• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرک سپورٹس کمپلیکس کو خوشحال خان خٹک یونیورسٹی نہ بنائیں۔۔۔۔۔اے وسیم خٹک

کرک سپورٹس کمپلیکس کو خوشحال خان خٹک یونیورسٹی نہ بنائیں۔۔۔۔۔اے وسیم خٹک

بہت عرصہ کے بعد ضلع کر ک کے عوام کو ایک نیا موضوع ہاتھ آیا ہے جس کے ساتھ ہر ایک اپنی حیثیت کے مطابق دو دو ہاتھ کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ چاہے  کسی کی  فیلڈ ہے یا نہیں ،اپنی رائے کو وہ مقدم رکھتا ہے ۔ بظاہر تو ضلع کرک  میں و احد ایک قوم رہائش پذیر ہے جو خٹک ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سب سے زیادہ قوم پرست واقع ہوئے ہیں ۔ ایک بندہ کہیں پر ملازمت حاصل کرلیتا ہے تو علاقے کے دوسرے ب شخص  کے لئے اُس ادارے میں راہ ہموار ہوجاتی ہے ۔ جس کی واضح مثال میجر مسعود شریف خٹک کی دی جاتی ہے جس نے آئی بی میں کرک کے سینکڑوں لوگوں کو بے نظیر کے دور حکومت میں بھرتی کیا تھا۔ کر ک کے لوگ تعلیم کے میدان میں ایک زمانے میں آگے تھے مگر کچھ عرصہ ہوا یہ اعزاز ان سے واہ کینٹ اور دیگر اضلاع نے لے لیا ہے ۔

گیس اور قدرتی وسائل سے مالا مال ضلع ترقی کی راہ تَک رہا ہے ۔ کیونکہ یہاں کے سیاست دانوں کو عوام کو اُلو بنانے کا ہنر آتا ہے ۔ ہر دور حکومت میں سیاست دانوں نے کرک کی  تینوں تحصیلوں کے لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہے ۔ جس کی وجہ علاقے کے لوگوں کا خود کو حد سے زیادہ عقلمند تصور کرنا ہے۔ جس کی وجہ سے تینوں تحصیلوں کے مابین ڈھکی چھپی نفرتیں موجود ہیں ۔ جن کا کوئی بھی اظہار نہیں کرتا۔ خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کی تعمیر، کرک گیس اور تیل کی رائلٹی پر جنگ، گیس پلانٹ کی تعمیر جیسے مسائل ابھی تک پائپ لائن میں تھے کہ عوام کو اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر میں ڈال دیا ۔ جس پر تینوں تحصیلوں کی  عوام میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ ہر تحصیل ، کرک، بانڈہ داؤدشاہ اور تخت نصرتی کے عوام اس سپورٹس کمپلیکس کی  اپنے علاقے میں تعمیر پر زور دے رہے ہیں ۔اور سوشل میڈیا سمیت علاقائی اخبارات میں اس سپورٹس کمپلیکس پر سیاست شرو ع کردی گئی ہے ۔ ہر کوئی اسے اپنے علاقے کی بنیادی ضرورت سمجھ رہا ہے۔ اور اس کے لئے مختلف جگہوں کا بھی تعین کیا جارہا ہے کہ یہ سپورٹس کمپلیکس یہاں تعمیر ہوگا تو اچھا ہوگا۔

جو سچ بولے گا وہ مرے گا۔۔۔۔اے وسیم خٹک

جتنے   منہ اتنی باتیں ہیں  اور یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جس کے باعث کُرک کے عوام کبھی بھی ایک بات پر  متفق نہیں ہوئے ۔ جب گیس پلانٹ کی بات چلی تو یہی روش اپنائی گئی، گیس کی فراہمی پر بھی یہی رویے  اپنائے گئے۔ جس کے باعث گیس کی ترسیل کی مد میں سالانہ حکومت کو اربوں روپے فراہم کرنے والا ضلع گیس کی سہولت سے محروم کردیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے پورے صوبے میں یونیورسٹیوں کا جال بچھا یا گیا ۔ جس کی ذمہ داری صوبائی گرانٹ کمیشن کی ہے ۔ مگر خوشحال خان خٹک وہ واحد یونیورسٹی ہے جس کی تعمیر اوراخراجات کے لئے گیس کی رائلٹی موجودہ جے یو آئی کے ایم پی اے میاں نثار گل کی سیاسی سکورنگ کا نتیجہ ہے جس نے حیدر ہوتی کو کہا کہ ہم خود یونیورسٹی چلاسکتے ہیں ۔ اور یوں ترقی کے لئے مختص فنڈ سالوں سے یونیورسٹی پر خرچ ہورہا ہے۔ اور یہی یونیورسٹی آپس کی چپقلش کے باعث ابھی تک صحیح جگہ نہیں پاسکی ۔ جو جگہ منتخب کی جاتی دوسرے لوگ اُٹھ جاتے اور یوں پرانی جگہ تبدیل کرکے نئی جگہ کا انتخاب کرلیا جاتا ۔ اور ابھی تک یونیورسٹی اربوں روپے فنڈ کے باوجود اپنی عمارت حاصل نہیں کرسکی ۔

ایک اندازے کے مطابق یونیورسٹی کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے موجود ہیں ۔ مگر علاقائی سیاست اور لوگوں کے رویوں  کے باعث اس کی تعمیر میں رکاوٹ ہے ۔ اب جب وزیراعظم کے حکم پر صوبے کے کچھ اضلاع میں اسپورٹس کمپلیکس کی باز گشت گونجی تو علاقائی تعصب نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے ۔ کوئی منصورگڑھ ، کوئی عیسک چونترہ، کوئی سورڈاگ تو کوئی لتمبر کو بہترین جگہ قرار دے رہا ہے ۔جبکہ محکمہ ا سپورٹس کے ذمہ دار شخص نے  ایک معاصر ویب سائیٹ   کو بتا یا کہ یہ اسپورٹس کمپلیس ہیڈ کوارٹر میں ہی تعمیر کیا جائے گا ۔ جس کے لئے ایک سو پچاس کنال کی زمین درکار ہوگی ۔ اور اس کی مجموعی لاگت 35 کروڑ روپے ہے ۔ جس میں فٹ بال، کرکٹ، والی بال، ہاکی کے کورٹ سمیت دیگر انڈور کھیلوں کے لئے انتظامات کیے  جائیں گے۔

شادی شدہ افراد، مانع حمل آلات اور شرم کا معاملہ۔۔۔۔۔اے وسیم خٹک

اُس کے مطابق جہاں پر بھی اس سے پہلے اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیے  گئے ہیں ،جیسے لکی مروت ، ہنگو اور دوسرے اضلاع میں وہ سب کے سب ہیڈکوراٹر میں تعمیر کیے  گئے ہیں ۔ اور یہ اسپورٹس کمپلیس بھی کُرک  شہر کے آس پاس ہی تعمیر کیا جائے گا ۔ اور یکم جولائی کو اس کا پی سی ون بن جائے گا جس کے بعد محکمہ سپورٹس اس کے لئے جگہ دیکھے گی اور پھر اس کی تعمیر کے لئے کام شروع کردیا جائے گا۔ اور امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں ضلع کُرک سے بھی کرکٹ، ہاکی،والی بال سمیت فٹ بال کے کھلاڑی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ کیونکہ ضلع کُرک کا ابھی تک کوئی بھی کھلاڑی قومی ٹیم میں شامل نہیں ہوا ہے ۔ حالانکہ کُرک کے بعض علاقوں بالخصوص لتمبر میں فٹ بال کے بہترین کھلاڑی موجود ہیں ۔ مگر اس کے لئے ضلع کُرک  کے عوام کو اپنے روئیوں میں تبدیلی لانی پڑے گی اور سب کو اس بات پر متفق ہونا پڑے گا جس تحصیل میں بھی ادارے کی تعمیر کی جائے نام ضلع کُرک کا ہی لیا جائے گا۔ لہذاکُرک اسپورٹس کمپلیکس کو خوشحال خان خٹک یونیورسٹی نہ بنایا جائے۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *