سامراج کی بدلتی ترجیحات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی  حالیہ  تقریر  جس میں انہوں نے پاکستان   کو آڑے ہاتھوں لیا ، پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے موجود  ہونے کا شائبہ ظاہر کیا اور ان کی تقریر سے یہ لگا کہ امریکی خارجہ پالیسی ایک ایسی کروٹ لینے جارہی ہے جس  کا  براہ راست نقصان پاکستان کو ہونے جارہا  ہے۔  ڈونلڈ ٹرمپ نے واضع الفاظ میں بھارت کے ساتھ پینگیں  بڑھانے کا اشارہ بھی دیا، انہوں نے بھارت کو تجارت اور افغانستان میں کردار ادا کرنے کے لیے پسندیدہ بھی قرار دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ  کے  سیکرٹری آف سٹیٹ کے ملتے جلتے بیانات سے بھی پاکستان  کے حکومتی، سیاسی اور عسکری حکام کے ماتھے ٹھنکے  اور حکومت اور اپوزیشن کی ساری سیاسی جماعتوں سمیت عسکری حکام نے نئی امریکی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ مقتدر حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں بھی کی گئیں کہ  اگر امریکی حکومت کے سابقہ بیانات کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ امریکی افواج جب کسی ملک پر حملے کا ارادہ رکھتی ہوں تو دہشت گردوں کی موجودگی، امن کو درپیش مسائل اور غیر جمہوری رویوں کے فقدان کو جواز بنا کر کسی بھی ملک پر حملے کا پلان ترتیب دے دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے علاوہ خود امریکی دانشوروں اور ذرائع ابلاغ نے  دبے لفظوں ٹرمپ کی افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض مبصرین نے  باراک اوبامہ کی افغان پالیسی کی یاد دہانی بھی کروائی اور امریکہ کی دوسرے ملکوں میں وقت کی قید سے آزاد مداخلت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔    برطانوی اخبار ”دی گارڈین ” نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ   “پرائم ٹائم  میں ٹیلیویژن پر خطاب میں پالیسی کے بدلاؤ کو جواز فراہم کرنے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مشکل ہوگا کہ وہ اپنے امریکی حامیوں اور بیرونِ ملک حامیوں کو مطمئن کر سکیں کہ ان کی پالیسی کارآمد ہے اور اس پر کام کیا جا سکتا ہے۔  اور نیٹو کے ساتھ اپنے خراب تعلقات کی وجہ سے انہیں یورپی افواج کو واپس افغانستان کی پہاڑیوں پر بھیجنے کے لیے خاصی جدوجہد کرنی پڑے گی۔”

tripako tours pakistan

صدر ٹرمپ کی تقریر کو جہاں امریکہ اور یورپ کے اندر  دبے لفظوں میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہاں پاکستان ، چین اور روس نے ایک مناسب رد عمل دیا ، گو کہ لمحہءِ موجود تک پاکستان کے وزیر خارجہ مذکورہ تقریر پر کوئی مناسب پالیسی بیان تک نہ دے سکے مگر پاکستانی حکومت اور ذرائع بلاغ اس بات پر شاداں نظر آئے کہ ان کے سب سے اچھے دوست چین اور دوستی کی طرف مائل روس نے ٹرمپ کے پاکستان بارے بیان کومضحکہ خیز اور غیر منطقی قرار دیا۔  سوال یہ ہے کہ امریکہ   دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو نظر انداز کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟  کیا ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان سے مزید انسانی جانوں او ر وسائل کی قربانی کا تقاضا کر رہے ہیں ؟ اور پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت امریکی صدر کے بیان پر کوئی واضع موقف دینے سے کیوں قاصر ہے؟

اگر بغور مشاہدہ کیا جائے اور تاریخ کی  ورق گردانی کی جائے تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم ماضی کی جنگوں سے بھی واضع ہوتے ہیں اور امریکی سامراج کی ”استعمال کرو اور پھینک دو ” پالیسی  کوئی صدیوں پرانی نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس سے بے خبر ہے۔  اسّی اور نوّّے کی دہائی میں وہ تمام دہشت گرد جو امریکی مفاد کے لیے ایک سرخ کافر کے ساتھ جنگ کا ایندھن بنے مجاہدین کہلاتے تھے۔ اور جب  جہاد کا خاتمہ  اور افغانستان سے روسی افواج کا انخلاء ہوا تو   سامراج نے مجاہدین کے پیدا کنندہ کو نشان عبرت بنایا۔  لیکن تاریخی سانحات سے سبق سیکھنا پاکستانی قیادت  کی گھٹی میں شامل ہی نہیں۔کل کے مجاہدین  جو سامراجی توسیع پسندی کے  مضبوط آلہ کار تھے  سامراجی پالیسی بدلی تو انہیں تلف کرنا ضروری سمجھا گیا ، اسی لیے مشرف حکومت نے امریکیوں کے اٖفغانستان میں دوبارہ وارد ہونے کے بعد ان کو شجر ممنوعہ کی طرح تلف کرنا ضروری سمجھا۔ یاد رہے کہ مجاہدین کی تیاری نہ ماضی میں پاکستان کی قیادت کی ایماء پر ہوئی تھی اور نہ ان سے چھٹکارا پانا پاکستانی داخلہ پالیسی کا اندرونی معاملہ ہے۔

1916 میں لینن نے  سامراج  کے موضوع پر اپنے ایک پمفلٹ میں سامراج کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ”  سامراج کا مطلب   طاقتور ریاستوں کا کمزور ریاستوں پر اجارہ داری کا ہے”۔ لینن نے کارل مارکس کے سرمایہ دارانہ نظام پر تجزیے، جس میں مارکس نے  کہا تھا کہ کس طرح چھوٹی نجی کمپنیوں کو  کارپوریشن  نگل کرپوری منڈی پر اپنی اجارہ داری قائم کر لیتی ہیں کی بھی تائید کی تھی۔  لینن نے مزید لکھا تھا کہ منڈی میں اپنی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے   ریاست کی مربوط طاقت  اور وسائل کا ہونا لازمی ہے۔ منڈی پر اپنے تسلط کو دوام بخشنے، اپنی کارپوریشنز کی مزید شاخیں کھولنے اور منڈی پر اجارہ کو دوام بخشنے کے لیے ریاستیں اپنی افواج کو مضبوط کرتی ہیں اور افواج پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

ایک اور دانشور کارل  کونٹسکی نے  کمرشلزم کو سامراجی پھیلاؤ  کا موجب بتایا ہے ، کارل  کونٹسکی سامراجی جنگوں کو نوآبادیاتی  پھیلاؤ سے موسوم کرتے ہوئے  لکھتے ہیں کہ جنگوں کی وجہ  نئی نوآبادیوں میں اپنے تسلط کو قائم رکھنے کی نیت ہے۔   امریکہ کا افغانستان، عراق ، شام اور لیبیا جیسے ممالک پر فوج کشی کے بعد کارل کونٹسکی کی بات سے اتفاق کیا جا سکتاہے۔

پاکستان کے بارے امریکہ کی موجودہ اور ماضی کی حکمت عملی  اس بات کی غماز ہے کہ امریکی اداروں اور تمام سیاسی قیادت ، سی آئی اے اور پینٹاگون پاکستان کے مذہبی عنصر کے ساتھ جذباتی وابستگی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے توسیع پسندانہ مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی سعی کی۔ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر ایک صفحے پر دکھائی نہیں دیتی۔

بڑی طاقتوں کو ایک موثر جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹی ریاستوں کی حکومتیں اور عوا م ایک صفحے پر ہوں  اس کے ساتھ ساتھ حکومتی فیصلوں اور رائے عامہ کے درمیان ہم آہنگی کا ہونا بھی نہایت ضروری امر ہے۔  اس وقت پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت  بھی ایک صفحے پر نظر نہیں آتیں اور اس کے علاوہ پاکستان کے اندرونی مسائل بشمول سیاسی بحران  اور اقتصادی بحران ایک گھمبیر شکل اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک مستند حقیقت یہ بھی ہے کہ آج بھی سیاسی اور عسکری ماہرین کے نزدیک اچھے اور برے دہشتگردوں کا تصور بدرجہ اتم موجود ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری انتظامیہ کو ایک مربوط خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ ایک مربوط معاشی پلان ترتیب دینا ہو گا تاکہ کل کلاں ایک نئے سامراج کی کسی بھی مہم جوئی کے نتیجے میں  کسی طرح کی لچک کا اعادہ نہ ہو۔ پاکستانی عوام کوسامراجی ایجنڈے پر کام کرنے والے سیاستدانوں اور ذمہ داران  کو  پرکھنا ہو گا تاکہ ماضی کی طرح امریکی ایماء پر عام انسانوں کا قتل عام نہ ہو،  کیونکہ سامراج کی ترجیحات بدل چکی ہیں اور سامراج کی مثال اس سانپ سی ہے جو بھوک لگنے پر اپنے بچے تک نگل لیتا ہے۔

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *