محدود جمالیات کے حامل نیم لبرل لونڈے۔۔۔محمد حسنین اشرف

شراب میں وہ نشہ کہاں ہوسکتا ہے جو نشہ دنیا کو یہ بات جتلانے میں ہے کہ میں شراب پیتا ہوں۔ عورت سے تعلق کے لاکھ جمالیاتی رخ ہوں لیکن یہ بات   بتانا عجیب سرور رکھتا ہے کہ میرے عورت کے بارے میں خیالات نہایت  غیر مذہبیانہ  اور بے باکانہ ہیں۔  عورت کی معیت کا سرور بھی اس سرور کو کسی طور نہیں چھو سکتا۔ آزادی نسواں اس قدر اہم نہیں ہے جتنا اہم اس بات کا اظہار ہے کہ میری رائے ہے کہ عورت کو آزاد ہونا چاہیے۔ کتاب پڑھنے سے زیادہ اپنے آپ کو ان لوگوں کی صف میں شامل کرنا زیادہ اہم ہے جو صاحب مطالعہ ہو کر روایت کے خلاف کھڑے ہیں۔ یعنی میچ جیتنا اہم نہیں ہے، ہندوستان سے میچ جیتنا اہم ہے۔ یہ سب ہماری نفیسات کا حصہ ہے۔

ہمارے احباب کی جمالیاتی دنیا انا کی تسکین سے شروع ہوتی ہے اور وہیں ڈھیر ہوجاتی ہے۔ اس لیے ہمارے پاس جمالیات کے رخ ایک دو ہی ہیں، جن میں کل ملا کر عورت ہی بچتی ہے۔ جس کے گرد طواف کرکے انا پرست جمالیات کو تسکین پہنچانے کا کام شب و روز ہو رہا ہوتا ہے۔ ورنہ جمالیات تو اس کائنات کا واحد موضوع ہے، جس کے انگ انگ میں جمالیاتی رنگ ہے۔ آپ اس ذہنیت کا مظہر یوں دیکھیں کہ  کسی دور دراز علاقے میں، پہاڑوں کے بیچ اور شہروں سے دور، ہمیں صرف ایک فکر لاحق ہوتی ہے کہ یہاں تصاویر بنوا لی جائیں، فلاں سین زیادہ اچھا ہے اسے محفوظ کرلیا جائے، یا فلاں دانشوری بھگار لی جائے۔ اور ہم اس نظارے میں خود ڈوبنے اور اپنی ذات کے تفکر و تدبر کی بجائے اس فکر میں وقت گزار دیتے ہیں کہ اچھی تصویر بنا لی جائے یا تحریر کے لیے اچھا موضوع ڈھونڈ لیا جائے۔ آپ سوچیں جنگل میں گم بدھا کو اگر یہ فکر ہوتی تو کیا اسے نروان ملتا؟ گوتم، بدھا اس لیے نہیں تھا کہ اسے بدھا بننا تھا۔ وہ بدھا اس لیے تھا کہ اسے تو تفکر و تدبرکرنا تھا۔ خاموشی سے، اپنے لیے، اسے اصلاح احوال  کے لیے آلتی پالتی مار کر نہیں بیٹھنا تھا۔

اس  سب کی واحد وجہ مجھ خاکسار کو جو معلوم پڑتی ہے وہ وہی، مصلح اور طبقاتی تفریق کی نمائندہ سوچ ہے۔یورپ سے بہت کچھ سیکھنے سکھانے کی باتیں کرنے والے احباب یہ بالکل نہ سیکھ سکے کہ کیسے سٹیٹس کو کی نمائندہ سوچ سے جان چھڑائی جاتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی بل گیٹس کی اربوں روپوں کی خیرات کے بعد یہ جملہ دیکھا کہ ‘جس نے خیرات نہیں کی اس نے زندگی برباد کردی’ یا ایلان مسک نے یہ کہا ہو کہ ‘قومیں تو صرف مریخ پر جا کر زندہ ہوتی ہیں’ یا نیل ڈیگراس ٹائسن سے یہ کہ ‘جس نے خلاوں کا سفر نہیں کیا وہ انسانیت کے نام پر دھبہ ہے’؟ یہ لوگ اپنے اپنے میدانوں میں  بڑا نام ہیں لیکن انہیں اپنے کام سے کام ہے۔ یہ لوگ کبھی مصلح بن کر گلیوں میں  کیوں نہیں بھٹکتے؟

ان قوموں نے جب شخصی آزادی کا نعرہ لگایا تو سب سے پہلے انسان کو آزاد کردیا۔ اور آزاد بھی یوں کیا کہ جدید و قدیم مصلحین کی  افزائش نسل ہی روک دی۔ لیکن ہمارے ہاں حال تو یہ ہے کہ جب تک دانشور باپردہ عورت کو احمق اور مذہبی کو جاہل نہ کہہ لے اس  کو سکون میسر نہیں آتا۔ جب تک وہ یہ نہ بتا لے کہ عورت کے کن کن اُبھار میں اور  بیک وقت دسیوں عورتوں کے ساتھ تعلق میں جدید لبرلزم کے اصول و مبادی پہناں ہیں۔ اس کا لبرل ہونا تکمیل نہیں پا سکتا بلکہ اور تو  اور، روزہ دار کو جب تک اپنے ناشتے  وغیرہ کی تصاویر نہ بھجوا لی جائیں۔ ہمیں ہمارا رمضان مکمل ہوتا معلوم نہیں ہوتا۔

جدید متمدن دنیا کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ اس نے انسان کو صرف رشتوں، ذمہ داریوں اور معاش سے  ہی صرف آزاد نہیں کیا، اس نے جو سب سے بڑا کام کیا ہے۔ اس نے انسان کو جہاں مذہبی بندشوں سے آزادی دی وہیں ان بندشوں پر اس کی تکریم بھی کی ہے۔ کوئی اگر مذہبی بنیاد پر تکفیر نہیں کرسکتا تو کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کسی مذہبی کو احمق اور بیوقوف کہتا پھرے۔ ایک اور جملہ جو ہمارے احباب شد و مد سے بولتے ہیں کہ ‘شخصی تضحیک قابل قبول نہیں ہے البتہ افکار کی تضحیک کی جاسکتی ہے’۔ اول تو شخصی تضحیک سے باز ہمارے احباب کسی طور نہیں رہ سکتے، لیکن یہ جملہ ازخود نہایت غیر حقیقی ہے۔ نظریات و افکار، معلق ہوا میں پرورش نہیں پاتے، انہیں کسی شخص کے ذہن تک رسائی درکار ہوتی ہے۔ اور جیسے ہی وہ کسی زبان سے صادر ہوکر ایک معاشرے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ تو یہ افکار، بہرطور شخصی ہی ہوجاتے ہیں۔

ایک اور مغالطہ جس کی طرف نظر کرم ضروری ہے وہ یہ کہ لوگ تنقید اور تضحیک کے درمیان فرق کو آہستہ آہستہ ختم کرچکے ہیں۔ اور اس کے لیے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ مذہبی اور مقدس شخصیات و افکار پر ہر تنقید کو تضحیک ہی سمجھا جائے گا۔ حالانکہ یہ نہایت غلط بات ہے، میں، بطور انسان لسانی طور پر دشنام اور تنقید کا فرق سمجھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ گالی کیا ہے اور تنقید کیا ہے۔ لیکن ستم یہ ہے کہ ہماری جمالیات کے اس قدر محدود اور تنگ نظر ہونے سے ہمیں شائستہ تنقید کا طریقہ بھی بھول چکا ہے۔ اس پر ماتم کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا، کاش ہم یورپ سے یہ قرینہ بھی سیکھ لیتے۔  حد تو یہ ہے کہ ہم نے یورپ سے، کسی دم توڑتے کتے کی لاش پر آنسو بہانا تو سیکھ لیا ہے۔ لیکن ہم یہ نہ سیکھ سکے کہ نظریات کی تضحیک سے انسان کیسے مر جاتے ہیں۔ کاش ہماری جمالیات، ہمارے سوالات اور ہماری دانشوری اس نظریہ ضرورت سے کچھ آگے بڑھ سکے۔ اس وقت تو بس پٹھانے خان کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے اور سوچ رہا ہوں  کہ لفظ و صوت کا یہ تعامل بھی تو جمالیات کی ایک دنیا رکھتا ہے۔ ورنہ اظہار سے محروم انسان کس قدر بے بس ہوتا۔بہرحال، اشعار حسب حال ہیں:

کیا حال سناواں دل دا

کوئی محرم راز نہ  ملدا۔۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”محدود جمالیات کے حامل نیم لبرل لونڈے۔۔۔محمد حسنین اشرف

  1. دیسی لبرلز م پر اس سے بہتر اور مناسب الفاظ میں سائکوانالیٹکل تنقید ابھی تک میری نظر سے نہیں گزری۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *