بن کر  رہ جائیں گے۔لیکن جب ان کی تربیت ہی بےشعور بے ضمیر مشینیں کریں گی تو وہ کیسے شعور اور احساس رکھنے والے باضمیر انسان بنیں گے؟
مشینوں کے بیچ رہ کر، پل کر انسانیت انسانیت پکار کر کسی میں انسانیت نہیں آجاتی، نہ ہی انسانیت کا درس صرف رٹے رٹائے کتابوں کا پیپر حل کرکے ڈگری مل جانےسے آتی ہے ۔انسانیت اگر پیدا کرنی ہے تو سب سے پہلے انسان کے پیدا کرنے والے سے پوچھنا ہوگا کہ یہ جو انسان ہےاس کے استعمال کیلئے بھی کوئی  ایسی ہدایات ہیں جو اس کو انسانیت پہ قائم رکھ سکیں، بگڑنے نہ دے۔
کیوں کہ ہر چیز جب کسی کمپنی سے بن کر آتی ہے تو کمپنی اس کے استعمال کیلئے ایک گائیڈ بک یا کتابچہ فراہم کرتی ہے جس میں اس کے بارے میں تمام ہدایات موجود ہوتی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان جیسی عجیب مشین پیدا کرنے والے نے اس کیلئے گائیڈ بک نہ دی ہو۔

اللہ تعالی انسان کا خالق ومالک ہے اس نے انسان کیلئے قرآن پاک نازل کیا ،جس میں انسان کو زندگی گزارنے کیلئے تمام قوانین سمجھادیے گئے ہیں ۔یہ بات یاد رکھیں کہ ہم نے لفظ انسان اسی لیے استعمال کیا ہے کہ یہ کتاب ہر انسان کیلئے فائدہ مند ہے ناکہ صرف مسلمان کیلئے، کیوں کہ یہاں دنیاوی فائدہ مراد ہے (اخروی اجر تو اس کامل یقین کیساتھ کہ یہ کتاب اللہ تعالی کی طرف سے ہے آخرت میں ہی ملے گا)۔

ٹیکنالوجی کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے اللہ تعالی نے دنیا کی تمام چیزوں میں غور کرنے اور فائدہ تلاش کرنے کا کہا ہے لیکن اصول بھی مقرر کیے ہیں، ہر چیز میں توازن ضروری ہے۔ یاد رکھیں اگر توازن بگڑا تو ہماری نسلیں برباد ہوجائیں گی، کیوں کہ ہم تو جیسے تیسے وسطی لوگوں میں شامل ہیں لیکن ہمارے بچے ہمارے لیے بجائے ہماری نجات کے ہماری خدائی پکڑ کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ اگر آج ہم نے ان پہ توجہ نہ دی تو کل یہ انسان نہیں بلکہ مشینی انداز کے مثل ہوجائیں گے ،اللہ تعالی نے اگر والدین اور اساتذہ کا مقام بلند کیا ہے تو اسی وجہ سے کہ ان کے کندھوں پر نسل انسانی کی پرورش کی ذمہ داری عائد کی ہےان کو انسانیت سے روشناس کرنے والے والدین اور اساتذہ کو اپنی زندگی قربان کرنا پڑتی ہے اپنے لہو سے نئی  نسل کی آبیاری کرنا پڑتی ہے ورنہ تو ماں کے قدموں تلے جنت صرف پیدا کرنے سے نہیں آئی ، پیدا تو جانور بھی بچوں کو کرتے ہیں۔بلکہ پیروں تلے جنت اس کی گود میں موجود درسگاہ میں دیے گئےاسباق سے بنتی ہے ،باپ کو یونہی جنت کا دروازہ بننے کا شرف نہیں مل گیا ،بلکہ ساری زندگی اپنے ارمانوں کا لہو نچوڑ کر اولاد کیلئے حلال رزق کی فراہمی اسے یہ مقام بخشتی ہے۔اور ان سب سے بالاتر جسم کو چھوڑ کر جب روح کی تربیت پہ بات آئی  تو اللہ تعالی نے اک استاد کو انسان کی روح کی ولدیت سونپ دی، اس کا احترام لازم کردیا، یوں ہی نہیں کردیا بلکہ مشکل ترین کام دین ودنیا کے سمندر کو انسانیت کے کوزے میں قید کرکے لوگوں کے دل و دماغ میں انڈیلنا یہ استاد کا کام ہے۔کیوں، کب اور کس طرح کرنا ہے اس بارے میں ضرور سوچیے کہ وقت ہمارے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل رہا ہے، اپنے مستقبل کے معماروں کو وقت دیجیے  تاکہ یہ آپ کا وقت کارآمد بناسکیں چہ جائیکہ آپ اپنا وقت بیکار ضائع کریں، اعتدال رکھیں ۔۔۔

اب بات بہت سادہ سی ہے اگر سمجھ میں آتی ہے تو ۔۔۔۔

ماریہ خان خٹک
ماریہ خان خٹک
میرا نام ماریہ خان ہے خٹک برادری سے تعلق ہے ۔کراچی کی رہائشی ہوں ۔تعلیم ،بچپن اور دوستوں کے ساتھ سندھ کی گلیوں میں دوڑتی رہی ہوں ۔ کتابوں کے عشق اور مطالعے کی راہداری کو عبور کرکے خود قلم اٹھانے کی لگن ہے ۔طالب دعا ہوں اللہ تعالی قلم کا حق ادا کرنے کی توفیق دے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”موبائل فون ہی نہیں انسان بھی ہینگ ہوجاتے ہیں ۔۔۔ماریہ خان خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *