• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مہنگائی کے خلاف نوٹس لینے سے کیا ہو گا؟۔۔۔طاہر یاسین طاہر

مہنگائی کے خلاف نوٹس لینے سے کیا ہو گا؟۔۔۔طاہر یاسین طاہر

امید بڑی قاتل شے ہے، انسان کو نہ مرنے دیتی ہے نہ جینے دیتی ہے۔ اگرچہ ہمیں یہی بتایا گیا ہے کہ امید کا دامن مت چھوڑیں اور کبھی مایوس نہ ہوں کہ مایوسی کفر ہے۔بے شک امید ہی انسانی حیات کا وہ سرمایہ ہے جس کے سہارے انسانی حیات بقا کے راستے پر آہستہ آہستہ گامزن ہے۔ خودکشی کو حرام اسی لیے کہا گیا ہے کہ ، خود کشی کرنے والا امید اور ہمت کا دامن چھوڑ کر مایوسیوں کے گڑھوں میں جا گرتا ہے اور اللہ کی عظیم ترین نعمت زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔انسان مایوس کب ہوتا ہے؟ جب حد سے بڑھی ہوئی اس کی امیدیں پوری نہیں ہوتیں۔یہ فارمولاا فرد سے لے کر معاشرے تک، سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی سماج کی امیدیں بھی پوری نہ ہوں تو اس سماج میں ہیجان،چوری ،ڈکیتی،قتل و غارت گری اور نفسیاتی عوارض کا در آنا بالکل یقینی ہے۔
پاکستانی سماج کا اگر تجزیہ کیا جائے تو روز اول سے ہی اس سماج کونت نئے نعروں اور سرابوں کے پیچھے لگا دیا گیا تھا۔بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ سابق آمر جنرل ایوب خان کا دور نسبتاً اچھا دور تھا۔ مہنگائی کم تھی اور لوگوں کا جینا قدرے سہل تھا۔قطع نظر اس سے کہ ایوب خان کا اقتدار پر قبضہ کرنا جائزتھا یا ناجائز؟ آئینی تھا یا غیر آئینی؟البتہ اس عہد کے لوگ آج بھی کہتے ہیں کہ مہنگائی کے حوالے سے لوگ اتنے حساس تھے کہ چینی کی قیمت چند آنے بڑھی تو ایوب خان کو جانا پڑا۔ اگرچہ اس کے پیچھے دیگر وجوھات کار فرما تھیں جنھیں تاریخ اور سیاسیات کے طالب علم سمجھ سکتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان بننے کے بعد، پاکستانیوں کے سب سے مقبول لیڈر گزرے ہیں۔انھوں نے لوگوں کو نیا نعرہ اور نیا جذبہ دیا۔عام آدمی جس ولولے کے ساتھ انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوا اس کی مثال 70 کی دہائی سے پہلے نہ ملتی تھی۔روٹی، کپڑا اور مکان۔اس نعرے میں بہت کشش تھی،کیونکہ یہ انسان کی بنیادی ضروریات ہیں۔لیکن بھٹو جیسا فطین آدمی بھی جب مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوا تو کئی غلطیاں یکے بعد دیگرے کیں،جس سے دائیں بازو کے جارحیت پسندوں کو موقع ملا اور بھٹو کے خلاف تحریک نظام مصطفیٰ “لانچ” کر دی گئی۔ بے شک اس تحریک کے پیچھے عالمی استعماری طاقتیں موجود تھیں۔اس تحریک کے نتیجے میں سماج کو کیا ملا؟ ایک آمر، جسے تاریخ جنرل ضیا الحق کے نام سےجانتی ہے۔ ضیائی آمریت نے اسلام کے نام پر قوم کی امیدوں کو مزید مہمیز کیا اور 90 دنوں کے بجائے پورے گیارہ سال اقتدار کی مسند سے چمٹے رہے۔ افغانستان والا نام نہاد جہاد اور اس کے لیے بھرتیوں کا سلسلہ بھی ضیائی آمریت کا ” کارنامہ ہے” اور بے شک اس کارنامے کے تکلیف دہ نتائج ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔
ضیاالحق کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کو حکومت ملی مگر حکومت مدت پوری نہ کر سکی، کرپشن چارجز لگا کر بے نظیر بھٹو شہید کو رخصت کر دیا گیا۔ لوگوں کی امیدیں پھر ٹوٹیں۔ اس کے بعد مسلم لیگ نون کی حکومت آئی اور میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم بنے، مگر وہ بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکے، اقتدار کی کھینچا تانی اور کرپشن چارجز جیسے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے انھیں بھی اقتدار محل سے رخصت ہونا پڑا۔لوگوں کی امیدیں ایک بار پھر ٹوٹیں۔پھر پیپلز پارٹی کی حکومت آئی،اور حسب روایت مدت پوری نہ کر سکی، پھر نون لیگ کی حکومت آئی اور اس کا اختتام جنرل ریٹائرڈ مشرف نے ڈرامائی انداز میں کیا۔ یہا ں لوگوں کی امیدیں اگر ٹوٹی تھیں تو مشرف کی شخصیت اور ان کی تقریروں نے لوگوں کی امیدیں زندہ بھی کر دی تھیں۔اسی دوران نائن الیون کا واقعہ پیش آیا اور پاکستان امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی بنا۔ یہاں سماج واضح طور پر دو حصوں میں منقسم ہو گیا تھا، جس کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔مشرف کی رخصتی کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ، لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں،لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے “مفاہمتی” سیاست کو رواج دیا،اور صدر زرداری کی کوشش رہی کہ ان کی حکومت آئینی مدت پوری کرے۔پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی اور گیس کے بحران نے یوں سر اٹھایا کہ اس کی پاکستانی تاریخ میں پہلے کوئی نظیر نہ تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میںتوانائی بحران ان کی ناکام حکمت عملیوں کی وجہ سے بے قابو ہو گیاتھا۔ دہشت گردی کا مکروہ عذاب اس سماج پر اس کے علاوہ تھا۔ جب 2013 کے نئے انتخابات ہو رہے تھے تو نون لیگ نے توانائی بحران اور دہشت گردوں سے مذاکرات کا راستہ اپنانے کے دو نکاتی ایجنڈے پر الیکشن لڑا اور حکومت حاصل کر لی۔اگرچہ نون لیگ کی حکومت نے بڑی حد تک توانائی بحران پر قابو پایا۔کیسے پایا؟ عام آدمی کو اس سے غرض نہیں، عام آدمی اس بات پر خوش تھا کہ اب اٹھارہ سے بیس گھنٹے بجلی نہیں جاتی۔کالعدم تحریک طالبان سے نون لیگ کی حکومت نے باقاعدہ مذاکرات شروع کر دیے تھے کہ اے پی ایس کا واقعہ ہوا اور پھر حکومت کو عوامی آواز پر لبیک کہنا پڑا۔
پاکستانی سماج کی ان تاریخی جھلکیوں کو ہم کیسے جھٹلا سکتے ہیں؟اسی دوران پی ٹی آئی نے پانامہ کیس کو اچھالا اور اسے عدالت میں لا کر وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دلوا دیا۔پی ٹی آئی کے ماہر معاشیات اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر ہر روز شام کو ٹی وی سکرین پر آ کر اعدا دو شمار کے گورھ دھندوں سے پاکستانی سماج کے مسائل حل کر نے کا ہنر بتایا کرتے تھے۔انھوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمت 47 روپے فی لیٹر کریں گے اگر ہماری حکومت آئی تو۔مگر اب جو ہو رہا ہے وہ بالکل ہی اس کے الٹ ہے جو عمران خان کہا کرتے تھے۔وزیر اعظم کا سارا فوکس انتقامی سیاست پر ہے۔ وہ سارے لوگ جو نون لیگ اورپیپلز پارٹی سے اڑان بھر کر پی ٹی آئی میں آئے، وہ پارسا ٹھہرے۔اس چیز نے سماج کے بیدار مغز افراد کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔حکومت اپنے کرنے کے کاموں پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے اب بھی اپوزیشن کو للکارنے کے کام پر لگی ہوئی ہے۔ ڈالر کا ریٹ جس سطح پر پہنچ چکا ہے وہاں سے اس کی واپسی کی کوئی سبیل نظر نہیں آ رہی۔شاید اگلے دو تین برس میں ڈالر بیس تیس روپے نیچے آ جائے لیکن اسے میری خوش فہمی سمجھ لیں۔

اب وزیر اعظم نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر نوٹس لے لیا ہے اور اس حوالے سے خصوصی مہم شروع کرنے ہدایت کی ہے۔ میرا سادہ سا سوال ہے؟ کیا موجودہ وزیر اعظم سے پہلے ،والے حکمران بھی “فوری نوٹس” نہیں لیا کرتے تھے؟ کیا کمیٹیاں اور خصوصی مہمات کے احکامات جاری نہیںہوا کرتے تھے؟لیکن نتیجہ کبھی بھی عام آدمی کے حق میں نہیں نکلا۔کیا ایمنسٹی سکیم کا فائدہ کسی ٹھیلے والے کو ہو گا؟ یا کسی شوگر مل والے کو؟کسی پراپرٹی ٹائیکون کو اس سکیم کا فائدہ ہو گا یا کسی عام دیہاڑی دار کو؟
حضور آپ نوٹس ضرور لیں، لیکن پہلے پیٹرولیم مصنوعات اور ڈالر کی قیمت کم کرنے کی طرف توجہ دیں۔جب ڈالر اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوں گی تو پھر ہی آُپ کا مہنگائی کے خلاف لیا گیا نوٹس کوئی ایک دو فی صد کار آمد ہو گا۔بہ صورت دگر حالات ہر بدلتے دن کے ساتھ بد ترین ہوتے جائیں گے اور آپ کی ٹیم سوائے امیدوں کے نئے سراب دکھانے کے اور کچھ نہ کر سکے گی۔ عام آدمی کی بنیادی ضرورتوں کا خیال کریں۔ان اشیا پر ٹیکس فوری ختم کریں جو کچن کے استعمال کی ہیں، آٹا ،دال ،چینی، چاول۔گوشت، اس کی قیمتوں میں کمی کے احکامات جاری کیے جائیں اور ان قیمتوں پر عمل در آمد کروانے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مل کر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔نوٹس شہباز شریف صاحب بھی بہت لیا کرتے تھے اور دیگر حکمران بھی جو آپ سے پہلے اسی محل سرا میں مسند آرا تھے۔لیکن عام آدمی ان سے اس قدر تنگ نہ ہوا تھا جتنا آپ سے چند ماہ میں تنگ آ گیا ہے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *