• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بے آواز گلی کوچوں سے۔۔۔ اوئے توئے چول/محمد منیب خان

بے آواز گلی کوچوں سے۔۔۔ اوئے توئے چول/محمد منیب خان

سننے والے کا شوق بولنے والے کو زبان عطا کرتا ہے۔ داد و تحسین کے ڈونگرے بجنے لگیں تو کوئی مبلغ ہو یا شاعر اس کے لیے یہ کیفیت مسحور کن ہوتی ہے۔واعظ کو معلوم ہوتا ہے کہ سامعین کو کس مقام پہ جوش دلا کر داد سمیٹنی ہے۔ شاعر کو داد سمیٹنے اور مشاعرہ لوٹنے والے مصرعوں کا ادراک ہوتا ہے۔ اور یہی داد ان اصحاب کا مطمع نظر ہوتی ہے۔ جوں جوں انسان کی پذیرائی ہوتی ہے اس کی شخصیت پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ شخصیت اچھی یا بری ہر دو صورتوں میں اپنے متعلقین پہ اثر انداز ہوتی ہے۔ جب شخصیت پھیلتی ہے تو ذات میں کئی ابہام جنم لیتے ہیں  ۔ عجیب و غریب کیفیات پیدا ہوتی ہیں ۔ ان کیفیات کو اچھے طریقے سے  سنبھالنا   اور ابہام کو دور کرنا ہی اعلی ظرف شخصیات کا خاصا ہوتا ہے۔

ایک مشہور زمانہ قول حضرت علی رضہ کے نام سے منسوب ہے “ شہرت، دولت اور اختیار ملنے پہ لوگ بدلتے نہیں بلکہ بے نقاب ہوتے ہیں”۔ جب تعریف ہوگی تو اپنے ساتھ شہرت لائے گی۔ جلد یا بدیر۔ اور یہی شہرت شخصیات کو بے نقاب کرے گی۔

کسی بھی چیز کے حصول کے لیے دو جذبے کار فرما ہیں خواہش یا ہوس۔ خواہش، چاہت اور طلب مثبت کیفیت ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ہوس منفی جذبہ ہے۔ ہوس، جب کسی چیز کے حصول کی خواہش یا چاہت اس قدر بڑھ جائے کہ اس کے لیے مروجہ اخلاقیات کو روندنا پڑے تو یہ حصول کا جذبہ ہوس میں بدل جاتا ہے۔ اب تمیز ختم ہو گی کہ اچھا یا برا کون سا راستہ اپنانا ہے۔ نتیجتاً جس جذبے نے شخصیت کو ہائی جیک کر لیا وہ ہوس ہے۔ دولت کی ہوس، محبت کی ہوس، شہرت کی ہوس، اقتدار کی ہوس۔ یہی سب کچھ اعصاب پہ سوار ہے۔ “اور تمہیں کثرت مال کی ہوس نے غافل کر دیا ہے” (القرآن )۔ دوڑ ہمیشہ سے ہی لگی ہوئی تھی۔ آج بھی جاری و ساری ہے۔ لیکن میں آج کے منظر نامے پہ نظر دوڑاتا ہوں تو اس دوڑ، اس مقابلے، ان چیزوں کے حصول کی چاہت اب جمہور کی ہوس بن چکی ہے۔

بے آواز گلی کوچوں سے ۔۔۔ ہڑبونگ/محمد منیب خان

سوشل میڈیا ہتھیار ہے۔ بنا لائسنس کے سب کی دسترس میں۔ آن کی آن میں ہزاروں کلو میٹر دور تک ابلاغ ممکن ہے۔سینکڑوں، ہزاروں قارئین مل جاتے ہیں۔ پھر جو لکھا اور جو پڑھا اس پہ تعریف و توصیف ہو گی یا تنقید۔ تعریف ہو یا تنقید اس سے شخصیت کا ارتقا شروع ہو جاتا ہے۔ اس ارتقائی سفر میں خود احتسابی کا ہونا سب سے ضروری ہے۔ خود احتسابی کی غیر موجودگی ایک ایسے ڈھلوانی راستے پہ ڈال سکتی ہے جس کے اختتام پہ منہ زور بھی منہ کے بل گرتے ہیں۔ میں کیا سنا کر لوگوں  کو متوجہ کر رہا ہوں۔ میں کیا لکھ کر توجہ حاصل کر رہا ہوں اس پہ مسلسل نگاہ ہونی چاہیے۔

جب محدود مطالعہ اور محدود علم والے کو غیر محدود تعریفیں مل گئیں۔ خوش گمانی ہوئی، خیال گزرا کہ منزل پہ پہنچ گیا۔ منزل پہ جو پہلے پہنچے وہ سر جھکائے محو مطالعہ، عاجز، اور متمکن۔ میں نے خود کو منزل پہ پا لیا لیکن یہ کردار نادارد۔ کیونکہ مجھے تعریف سے غرض ہے شخصیت کا ارتقا میرے لیے بے معنی ہو گیا۔ موبائل کیمرہ کھولا براہ راست ویڈیو شروع کی۔ فلاں سیاستدان کو گالی دی فلاں ملاں کی پگڑی اچھالی، فلاں مصنف کو چربہ کہا، فلاں شاعر کا کلام بے وزن قرار دیا۔ فلاں کپتان کے کھیل اور فٹنس کو سب کے سامنے غیر معیاری ثابت کیا۔ حتی کہ مغلظات بکیں۔ پھر بھی لائیکس آئے کمنٹ ملے۔۔۔ “صاحب کمال کر دیا”۔ حالانکہ  بات میں نہ اسلوب تھا نہ علم۔ ادھر ادھر کی ہانکی اور داد و تحسین سمیٹی۔ کسی نےمرشد کہا، کسی نے استاد تو کسی نے پیر۔ تحریر لکھی سیاستدان کو لتاڑا، مذہبی منافرت پہ لکھا اور اس طرح لکھا کہ منافرت کو ہوا دی۔ کھیل اور کھلاڑی پہ رائے زنی کی۔ مولوی کو معیشت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اپنے پورے ذخیرہ الفاظ میں سے ناقابل اشاعت الفاظ کو استعمال کیا انکے پہلے حرف لکھے تاکہ قاری کو سمجھ آ جائے۔ غیر ضروری طور پہ جنس، سیکس یا جنسی تسکین وغیرہ کے الفاظ کو مضمون میں اکاموڈیٹ کیا۔ تحریر کی زبان کا بیڑا بیچ سمندر میں ڈوبویا اورتحریر دس بلاگنگ سائٹ کو بھیجی ،شائع ہوئی۔ چھپنے کا معیار اپنی جگہ لیکن چھپ گئی تو واہ واہ ہوئی وہی تعریف کے ڈونگرے بجے۔ شخصیت کا ارتقا تعریف کے سمندر میں ڈوب گیا۔ خوشگوار پڑاؤ منزل سے بے خبر کر گیا۔

بے آواز گلی کوچوں سے ۔پاکستانی معیشت پہ چھائے گہرے بادل۔۔۔محمد منیب خان

قلم اور لفظ کی حرمت سے نا آشنا ان کی حرمت کا عَلم اٹھائے ہوئے ہیں۔ بڑے صاحبانِ بیان کا بیان گالی کے بنا مکمل نہیں، بہت کمال لکھاریوں کا مضمون اور سوشل میڈیا کنٹینٹ گالی کے بنا مکمل نہیں۔ اللہ اللہ میں الزام تراشی پہ اتر آیا۔ یہ بھی تو آج کل سکہ رائج الوقت ہے۔ لیکن نہیں میں محض الزام نہیں لگا رہا چند دن پہلے ایک صاحب علم کے سامنے عاجزی سے گزارش کی کہ “چ” لکھنا تحریر کا اسلوب نہیں۔ اور آپ کا علمی قد کاٹھ   تو بالکل اجازت نہیں دیتا۔ صاحب علم تھے فوراً معذرت کے ساتھ وضاحت دی کہ کسی اور کی تحریر ہے۔انہوں  نے محض کاپی کی۔ وہ تحریر بھی ایک دوسرے صاحب علم کی تھی۔ وہ اپنی دیوار گریہ پہ نالاں ہوئے کہ میں نے تو “چ” یعنی“چول” لکھا تھا۔ گستاخی معاف نہ ہونے کا ڈر تھا ورنہ پوچھتا کہ یہ کونسا اسلوب ہے۔ یہ سوال اٹھا بھی لیتا تو شاید بیکار جاتا اس کی کوئی تاویل نکل آتی۔ لیکن پیغام کیا جاتا ہے پڑھنے والے کو؟ اب یہی اسلوب بچا ہے۔ “اوئے توئے چول”۔ یا پھر جو سرفراز کے ساتھ ہوا۔ ہمیں شہرت کی ہوس نے اخلاقی اقدار کو فراموش کرنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ اور ہم مل کر ہی معاشرہ بناتے ہیں یہی معاشرے قوموں کو جنم دیتے ہیں اور قوم کی حالت سب کے سامنے ہے۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *