مدن موہن: من موہنا، مدھر۔۔۔۔ظفر عمران

یوں تو بھارتیا سینما کو ایک سے ایک یگانہ روزگار ملا، لیکن فلمی موسیقی کا ذکر ہو، اور کوئی پوچھے، کہ کون ہے جو سب سے الگ سی پہچان لیے ہوئے ہے، تو میں کہوں گا، وہ جس کا نام اس کی دھنوں کی طرح سریلا ہے، یعنی مدن موہن۔

آپ لتا منگیشکر کے بہترین نغموں کی فہرست تیار کیجیے، یہ دیکھیں گے کہ دس میں سے، سات آٹھ گانوں کی موسیقی مدن موہن کی ہو گی۔ ان کے ایک نغمے کی دھن ترتیب دینے پر، موسیقار نوشاد نے مدن موہن کو یوں‌ داد دی، کہ میرا سارا کام لے لو، اپنا صرف یہ ایک نغمہ مجھے دے دو۔ مدن موہن، ہندُستانی سینما کے عظیم موسیقار کے منہ سے یہ توصیفی بول سن کے بے ساختہ رو پڑے تھے۔

مدن موہن کا جنم شمالی عراق کے خطے کردستان کے شہر اربیل میں 25 جون 1924 کو ہوا۔ جہاں ان کے والد رائے بہادر چنی لال، عراقی پولِیس  میں اکاونٹنٹ جنرل تھے۔ مدن موہن کی عمر کے ابتدائی سات آٹھ برس مشرق وسطیٰ  میں گزرے، اور 1932ء کے بعد ان کے والد اپنے آبائی علاقہ  چکوال، ضلع جہلم لوٹ آئے۔ آٹھ برس کے مدن موہن کو دادا کے حوالے کر کے، ان کے پتا جی بمبئی (موجودہ ممبئی) چلے آئے، تاکہ کاروبار کی سبیل نکالی جا سکے۔

مدن موہن کو تعلیم کے لیے لاہور بھیج دیا گیا، جہاں کم سن مدن نے انتہائی مختصر مدت میں کرتار سنگھ سے موسیقی کے اسباق لیے، اس کے علاوہ انھوں نے کبھی موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ وہ محض گیارہ برس کے تھے کہ ان کے والد انھیں خاندان سمیت بمبئی لے گئے۔ مدن موہن کو بچپن سے موسیقی سے اتنا لگاو تھا، کہ ہر وقت گراموفون سے چِپکے دکھائی دیتے۔ گیارہ سال کی عمر ہی سے وہ آل انڈیا ریڈیو کے لیے بچوں کے پروگرام میں گایا کرتے۔ سترہ سال کے ہوئے تو پتا جی کی خواہش کے مطابق دہرہ دون اکادمی سے ایک سالہ تربیت حاصل  کرکے 1943ء میں فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی ہو گئے۔ دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا تو یہ فوجی نوکری چھوڑ کر بمبئی لوٹ آئے، کیوں کہ یہ اپنا مستقبل موسیقی کی دُنیا میں دیکھ رہے تھے۔

1946ء میں انھیں آل انڈیا ریڈیو، لکھنو میں پروگرام اسسٹنٹ رکھ لیا گیا۔ یہاں استاد فیاض علی خاں، استاد علی اکبر خاں اور بیگم اختر جیسے موسیقی کے نابغوں کا ساتھ ملا۔ مشہور پلے بیک سنگر طلعت محمود سے بھی یہیں یارانہ ہوا۔ مدن موہن کو غزل گائیکی کا ازحد شوق تھا، 1947ء میں ان کی خدمات آل انڈیا ریڈیو، دہلی کو منتقل کر دی گئیں۔ یہاں انھوں نے پہلی بار ریڈیو کے لیے اپنی آواز میں غزل ریکارڈ کروائی۔ 1948ء میں انھوں نے پہلا فلمی گیت ماسٹر غلام حیدر کی کمپوزیشن میں، لتا منگیشکر کے ساتھ فلم ’شہید‘ کے لیے گایا، جو کبھی ریلیز نہ ہو سکا، لیکن یہیں سے مدن موہن اور لتا کا ساتھ شروع ہوا۔ مدن موہن نے لتا کو اپنی بہن بنالیا، اور بقول لتا، ”مدن موہن نے تمام عمر راکھی کے بندھن کو یوں نبھایا، جیسے وہ سگے بھائی تھے“۔

لتا کہتی ہیں، کہ جب ہم نے پہلی بار دو گانا گایا تو ریکارڈنگ کے بعد میں نے ان سے کہا، کہ آپ نے بہت اچھا گایا ہے۔ مدن موہن نے جواب دیا کہ میں بہت جلد موسیقار بننے والا ہوں، آپ میرے لیے گائیے گا۔ 1948ء اور 49ء کے بیچ میں مدن موہن نے باکمال موسیقار ایس ڈی برمن کو اسسٹ کیا۔ 1950ء میں موسیقار مدن موہن کو فلم ”آنکھیں“ سے بریک ملا، اور مدن موہن کی دوسری فلم ”ادا“ سے لتا کی اُن کے ساتھ بطور گلوکارہ کام کرنے کی ابتدا ہوئی۔

مشہور گائیکہ بیگم اختر بتاتی ہیں، کہ مدن موہن کو موسیقی سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا، جب دیکھو ہارمونیم بجا رہے ہیں، تان پورہ لیے بیٹھے گا رہے ہیں۔ میں نے پہلی بار ریڈیو پر ان کا گانا، ’قدر جانے نہ‘ سُنا، تو مت پوچھیے کیا حالت ہوئی؛ میں نے اسی وقت مدن جی کو بمبئی ٹرنک کال کیا، اور فون کے اوپر پورے اٹھارہ منٹ تک، ہم یہ گانا، باری باری سنتے رہے، اُن کی زبان سے“۔

کہا جانے لگا، کہ مدن موہن کی دھن ایسی ہوتی ہے، کہ زیادہ تر وہ لتا ہی پہ جچتی ہیں، لیکن مدن جی نے یہ بات بھی غلط ثابت کر دکھائی۔ محمد رفیع نے بھی ان کی کئی دھنوں کو امر کر دیا۔ جیسا کہ ’تم جو مل گئے ہو، تو یہ لگتا ہے‘۔ یہی نہیں! مدن جی نے مناڈے سے بھی گوایا۔ مناڈے کی زبانی یہ واقعہ سنیے:
”وہ گانے تو لا جواب بناتے تھے، ساتھ ہی ساتھ کھانا بھی بہت اچھا بنا لیتے تھے۔ خاص طور پہ ایک چیز تو بہت ہی خاص بناتے تھے ’بھنڈی مٹن‘۔ اک بار مدن جی کی  کال آئی، کہ ’منا، تو کیا کر رہا ہے؟‘میں نے کہا، ’کچھ بھی نہیں کر رہا‘۔ بولے، ’تو پھر آ جا، میرے گھر‘۔ مناڈے کہتے ہیں، میں ان کے یہاں پہنچا، اُنھوں نے بتایا بھنڈی مٹن بنایا ہے، میں نے کہا، یہ کیا کامبینیشن ہے، بھنڈی مٹن؟ تو انھوں نے کہا کھا کے تو دیکھ۔ کھایا تو بہت ہی اچھا تھا۔ ساتھ ساتھ مدن موہن نے کہا، کہ ایک گانا ہے، جو تجھ سے گوانا ہے“۔ یہ مقبول گیت ہے، ”کون آیا میرے من کے دوارے، پائل کی جھنکار لیے“۔

مدن موہن کو کئی فلموں میں بہت یادگار موسیقی دینے کے باوجود ایوارڈ نہیں ملا، وہ اس بات کو لے کر ناراض رہتے تھے۔ پھر وہ فلم آئی کہ جس کی موسیقی کی دھوم آج بھی ہے۔ لتا کہتی ہیں، ”بڑے خوددار تھے، مدن بھیا؛:اپنے آدرشوں کو وہ کسی کے سامنے نہ جھکنے دیتے تھے، نہ دبنے دیتے تھے۔ ’وہ کون تھی‘ کے گیتوں کی سپھلتا پر، ممکن تھا کہ انھیں ایک بہت بڑا ایوارڈ ملے۔ وہ ایوارڈ مدن بھیا کو نہیں ملا  اور نہ ملنے پر جب میں نے افسوس ظاہر کیا، تو وہ کہنے لگے، ’میرے لیے یہ کیا کم ایوارڈ ہے، کہ تمھیں افسوس ہوا‘!“

’ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح‘ کے شاعر مجروح سلطان پوری نے اُن کے لیے کہا، کہ ”مدن موہن کے بارے میں میرا خیال ہے، کہ اُن سے اچھی غزل بنانے والا، کوئی نہیں ہوا؛ غزل میں جو رومانس ہونا چاہیے، جو رنگ ہونا چاہیے، جو مدن موہن نے دیا، وہ کسی نے نہیں دیا“۔

لتا ہی نہیں ان کی بہن آشا بھوسلے نے بھی مدن موہن کی موسیقی میں لگ بھگ دو سو گانے گائے ہیں۔ آشا کہتی ہیں، مدن جی کی ایک کمپوزیشن ’جھمکا گرا رے، بریلی کے بازار میں“ ایک اسی گانے سے میں نے لاکھوں روپے کمائے۔

مدن موہن جی 14 جولائی 1975ء کو دُنیا سے رخصت ہوئے، لیکن اپنے چاہنے والوں کے دِلوں میں آج بھی زندہ ہیں، اور کہا جا سکتا ہے، کہ ابھی اور جئیں گے۔ مدن موہن کی پچیسویں برسی پر، موسیقار خیام اُن کو یاد کرتے ہوئے کہنے لگے، ”جیسا اُن کا نام تھا مدن موہن؛ تو وہ! اُن کی دھنیں بھی من کو موہ دینے والی تھیں۔ سب سنگیت کاروں کے چہیتے موسیقار، سنگیت کار مدن موہن جی تھے  اور گلوکاروں کے چہیتے، مدن جی تھے۔ لتا جی! کیسے کیسے انھوں نے نہیں گایا، اِن کے چہیتے (مدن جی)۔ ہم کبھی کبھی جیلس ہو جاتے تھے، کہ آپ (لتا) اتنا اچھا گاتی تھیں، اُن کا، مدن جی کا گانا  تو ہم تھوڑا سا جیلس بھی ہو جاتے تھے۔ لیکن وہ جیلسی وہ نہ تھی، ہمیں اچھا لگتا تھا، کہ کیا کمال آپ نے گایا ہے“۔

نوٹ:یہ مضمون ظفر عمران صاحب کی فیس بک وال سے شکریہ کے ساتھ کاپی کیا گیا ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *