خواجہ سرا برادری اور ہمارا بے رحم سماج ۔۔۔۔۔محمدحسین ہنرمل

انسانوں کی اس قابل رحم کمیونٹی کے افراد کیلئے عربی زبان میں ”خنثیٰ“کا لفظ استعمال ہوتاہے۔ انگریزی زبان میں Transgenderجبکہ پاک وہند میں یہ خواجہ سرَا، ہیجڑے اور کُھسرے جیسے ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی غور کیاہے کہ خواجہ سراؤں کو بھی خالق نے   وہی شرف دیاہوا ہے جو دیگر انسانوں کو حاصل ہے؟کیاہم نے کبھی یہ سوچاہے کہ ہمارے مذہب اسلام نے اس کمیونٹی کے افراد کا کتنا لحاظ کیاہواہے؟

بچے کے خواجہ سرا بننے کی طبی وجوہات۔۔۔۔صمد خان

میں جب بھی اپنے آپ سے    ایسے سوالات کرتاہوں تومجھے اس کا جواب ہمیشہ نفی میں ملتاہے۔ مجھے یقین ہے اس بے رحم سماج میں بہت کم ایسے لوگ ہونگے جو اس کمیونٹی کے افراد کو اشرف المخلوقات سمجھتے ہیں۔میرے نزدیک ایسے لوگ تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہونگے جوخواجہ سراؤں کے شرعی حقوق کا دفاع بھی کرینگے۔خواجہ سراؤں کے ساتھ پہلا اوربڑاظلم ان کے اپنے والدین کرتے ہیں۔ یہ بے رحم والدین اپنے دیگر بچوں کی طرح خواجہ سرااولاد کی تعلیم وتربیت پر ویسی  توجہ نہیں دیتے جودیگربچوں کی تعلیم وتربیت پردیتے ہیں۔خواجہ سراکووالدین سے وہی پیار ومحبت نہیں ملتا جو ان کے دیگر بہن بھائی اپنے ماں باپ سے پاتے ہیں۔گھر میں جب والدین اپنے خواجہ سرا اولاد کے ساتھ امتیازی رویہ رکھتے ہیں تو اسی گھر میں ان کے بہن بھائی اور گھر کے دوسرے افراد بھی ان سے نامناسب سلوک برتناشروع کردیتے ہیں۔اس غیرمنصفانہ سلوک ہی کا نتیجہ آخر یہ نکلتاہے کہ خواجہ سرا بدترین احساس کمتری اور محرومی کاشکار ہوکر گھر کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔ بسا اوقات ان کو گھر سے بھگایاجاتاہے۔یہی وہ بنیادی اسباب ہیں جن کی وجہ سے انسانوں کے اس معاشرے میں یہ لوگ اپنے لئے ایک الگ دنیا آباد کرلیتے ہیں۔

ایک خواجہ سرا کے ساتھ ملاقات۔۔۔۔۔ محمد حسین آزاد

اب جب ان کو اپنے حقیقی ماں باپ ذلت آمیزطریقے سے دھتکارکر باہر پھینکتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ باہر معاشرے میں بھی ان کی  عزت اور وقعت  ختم ہوجاتی ہے۔ اور پھرچندپیسوں کی خاطریہ لوگ بیہودہ حرکات کرنے، شادیوں میں ناچنے اورجسم فروشی تک کے دھندے میں ملوث ہوجاتے ہیں۔حالانکہ ہماری شریعت نے اس نوع کے افراد کے بھی وہی حقوق متعین کیے ہیں جو دیگر انسانوں کے ہوتے ہیں۔ شریعت مطہرہ نے اس کمیونٹی کے لوگوں کوبنیادی طورپردو انواع میں تقسیم کردیا ہے اور ہر نوع کے لوگوں کیلئے ان کی  بنیادی علامات کی بنیادپران کے حقوق کاتعین کیاہے۔مثلا ً پہلی نوع کے خواجہ سراکو خُنثیٰ غیرمشکل جبکہ د وسری کو خُنثیٰ مشکل کہاجاتاہے۔ اول الذکر یعنی خنثیٰ غیرمشکل وہ ہوتے ہیں جن میں مردوں کی  علامات بھی واضح ہوں اور عورتوں کی  بھی۔ یوں اس اعتبار سے مرد کی  علامات رکھنے والے خواجہ سراؤں کو میراث میں بھی مردوں کاسا حصہ ملتاہے، اس کانکاح بھی ہوتاہے،اس کی گواہی، قضاوت بھی صحیح ہوتاہے اور اس کا اذان، اقامت، نمازیوں کی صف میں کھڑا ہونا، حج واحرام، قذف، تکفین وغیرہ سب میں وہ مردوں کے حکم میں ہوتے ہیں۔

خواجہ سرا شنایا کا اللہ میا ں جی کو ٹیلی فون

جبکہ دوسری صورت یعنی عورتوں  کی  علامات پائے جانے کی صورت میں ان کاحکم عورتوں جیساہے، یوں اسے میراث میں مردکے مقابلے میں نصف حصہ ملے گا اور اس کانکاح مرد کیساتھ صحیح ہوگا، اسی طرح باقی معاملات میں بھی یہ عورتوں کے حکم میں ہوگا۔ جبکہ نوع ثانی یعنی”خنثیٰ مشکل“ ان خواجہ سراؤں کو کہتے ہیں جن میں مکمل طور پرمردوں کی  علامات ظاہر ہوں اور نہ ہی عورتوں کے۔اس تردد کی وجہ سے شریعت نے اس کا بھی پورا پوارا لحاظ کرتے ہوئے ان نوع کے خواجہ سراؤں کواکثر مسائل میں عورتوں کی کیٹیگری میں شمار کیاہے۔ مثلا ًمیراث میں اسے عام عورتوں کی طرح مردوں کے حصے کا نصف حصہ ملے گا۔ اسی طرح موت کے بعداس کی تجہیزوتکفین اور تدفین عورتوں کے طور پرکی جائے گی وغیرہ۔

محکمہ شماریات کے مطابق اس وقت پاکستان میں موجود خواجہ سراؤں کی کل تعداد محض 10418 ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھ لیجیے کہ ہم بائیس کروڑ آبادی والے اس اسلامی ملک سے 10،000 خواجہ سرا افراد بھی سنبھالے نہیں جاتے۔ ہم نے نہ صرف ان کے حقوق کا استحصال اور ان کے شرف انسانیت کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا ہے  بلکہ آئے روزیہاں ان پر قاتلانہ حملے بھی ہوتے ہیں۔ اس برادری کے ساتھ شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ اس وقت انسانوں والا برتاؤ ہمیں دیکھنے کوملا،جب پچھلے سال لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک گریجویٹڈ خواجہ سرا مار یہ کو ملک کے ایک مقامی ٹی وی چینل نے نیوز کاسٹر کے طور پر متعارف کروا کے ایک قابل  تعریف مثال قائم کردی۔اپنے  ایک انٹرویو کے دوران ماریہ کا کہناتھا کہ مذکورہ ٹی وی چینل میں انہیں ملازمت ملنے کی خبر سن کر میں نے خوشی سے چیخ تو نہیں ماری لیکن میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کیونکہ جو خواب میں نے دیکھا تھا اس کی پہلی سیڑھی میں چڑھ گئی ہوں۔انھوں نے کہا کہ ان کے گھر والوں نے انھیں میٹرک تک تعلیم تودلوائی لیکن اس کے بعد انھوں نے میرے سے تعلقات ختم کردیئے۔بڑی خوشی کی بات ہے کہ میں پاکستان کی پہلی خواجہ سراہوں جو اس وقت نیوز کاسٹر کے طور پر اپنی  خدمات سرانجام دے رہی ہوں۔ماریہ  کا مزید کہناتھاکہ ان کا خواب ہے کہ وہ اپنی برادری کے لوگوں کیلئے کچھ کریں اور اگر کسی ماں باپ نے کسی خواجہ سرا بچے کو گھر میں نہیں رکھنا تو عزت دار طریقے سے اس بچے کا جو جائیداد اور دیگر حصہ بنتا ہے وہ دیا جائے تاکہ وہ بچہ سڑکوں پر مانگے نہ اور غلط کام کرنے پر مجبور نہ ہو“۔

خواجہ سرا ، سماج ، اہلِ مذہب اور ریاست ۔۔آصف محمود

وقت آگیاہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں خواجہ سرا برادری کے ساتھ تیسرے اور چوتھے درجے کے انسانوں کا ساسلوک   موقوف ہو۔اول تو والدین میں یہ شعور وآگہی پھیلانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو محض شرم کی بنیادپر الگ تھلگ اور اوباشوں کی دنیا کی راہ دکھانے سے گریزکریں ۔اسی طرح ریاست کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ خواجہ سراؤں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں اپنا  فریضہ ادا کرکے ایک فلاحی ریاست کا ثبوت دے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *