سفید سنڈی، گلابی سنڈی، امریکن سنڈی ۔۔۔۔مشتاق خان

سارا دن  کے بعد دفتر سے تھک ہار کر گھر آتے اور سخت بھوک کے باوجود کوشش یہ ہوتی کے کھانا تب کھائیں جب من پسند ڈرامہ سریل آئے اس لئے کھانا تقریباً روز رات کو آٹھ بجے لگایا جاتا ۔
کھانے کے بعد چائے کا بھی انتظام ہوتا اور دل میں آٹھ کے بجنے کو لیکر خوشی سی چھائی رہتی پچھلے ہفتہ کی ڈرامہ قسط  ذہن میں دہرائی جاتی، سب گھر والے موجود ہوں  کھانے پر اس کا بھی خیال رکھا جاتا۔

پھر آٹھ بج جاتے، ڈرامہ لگتے ہی کھانا بھی شروع ہوجاتا لیکن باقی گھر والوں کا تو پتہ نہیں ، جونہی وقفہ آتا ڈرامہ میں میرا کھانا پینا بھی رک جاتا بلکہ جو کھایا ہوتا وہ بھی باہر آنے لگتا کیونکہ وقفہ میں ستر فیصد اشتہارات کپاس کی سنڈیوں کے بارے میں ہوتے تھے اور نام لے لے کر سنڈی کلوز سے کلوز تر سکرین شاٹ دکھایا جاتا مجھے سانپ چھپکلی چوھے اور سب رینگنے والے جانوروں سے سخت کراہیت آتی تھی اور ان سنڈیوں کے اشتہارات کو روکنا میرے بس میں نہیں تھا ۔

کہا جاسکتا ہے کہ میرے بچپن کی اتنی شاندار تفریح کو  ان سنڈیوں کے اشتہارات نے برباد کرکے رکھ دیا تھا کیونکہ ایک ہی چینل  تھا پی ٹی وی اور سب کو اس وقت ٹی وی کے علاوہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں  ہوتی تھی ۔

وقت گزر گیا کیبل آگئی سنڈی ختم ہوگئی یا کپاس ختم ہوگئی لیکن بہرحال سنڈی کے اشتہارات سے جان چھوٹ گئی۔ اب ہم کسی بھی غلط منظر کو ہٹا کے دوسرا چینل لگا سکتے ہیں لیکن اب میرا مسئلہ سوشل میڈیا پر آگیا ہے فیس بک ٹویٹر یا کوئی دوسری ایپ دیکھتے ہوئے آپ ایک دم سے کٹا پھٹا جانور کوئی بھی گندگی کا منظر سانپ یا کوئی بھی رینگنے والا جانور ایک دم سے آپ کے سامنے آجائیگا اور بات اب بھی وہی ہے کہ  سوشل میڈیا کا بھر پور مزا بھی مجھے کھانا کھانے  کے ساتھ ساتھ دیکھنے میں ہی آتا ہے ۔
پتہ نہیں  میرا یہ مسئلہ کب کیسے حل ہوگا کہ  کھانا کھانے  کے وقت میں اپنی ان نا پسندیدہ چیزوں کے نظارے سے بچ سکوں گا ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *